فیض بے بسی کا کوئی درماں نہیں کرنے دیتے ۔ فیض احمد فیض

فرخ منظور

لائبریرین
بے بسی کا کوئی درماں نہیں کرنے دیتے​
اب تو ویرانہ بھی ویراں نہیں کرنے دیتے​
​
دل کو صد لخت کیا سینے کو صد پارہ کیا​
اور ہمیں چاک گریباں نہیں کرنے دیتے​
​
ان کو اسلام کے لٹ جانے کا ڈر اتنا ہے​
اب وہ کافر کو مسلماں نہیں کرنے دیتے​
​
دل میں وہ آگ فروزاں ہے عدو جس کا بیاں​
کوئی مضموں کسی عنواں نہیں‌کرنے دیتے​
​
جان باقی ہے تو کرنے کو بہت باقی ہے​
اب وہ جو کچھ کہ مری جاں نہیں کرنے دیتے​
​
​
30 اکتوبر، 1984ء​
 

باباجی

محفلین
واہ بہت ہی خوب کلام

دل کو صد لخت کیا سینے کو صد پارہ کیا​
اور ہمیں چاک گریباں نہیں کرنے دیتے​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top