بیگم

نویدظفرکیانی نے 'مزاحیہ شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 26, 2019

  1. نویدظفرکیانی

    نویدظفرکیانی محفلین

    مراسلے:
    191
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    رمضان میں فاقوں سے کہاں ہرتی ہے بیگم
    ہاں چپ کا اگر روزہ ہو تو جھرتی ہے بیگم

    ہمسائی نے پہنا ہو، ڈیزائن بھی نیا ہو
    ہر ایسے لبادے پہ تو بس مرتی ہے بیگم!

    تقریب دسمبر میں جو فیشن کا جنوں ہو
    بے بازو قمیضوں میں بھی کب ٹھرتی ہے بیگم

    ناکام نہ منصوبہ کوئی اُس کا کبھی ہو
    الزام میاں پر ہی سدا دھرتی ہے بیگم

    وہ حال کیا ہے کہ شبہ ہونے لگا ہے
    چنگیز کے لشکر میں کہیں بھرتی ہے بیگم

    ہوتی ہے جو ڈائٹنگ پہ تو کھاتی نہیں کچھ بھی
    ہاں پھر بھی مرا مغز بہت چرتی ہے بیگم

    ویسے ہی کریزیں میری نیت کی نکالے
    جیسے میرے کپڑوں کو پریس کرتی ہے بیگم

    وہ سانڈ سدھایا ہے جسے کہتے ہیں شوہر
    حیرت ہے کہ پھر چوہے سے کیوں ڈرتی ہے بیگم

    جس طور کے نخرے ہیں، اگر ویسی ہے نازک
    چلتے میں ہلائے ہوئے کیوں دھرتی ہے بیگم

    میں نے بھی ظفرؔ بحث کبھی کی نہیں اس سے
    سو’’ میسنا‘‘ مجھ کو بھی کہا کرتی ہے بیگم


    نویدظفرکیانی
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  2. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی محفلین

    مراسلے:
    17,898
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    بہت بہت عمدہ ،
    پرمزاح لاجواب ۔
     

اس صفحے کی تشہیر