بیٹیاں ایسی ہوتی ہیں

نیلم

محفلین
بیٹیاں خوبصورت ہوتی ہیں
دل کے زخم مٹانے کو
آنگن میں اتری بوندوں کی طرح ہوتی ہیں
... بیٹیاں پھولوں کی طرح ہوتی ہیں
نامہرباں دھوپ میں سایہ دیتی
نرم ہتھیلیوں کی طرح ہوتی ہیں
بیٹیاں تتلیوں کی طرح ہوتی ہیں
چڑیوں کی طرح ہوتی ہیں
تنہا اداس سفر میں رنگ بھرتی
رداؤں جیسی ہوتی ہیں
بیٹیاں چھاؤں جیسی ہوتی ہیں
کبھی بلا سکیں، کبھی چھپا سکیں
بیٹیاں اَن کہی صداؤں جیسی ہوتی ہیں
کبھی جھکا سکیں، کبھی مٹا سکیں
بیٹیاں اناؤں جیسی ہوتی ہیں.
کبھی ہنسا سکیں، کبھی رلا سکیں
کبھی سنوار سکیں، کبھی اجاڑ سکیں
بیٹیاں تو تعبیر مانگتی دعاؤں جیسی ہوتی ہیں
حد سے مہرباں، بیان سے اچھی
بیٹیاں وفاؤں جیسی ہوتی ہیں
 

نیلم

محفلین
بہت شکریہ آپ کا بھی.ناعمہ کے دھاگےمیں پوسٹ کر دیا میں نے مناسب سمھجے تو الگ کر دیں.ناعمہ کی تحریر پڑھ کے مجھے بھی یہ تحریر یاد آگئ.
 

نیلم

محفلین
محمود شام کی نظم پڑھنے کے بعد پڑھنے کے بعد تو نہیں لکھی ہے؟
مجھےآپ کی بات سمجھ نہیں آئی معذرت کے ساتھ.اور مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ کس شاعر نے کب لکھی یہ نظم.اُوپر میں نے لکھا بھی ہے کہ ناعمہ کی نظم پڑھ کے مجھے یہ نظم یاد آ گئ.آپ اسےمیری تحریر تو نہیں سمجھ رہے؟مجھے تو الف ،ب بھی نہیں آتی شاعری کی.
 

الف عین

لائبریرین
مجھےآپ کی بات سمجھ نہیں آئی معذرت کے ساتھ.اور مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ کس شاعر نے کب لکھی یہ نظم.اُوپر میں نے لکھا بھی ہے کہ ناعمہ کی نظم پڑھ کے مجھے یہ نظم یاد آ گئ.آپ اسےمیری تحریر تو نہیں سمجھ رہے؟مجھے تو الف ،ب بھی نہیں آتی شاعری کی.
اسے دیکھیں
 
Top