بیت بازی کا کھیل!

شمشاد

لائبریرین
​
گنہ نہیں ہے فروغ بدن کہ جنت سے​
یہ آبِ زندگی ، سر چشمہ ء ہوس میں رہا​
(منصور آفاق)​
 

شمشاد

لائبریرین
​
یہ کون جا رہا ہے مدینے سے دشت میں​
ہے شہر سارا حامی و ناصر بنا ہوا​
(منصور آفاق)​
 

شمشاد

لائبریرین
راجہ صاحب آپ کو حرف الف سے شعر دینا تھا۔
-------------------------------------------------------
​
یہ اور بات کھلتا نہیں ہے کسی طرف​
ہے ذہن میں دریچہ بظاہر بنا ہوا​
(منصور آفاق)
 

راجہ صاحب

محفلین
:daydreaming: یہ کیسے ہو گیا
خیر کوئی بات نہیں :happy:
اے ابر، قسم ہے تجھے رونے کی ہمارے
تجھ چشم سے ٹپکا ہے کبھو لختِ جگر بھی
مرزا رفیع سودا
 

شمشاد

لائبریرین
​
یہ تیرے عطا کردہ تحائف ہیں میں کیسے​
تفصیل مصائب کی بتاتے ہوئے کہتا​
(منصور آفاق)​
 

شمشاد

لائبریرین
​
یہی لگتا ہے بس وہ شورش ِ دل کا سبب منصور​
کبھی ہنگامہ ء تخلیق میں شامل نہیں ہو گا​
(منصور آفاق)​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top