بھٹکا ہوا خیال ہے عقبیٰ کہیں جسے : ریاض خیر آبادی

بھٹکا ہوا خیال ہے عقبیٰ کہیں جسے
بُھولا ہوا سا خواب ہے دنیا کہیں جسے

دیکھے شبِ فراق میں کوئی تو ہم دکھائیں
دل کا وہ داغ چاند کا ٹکڑا کہیں جسے

ظالمِ کی آرزو نے جگہ لی ہے اس طرح
دل میں چُھپا ہوا کوئی کانٹا کہیں جسے

اِن آرسی کے دیکھنے والوں کو کیا پرکھ
اچھا ہے وہ حسین ہم اچھّا کہیں جسے

گلزار میں وہ پُھول ہے جس کا ہے نام مے
زاہد وہ سردِ باغ ہے مینا کہیں جسے

واقف نہیں وہ روزِ قیامت کے طول سے
وعدہ کیا ہے وعدۂ فردا کہیں جسے

حاصل اگر ہوئی بھی تو حاصل نہیں ہے کچھ
بے اعتبار چیز ہے دنیا کہیں جسے

اتنی تو ہو بیان میں واعظ شگفتگی
ہم رند سُن کے قلقلِ مینا کہیں جسے

اہلِ حرم میں جا کے بنا آج شیخِ وقت
کافر ریاضؔ پیر کلیسا کہیں جسے
سید ریاضؔ احمد خیرآبادی
1853-1934خیرآباد
کلیاتِ ریاضؔ ✍️
 
مدیر کی آخری تدوین:
Top