بھُلا دے اُس کو یہ آساں نہیں ہے (مفاعیلن مفاعیلن فعولن)

نوید ناظم

محفلین
بھُلا دے اُس کو یہ آساں نہیں ہے
کہ دل اتنا بھی اب ناداں نہیں ہے

چمک اس میں رہے کیوں شام کے بعد
یہ سورج ہے رخِ جاناں نہیں ہے

مِلا جو غم' مقدر میں لکھا تھا
یہ مجھ پر آپ کا احساں نہیں ہے

مسیحا ہے اگر کوئی مجھے کیا
مِرے تو درد کا درماں نہیں ہے

جو پوچھیں کیا نہیں پاسِ وفا بھی؟
تو کہتے ہیں ہمیں "ہاں ہاں نہیں ہے"

محبت ہم نے کر کے دیکھ لی تھی
جنابِ من یہ بھی آساں نہیں ہے

جلا دی آخری کشتی بھی اُس نے
اب آئے لوٹ کر امکاں نہیں ہے
 

نوید ناظم

محفلین
بہت شکریہ سر۔۔۔۔۔
دوسرا مصرع بدل دیا، اب شعر یوں ہو گیا ہے۔۔۔

محبت ہم نے کر کے دیکھ لی تھی
سنو یہ کام بھی آساں نہیں ہے
 
بھُلا دے اُس کو یہ آساں نہیں ہے
کہ دل اتنا بھی اب ناداں نہیں ہے
پہلے مصرع میں دو فقرے اکٹھے ہو گئے ہیں۔ بھلادے اس کو اور یہ آساں نہیں ہے۔ اس نے مصرع میں جھول پیدا کر دیا ہے۔ کسی اور طرح کہہ کر دیکھیے تو بہتر ہو گا۔
چمک اس میں رہے کیوں شام کے بعد
یہ سورج ہے رخِ جاناں نہیں ہے
بیت‌الغزل!
مِلا جو غم' مقدر میں لکھا تھا
یہ مجھ پر آپ کا احساں نہیں ہے
اچھا شعر۔
مسیحا ہے اگر کوئی مجھے کیا
مِرے تو درد کا درماں نہیں ہے
ٹھیک۔
جو پوچھیں کیا نہیں پاسِ وفا بھی؟
تو کہتے ہیں ہمیں "ہاں ہاں نہیں ہے"
خسروؔ کا ایک شعر یاد آ گیا۔
خلق می گوید کہ خسروؔ بت‌پرستی می کند
آری آری می کنم با خلق ما را کار نیست​
خلق کہتی ہے کہ خسروؔ بت‌پرستی کرتا ہے۔ ہاں ہاں، کرتا ہوں۔ ہمیں لوگوں کی پروا نہیں۔
زبان کے محاسن کا موازنہ تو دشوار ہو گا ہم جیسوں کے لیے۔ دونوں شعروں کے معنوی حسن کا تقابل آپ خود کیجیے۔
محبت ہم نے کر کے دیکھ لی تھی
جنابِ من یہ بھی آساں نہیں ہے
قبلہ الف عین صاحب کی رائے سے متفق ہوں۔
جلا دی آخری کشتی بھی اُس نے
اب آئے لوٹ کر امکاں نہیں ہے
دوسرے مصرع میں وہی عیب ہے جس کا ذکر میں نے مطلع کے پہلے مصرع کی نسبت کیا ہے۔
 
بھُلا دے اُس کو یہ آساں نہیں ہے
کہ دل اتنا بھی اب ناداں نہیں ہے

چمک اس میں رہے کیوں شام کے بعد
یہ سورج ہے رخِ جاناں نہیں ہے

مِلا جو غم' مقدر میں لکھا تھا
یہ مجھ پر آپ کا احساں نہیں ہے

مسیحا ہے اگر کوئی مجھے کیا
مِرے تو درد کا درماں نہیں ہے

جو پوچھیں کیا نہیں پاسِ وفا بھی؟
تو کہتے ہیں ہمیں "ہاں ہاں نہیں ہے"

محبت ہم نے کر کے دیکھ لی تھی
جنابِ من یہ بھی آساں نہیں ہے

جلا دی آخری کشتی بھی اُس نے
اب آئے لوٹ کر امکاں نہیں ہے

ہماری صلاح:

مطلع کو یوں کرسکتے ہیں

بھُلادینا اُسے آساں نہیں ہے
یہ دِل اتنا بھی اب ناداں بہیں ہے


اسی طرح

محبت ہم نے کرکے دیکھ لی ہے
مرے سرکار یہ آساں نہیں ہے
کرسکتے ہیں


آخری شعر کو یوں کرسکتے ہیں

جلادی آخری کشتی بھی ہم نے
ابھی لوٹے کہ جب امکاں نہیں ہے
 
بھُلا دے اُس کو یہ آساں نہیں ہے
کہ دل اتنا بھی اب ناداں نہیں ہے

چمک اس میں رہے کیوں شام کے بعد
یہ سورج ہے رخِ جاناں نہیں ہے

مِلا جو غم' مقدر میں لکھا تھا
یہ مجھ پر آپ کا احساں نہیں ہے

مسیحا ہے اگر کوئی مجھے کیا
مِرے تو درد کا درماں نہیں ہے

جو پوچھیں کیا نہیں پاسِ وفا بھی؟
تو کہتے ہیں ہمیں "ہاں ہاں نہیں ہے"

محبت ہم نے کر کے دیکھ لی تھی
جنابِ من یہ بھی آساں نہیں ہے

جلا دی آخری کشتی بھی اُس نے
اب آئے لوٹ کر امکاں نہیں ہے
ماشاءاللہ اچھی غزل ہے، اصلاح کے بعد مزید نکھر جائے گی۔
 

نوید ناظم

محفلین
پہلے مصرع میں دو فقرے اکٹھے ہو گئے ہیں۔ بھلادے اس کو اور یہ آساں نہیں ہے۔ اس نے مصرع میں جھول پیدا کر دیا ہے۔ کسی اور طرح کہہ کر دیکھیے تو بہتر ہو گا۔

بیت‌الغزل!

اچھا شعر۔

ٹھیک۔

خسروؔ کا ایک شعر یاد آ گیا۔
خلق می گوید کہ خسروؔ بت‌پرستی می کند
آری آری می کنم با خلق ما را کار نیست​
خلق کہتی ہے کہ خسروؔ بت‌پرستی کرتا ہے۔ ہاں ہاں، کرتا ہوں۔ ہمیں لوگوں کی پروا نہیں۔
زبان کے محاسن کا موازنہ تو دشوار ہو گا ہم جیسوں کے لیے۔ دونوں شعروں کے معنوی حسن کا تقابل آپ خود کیجیے۔

قبلہ الف عین صاحب کی رائے سے متفق ہوں۔

دوسرے مصرع میں وہی عیب ہے جس کا ذکر میں نے مطلع کے پہلے مصرع کی نسبت کیا ہے۔
شکریہ راحیل بھائی۔۔۔۔ شکر ہے کہ ہم بھی آپ کے احسانوں کا مزا لوُٹنے والوں میں ہیں !!

پہلے مصرع میں دو فقرے اکٹھے ہو گئے ہیں۔ بھلادے اس کو اور یہ آساں نہیں ہے۔ اس نے مصرع میں جھول پیدا کر دیا ہے۔ کسی اور طرح کہہ کر دیکھیے تو بہتر ہو گا۔
مصرع بدل دیا' اب آپ اسے دیکھیے گا۔۔۔

اُسے اب بھولنا آساں نہیں ہے
کہ یہ دل اس قدر ناداں نہیں ہے

دوسرے مصرع میں وہی عیب ہے جس کا ذکر میں نے مطلع کے پہلے مصرع کی نسبت کیا ہے۔

جلا دی آخری کشتی بھی اُس نے
اب اُس کے آنے کا امکاں نہیں ہے
 

نوید ناظم

محفلین
ہماری صلاح:

مطلع کو یوں کرسکتے ہیں

بھُلادینا اُسے آساں نہیں ہے
یہ دِل اتنا بھی اب ناداں بہیں ہے


اسی طرح

محبت ہم نے کرکے دیکھ لی ہے
مرے سرکار یہ آساں نہیں ہے
کرسکتے ہیں


آخری شعر کو یوں کرسکتے ہیں

جلادی آخری کشتی بھی ہم نے
ابھی لوٹے کہ جب امکاں نہیں ہے
آپ کی صلاح' اصلاح کا درجہ رکھتی ہے، ممنون ہوں کہ آپ نے شفقت فرمائی۔۔۔ کچھ متبادل جو میرے بھی ذہن میں آئے اوپر لکھ دیے ہیں، اک نظر دیکھیے گا۔
 
بہت شکریہ' آپ اپنے علم کی زکوٰۃ نکالتے رہا کریں' اس غریب کا بھی بھلا ہوتا ہے !!
اللہ اکبر
بھیا اتنا علم نہیں جس پر زکوٰۃ فرض ہو۔ بمشکل اپنا گزارہ ہو رہا ہے۔ البتہ جو تھوڑا بہت علم ہے بھائیوں کے لئے حاضر ہے۔
 
آخری تدوین:
Top