بھوک‘ اندھیرے ٹھونسنے والو! ڈنڈا نہیں اٹھانا

الف نظامی

لائبریرین
نذیر ناجی کے کالم سے اقتباس

جب نوازشریف اپنا جلوس لے کر گھر سے نکلے توپولیس کو احکامات تھے کہ جلوس نہیں نکلنا چاہیے‘ جس کی ابتداء کر دی گئی تھی۔ لیکن نوازشریف کے ساتھی گاڑیوں میں کلاشنکوفیں لہراتے ہوئے جب باہر نکلے اور گورنر سلمان تاثیر کو اطلاع ملی کہ وہ مسلح تصادم پر تلے ہوئے ہیں‘ تو انہوں نے فوراً پولیس کو پیچھے ہٹ جانے کا حکم دے دیا۔ اس طرح لانگ مارچ بلاروک ٹوک گوجرانوالہ سے آگے پہنچ گیا۔ جب اسلام آباد اطلاع گئی کہ مسلح جلوس جارحانہ انداز میں دارالحکومت کی طرف بڑھ رہا ہے‘ تو صدر زرداری نے ہنگامی مشاورت شروع کر دی۔ جلوس شب گزاری کے لئے راستے میں رکا۔ صبح ہونے سے پہلے پہلے فیصلہ کر لیا گیا کہ چیف جسٹس افتخار چوہدری کو بحال کر دیا جائے۔ مطالبہ پورا ہونے پر‘ نوازشریف لانگ مارچ موقوف کر کے واپس آ گئے۔


متعلقہ:-
آرٹیکل 16 : اجتماع کی آزادی
امن عامہ کے مفاد میں قانون کے ذریعے عائد کردہ پابندیوں کے تابع ، ہر شہری کو پر امن طور پر اور اسلحہ کے بغیر جمع ہونے کا حق ہوگا۔
 
Top