بھارتی مسلمانوں کا قتل عام

اعجاز، آپ اور بقیہ تمام حضرات، قابل تعریف اور عزیز و محترم ہیں۔ یہ بات صرف صرف ابرار حسن تک محدود تھی۔ جو پاکستان کے واقعات کے بارے میں ایک مخصوص انداز اور طریقہ سے گفتگو کرتے رہے ہیں، ان کے بیانات سے پراپیگنڈہ کی زیادہ بو آتی ہے۔ اور تنقید و تائید ناپید ہوتی ہے۔

ایک ابرار حسن صاحب قطعاَ‌اس قابل نہیں کی ان کی محرکات کو ہندوستان و پاکستان کی روائیتی بحث کا رنگ دیا جائے۔ دوسرے فورمز پر اس قسم کے افراد کا تجربہ ہونے کے باعث ، میں نے ان کے چھٹی پر جانے سے پہلے ان کو بتایا تھا کہ وہ اب جلد غائب ہونے والے ہیں یا چھٹی پر جانے والے ہیں۔ بھائیو (اور بہنو)‌ اب تک تو ہم نے یہ دیکھا ہے کہ جس کو نیٹ کی ایک بار لت لگ جائے وہ چھٹی پر بھی نیٹ نیٹ ہی کھیلتا نظر آتا ہے :)
 

الف نظامی

لائبریرین
محترم اعجاز اختر صاحب،
بھارتی مسلمانوں کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہچانے کے لیے ہند سرکار کیا کر رہی ہے۔ کوئی تازہ ترین پیش رفت؟
 

زینب

محفلین
آج چینل کے زریعے 2002 کے مسلم کش فسادات کے ملزمان کے اقبالی بینات کے وڈیو جاری کیے
جس میں گجرات فسادات کے ملزمان نے بڑے فخر سے بتایا ہے کہ کیسے انہیں نے گودھرا اسٹیشن پر سابرمتی ایکپریس کے ایک ڈبے کو جلانے کا بدلہ مسلمانوں کے قتل عام سے لیا۔۔اس ٹیپ میں بار بار وزیر اعلیٰ نیندر مودی کا زکر اتا ہے۔۔کہ انہوں نے مفسدوں کی کس کس طرح حوصلہ افزائی کی اور قاتلوں کو بچانے کے لیے کیا کیا اقدامات کیے۔۔یہ حقیقت تسلیم شدہ ہے کہ مودی نےگجرات کے فسادات کی چنگاری کو جنگل کی اگ بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی ۔لیکن اس کے خلاف ٹھوس شواہد کبھی نہیں دیے جا سکے تھے۔تہلکہ کے sting operationنے مودی کے انسانیت کش کردار کو اس بری طرح بے نقاب کر دیا ہے کہ بی جے پی کے لیے اس کا دفاع کرنا مشکل ہو گیا ہے۔۔جس دن آڈیو ٹی وی پے دیکھائی گئی بی جے پی سارے لیڈر جو ٹی وی پے انے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانےنہیں دیتے سر شام ہی غائب ہو گئے اور ان کے سارے فون بھی بندہو گئے تھے۔۔۔تہلکہ کے صحافی کا یہ آپریشن اس لیے بھی خطرناک تھا کہ پہلی بار ملک کی ایک ریاست کے ایک وزیراعلیٰ کو فسادات میں براہ راست ملوث ہی نہیں دیکھا یا گیا بلکہ یہ بھی ثابت کر دیا کہ مسلمانوں کے قتل عام کے ایک ملزم کو وزیراعلیٰ نے سرکاری مہمان خانے میں پناہ بھی دی تھی۔۔۔
یہی نہیں بلکہ ریاست کے سابق ایڈوکیٹ جنرل نے متاثرین کی پیروی کرنے کی بجائے ملزمان کے حق میں ججوں سے ساز باز کی کوشیش بھی کی۔۔۔تمام سیکولر پارٹیوں نے مودی کی گرفتاری ما مطلبہ کیا ہے حیرت انگیز طور پے مسلمانوں کے مسیحا تصو رکیے جانے والے سابق وزیر اعلیٰ ملائم سنگھ نے گہری خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔۔۔گجرات کے فسادات میں نروداپاٹیا علاقے میں ایک حاملہ عورت کوثر بی کے پیٹ کو چیر کر اس کے بچے کو تلوار کی نوک پر اچھال کر آگ میں ڈال دینے کے واقعے نے انسانیت کو دھلا دیا ۔۔۔بجرنگ دل کے لیڈر بابو بجرنگی پے اس وحشتناک جرم کا الزام تھا۔۔لیکن کوئی ثبوت نا ہونے کی بنا پر بجرنگ دل اسے الزام قرار دیتی رہی۔۔۔اس ویڈیو میں جو کہ خفیہ زریعے سے بنائی گئی تھی میں بابو نے بہٹ فخریہ انداز میں بتایا کیسے اس نے ایک حاملہ عورت کا پیٹ چیر کے اس کے بچے کو آگ میں ڈال دیا۔۔۔ہم نے مسلمانوں کو بتا دیا کہ اگر ہمیں مارو گے تو ہم بھی چپ نہیں بیٹھیں گے۔۔ہم دہی کچھڑی کھانے والے لوگ نہیں ہین۔۔۔۔۔بابو نے اعتراف کیا کہ اس نے قتل عام کر کے ریاست کے وزیر داخلہ گوردھن جھڑاپیا کو ساب کارناموں سے آگاہ کر دی اتھا۔۔پھر گوردھن نے بابو سے کہا تم بھاگ جاہ گجرات سے کہیں باہر چلے جاو اور کسی کو بولو بھی مت کہ میری تمھاری بات ہوئی ہے۔۔۔بابے بجرنگ پے مقدمہ چل رہا ہے وہ 6 مہینے جیل میں بھی رہا اس کا کہنا ہے کہ مودی نے اسے جیل سے ریا کروایا۔۔۔بابو نے ویڈیو میں بہت پر عزم لہجے میں کہا "مجھے پھانسی سے پہلے صرف 2 گھنٹے دے دو میں جوہاپورہ جاوں کا(مسلانوں کا علاقہ ہے جہاں 7/8 لاکھ مسلان رہتے ہیں) پچیس سے پچیس ہزار مسلمان کو مرنا چاہیے۔۔
گودھرا کے ممبر اسمبلی ہریش بھٹ بھی گجرات فسادات کے اہم ملزمان میں سے ہیں۔۔ہریش نے بتا یا کہ گودھرا ریل اتش زادگی کے بعد مودی بہت طیش میں تھا انہوں نے سرکردہ افراد کی ایک میٹنگ بلائی جس میں اس نے کہا تھا کہ وہ اس اتش زنی کا بدلہ لیں گے۔۔ہریش بھٹ کے مطابق اس کی پٹاخوں کی فیکٹری تھی جس میں انہیں نے خود راکٹ لانچر اور بم بنائے جن کا استعمال فسادات میں کیا گیا۔۔وہ ویڈیو میں یہ بھی کہتا دیکھایا گیا کہ اس نے بنجاب سے تلواریں ۔۔ایم پی اور یو پی سے دیسی پستولیں بزریعہ ٹرک منگوائی تھیں۔۔۔
تہلکہ کی اس روپورٹ نے مودی کے خون اشام چہرے کو ہی بےنقاب نہیں کیا بلکہ عدالتی نظام کو بھی عریاں کر دیا ہے۔۔۔خفیہ کیمرے میں ریاست کے سابق ایڈوکیٹ جنرل کی گفگو بھی ہے ۔۔۔جس کو 2 ججوں کے جسٹس ناناوتی اور جسٹس شاہ کے سامنے متاثرین کی پیروی سوپنی گئی تھی۔۔اس نے کہا کہ ملزمان کو بچانے کی ساری حکمت عملی استعمال کر ڈالی۔۔بقول اس کے۔۔۔ملزمان آخر ان کا خون ہے ججوں کے بارے میں اس نے کہا۔۔۔نانا وتی لالچی آدمی ہے وہ پیسہ چاہتا تھا جبکہ شاہ اپنا ادمی تھا وہ ہم لوگوں سے ہمدردی رکھتا تھا۔۔۔۔اس نے اگے چل کے کہا کہ رعپورٹ ہندووں کے خلاف نہیں ائے گی۔۔ریاست کے ایڈوکیٹ کی یہ باتیں قانون کے پاسداروں کے فرقہ پرست کردار کی شفاف تصویر ہیں۔۔۔
گجرات کے سابق ممبر پارلیمنٹ احسان جعفری کو گلبرگ سوسائٹی میں ان کے مکان میں علاقے کے دیگر پناہ گزینوں کے ساتھ زندا جلا کے مار دیا گیا تھا۔۔یہ احسان جعفری اپنے علاقے کے مقبول کانگرسی لیڈر تھےان کے مراسم اندرا گاندھی کے خاندان سے تھے جب ان کے مکان کو گھیر لیےا گیا تو انہیوں نے سونیا گاندھی اور مودی سے بھی مدد مانگی تھی مگر ان کے پکار صدا بہ صحرا ثابت ہوئی۔
احسان کو قتل کرنےو الے مدن چول نے بتایا کہ احسان کے بنگلے پر بہت سے لوگوں نے پناہ لے رکھی تھی۔ان کے بنگلے کو گھیر لیا گیا مگر وہ حملہ نہیں کر سکتے تھے احسان کے پاس بندوق تھی جس سے وہ فائرنگ کر رہے تھے۔۔۔اندر گھسنے کے بعد میں نے انہیں پیچھے سے لات ماری وہ زمین پے گرا پھر اس پکڑ کے کھڑا کیا۔تلوار سے اس کے ہاتھ کاٹے پیر کاٹے پھر اس چھوٹا چھوٹا کاٹ ڈالا۔۔احسان کو جلانے کے بعد ان کے گھر کو بھی اگ لاگا دی۔۔اور سب پناہ گزینوں کو بھی۔۔۔گلبرگ سوسائٹی اب ویران پڑی ہے وہاں کا کوئی مکیں پھر لوٹ کے نہیں آیا۔۔۔۔۔۔

تہلکہ میگزین کا صحافی اشیش 6 ماہ قبل احمد اباد گیا جبایک فائن ارٹس کے طلباء کی پینٹنگز کی نمائش کو ہندوں نے ہندوو مخالف قرار دے کر طلب علم کو زودکب کیا اور اسے جیل میں بند کروا دیا۔۔وہاں اشیش نے ایسے لوگوں سے ملے جو گجرات فسادات پے بہت نازاں تھے تب اس نے خفیہ رپورٹنگ کا منصوبہ بنایا۔۔۔وہ ہندو ریسرچ سکالر بن کے بجرندل سے ملے ۔۔۔۔۔اور ظاہر کیا کہ وہ مسلمانوں سے نفرت کرتا ہے اور گجرات پر ایک کتاب لکھنا چاہتا ہے۔۔

اس ریسرچ نے ایک بار پھر بھارت کو "سیکولر" ہونے کا ثبوت پیش کر دیا ہے۔۔۔مودی حکومت میں گجرات بھارت کا حصہ ہونے کے باوجود ایک ایسی ریاست میں بدل چکا ہے جس مٰن وفاق کا بہت کم عمل دخل ہے۔۔۔مودی تنہا گجرات کی قسمت کا مالک ہے اس کے خلاف جانے والے کو مالی اور جسمانی نقصان سے گزرنا پڑتا ہے۔

نوٹ:یہ میں نے اخبار جہاں میں پڑھا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔اور یہاں پوسٹ کرنے کا مطلب ان لوگوں کی انکھیں کھولنا اور انہیں آینہ دیکھانا ہے جو لال مسجد پے تو بڑھ چڑھ کے بولتے ہیں مگر جب بات ہندووں کی آئے تو ان کے پاس رٹا رٹایا سیکولر کا نعرہ ہوتا ہے۔۔۔۔۔پاکیستانی ہونے کے ناطے پاکیستان کا ہر حال میں دفاع میرا۔۔۔فرض و ایمان ہے۔۔۔۔
 

الف نظامی

لائبریرین
آج چینل کے زریعے 2002 کے مسلم کش فسادات کے ملزمان کے اقبالی بینات کے وڈیو جاری کیے
جس میں گجرات فسادات کے ملزمان نے بڑے فخر سے بتایا ہے کہ کیسے انہیں نے گودھرا اسٹیشن پر سابرمتی ایکپریس کے ایک ڈبے کو جلانے کا بدلہ مسلمانوں کے قتل عام سے لیا۔۔اس ٹیپ میں بار بار وزیر اعلیٰ نیندر مودی کا زکر اتا ہے۔۔کہ انہوں نے مفسدوں کی کس کس طرح حوصلہ افزائی کی اور قاتلوں کو بچانے کے لیے کیا کیا اقدامات کیے۔۔یہ حقیقت تسلیم شدہ ہے کہ مودی نےگجرات کے فسادات کی چنگاری کو جنگل کی اگ بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی ۔لیکن اس کے خلاف ٹھوس شواہد کبھی نہیں دیے جا سکے تھے۔تہلکہ کے sting operationنے مودی کے انسانیت کش کردار کو اس بری طرح بے نقاب کر دیا ہے کہ بی جے پی کے لیے اس کا دفاع کرنا مشکل ہو گیا ہے۔۔جس دن آڈیو ٹی وی پے دیکھائی گئی بی جے پی سارے لیڈر جو ٹی وی پے انے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانےنہیں دیتے سر شام ہی غائب ہو گئے اور ان کے سارے فون بھی بندہو گئے تھے۔۔۔تہلکہ کے صحافی کا یہ آپریشن اس لیے بھی خطرناک تھا کہ پہلی بار ملک کی ایک ریاست کے ایک وزیراعلیٰ کو فسادات میں براہ راست ملوث ہی نہیں دیکھا یا گیا بلکہ یہ بھی ثابت کر دیا کہ مسلمانوں کے قتل عام کے ایک ملزم کو وزیراعلیٰ نے سرکاری مہمان خانے میں پناہ بھی دی تھی۔۔۔
یہی نہیں بلکہ ریاست کے سابق ایڈوکیٹ جنرل نے متاثرین کی پیروی کرنے کی بجائے ملزمان کے حق میں ججوں سے ساز باز کی کوشیش بھی کی۔۔۔تمام سیکولر پارٹیوں نے مودی کی گرفتاری ما مطلبہ کیا ہے حیرت انگیز طور پے مسلمانوں کے مسیحا تصو رکیے جانے والے سابق وزیر اعلیٰ ملائم سنگھ نے گہری خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔۔۔گجرات کے فسادات میں نروداپاٹیا علاقے میں ایک حاملہ عورت کوثر بی کے پیٹ کو چیر کر اس کے بچے کو تلوار کی نوک پر اچھال کر آگ میں ڈال دینے کے واقعے نے انسانیت کو دھلا دیا ۔۔۔بجرنگ دل کے لیڈر بابو بجرنگی پے اس وحشتناک جرم کا الزام تھا۔۔لیکن کوئی ثبوت نا ہونے کی بنا پر بجرنگ دل اسے الزام قرار دیتی رہی۔۔۔اس ویڈیو میں جو کہ خفیہ زریعے سے بنائی گئی تھی میں بابو نے بہٹ فخریہ انداز میں بتایا کیسے اس نے ایک حاملہ عورت کا پیٹ چیر کے اس کے بچے کو آگ میں ڈال دیا۔۔۔ہم نے مسلمانوں کو بتا دیا کہ اگر ہمیں مارو گے تو ہم بھی چپ نہیں بیٹھیں گے۔۔ہم دہی کچھڑی کھانے والے لوگ نہیں ہین۔۔۔۔۔بابو نے اعتراف کیا کہ اس نے قتل عام کر کے ریاست کے وزیر داخلہ گوردھن جھڑاپیا کو ساب کارناموں سے آگاہ کر دی اتھا۔۔پھر گوردھن نے بابو سے کہا تم بھاگ جاہ گجرات سے کہیں باہر چلے جاو اور کسی کو بولو بھی مت کہ میری تمھاری بات ہوئی ہے۔۔۔بابے بجرنگ پے مقدمہ چل رہا ہے وہ 6 مہینے جیل میں بھی رہا اس کا کہنا ہے کہ مودی نے اسے جیل سے ریا کروایا۔۔۔بابو نے ویڈیو میں بہت پر عزم لہجے میں کہا "مجھے پھانسی سے پہلے صرف 2 گھنٹے دے دو میں جوہاپورہ جاوں کا(مسلانوں کا علاقہ ہے جہاں 7/8 لاکھ مسلان رہتے ہیں) پچیس سے پچیس ہزار مسلمان کو مرنا چاہیے۔۔
گودھرا کے ممبر اسمبلی ہریش بھٹ بھی گجرات فسادات کے اہم ملزمان میں سے ہیں۔۔ہریش نے بتا یا کہ گودھرا ریل اتش زادگی کے بعد مودی بہت طیش میں تھا انہوں نے سرکردہ افراد کی ایک میٹنگ بلائی جس میں اس نے کہا تھا کہ وہ اس اتش زنی کا بدلہ لیں گے۔۔ہریش بھٹ کے مطابق اس کی پٹاخوں کی فیکٹری تھی جس میں انہیں نے خود راکٹ لانچر اور بم بنائے جن کا استعمال فسادات میں کیا گیا۔۔وہ ویڈیو میں یہ بھی کہتا دیکھایا گیا کہ اس نے بنجاب سے تلواریں ۔۔ایم پی اور یو پی سے دیسی پستولیں بزریعہ ٹرک منگوائی تھیں۔۔۔
تہلکہ کی اس روپورٹ نے مودی کے خون اشام چہرے کو ہی بےنقاب نہیں کیا بلکہ عدالتی نظام کو بھی عریاں کر دیا ہے۔۔۔خفیہ کیمرے میں ریاست کے سابق ایڈوکیٹ جنرل کی گفگو بھی ہے ۔۔۔جس کو 2 ججوں کے جسٹس ناناوتی اور جسٹس شاہ کے سامنے متاثرین کی پیروی سوپنی گئی تھی۔۔اس نے کہا کہ ملزمان کو بچانے کی ساری حکمت عملی استعمال کر ڈالی۔۔بقول اس کے۔۔۔ملزمان آخر ان کا خون ہے ججوں کے بارے میں اس نے کہا۔۔۔نانا وتی لالچی آدمی ہے وہ پیسہ چاہتا تھا جبکہ شاہ اپنا ادمی تھا وہ ہم لوگوں سے ہمدردی رکھتا تھا۔۔۔۔اس نے اگے چل کے کہا کہ رعپورٹ ہندووں کے خلاف نہیں ائے گی۔۔ریاست کے ایڈوکیٹ کی یہ باتیں قانون کے پاسداروں کے فرقہ پرست کردار کی شفاف تصویر ہیں۔۔۔
گجرات کے سابق ممبر پارلیمنٹ احسان جعفری کو گلبرگ سوسائٹی میں ان کے مکان میں علاقے کے دیگر پناہ گزینوں کے ساتھ زندا جلا کے مار دیا گیا تھا۔۔یہ احسان جعفری اپنے علاقے کے مقبول کانگرسی لیڈر تھےان کے مراسم اندرا گاندھی کے خاندان سے تھے جب ان کے مکان کو گھیر لیےا گیا تو انہیوں نے سونیا گاندھی اور مودی سے بھی مدد مانگی تھی مگر ان کے پکار صدا بہ صحرا ثابت ہوئی۔
احسان کو قتل کرنےو الے مدن چول نے بتایا کہ احسان کے بنگلے پر بہت سے لوگوں نے پناہ لے رکھی تھی۔ان کے بنگلے کو گھیر لیا گیا مگر وہ حملہ نہیں کر سکتے تھے احسان کے پاس بندوق تھی جس سے وہ فائرنگ کر رہے تھے۔۔۔اندر گھسنے کے بعد میں نے انہیں پیچھے سے لات ماری وہ زمین پے گرا پھر اس پکڑ کے کھڑا کیا۔تلوار سے اس کے ہاتھ کاٹے پیر کاٹے پھر اس چھوٹا چھوٹا کاٹ ڈالا۔۔احسان کو جلانے کے بعد ان کے گھر کو بھی اگ لاگا دی۔۔اور سب پناہ گزینوں کو بھی۔۔۔گلبرگ سوسائٹی اب ویران پڑی ہے وہاں کا کوئی مکیں پھر لوٹ کے نہیں آیا۔۔۔۔۔۔

تہلکہ میگزین کا صحافی اشیش 6 ماہ قبل احمد اباد گیا جبایک فائن ارٹس کے طلباء کی پینٹنگز کی نمائش کو ہندوں نے ہندوو مخالف قرار دے کر طلب علم کو زودکب کیا اور اسے جیل میں بند کروا دیا۔۔وہاں اشیش نے ایسے لوگوں سے ملے جو گجرات فسادات پے بہت نازاں تھے تب اس نے خفیہ رپورٹنگ کا منصوبہ بنایا۔۔۔وہ ہندو ریسرچ سکالر بن کے بجرندل سے ملے ۔۔۔۔۔اور ظاہر کیا کہ وہ مسلمانوں سے نفرت کرتا ہے اور گجرات پر ایک کتاب لکھنا چاہتا ہے۔۔

اس ریسرچ نے ایک بار پھر بھارت کو "سیکولر" ہونے کا ثبوت پیش کر دیا ہے۔۔۔مودی حکومت میں گجرات بھارت کا حصہ ہونے کے باوجود ایک ایسی ریاست میں بدل چکا ہے جس مٰن وفاق کا بہت کم عمل دخل ہے۔۔۔مودی تنہا گجرات کی قسمت کا مالک ہے اس کے خلاف جانے والے کو مالی اور جسمانی نقصان سے گزرنا پڑتا ہے۔

نوٹ:یہ میں نے اخبار جہاں میں پڑھا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔اور یہاں پوسٹ کرنے کا مطلب ان لوگوں کی انکھیں کھولنا اور انہیں آینہ دیکھانا ہے جو لال مسجد پے تو بڑھ چڑھ کے بولتے ہیں مگر جب بات ہندووں کی آئے تو ان کے پاس رٹا رٹایا سیکولر کا نعرہ ہوتا ہے۔۔۔۔۔پاکیستانی ہونے کے ناطے پاکیستان کا ہر حال میں دفاع میرا۔۔۔فرض و ایمان ہے۔۔۔۔
ساری دنیا کے مسلمان بھارتی حکومت سے ان انتہا پسند دہشت گردوں کو کیفر کردار پہچانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
 

زینب

محفلین
پاکستان کرکٹ ٹیم کو بھی جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئی ہیں انڈیا میں ۔۔۔۔کہ پاکستانی ٹیم سیریز چھوڑ کر واپس چلی جائے نہیں تو بم سے اڑا دیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب کہ مسلمانوں کو دہشت گرد کہنے والے دیکھ لیں کبھی بھی پاکستان میں انڈین ٹیم کو کسی قسم کی دھمکی نہیں دی گئی کبھی۔۔۔۔۔
 

مہوش علی

لائبریرین
پاکستان کرکٹ ٹیم کو بھی جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئی ہیں انڈیا میں ۔۔۔۔کہ پاکستانی ٹیم سیریز چھوڑ کر واپس چلی جائے نہیں تو بم سے اڑا دیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب کہ مسلمانوں کو دہشت گرد کہنے والے دیکھ لیں کبھی بھی پاکستان میں انڈین ٹیم کو کسی قسم کی دھمکی نہیں دی گئی کبھی۔۔۔۔۔

زینب سسٹر،

انتہا پسندی کسی ملک، کسی قوم، دنیا کے کسی کونے میں آ جائے، یہ صرف بربادی و خون ہی لاتی ہے۔

اب چاہے یہ انتہا پسندی ہندو ہو
یا چاہے مسلم انتہا پسندی ہو
یا زمانہ تاریک کے گرجا کی انتہا پسندی ہو
یا کمیونزم کی انتہا پسندی ہو
یا مہاجر کا نعرہ لگا کر کراچی میں کی گئی انتہا پسندی ہو
یا۔۔۔۔۔۔

تو انتہا پسندی جہاں بھی ہے، اسکی مذمت ہی کرنی چاہیے۔ جہالت و انتہا پسندی "انسانیت" کی بہت بڑے دشمنوں میں سے ہیں۔
 

زینب

محفلین
مہوش علی: اپ سے کس نے کہا میں انتہا پسندی کی حامی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔یا اپ کو میری کس بات سے لگا۔۔۔۔۔۔۔؟
میرا یہ سب یہاں لکھنے کا مظلب یہ ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔جس بات کا الزام صرف مسمانوں پر ہے وہی سب کچھ دوسرے مزاہب کے ماننے والے بھی کرتے ہیں پھر صرف مسلمان ہی دہشت گرد کیوں۔۔۔۔۔؟مسلمان ہی انتہا پسند کیوں۔۔۔۔ہم مسلمانوں کی غلطیوں کا تو راگ الاپتے رہتے ہیں مگر وہی سب کچھ جب دوسرے مذاہب کے لوگ کریں تو ہم اپنی انکھیں ،کان بند کر لیتے ہیں اور اس پے بات کرنا پسند نہیں کرتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب ہر مذہب کے لوگ ایک جیسے کام کریں تو سلوک بھی ایک سا ہونا چاہیے۔۔۔۔۔۔۔
 

مہوش علی

لائبریرین
مہوش علی: اپ سے کس نے کہا میں انتہا پسندی کی حامی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔یا اپ کو میری کس بات سے لگا۔۔۔۔۔۔۔؟
میرا یہ سب یہاں لکھنے کا مظلب یہ ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔جس بات کا الزام صرف مسمانوں پر ہے وہی سب کچھ دوسرے مزاہب کے ماننے والے بھی کرتے ہیں پھر صرف مسلمان ہی دہشت گرد کیوں۔۔۔۔۔؟مسلمان ہی انتہا پسند کیوں۔۔۔۔ہم مسلمانوں کی غلطیوں کا تو راگ الاپتے رہتے ہیں مگر وہی سب کچھ جب دوسرے مذاہب کے لوگ کریں تو ہم اپنی انکھیں ،کان بند کر لیتے ہیں اور اس پے بات کرنا پسند نہیں کرتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب ہر مذہب کے لوگ ایک جیسے کام کریں تو سلوک بھی ایک سا ہونا چاہیے۔۔۔۔۔۔۔

زینب سسٹر،

معذرت کہ میرے لکھنے کے اسٹائل سے آپ کو کچھ غلط فہمی ہو گئی. میرا اشارہ یقینا آپکی طرف ہرگز نہیں تھا بلکہ میں نے صرف ہر طرح کی انتہا پسندی کے خلاف اپنے دل کا غبار نکالا تھا۔ ہندو انتہا پسندی کی کچھ مثالیں تو میں دیکھ بھی چکی ہوں۔ نہ صرف مسلمان، بلکہ اعلی ذات کے ہندوؤں میں نچلی ذات والے ہندوؤں کے لیے جو نفرت پائی جاتی ہے وہ قابلِ حیرت ہے۔
 

زینب

محفلین
جی اور عامر خان(اداکار) نے گجرات فسادات کے بعد بیان د یاتھا کہ"گجرات فسادات کی زمہ دار مودی‌حکومت ہے اور اسی نے مسلمانوں کا قتل عام کروایا"

تب عامر کی "فنا " فلم ریلیز ہوئی جین سینماوں میں ان پے پتھراو کر کے فلم نہیں چلنے دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر بعد میں کچھ ھی ٹائم بعد عامر کو انڈیا کے پرچم کی بےھرمتی کے کیس میں پھنسا دیا گیا۔۔۔۔۔مطلب مسلمانوں کو برابر کے حقوق حاصل نہیں ہیں۔۔۔۔ جس کا کہ ہمیشہ راگ الاپا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
Top