بھارتی مسلمانوں کا قتل عام

الف نظامی

لائبریرین
20040122122151gujrat_gujb203ap.jpg

’یہ ان لوگوں کا احسان ہے کہ ہمیں یہاں رہنے دے رہے ہیں‘۔گجرات کے پنچ محل ضلع کے پنڈر واڑہ گاؤں کے شیخ فیض محمد بھائی کے یہ الفاظ گجرات کے مسلمانوں کی بے بسی کے عکاس ہیں۔
گودھرا کے واقعہ کے بعد گجرات میں ہندوؤں اور مسلمانوں میں خلیج بہت وسیع ہو گئی ہے۔

سٹیزنز فار پیس اینڈ جسٹس کے رئیس خان کہتے ہیں کہ یہاں جو بھی حکومتیں رہی ہیں انہوں نے مسلمانوں کا امیج دہشت گردی و جرائم سے منسلک کر دیا ہے۔
گجرات کے مسلمان شہروں، قصبوں اورگاؤں ہر جگہ خوفزدہ رہتے ہیں۔ رفتہ رفتہ ان کی بستیاں افلاس زدہ ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ ریاست میں ہندو اکثر مقامات پر مسلمانوں کو اپنی آبادیوں میں رہنے کی اجازت نہیں دیتے۔

سماجی کارکن حنیف لکڑ والا کہتے ہیں کہ ریاست میں بہت منظم طریقے سے مسلمانوں کو اقتصادی طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔ ’ویشنو ہندو پریشد پمفلٹ جاری کرتی ہے۔ جن میں ان اشیاء اور برانڈز کے نام لیے جاتے ہیں جن کمپنیوں کے مالک مسلمان ہيں اور ہندوؤں سے کہا جاتا ہے کہ وہ یہ اشیاء نہ خریدیں‘۔

یہاں کی حکومتوں نے مسلمانوں کا امیج دہشت گردی و جرائم سے منسلک کر دیا ہے۔

دلچسپ پہلو یہ ہے کہ گجرات میں گودھرا کے واقعے اور فسادات کو پانچ برس گزر چکے ہیں لیکن حکومت کی طرف سے ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی ہے۔

دانشور گھنشام شاہ کہتے ہیں ’جو کچھ یہاں ہوا ہے وہ ایک منظم اور سوچا سمجھا سیاسی مشن تھا۔ لیکن اس میں وسیع تر سماج شامل نہیں تھا‘۔

ان کا کہنا تھا ’جب تک مودی کی حکومت ہے اور ان کا خوف برقرار ہے کوئی سامنے نہیں آئے گا‘۔


’نانا وتی کمیشن‘ میں مسلم متاثرین کی نمائندگي کرنے والے وکیل اور حقوق انسانی کے کارکن مکل سنہا کہتے ہیں ’سماج پوری طرح سنگھ پریوار کے رنگ ميں رنگ چکا ہے۔ یہاں قانون کی بالادستی نہیں ہے۔ اتنے بھیانک واقعات اور خونریزی کے باوجود ایک ہزار سے زيادہ مسلمانوں کو قتل کرنے والے آزاد گھوم رہے ہیں‘۔
جو کچھ یہاں ہوا ہے وہ ایک منظم اور سوچا سمجھا سیاسی مشن تھا

مسٹر سنہا کہتے ہیں ’یہ ایک منظم عمل ہے۔ یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنا دیا جائے‘۔

’ایکشن ایڈ‘ کی ذکیہ جوہر بھی مکل سنہا سے اتفاق کرتی ہيں۔ ’گجرات ميں خوف کا یہ عالم ہے کہ مودی کی فاشسٹ پالسیوں کے خلاف مزاحمت کے راستے بند ہوتے جا رہے ہیں‘۔

بڑودہ کے معروف دانشور جے ایس بندوق والا اس صورت حال سے نا امید ہوتے جا رہے ہيں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک مسلمان اپنی معاشی حالت بہتر نہیں کرتے اور جلد سے جلد تعلیم یافتہ نہيں ہوتےگجرات میں ان کے لیے حالات تبدیل نہیں ہو سکتے‘۔

فسادات کے دوران بندوق والا کا مکان ہندو بلوائيوں نے جلا کر راکھ کر دیا تھا۔ تجزیہ کار اور حقوق انسانی کی تنظیمں گجرات کی صورتِ حال کو ’گجرات تجربہ‘ قرار دیتی ہیں اور بہت سے لوگ یہ خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ اسی طرح کا تجربہ دیگر ریاستوں میں بھی کیا جانے والا ہے۔
بحوالہ بی بی سی اردو
بحوالہ بی بی سی اردو
 

قیصرانی

لائبریرین
دیکھو بھائی، اسی لئے ہم نام نہاد جہادیوں کی مذمت کرتے ہیں کہ ان کے کئے کی سزا ان بیچارے لوگوں کو ملتی ہے۔ انہی نام نہاد جہادی لوگوں کی وجہ سے اسلام اور مسلمان کو دہشت گرد کا ہم قافیہ قرار دیا جاتا ہے۔ اگر یہ جہادی ہیں تو یہ مودی کے خلاف خود کش حملہ کیوں نہیں‌ کرتے؟‌ سارا زور اور سارے خود کش حملے مسلمانوں کے خلاف ہی کیوں

امید ہے کہ اب آپ کو اندازہ ہوا ہوگا کہ جہاد فی سبیل اللہ اور فساد فی سبیل اللہ میں کیا فرق ہے
 

الف نظامی

لائبریرین
قیصرانی نے کہا:
انہی نام نہاد جہادی لوگوں کی وجہ سے اسلام اور مسلمان کو دہشت گرد کا ہم قافیہ قرار دیا جاتا ہے۔
مسلمانوں پر دہشت گردی کا لیبل ایک خاص مقصد کے لیے لگایا جاتا ہے جس کی حقیقت سے میں اچھی طرح واقف ہوں ۔
نوٹ :یہ عنوان ہندو انتہاپسند دہشت گردوں کے بارے میں ہے۔
مزید اس عنوان سے سیکولر ذہن رکھنے والوں کی توجہ اس طرف مبذول کروانا ہے کہ سیکولر ہندوستان کتنا “انسان دوست“ ہے۔
 

ابوشامل

محفلین
دہشت گرد یا مجاہد آزادی

تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جو ایک دور کا سب سے بڑا دہشت گرد ہوتا ہے وہ مستقبل میں ہیرو بن جاتا ہے، آپ نیلسن منڈیلا کو دیکھ لیں جو اس وقت دنیا کی غیر متنازع ترین شخصیات میں سے ایک ہیں، کسی زمانے میں سب سے بڑے دہشت گرد قرار دے کر 25،26 سال کے لیے پابند سلاسل کردیے گئے۔
مسلمانوں کو تو دہشت گرد اس لیے قرار دیا جارہا ہے کہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ اپنی supermacy برقرار رکھنے کے لیے ان تمام عناصر کو ختم کرنا چاہتا ہے جن سے ان کو خطرہ لاحق ہے اور اس لیے نام نہاد "اسلامی دہشت گردی" کا ہوا کھڑا کیا گیا۔ کیونکہ political islam سے سب سے زیادہ امریکہ کی چوہدراہٹ کو خطرہ ہے۔
اور شاہ سے بڑے شاہ کے وفادار پاکستان کو دیکھیے، امریکہ سے بھی چار ہاتھ آگے نکلا جارہا ہے۔ بھئی آپ بھی ان کے خلاف شدت پسندی سے کام لے رہے ہیں، آپ کہلاتے خود کو روشن خیال اور اعتدال پسند ہیں لیکن بقول اقبال "چہرہ روشن، اندروں چنگیز سے تاریک تر"۔ اس سے تو "شدت پسندی" اور زیادہ ابھرے گی۔
اس وقت دنیا بھر کا قانون جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا ہے۔ امریکہ جسے دہشت گرد وہ دہشت گرد ہے اور جسے امن پسند کہے وہ دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ہونے کے باوجود امن پسند کہلائے گا۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں، کئی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔
 

الف نظامی

لائبریرین
میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں۔
غور طلب بات یہ ہے کہ جہاں مسلمانوں پر دہشتگردی کا لیبل چسپاں کیا جاتا ہے وہاں ہندو انتہاپسند دہشتگردوں کی مسلم کشی سے مکمل طوطا چشمی اختیار کی جاتی ہے۔
ہوسکتا ہے اس طرزعمل میں “تصوفِ انسان دوستی“ کی کوئی رمز پنہاں ہو۔
 
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بھائی قیصرانی میرے خیال میں آپ جہاد پر اتنے سوالات پوچھ چکے ہیں کہ جہاد اور فساد میں فرق معلوم ہو گیا ہوگا کہ جو کوئی بھی دھماکے کریں وہ مجاہدین کے اکاؤنٹ میں ڈالیں اور جہاد کے خلاف نفرت پھیلائے

مولوی بدنام کر دیے جاتے ہیں

واجد حسین
 

مہوش علی

لائبریرین
واجدحسین نے کہا:

السلام علیکم

واجد صاحب، مولوی یونہی بدنام نہیں کر دیے جاتے ہیں، بلکہ کچھ حقیقت تو ہوتی ہے۔

کیا وجہ ہے کہ پچھلی دھائیوں میں جبتک مولوی حضرات اتنی قوت میں نہیں تھے، اُس وقت تک یہ واقعات نہیں ہوتے تھے؟؟؟ ۔۔۔۔ مگر آج ہو رہے ہیں؟؟؟

آپ نے جو لنک دیا ہے، اُس کے مصنف تو مولوی حضرات کو بہت معصوم ثابت کیا ہے، مگر جو چیز وہ بھول رہے ہیں، وہ مولوی حضرات کا یہ دُو رُخا کردار ہے:

۔ ایک مسجد کی بات آئی تو ہزاروں کی تعداد میں مذھبی طبقے "سبیلنا سبیلنا الجھاد الجھاد" کے نعرے بلند کر کے باہر نکل آئے اور سر پر کفن باندھ لیے۔

۔ مگر جب ایک معصوم وزیر خاتون کا قتل ہوا، تو اس بربریت کے خلاف ان مذہبی اداروں سے ایک شخص نہیں نکلا۔

۔ اور جب ایک دوسرے کو کافر کہا جا رہا تھا، تو انہی "معصوم" مذھبی طبقے اس کے خلاف سر پر کفن باندھے نظر نہیں آئے۔بلکہ کافر کہنے والے مولویوں سے بھائی بندیاں ہیں۔

۔ یہی حال جب مسجدوں میں بم پھوٹتے ہیں تو اس کے خلاف یہ "معصوم" مذھبی طبقے کوئی جلوس نہیں نکالتے۔


۔ اور اس سے بڑھ کر بات کہ جب لوگ غیر قانونی طریقوں سے جگہیں ہتھیا کر مسجدیں کھڑی کر دیتے ہیں، تو ان "معصوم" مذھبی طبقوں کو اس کے خلاف تو کبھی "جہاد" کی توفیق نہیں ہوتی۔ کیوں؟؟؟؟؟
(میں یہاں پر صرف مسجدِ حمزہ ہی کی بات نہیں کر رہی، بلکہ پاکستان میں کونے کونے میں ایسی غاصبی مساجد موجود ہیں۔


الغرض، ایسے تمام فتنوں کے خلاف تو ان مذھبی طبقوں کی طرف سے ایسی ہی خاموشی دیکھنے میں آتی ہے جیسے الطاف حسین کی خاموشی انڈیا میں ٹرین حادثے پر۔ اور اگر کسی مولوی کو زیادہ ہی توفیق ہوتی ہے تو زیادہ سے زیادہ زبانی کلامی ایک دو بیانات سے آگے بات نہیں بڑھتی۔۔۔۔۔ مگر پتا نہیں اُس وقت سبیلنا سبیلنا الجہاد الجہاد کہاں چلا جاتا ہے۔

تو اب آپ کو پتا چل رہا کہ کیا وجہ ہے کہ جوں جوں مولوی طبقہ مضبوط ہو رہا ہے، ویسے ویسے کیوں یہ مذھبی دیوانگی و بربریت بڑھتی جا رہی ہے؟؟؟؟۔۔۔۔۔ (یعنی وجہ یہ ہے کہ اس مذھبی دیوانگی و بربریت کے خلاف معصوم مذھبی طبقوں کو کبھی الجہاد یاد نہیں آتا، اور نہ کوئی سر پر کفن باندھے دکھائی دیتا ہے۔

\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\


اسوہ رسول

اور اسوہ رسول کا واقعہ ہے کہ جب ایک مسجد کے لیے جگہ لی، تو پہلے جا کر اُس کی قیمت اس جگہ کے مالک یتیم بچوں کو ادا کی۔

اللہ، ان تمام لوگوں کو ڈوب کر مر جانا چاہیے جنہوں نے ایسی غاصبی مساجد کھڑی کی ہیں۔ اور پھر ظلم یہ کہ ان غاصبی مساجد کی حفاظت کو الجہاد کہا جا رہا ہے۔

ہم لوگ ایک مملکت میں رہ رہے ہیں کہ جہاں کا ایک قانون ہے۔ اگر مسجد غاصبی نہیں، تو جائیے عدالت میں جائیے، اور پھر عدالت جو فیصلہ کرے اُسے قبول کر لیں۔۔۔۔۔۔ لیکن نہیں۔۔۔ حفاظتِ مسجد کے نام پر یہ الفساد تو سبیلنا سبیلنا الجہاد ہے۔
یہ ہے ایک مملکت میں رہتے ہوئے مملکت کے قانون سے بغاوت

اصل میں غور کریں ان معصوم مذھبی طبقوں میں اور ھندوؤں کی معصوم جماعت "شیو سینا" میں چنداں فرق نہیں کہ جس نے مندرتا کے نام پر الجہاد بمعنی الفساد پھیلا رکھا ہے۔ اُن کے آرگومنٹز سنیں، اور پھر ان معصوم مذھبی طبقوں کے آرگومنٹز سنیں۔۔۔۔ آپ کو ان میں ذرا فرق نظر نہیں آئے گا۔ جامعہ حفصہ کی طالبہ تقریر کر رہی ہے کہ یہ ملک پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ہے اور ہم اس میں (غاصبی) مسجد نہیں توڑنے دیں گے۔۔۔۔۔ اور اُدھر بال ٹھاکرے کو سن لیں جو رام جنم بھومی کی دھائیاں دے رہا ہے۔ مگر دونوں گروہ اپنے ملک کے قانون اور عدالتوں کو سننے کے لیے تیار نہیں بلکہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے ہیں۔


\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\

کہنے کو تو بہت کچھ ہے اور واجد صاحب یقین کریں کہ قیصرانی نے ابھی کچھ سوالات ہی نہیں کیے ہیں۔

آخر میں میں آپ کو ان معصوم مذھبی طبقوں کی ایک اور منافقت بتا دوں۔۔۔۔۔ ایک غصب شدہ مسجد کے لیے تو کفن حاضر اور ہزاروں لوگ جلسے کے لیے تیار، اور لائبریریاں پر قبضے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر یہ وہی مذھبی طبقے ہیں کہ جن کے منہ سے ایک لفظ نہ نکل سکا جب طالبان بدھا کے مجسمے توڑ رہے تھے، یا پھر بابری مسجد کے ردعمل پر پاکستان میں مذھبی بربریت کا مظاہرہ ہوا جب پاکستانی کلیساؤوں اور مندروں کو توڑا گیا۔
اور آپ مجھ سے اب بھی پوچھتے ہیں کہ مذھبی بربریت کے ذمہ دار یہ معصوم مذھبی طبقے کیوں؟؟؟؟ تو کیا وجہ تھی کہ کلیساؤں اور مندروں کے ٹوٹنے پر انکے گلے کی آوازیں خشک ہو گئیں؟؟؟ اُس وقت یہ کیوں نہ الجہاد کے لیے اٹھے اور اس مذھبی جنونیت کو نیست و نابود کیوں نہ کر دیا؟

یاد رکھئیے، ملک کے قانون کو یوں ہاتھ میں لینا بغاوت ہے، اور یوں الجہاد کی دھمکیاں دے کر غیر قانونی کام کرنا ۔۔۔۔۔ اسکے لیے انہیں اس کے سوا کچھ نہیں کہنا چاھئے کہ "سبیلنا سبیلنا الفساد الفساد"

والسلام
 

مہوش علی

لائبریرین
الف نظامی نے کہا:
میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں۔
غور طلب بات یہ ہے کہ جہاں مسلمانوں پر دہشتگردی کا لیبل چسپاں کیا جاتا ہے وہاں ہندو انتہاپسند دہشتگردوں کی مسلم کشی سے مکمل طوطا چشمی اختیار کی جاتی ہے۔
ہوسکتا ہے اس طرزعمل میں “تصوفِ انسان دوستی“ کی کوئی رمز پنہاں ہو۔

السلام علیکم

راجہ صاحب،

ضمیرِ انسانی میں تھوڑی منافقت ہے تو تھوڑی سچائی بھی۔

دوسرے الفاظ میں ہر چیز کو صرف سیاہ و سفید میں نہیں تولا جا سکتا، بلکہ انکے درمیان بھی کچھ رنگ ہیں (یعنی اچھے انسانوں میں کچھ برائیاں ہیں اور برے انسانوں میں بھی کچھ اچھائیاں ہیں)


\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\

کیا آپ کو پتا ہے کہ امریکہ بہادر نے نرندر سنگھ مودی کے ساتھ کیا سلوک کیا؟

انتہا پسندی جہاں بھی، جس قوم میں بھی آ جائے، وہ قابلِ مذمت ہے (چاہے وہ قوم اپنی ہو یا پرائی)۔

ایک ھندو انتہا پسند اور ایک سکھ انتہا پسند اور ایک مسلم انتہا پسند۔۔۔۔۔ ان سب انتہا پسندوں میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہوتا۔


\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\

اور ہم ھندو انتہا پسندی کی اتنی شدت سے ہی مذمت کرتے ہیں جتنی شدت سے مسلم انتہا پسندی کی (یعنی ان دونوں برائیوں میں کوئی فرق نہیں کرتے)۔

مگر اُن لوگوں کے متعلق کیا کہئے جو ھندو انتہا پسندی کے خلاف تو فورا سر پر کفن باندھ کر الجہاد کے لیے تیار ہیں، مگر مسلم انتہا پسندی پر اُنکی آنکھیں بند ہو جاتی ہیں، کان سننا چھوڑ دیتے ہیں اور ہونٹ سل جاتے ہیں!!!!! پاکستان میں مندروں کو توڑا جاتا رہے تو ہوتا رہے، مگر طیش اُس وقت انہیں آتا ہے جب ھندو بابری مسجد کا نام لیں۔
 

ابوشامل

محفلین
مہوش صاحبہ کے لیے

السلام وعلیکم مہوش صاحبہ! آپ کا جواب پڑھا۔

سب سے پہلے ایک چیز آپ پر واضح کردوں کہ میں ہر گز مولوی کا دفاع نہیں کررہا بلکہ مجھے اس کا دفاع کرنے کی ضرورت بھی نہیں، اس کی کئی غلطیوں کے باعث ہی ہمیں یہ دن دیکھنا پڑ رہے ہیں، لیکن مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب ہم غیروں کے اشارے پر اور مولوی کے نام پر اسلام اور اس کے شعائر کا مذاق اڑائيں اور عملی زندگی میں ان کو ناقابل عمل قرار دیں جس طرح آجکل ہماری حکومت کررہی ہے۔ آپ پردہ نہ کریں، نماز نہ پڑھیں، روزے نہ رکھیں، حج نہ کریں، زکوۃ نہ دیں، جہاد نہ کریں، اسلام کے ہر حکم کو پس پشت ڈال دیں کیونکہ عمل کرنا آپ کا ذاتی فعل ہے لیکن اس کی کسی کو اجازت نہیں ہوسکتی کہ وہ پردے کو دقیانوسی قرار دے، نماز، روزے،حج، زکوۃ کو فضول حرکات کہے اور جہاد کو دہشت گردی قرار دے۔

آپ کے جواب پر میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ آپ ذرائع ابلاغ کے پروپیگنڈے کا ایک اور نشانہ ہیں۔ آپ کے نظر میں ناجانے کون سے مدارس اور مولوی تھے میں نہیں جانتا البتہ کیا آپ کو کبھی توفیق ہوئی کہ آپ کسی مدرسے کا دورہ کرکے دیکھیں کہ جو کچھ کہا جارہا ہے اس میں حقیقت بھی ہے یا نہیں؟ امریکہ اور یہودیوں اور ان کے چیلوں کے ذرائع ابلاغ کی خبروں پر آنکھ بند کرکے یقین کرلینے سے ہم شتر مرغ تو کہلا سکتے ہیں انسان ہرگز نہیں کیونکہ انسان کی طبیعت میں جستجو ہے۔ ہم دو روپے کی چیز لینے سے پہلے تو اسے خوب ٹٹول کر اور سوچ کر خریدتے ہیں لیکن کسی انسان کو سمجھنے سے پہلے بغیر کچھ سوچے سمجھے اس پر الزامات دھر دیتے ہیں۔

آجکل مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم نے اشیا کے ساتھ ساتھ اب خیالات کو بھی درآمد (امپورٹ) کرنا شروع کردیا ہے، اب ہم جو کچھ دیکھتے ہیں وہ اصل میں کسی اور کا دکھایا ہوا ہوتا ہے، ہم جو کچھ سنتے ہیں وہ اصل میں کسی اور کا سنایا ہوا ہوتا ہے، ہم محسوس بھی وہ کچھ کرتے ہیں جو کوئی ہمیں محسوس کرانا چاہتا ہے۔ میڈیا نے عوامی رائے عامہ کو جس طرح تبدیل کیا ہے، اس کا اندازہ آج کل رائے عامہ سے کیا جاسکتا ہے جو آج سے 20 سال قبل کے مقابلے میں بہت زیادہ تبدیل ہے۔

مولوی اور اسلام کے خلاف تو آپ لوگ سب کچھ برداشت کرلیتے ہیں لیکن پاکستان کے خلاف امریکی اداروں کی بات آپ لوگوں سے کیوں ہضم نہیں ہوتی؟ امریکہ کے ادارے آپ کے ملک پاکستان کے بارے میں جو کچھ دکھا رہے ہیں اسے نہ تو آپ تسلیم کرتے ہیں اور شاید دیکھنا ہی نہیں چاہتے، پاکستان کے حصے بخرے کرنے کے حوالے سے جاری کردہ نقشہ بھول گئیں؟ "دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پاکستان کو تقسیم کرو" نامی کتاب کا "سی این این" پر اشتہار آپ کو یاد نہیں؟ لیکن ایران میں انقلاب کے بعد تہران میں امریکی سفارت خانے پر حملے اور اس کے عملے کو یرغمال بنانے کا واقعہ سب کو یاد ہوتا ہے!، ڈینیل پرل کے قتل کو کوئی نہیں بھولتا! واہ کیا یادداشت ہے، یک رخی یادداشت ۔ واضح رہے کہ مغربی اور مغرب نواز ذرائع ابلاغ صرف ان واقعات کو مسلسل منظر عام پر رکھتا ہے جس میں ان کا مفاد پوشیدہ ہو، وہ کبھی ان واقعات کو سامنے نہیں لائے گا جس سے اس کے مخالفین کے بارے میں کوئی مثبت رائے قائم ہو۔

ہم لوگ باتیں تو بہت بڑی بڑی کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام کی مثالیں دیتے ہیں لیکن کیا ہم نے کبھی اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھا کہ ہم کتنا ان کے نقش قدم پر چلتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کی بھی عیادت کی جو ان کی راہ میں کانٹے بچھاتی تھی جبکہ ہم اس شخص سے بات کرنے کو راضی نہیں جس کی رائے سے ہم متفق نہیں۔ یہ عادات اسلام کے نام لیوا مولویوں سمیت ہمارے پورے معاشرے کا المیہ ہے، برداشت کا مادہ ہمارے اندر رہا ہی نہیں۔ جو لوگ انتہا پسندی کے خاتمے کی بات کرتے ہیں کیا وہ اس نام نہاد انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے انتہا پسندی سے کام نہیں لے رہے؟ ہر عمل کا رد عمل ضرور ہوتا ہے، آپ پوری سرکاری مشینری کے ساتھ اور تمام تر ذرائع کو استعمال کرکے کسی کو دبانے کی کوشش کریں گے تو مخالف بھی اپنی قدرت اور قوت کو استعمال کرکے اس دباؤ سے بچنے کی کوشش ضرور کرے گا۔ اس سلسلے میں بہت سارے عوامل ایسے ہیں جو صرف انہیں بدنام کرنے کے لیے حکومتی سطح پر کیے جاتے ہیں۔ چند طبقے کی حرکات کا الزام تمام اسلام پسندوں پر جڑ دینا بالکل درست نہیں اور اس صورت میں بھی جب اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ بغیر کسی تحقیق کے کسی خبر پر یقین مت کرو۔ اور ہم کتنا یقین کرتے ہیں؟ جتنا شاید ہمیں اللہ کی موجودگی پر بھی نہیں۔

موجودہ حالات کے حوالے سے آپ نے اسلام آباد میں مساجد پر قبضے کا ذکر کیا، اس بات کی کون ضمانت دے سکتا ہے کہ اسلام آباد میں قبضہ مافیا نے کسی اور زمین پر قبضہ نہیں کیا یا وفاقی دارالحکومت میں قبضہ مافیا کی کمر توڑ دی گئی ہے! اگر دیگر تمام مقامات پر ایسا ہوچکا ہے تو پھر ہم کہیں کہ اب غیر قانونی قبضے سے تعمیر کی گئی مساجد کو بھی ختم کرنا چاہیے اور اس پر کسی کو اعتراض بھی نہیں ہوسکتا، لیکن پہلا ہاتھ ہی مساجد پر ڈالنا اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ پوری دال ہی کالی ہے۔ ایسی شرمناک کارروائیاں اس شہر میں ہورہی ہیں جس کا نام اسلام کا شہر ہے۔

آخری بات آپ نے بیک جنبش قلم مدارس اور مولوی کو طاغوت کی صف میں لا کھڑا کردیا، اور ماضی اور حال ہی تمام برائیاں اس کے کھاتے میں ڈال دیں، اگر میں ان مغربیوں کا ماضی کھول کر آپ کے سامنے رکھنا شروع کردوں جن کو آپ دنیا کا مہذب ترین معاشرہ اور انسان سمجھتی ہیں تو شاید یہ محفل کا فورم کم پڑ جائے لیکن ان کی بدمعاشیوں اور سیاہ کارناموں کی داستان ختم نہ ہو۔ کیا آپ کو صلیبی جنگوں کے بارے میں نہیں معلوم جب مذہبی جنونیت میں ڈوبا ہوا یورپ مسلم دنیا پر ٹوٹ پڑا اور ظلم کے پہاڑ توڑ دیے گئے، بیت المقدس میں مسلمانوں کا اس قدر خون بہایا گیا کہ وہ گھوڑے کے گھٹنوں تک آتا تھا اور اسے چلانے میں دشواری ہوتی تھی، کیا آپ غلاموں کی اس "عظیم" تجارت کو بھول گئیں جس میں افریقہ بھر سے انسانوں کو جانوروں کی طرح ڈھو کر امریکہ کی سر زمین پر وسائل لوٹنے کے کام میں لایا جاتا تھا۔ کیا آپ مسلم دنیا کے تمام ممالک پر یورپی ممالک کے کتوں کے طرح ٹوٹنے اور ان کو غلام بنانے کے دور کو بھول گئیں جب انہوں نے ان ممالک کو وسائل کو اس طرح لوٹا کہ آج تک وہ معاشی طور پر اپنے پیر پر نہیں کھڑے ہوسکے؟ حتی کہ مہذب ترین دور یعنی بیسویں صدی میں بھی انہوں نے مسلمانوں کو اپنی جنونیت کا نشانہ بنایا اور سب سے پہلے پہلی جنگ عظیم میں سلطنت عثمانیہ کے حصے بخرے کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی، جب مقابلے پر کوئی نہ رہا تو دوسری جنگ عظیم میں خود آپس میں لڑے، کروڑوں انسانوں کا خون بہایا، معصوم انسانوں پر ایٹم بم گرائے، سرد جنگ کے دور میں پوری دنیا کو منقسم کیے رکھا، جب کوئی دشمن نہ بچا تو اپنے دشمن پھر پیدا کرلیے، طالبان، اسامہ بن لادن، ملا عمر، افغانستان، صدام حسین، عراق، ایران اور شاید مستقبل میں پاکستان، سعودی عرب، شام اور دیگر کئی ممالک بھی مغربیوں کے دشمنوں کی فہرست میں کھڑے ہوں۔ حیرت کی بات ہے کہ بش نام نہاد دہشت گردی کے خلاف حالیہ جنگ کو بھی صلیبی جنگ سمجھتا ہے جس سے اس کے ارادوں کا صاف پتہ چلنا چاہیے کہ یہ انسداد دہشت گردی کی نہیں بلکہ انسداد مسلمان کی جنگ ہے اور ہم ہیں کہ بجائے اس کو واضح کرنے کے الٹا اس کی طرف ہو کر کھڑے ہوگئے ہیں۔ بقول شاعر
دیکھا جو تیر کھا کے کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی​
بات بہت زیادہ طویل ہوگئی، بس جب میں آجکل کے نوجوانوں کو ماضی سے بے بہرہ اور عین الیقین پر حد درجہ اعتماد کرتے دیکھتا ہوں تو واللہ میرا دل بہت کڑھتا ہے، میری سمجھ نہیں آتی کہ میں انہیں کیسے سمجھاؤں، میں اللہ سے دعائیں کرتا ہوں کہ مجھے سمجھانے کی وہ قوت عطا کرے جس سے میری بات دوسرے کے دل میں اتر جائے۔ اللہ آپ کو حق کو سمجھنے اور اس کے ساتھ رہنے کی توفیق دے اور ہم سب کو عین الیقین کے بجائے حق الیقین کی قوت عطا کرے۔ اگر میری کوئی بات بری لگی ہو تو میں انتہائی معذرت خواہ ہوں، میرا مقصد کسی کا دل دکھانا نہیں بلکہ اصل بات سامنے لانا ہے۔ اگر درمیان میں کہیں شدت کلام میں اضافہ ہوگیا تو میں معافی کا خواستگار ہوں۔
 
بسم اللہ الرحمن الرحیم
السلام علیکم
جزاک اللہ “ابو شامل“ میں خود ایک طالب علم ہوں بہت سارے جذبات ہیں اندر لیکن فی الحال ایکسپرشن کی پاور زرہ کم ہے انشاء اللہ جب اپ جیسے ساتھی موجود ہوں تو جذبہ اور بھی بڑے گا۔ ہماری نقل کا معیار “ ایمبولنس“ کو زرہ دیکھیے باہر ملکوں میں جو لکھا ہے الٹا تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں تو نہ خود مولوی ہوں لیکن دیندار طبقے سے نہایت محبت اور جس کو ویسٹ کی وائرس لگ گیا ہوں ان کے لیے دعا گو ہوں

السلام علیکم

واجدحسین
 
مہوش علی نے کہا:
الف نظامی نے کہا:
میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں۔
غور طلب بات یہ ہے کہ جہاں مسلمانوں پر دہشتگردی کا لیبل چسپاں کیا جاتا ہے وہاں ہندو انتہاپسند دہشتگردوں کی مسلم کشی سے مکمل طوطا چشمی اختیار کی جاتی ہے۔
ہوسکتا ہے اس طرزعمل میں “تصوفِ انسان دوستی“ کی کوئی رمز پنہاں ہو۔

السلام علیکم

راجہ صاحب،

ضمیرِ انسانی میں تھوڑی منافقت ہے تو تھوڑی سچائی بھی۔

دوسرے الفاظ میں ہر چیز کو صرف سیاہ و سفید میں نہیں تولا جا سکتا، بلکہ انکے درمیان بھی کچھ رنگ ہیں (یعنی اچھے انسانوں میں کچھ برائیاں ہیں اور برے انسانوں میں بھی کچھ اچھائیاں ہیں)


\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\

کیا آپ کو پتا ہے کہ امریکہ بہادر نے نرندر سنگھ مودی کے ساتھ کیا سلوک کیا؟

انتہا پسندی جہاں بھی، جس قوم میں بھی آ جائے، وہ قابلِ مذمت ہے (چاہے وہ قوم اپنی ہو یا پرائی)۔

ایک ھندو انتہا پسند اور ایک سکھ انتہا پسند اور ایک مسلم انتہا پسند۔۔۔۔۔ ان سب انتہا پسندوں میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہوتا۔


\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\

اور ہم ھندو انتہا پسندی کی اتنی شدت سے ہی مذمت کرتے ہیں جتنی شدت سے مسلم انتہا پسندی کی (یعنی ان دونوں برائیوں میں کوئی فرق نہیں کرتے)۔

مگر اُن لوگوں کے متعلق کیا کہئے جو ھندو انتہا پسندی کے خلاف تو فورا سر پر کفن باندھ کر الجہاد کے لیے تیار ہیں، مگر مسلم انتہا پسندی پر اُنکی آنکھیں بند ہو جاتی ہیں، کان سننا چھوڑ دیتے ہیں اور ہونٹ سل جاتے ہیں!!!!! پاکستان میں مندروں کو توڑا جاتا رہے تو ہوتا رہے، مگر طیش اُس وقت انہیں آتا ہے جب ھندو بابری مسجد کا نام لیں۔

السلام علیکم
ویسے اگر اب یہ دیکھ لیں تو بہتر ہوگا۔۔
اسلام قبول كرنے بچے مجھ سے چین گیے؟؟؟
 

قیصرانی

لائبریرین
ابو شامل، آپ سے فی الوقت میں بحث‌نہیں کرنا چاہ رہا۔ آپ تصویر کا ایک ہی رخ‌ دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آپ کو اتنا علم تو ہوگا ہی کہ اگر ایک بندہ قبضہ مافیا بنتا ہے یا ایک مولوی، دونوں ‌کے مقاصد بہت فرق ہوتے ہیں۔ اگر مولوی قبضہ کرکے اس کو اللہ کا گھر بنا دے گا، کیا اس کی کوئی وضاحت پیش کر سکتے ہیں؟ اگر قبضہ گروپ کو ہم غلط کہیں، اس سے زمین چھڑانے کی بات کریں، تو کیا مسجد اس کاروائی سے بالاتر ہو گی؟ میرے اپنے آبائی شہر میں‌ کئی سڑکیں ایسی ہیں کہ ان پر موجود چوکوں کی توسیع ممکن نہیں ہو رہی۔ حادثات کی شرح‌بہت بڑھ رہی ہے کیونکہ چوک پر عین سڑک کے کنارے ایک غیر قانونی مسجد بنا دی گئی ہے۔

ایک مثال یہ دیکھیں۔ میرے شہر ڈیرہ غازی خان کے ہسپتال چوک جو کمیٹی گولائی کی طرف جاتا ہے، پر ایک فرقہ کی مسجد موجود ہے۔ سڑک کو کھلا کرنے کی کوشش کے دوران اس مسجد کی انتظامیہ سے رابطہ کیا گیا کہ یہ مسجد غیر قانونی ہے براہ کرم اسے گرانے کی اجازت دی جائے۔ مسجد انتظامیہ نے باقاعدہ سیاسی اور دینی مسئلہ بنا دیا۔ حکومت کی طرف سے آفر کی گئی کہ مسجد کو اس جگہ سے ہٹا کر دو سو گز سائیڈ پر کر دیتے ہیں اور اس سلسلے میں تمام اخراجات حکومت برداشت کرے گی۔ اس پر کیا جواب ملا، زمین کی قیمت ہم سے لے لیں۔ یہ زمین آج سے کچھ عرصہ قبل کئی کروڑ روپے کی بکی تھی۔ پرانا جی ٹی ایس کا اڈہ ادھر تھا۔ اس جگہ کا ایک حصہ اس مسجد کے طور پر بنا دیا گیا اور بغیر کسی قیمت کے۔ اور جب حکومت کی طرف سے زور دیا گیا تو انہوں‌نے حکومت سے مہلت لی اور اس دوران اس مسجد پر توسیعی منصوبہ شروع کر دیا گیا۔ مدرسہ بھی بنا دیا گیا اور باقی رہے نام اللہ کا

بھائی جی، آنکھیں بند کر کے ایک چیز پر زور دینا اچھی بات نہیں‌ ہوتی۔ کل کو اس بات کی پوچھ گچھ ہوگی کہ اگر ایک برائی موجود تھی تو اس کی مذمت کرنی چاہیئے، کیوں نہیں‌ کی؟ ایک جرم کو بنیاد بنا کر دوسرے جرم کو جائز قرار دے دینا، میری ناقص عقل سے باہر ہے۔ شاید آپ کو اس بات کی کچھ بہتر وضاحت سمجھ لگی ہو۔ مجھے تو اس بات پر بڑی ہنسی آئی ہے کہ اگر قبضہ گروپ کے خلاف کاروائی نہیں‌ ہو رہی تو مساجد کے خلاف بھی کاروائی نہ کی جائے

مدارس کے حوالے سے جو بات آپ نے کی، میں نے یہ مدارس دیکھے ہوئے ہیں۔ ادھر جو غیر انسانی سلوک ہوتے ہیں، وہ بھی میں نے دیکھے ہوئے ہیں۔ ہر مدرسہ ایک جیسا نہیں ہوتا اور نہ ہی ہم تمام مدارس کو ایک ہی طرح سے دیکھتے ہیں۔ ہر مدرسہ اور ہر مسجد جس کو ہم یہاں ڈسکس کرتے ہیں، اس سے مراد وہ مسجد اور وہ مدرسہ نہیں‌ ہوتا جو واقعی بالکل درست کام کر رہا ہو
 

مہوش علی

لائبریرین
ابو شامل صاحب،

سب سے پہلے آپ کا شکریہ کہ آپ نے اتنی تفصیل سے اس معاملے پر گفتگو کی۔

بہرحال، اصل موضوع سے منسلک صرف ذیل کا اقتباس تھا:


موجودہ حالات کے حوالے سے آپ نے اسلام آباد میں مساجد پر قبضے کا ذکر کیا، اس بات کی کون ضمانت دے سکتا ہے کہ اسلام آباد میں قبضہ مافیا نے کسی اور زمین پر قبضہ نہیں کیا یا وفاقی دارالحکومت میں قبضہ مافیا کی کمر توڑ دی گئی ہے! اگر دیگر تمام مقامات پر ایسا ہوچکا ہے تو پھر ہم کہیں کہ اب غیر قانونی قبضے سے تعمیر کی گئی مساجد کو بھی ختم کرنا چاہیے اور اس پر کسی کو اعتراض بھی نہیں ہوسکتا، لیکن پہلا ہاتھ ہی مساجد پر ڈالنا اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ پوری دال ہی کالی ہے۔ ایسی شرمناک کارروائیاں اس شہر میں ہورہی ہیں جس کا نام اسلام کا شہر ہے۔


آپ کے اس اقتباس کو میں بلاتبصرہ چھوڑتی ہوں، کیونکہ یہاں پر احباب صاحبِ نظر ہیں اور وہ اب خود معاملات کے ساتھ انصاف کر سکتے ہیں۔


جہاں تک آپکی باقی باتوں کا تعلق ہے، تو میں مختصرا یہی کہوں گی کہ آپ مجھے جانتے ہی نہیں ہیں اور اس لیے آپکی باتیں میرے حوالے سے ٹھیک نہیں ہو سکتیں۔

ہاں صرف ایک بات عرض کر دوں کہ آپ نے ارشاد فرمایا تھا کہ میں جہاد کو بدنام کر رہی ہوں۔ ۔۔۔۔ مگر بخدا میں نے جہاد کو بدنام کیا ہے اور نہ کسی اور اسلامی شعائر کا، بلکہ میری تنقید کا پورا رخ اُن لوگوں پر ہے جو جہاد کے نام پر فساد پھیلا رہے ہیں۔ اگر آپ ان دو چیزوں میں فرق نہ کر سکیں تو مجھے بہت افسوس ہو گا۔

والسلام۔


پی ایس:

واجد صاحب، بہت اچھا لگا کہ ہماری نئی نسل میں جذبات ہیں اور اسکی ایک مثال آپ ہیں۔
مگر دیکھئیے کہ کہیں یہ جذبات غلط استعمال نہ ہو جائیں۔

دیکھیں، معاملات بہت نازک ہوتے ہیں، اور اس موقع پر مجھے اتنی شدت سے ذیل کے واقعات یاد آتے ہیں کہ سوچ رہی ہوں ایک دفعہ آپکی نظر بھی اس طرف مبذول کروا دوں:

1۔ خوارجین کا کردار

ان لوگوں نے بھی اپنے فہمُ الاسلام کی بنیاد پر بغاوت کی۔۔۔۔۔ اور سبیلنا سبیلنا کی طرح انکا نعرہ تھا "لاحکم الا اللہ ولو کراہ المشرکون" یعنی اللہ کے سوا کسی کا حکم نہیں، اور چاہے یہ بات مشرکوں کو ناگوار ہی کیوں نہ گذرے

(مشرکوں سے انکی مراد علی ابن ابی طالب کا گروہ اور معاویہ ابن ابی سفیان کا گروہ تھا)

اپنی پاکبازی اور تقویٰ میں یہ خوارج مشہور تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔ مگر کیا انکا یہ نعرہ انصاف کے تقاضے پورے کرتا تھا؟؟؟

کیا واقعی انہیں حق تھا کہ خلیفہ وقت کے ہوتے ہوئے قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لیں اور حکومتِ اسلامی کے خلاف الجہاد الجہاد کے نعرے لگائیں؟

مسلمان دانشوروں نے ان خوارجین پر لمبی لمبی بحثیں کی ہیں۔ آپ انہیں خود پڑھ لیں۔

\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\

دوسرا واقعہ ہے اُن باغیوں کا جنہوں نے پھر خلیفہ سوم، جناب عثمان ابن عفان کے خلاف بغاوت کی۔ اور اس بغاوت میں شامل تھے بڑے بڑے لوگ جیسے عمار یاسر، محمد ابن ابی بکر وغیرہ۔ اسکے علاوہ بھی بڑے بڑے نام ہیں۔
ان لوگوں نے بھی اسلام کے نام پر خلیفہ وقت کے خلاف الجہاد الجہاد کے نعرے لگائے۔۔۔۔ مگر اسکا نتیجہ کیا نکلا؟؟؟؟

اور آج پھر جامعہ حفصہ کی طالبات نے بعینہ اُسی طرح الجہاد الجہاد کا نعرہ بلند کیا اور اصلاح امت کا دعویٰ کیا۔۔۔۔۔

ان چیزوں کا نتیجہ کیا نکلے گا، یہ تو مستقبل ہی بتائے گا، مگر اسکی ایک مثال عراق ہے، ایک مثال افغانستان تھا (اور پھر بات بہت لمبی ہو جائے گی)

مختصر یہ عرض ہے کہ اصلاح امت کے نام پر کسی بھی فرد یا گروہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ہتھیار اٹھا کر حکومتِ وقت کے خلاف الجہاد کا نعرہ بلند کرے۔

دیکھئیے، اصلاح امت اور اصلاحِ حکومت کے نام پر صرف پرُ امن احتجاجات کیے جا سکتے ہیں، لوگوں میں شعور پھیلایا جا سکتا ہے۔۔۔۔۔ مگر کبھی بھی ہتھیار اٹھا کر لائبریریوں پر قبضے نہیں ہو سکتے۔

اور اگر آج اس روایت کو دل شکنی نہ کی گئی تو کل کے مستقبل میں ایسے بہت سے چھوٹے چھوٹے گروہ اصلاح امت کے نام پر ہاتھ میں اسلحہ لیے ہوئے بلند ہوں گے۔ ۔۔۔۔ ہو سکتا ہے کہ شروع میں ایک آدھا اچھا کام کر لیں، مگر بہت جلد پھر یہی اسلحہ وہ ایک دوسرے کے خلاف استعمال کر رہے ہوں گے اور غرض ہو گی ایک دوسرے کی اصلاح۔

اسکی سب سے بہتر مثال آج عراق ہے جہاں یہی چھوٹے چھوٹے گروہ سرگرم ہیں، اور نتیجہ یہ ہے کہ وہ اگر ایک امریکی فوجی کو مارتے ہیں، تو اسی دوران 300 عراقی ایک دوسرے کی گردنیں اڑا چکے ہوتے ہیں۔
کیا آپکی آنکھیں نہیں کھلتیں جب آپ سنتے ہیں کہ 3 یا 4 لاکھ عراقی ایک دوسرے کو قتل کر چکا ہے اور مزید کیے ہی جا رہا ہے۔

اور یہی حال اصلاح کے نام پر افغانستان میں نمودار ہونے والے چھوٹے چھوٹے گروہوں کا تھا۔

\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\

آپ مانیں نہ مانیں، مگر جامعہ حفصہ کی طالبات کا یہ فعل بہت جلد ایک فیشن بننے والا ہے، اور دیگر بہت سے گروہ اسکی پیروی کرنے والے ہیں۔

بہت غلط ہوا کہ حکومت نے انکے مطالبات مان لیے۔ اسکا نقصان بہت جلد پوری قوم اٹھانے والی ہے۔ اگر یہ فتنہ یہیں دب جاتا تو شاید مستقبل میں نئے فتنوں کو سر اٹھانے کی ہمت نہ ہوتی۔
 

مہوش علی

لائبریرین
خود کش حملے بالمقابل خوارجین

آخر میں خود کش حملوں کے حوالے سے ایک بہت اہم بات، جسے ابھی تک کوئی بیان نہیں کرتا

۔ خوارج اپنے تقوے میں مشہور تھے۔

۔ ان خوارج کو اپنے "حق" پر ہونے کا اتنا یقین تھا کہ باقی مسلمان گروہوں کو مشرک جاننے لگے۔

۔ میں ان خوارج کی پاکبازی اور تقوے کے قصے بیان نہیں کرنا چاہتی، مگر آپ سے درخواست ہے کہ انکا قصہ ضرور سے پڑھیں، کیونکہ اس میں ہمارے لیے بہت سے اسباق ہیں۔


۔ اور ان خوارج کے عقیدے کا یہ عالم تھا کہ جن نہروان کے مقام پر انکی فوجیں علی ابن ابی طالب کے خلاف لڑ رہی تھیں، تو یہ کٹ گئے، مر گئے۔۔۔۔ مگر ان میں سے ایک بھی شخص میدان سے نہیں بھاگا۔۔۔۔ حتیٰ کہ جنگ کے اختتام پر ان میں سے صرف پانچ یا چھ افراد ہی بچے۔

میدانِ جنگ میں ایسی ثابت قدمی اُس وقت موجود مسلمانوں کے کسی اور گروہ نے نہیں دکھائی، اور علی ابن ابی طالب کے فوج اُن کا ساتھ اکثر موقعوں پر چھوڑتی رہی، ام المومنین عائشہ بن ابی بکر کی فوج جنگ جمل میں بھاگ کھڑی ہوئی، صفین میں معاویہ ابن ابی سفیان کی فوج نے شکست کے آثار دیکھ کر قران کو نیزوں پر بلند کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔، مگر ان میں سے کسی گروہ نے وہ ثابت قدمی نہ دکھائ جو خوارج نے دکھائی۔

\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\

ابن ملجم خارجی۔۔۔۔ پہلا مسلم خود کش حملہ کار

اور ان بچے ہوئے خارجیوں کا ایمان دیکھیں کہ غلط راستے پر ہوتے ہوئے بھی اسلام کے نام پر مر مٹنے کے لیے ایسے تیار تھے کہ کہیں کوئی مثال نہیں ملتی۔

اور اب وقت آیا ہے کہ اسلامی تاریخ کے سب سے پہلے "خود کش حملہ کار" کا تعارف کروایا جائے۔۔۔۔۔ اور یہ کوئی اور نہیں تھا بلکہ مشہور خارجی "ابن ملجم" تھا، جس کو اپنی جان کی کوئی پرواہ نہ تھی، مگر اس نے نماز پڑھتے ہوئے علی ابن ابی طالب کو مسجد کے اندر حملہ کر کے زخمی کر دیا۔


اور آج جو ہم مسجدوں میں نمازیوں پر خود کش حملے دیکھ رہے ہیں، ان سب کا راستہ وہی ہے جو ابن ملجم خارجی کا تھا۔

\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\

چنانچہ، تاریخ ہمیں بہت اہم سبق دے رہی ہے۔ اگر ہم تاریخ سے سبق نہیں سیکھتے تو بہت جلد ہم خود ماضی ہو جائیں گے۔

اس لئے چیزوں خوب غور کریں، خوب فکر کریں، اور پھر ہی کوئی فیصلہ لیں۔

ویسے فقہ میں لمبی لمبی بحثیں موجود ہیں کہ وہ کون سی شرائط ہیں کہ جن کے بعد ہی حکومتِ وقت کے خلاف ہتھیار اٹھائے جا سکتے ہیں، ورنہ یہ بذاتِ خود فساد فی الارض بن جائے گا۔۔۔۔۔۔ مگر حیرت مجھے مولوی طبقے پر ہوتی ہے کہ انکا عمل ایسے مواقع پر اتنا منافقت بھرا کیوں ہے؟؟؟ کیا جامعہ حفصہ کی طالبات کو کوئی ایسا عالم نہیں مل سکا جو انہیں یہ باتیں بتاتا؟؟؟

یہ بحث ذرا لمبی ہے، اور کسی اور وقت تفصیل کے ساتھ۔۔۔۔ مگر اگلے مرحلے میں بات کریں گے کہ مسلم تاریخ میں کون کون ظالم خلفاء گذرے اور انکے خلاف امام ابو حنیفہ سے لیکر اور آجتک جتنے بڑے بڑے فقہاء گذرے، ان میں سے کتنوں نے انکے خلاف جہاد کے فتاویٰ دیے۔

\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\

آجکل کی صورتحال آپ سے اور ہم سے اس بات کا مطالبہ کر رہی ہے کہ ہم غیر معمولی صبر و ضبط کا مظاہرہ کریں۔ مشرف حکومت میں خرابیاں ہیں تو ان خرابیوں کے خلاف پر امن طریقے سے احتجاج کرتے ہوئے رائے عامہ کو اپنے ساتھ ملائیں (بجائے لائبریریوں پر مسلح قبضے کرنے کے)۔ اگر رائے عامہ میں شعور پیدا ہو گیا تو خود بخود اس پرامن طریقے سے ایسی فتح حاصل ہو گی جسے دوام حاصل ہو گا (ورنہ مسلح ہو کر لابریریوں پر قبضے سے اگر فتح حاصل بھی ہوئی تو یہ وقتی ہو گیا اور جلد یہ فتح فساد میں پھیل کر بہت سے معصوموں کی جان لے لے گی۔۔۔۔ اور اسکی مثالیں غور کرنے پر آپ کو بہت مل سکتی ہیں)۔
 

ابوشامل

محفلین
السلام وعلیکم! مہوش صاحبہ، دو چیزوں کا شکریہ، ایک تو میرے جواب پر تبصرہ اور دوسرا برا نہ منانا، آپ نے حقیقی روشن خیالی کا ثبوت دیا ہے جبکہ یہاں تو لوگ روشن خیالی اور اعتدال پسندی کے نام پر انتہا پسندی پھیلا رہے ہیں۔
اب موضوع کی طرف آتے ہیں، دیکھیں! میں نے اپنی گفتگو میں ہی اس کا جواب دے دیا تھا کہ اگر مسجد قبضہ کرکے بنائی گئی ہے اور قبضہ مافیا کے خلاف حکومت اقدامات کررہی ہے تو اس کو ختم کرنے پر کس کو اعتراض ہوسکتا ہے؟ اس مسجد کو واقعتا ختم کردینا چاہیے لیکن میرا واحد اعتراض صرف اس بات پر ہے کہ کاروائی صرف مساجد کے خلاف کیوں؟ اس کا اگر کوئی جواب ہے تو آپ مجھے دیں!

والسلام

جناب قیصرانی صاحب! آپ فی الحال بحث کے موڈ میں نہیں جبکہ میں تو کبھی بھی بحث کے موڈ میں نہیں رہتا۔ ویسے میں کبھی بھی تصویر کا ایک رخ پیش نہیں کرتا، یہاں بات اس لیے یک رخی ہوگئی کیونکہ میں آپ لوگوں کے پیش کردہ نظریے کا جواب دینا چاہتا تھا۔

آپ نے اپنی گفتگو میں چند معاملات اٹھائے ہیں جن کی آپ نے چند مثالیں بھی پیش کی ہیں، میں بالکل آپ سے اتفاق کرتا ہوں کہ اس طرح کی مساجد کو کسی اور جگہ منتقل کردینا چاہیے جس کی وجہ سے عوام کو پریشانی لاحق ہو، یہاں کراچی میں ایک مسجد نیشنل اسٹیڈیم کے سامنے موجود تھی اور فلائی اوور کی تعمیر کے راستے میں آرہی تھی، اس کو فلائی اوور سے تھوڑا سا دور منتقل کردیا گیا اور پہلے سے قائم مسجد کو شہید کردیا گیا! کیا آپ نے کسی مظاہرے یا کسی مذہبی تنظیم یا مدرسے کی جانب سے احتجاج کا سنا یا پڑھا؟ بلکہ کئی لوگوں کو تو معلوم بھی نہیں ہوگا کہ ایک مسجد شہید کرکے فلائی اوور تعمیر کیا گیا! لیکن کیونکہ یہ رفاہ عامہ کا کام تھا اس لیے کسی نے بھی اعتراض نہیں کیا! ہم ان معاملات کو تو فوری طور پر اٹھاتے ہیں جن سے ہمارے مخالف طبقے کی بدنامی ہو جبکہ ان کی مثبت باتوں سے قطع نظر کر جاتے ہیں۔ اگر ہم مولوی مخالف ہیں تو جہاں ایک طرف ہم ان کی برائیوں کو سامنے لارہے ہیں وہیں جب وہ کوئی اچھا کام کرتے ہیں تو کھلے دل سے اس کا اعتراف اور اس کو اتنا ہی پھیلانا چاہیے جتنا کہ اس کی برائیوں کو پھیلاتے ہیں۔ یہی اصل اعتدال پسندی ہے جبکہ باقی سب جہالت اور اپنے آپ کو دھوکا دینے والی باتیں ہیں۔

میرا خیال ہے کہ جس طرح ہمارے معاشرے کے ہر طبقے اور فرد میں اچھائیاں اور برائیاں موجود ہیں بالکل اسی طرح مولویوں میں بھی اچھائیاں اور برائیاں ہوتی ہيں کیونکہ وہ بھی ہمارے معاشرے کے فرد ہیں۔ اور یہ مولوی تو ہم جیسے ناقص الایمان افراد کی پیداوار ہیں، ورنہ اسلام میں تو مولوی نام کی کوئی چیز ہی نہ تھی، خلیفۂ وقت ہی حاکم تھا، وہی پیش امام تھا، وہی خطیب تھا، وہی نکاح خواں تھا، وہی منصف تھا، جبکہ ہم جیسے لوگوں نے اپنی آسانیوں کے لیے مولوی نامی چیز پیدا کرلی تاکہ ہماری خطابت اور امامت سے جان ہی چھوٹ جائے۔

دوسری بات جب میں گفتگو کررہا ہوتا ہوں تو میرا مقصد بھی تمام مساجد و مدارس نہیں ہوتے، کئی مدارس واقعتا فرقہ وارانہ تشدد کو ہوا دے رہے ہیں، جن کو بند کرنا ضروری ہے۔ لیکن جب مدارس کے خلاف بات کی جاتی ہے تو مجھے افسوس اس لیے ہوتا ہے کہ مخالفت میں اچھے مدارس بھی رگڑے میں آجاتے ہیں!
والسلام
 
مہوش علی نے کہا:
خود کش حملے بالمقابل خوارجین

آخر میں خود کش حملوں کے حوالے سے ایک بہت اہم بات، جسے ابھی تک کوئی بیان نہیں کرتا



\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\

ابن ملجم خارجی۔۔۔۔ پہلا مسلم خود کش حملہ کار

اور ان بچے ہوئے خارجیوں کا ایمان دیکھیں کہ غلط راستے پر ہوتے ہوئے بھی اسلام کے نام پر مر مٹنے کے لیے ایسے تیار تھے کہ کہیں کوئی مثال نہیں ملتی۔

اور اب وقت آیا ہے کہ اسلامی تاریخ کے سب سے پہلے "خود کش حملہ کار" کا تعارف کروایا جائے۔۔۔۔۔ اور یہ کوئی اور نہیں تھا بلکہ مشہور خارجی "ابن ملجم" تھا، جس کو اپنی جان کی کوئی پرواہ نہ تھی، مگر اس نے نماز پڑھتے ہوئے علی ابن ابی طالب کو مسجد کے اندر حملہ کر کے زخمی کر دیا۔


اور آج جو ہم مسجدوں میں نمازیوں پر خود کش حملے دیکھ رہے ہیں، ان سب کا راستہ وہی ہے جو ابن ملجم خارجی کا تھا۔

\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\

چنانچہ، تاریخ ہمیں بہت اہم سبق دے رہی ہے۔ اگر ہم تاریخ سے سبق نہیں سیکھتے تو بہت جلد ہم خود ماضی ہو جائیں گے۔

اس لئے چیزوں خوب غور کریں، خوب فکر کریں، اور پھر ہی کوئی فیصلہ لیں۔

ویسے فقہ میں لمبی لمبی بحثیں موجود ہیں کہ وہ کون سی شرائط ہیں کہ جن کے بعد ہی حکومتِ وقت کے خلاف ہتھیار اٹھائے جا سکتے ہیں، ورنہ یہ بذاتِ خود فساد فی الارض بن جائے گا۔۔۔۔۔۔ مگر حیرت مجھے مولوی طبقے پر ہوتی ہے کہ انکا عمل ایسے مواقع پر اتنا منافقت بھرا کیوں ہے؟؟؟ کیا جامعہ حفصہ کی طالبات کو کوئی ایسا عالم نہیں مل سکا جو انہیں یہ باتیں بتاتا؟؟؟

یہ بحث ذرا لمبی ہے، اور کسی اور وقت تفصیل کے ساتھ۔۔۔۔ مگر اگلے مرحلے میں بات کریں گے کہ مسلم تاریخ میں کون کون ظالم خلفاء گذرے اور انکے خلاف امام ابو حنیفہ سے لیکر اور آجتک جتنے بڑے بڑے فقہاء گذرے، ان میں سے کتنوں نے انکے خلاف جہاد کے فتاویٰ دیے۔

\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\

آجکل کی صورتحال آپ سے اور ہم سے اس بات کا مطالبہ کر رہی ہے کہ ہم غیر معمولی صبر و ضبط کا مظاہرہ کریں۔ مشرف حکومت میں خرابیاں ہیں تو ان خرابیوں کے خلاف پر امن طریقے سے احتجاج کرتے ہوئے رائے عامہ کو اپنے ساتھ ملائیں (بجائے لائبریریوں پر مسلح قبضے کرنے کے)۔ اگر رائے عامہ میں شعور پیدا ہو گیا تو خود بخود اس پرامن طریقے سے ایسی فتح حاصل ہو گی جسے دوام حاصل ہو گا (ورنہ مسلح ہو کر لابریریوں پر قبضے سے اگر فتح حاصل بھی ہوئی تو یہ وقتی ہو گیا اور جلد یہ فتح فساد میں پھیل کر بہت سے معصوموں کی جان لے لے گی۔۔۔۔ اور اسکی مثالیں غور کرنے پر آپ کو بہت مل سکتی ہیں)۔

فدائی حملہ

قرآن پاک کی روشنی میں[/(1) ارشاد باری تعالٰی وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاةِ اللَّهِ وَاللَّهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ (البقرہ 207) " انسانوں ہی میں کو ئی ایسا بھی ہے جو رضائے الٰہی کی طلب میں اپنی جان کھپا دیتا ہے اور ایسے بندوں پر اللہ بہت مہربان ہے " یشری سے مراد وہ اپنے وجود کو اللہ کے ہاں فروخت کر دیتا ہے ۔ وہ اپنا سب کچھ اللہ کے حوالے کر دیتا ہے وہ اس میں کچھ پچا کر نہیں رکھتا اس کی ادائیگی اور اس فروخت سے اللہ کی رضا کے سوا کچھ نہیں چاہتا اب اس کے وجود میں اس کے لیے کچھ نہیں رہتا نہ اس کے بعد اس کےلیے کو ئی چیز رہتی ہے۔ مکمل فروخت جس میں کوئی تردد، کوئی ہیر پھیر اور کسی قیمت کی وصولی یابی نہیں۔ نہ غیر اللہ کے لیے وہ کچھ بچا کر رکھتا ہے اور جہاد کا حق ادا کرتے ہوئے شہید ہوجاتا ہے۔
ان الفاظ کا ایک مفہوم ہوسکتا ہے کہ مؤمن دنیا کے تما ساز وسامان کے عوض اپنے آپ کو خرید لیتا ہے تاکہ اسے ہر چیز سے آزاد ہوکر اللہ کے حضور پیش کردے وہ بھی اس طرح کہ اس پر اس کے مالک و مولٰی کے سوا کسی اور کا حق نہ ہو۔ اس طرح فروخت یا خرید کے ذریعہ جب اس کا کچھ نہ رہا تو وہ نیک نیتی سے اس بیع کی شہادت مہیا کرنے کے لیے اللہ کے دشمنوں کی صف میں اکیلا گھس جاتا ہے یہ نہ صرف جائز بلکہ مستحب عمل، مستحسن اقدام اور رضائے الٰہی کا موجب، دخول جنت کا باعث ہے اس آیت سے فدئی حملہ کا جواز ثابت ہوتا ہے۔
( 2) فَتُوبُوا إِلَى بَارِئِكُمْ فَاقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ (البقرہ 54) یعنی " اپنے خالق کے خضور توبہ کرہ اور اپنی جانوں کو ہلاک کرو" ۔ اس آیت سے اللہ کے حکم کے مطابق اپنے آپ کو ہلاک کرناثابت ہے لیکن یہ کام آسان نہیں اللہ تعالٰی فرماتا ہے " اگر ہم نے انہیں حکم دیا ہوتا کہ اپنے آپ کو ہلاک کر دو یا اپنے گھروں سے نکل جاؤ تو ان میں سے کم آدمی اس پر عمل کرتے " ( النساء ۔ 66) لہذا جو مجاہد اپنے رب کی خوشنودی کے لیے اپنی جان فدا کردے وہ قابل ستائش ہے کیونکہ اللہ تعالٰی کے مطیع و فرماں بردار بندے جب اللہ کے نافرمانوں کو قتل کریں تاکہ دنیا اللہ کے باغیوں سے پاک ہو اور فدائی کا بھی تزکیہ ہو اگر وہ شہادت پائے تو جنت کا مستحق ہوتاہے۔
سورہ البروج مولانا اسلم شیخوپوری

(3) : ارشاد باری ہے . 4 قُتِلَ أَصْحَابُ الأخْدُودِ . 5 النَّارِ ذَاتِ الْوَقُودِ . 6 إِذْ هُمْ عَلَيْهَا قُعُودٌ . 7 وَهُمْ عَلَى مَا يَفْعَلُونَ بِالْمُؤْمِنِينَ شُهُودٌ . 8 وَمَا نَقَمُوا مِنْهُمْ إِلا أَنْ يُؤْمِنُوا بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ ( البرج 4-8 ) "مارے گئے گڑھے والے (اس گڑھے والے) جس میں خوب بھڑکتے ہوئی ایندھن کی آگ تھی جبکہ اس گڑھے کے کنارے بیٹھے ہوئے تھے اور جو کچھ ایمان لانے والوں کے ساتھ ظلم و ستم کر رہے تھے اس کو دیکھ رہے تھے اور ان اہل ایمان سے ان کی دشمنی اس کے سوا کسی وجہ سے نہ تھی کہ وہ اس اللہ پر ایمان لائے تھے جو زبردست اور سزاوار حمد ہے۔" صحیح مسلم کی روایت کے مطابق بادشاہ کی مرضی کے خلاف جب لڑکا مسلمان ہوگیا تو پہلے اس کو اسلام کی طرف راغب کرنے والے راہب کو قتل کیا پھر لڑکے کو قتل کرنا چاہا مگر کوئی ہتھیار اور کوئی حربہ اس پر کار گر نہ ہوا۔ آخر کار لڑکے نے خود اپنی موت کا یہ طریقہ بتلایا کہ بسم رب الغلام ( اس لڑکے کے رب کے نام سے کہہ کر) مجھے تیر مارےگا تو میں شہید ہو جاؤں گا اور ایسا ہی ہوا تو بادشاہ کا دین چھوڑ کر لاتعداد لوگ لڑکے کے دین پر ایمان لے آئے۔ بادشاہ نے ان اہل ایمان کو آگ بھرے گڑھوں میں پھینکوادیا۔ اللہ نے اس واقعہ کی تعریف و مدح کی ہے کہ اہل ایمان کس طرح پختگی کے ساتھ ایمان پر ثابت قدم رہے اور کفر پر قتل اور ظاہری خودکشی کو کس طرح اختیار کیا اور اپنے اختیار سے بخوشی آگ میں کودنا گوارا کیا لیکن کفر کو قبول نہیں کیا۔ لڑکے نے بھی خود ہی دین کی سر بلندی اور غلبہ کے لیے اپنے آپ اپنے آپ کو قتل کرنے کا راستہ بتلایا( یعنی اسلام پر فدا ہونا پسند کیا ) ایسی فدا کاری کو چاروں ائمہ نے جائز قرار دیا ہے کہ مسلمان کافروں کی صف میں گھس کر حملہ کر دیں اگر اس طرح فدائی حملہ سے مسلمانوں کا فائدہ ہو (مجموع الفتو یٰ ) راہب کے جسم کے دو ٹکڑے کیے گئے لیکن وہ دین حق پر ثابت قدم رہا۔ ایک نو مسلم خاتوں دودھ پیتے بچے کی وجہ سے آگ میں گرنے سے گھبرائی مگر بچے نے اللہ کے حکم سے آواز دی " اماں جان صبر کر کیوں نکہ تو حق پر ہے " یہ واقعات فدائی حملوں کے جائز ہونے کے واضح ثبوت ہیں قرآن مجید پڑھنے والا ان کو پڑھ کر قیامت تک فدائی حملے کرتا رہے گا۔
(4 ) قرآن میں ہے يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ ( التوبہ 111 ) " وہ اللہ کی راہ میں لڑتے اور مارتے اور مرتے ہیں " ۔ یعنی جہاد کی راہ میں فدائی حملہ کرتے ہوئے کبھی تو دشمنوں کو قتل کر دیتے ہیں اور کبھی ان کے ہاتھوں قتل کر دیئے جاتے ہیں تاکہ اپنے جانیں اللہ کے سپرد کرکے ان کی قیمت میں جنت حاصل کر سکیں اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کی راہ میں جان فدا کرنا اللہ کو مطلوب ہے اور مجاہد دہ معیوب چیزیں جان ومال دے کر بے عیب جنت کا سودا کرتا ہے۔
( 5 ) اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے قَالَ رَجُلانِ مِنَ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمَا ادْخُلُوا عَلَيْهِمُ الْبَابَ فَإِذَا دَخَلْتُمُوهُ فَإِنَّكُمْ غَالِبُونَ وَعَلَى اللَّهِ فَتَوَكَّلُوا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ ( المائدہ ۔ 23 ) یعنی " ان ڈرنے والوں میں دو شخص ایسے بھی تھے جن کو اللہ نے اپنی نعمت سے نوازا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جبارون کے مقابلے میں دروازے کے اندر گھس جاؤ ( فدائی حملہ کر دو ) جب تم اندر پہنچ جاؤگے تو تم ہی غالب رہوگے ( یہی اللہ کا وعدہ ہے کہ فلسطیں کی مقدس سرزمین اللہ نے تمھارے لیے لکھ دی ہے ) اللہ پر بھروسہ رکھو اگر تم مؤمن ہو"۔ حضر موسٰی علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو فلسطین کی فتح کی بشارت دی اور قوم کے 12 سرداروں کو وہاں کے حالات معلوم کرنے کے لیے بھیجا تھا انہوں نے رپورٹ دی کہ ملک تو بڑا زرخیز ہے لیکن وہاں کے لوگ بڑے قدآواراورجباروں کی نسل سے ہیں ہم ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے تو ان میں سے دو سرداروں یوشع بن نون اور کالب بن یوحنا نے کہا تم خواہ مخواہ ان بظاہرطاقتور (اندر سے کھوکھلے) لوگوں سے ڈر رہے ہو اگر اللہ کے بھروسے پر فدائی حملہ کر دہ تو تم ہی کامیاب و کامران رہوگے اللہ تعالٰی اسی کی مدد کرتا ہے جو خود بھی اپنی مدد کرے ۔ توکل اسباب مشروعہ کو چھوڑ ترک کردینے کا نام نہیں بلکہ ممکنہ وسائل و اسباب سے کام لے کر مقصد کے حصول کے لیے جدو جہد کریں لیکن بھروسہ اسباب پر نہیں مسبب الاسباب پر ہونا چاہیے نیز اسباب مشرعہ کو چھوڑ کر خالی امیدیں باندھنا بھی توکل نہیں تعطل ہے اس آیت کریمہ سے حضرت موسٰی علیہ السلام کے زمانہ میں فدائی حملہ کا ثبوت ملتا ہے جو ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔
( 6 ) فَقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَِّ لا تُكَلَّفُ إِلا نَفْسَكَ ( النساء ۔ 84) " اے نبی تم اللہ کی راہ میں لڑو تم اپنی ذات کے سوا کسی اور ذمہ دار نہیں " ۔ حضرت براء بن عازب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ " ایک مجاہد اکیلا دشمن پر حملہ کردے اور وہ قتل ہو جائے تو یہ ہلاکت نہیں ہے " ( حاکم) اس آیت کے نزول کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " میں ضرور جہاد کے لیے جاتا ہوں اگرچہ کوئی ایک بھی میرے ساتھ نہ ہو " (تفسیر عثمانی ) یہ واضح طور پر فدائی حملہ کا عزم ہے۔
 
فدائی حملہ
سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں : ( 1) عزوہ بدر میں دو کم عمر انصاری نوجوانوں نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے ابو جہل کی شناخت معلوم کی اور کہا ہم نے اللہ سے عہد کر رکھا ہے کہ اس اللہ کے دشمن کو قتل کردیں گے چاہے اس کوشش میں ہماری جان ہی کیوں نہ چلی جائے پھر دونوں ابو جہل کی طرف دو عقابوں کی طرح جھپٹے اور اسے قتل کر دیا یہ تاریح اسلام کی پہلی فدائی کاروائی تھی۔
( 2 ) معاذ بن عفراء رضی اللہ عنہ نے جب سنا کہ ننگے بدن دشمن میں گھس جانے پر اللہ تعالٰی مسکراتا ہے تو (غزوہ بدر میں) اپنی زرہ اتار پھینکی اور دشمن کی صف میں گھس کر داد شجاعت دیتے ہوے شہید ہوگئے (ابن ابی شیبہ۔البدایہ والنہایہ) اس طرح فدائی کاروائی کر کے اپنےرب کو راضی کر لیا۔یہ فدائی حملہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رو برو ہوا۔
( 3) جب مشرکین حضور اکرام صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کے چرواہے کو قتل کرکے ساتھ لے گئے تو سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے اکیلے پیدل ہی ان کا تعاقب کرتے ہوئے تیروں کے ذریعہ ان کو زخمی کرتے ہوئے اور پتھراؤ کرتے ہوئے گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام سواریاں چھڑا لیں اور مال غنیمت بھی حاصل کیا (مسلم) پھر احرم رضی اللہ عنہ ان کی مدد کے لیے پہنچے تو سلمہ رضی اللہ عنہ نے ان کو محتاط رہنے کا مشورہ دیا تو انہوں نے فرمایا " اے سلمہ تو جانتا ہے کہ جنت و دوزخ حق ہے تو میری شہادت کے راہ میں حائل نہ ہو، مجھے اکیلے حملہ کرنے سے نہ روک " اور انہوں نے مشرکین پر حملہ کر دیا اور شہادت پائی پھر ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے مشرکین کے سردار عبدالرحمن بن عیینہ بن حصین فزاری پر حملہ کرکے اس کو قتل کرکے احرم رضی اللہ عنہ کا بدلہ لے لیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا" آج کے دن بہترین سوار ابو قتادہ رضی اللہ عنہ اور بہترین پیادہ سلمہ رضی اللہ عنہ ہے " (مسلم) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک شخص تنہا بہت بڑے دشمن پر حملہ کر سکتا ہے خواہ اس میں اس کی اپنی جان کا سو فیصد خطرہ ہی کیوں نہ ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فدائیوں کی مدح سرائی کی اور ان کے عمل کو سراہا اور سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کو سوار اور پیدل دونوں کا حصہ بھی مال غنیمت سے دیا جبکہ ان صحابہ رضی اللہ عنہ نے اکیلے اکیلے ہی دشمن پر حملہ کر دیا تھا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کی آمد کا انتظار بھی نہیں کیا تھا۔
(4) یزید بن ابی زید بیان کرتے ہیں میں نے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے سوال کیا " حدیبیہ کے دن تم نے کس بات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی " تو انہوں نے نے جواب دیا " موت پر" (بخاری) فدائی عمل کے معنی یہ ہے کہ اپنے آپ کو خطرے میں ڈال کر دشمن پر وار کرے مصلحت و احتیاط کو بالائے طاق رکھے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنے دشمن پر جھپٹے۔ کام مکمل کرے اور لڑتابڑتا وہاں سے نکلے شہادت پاجائے تو اللہ کا مال واپس آجائے تو ہر چند نہال۔ چودہ سو نہتے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے موت کی بیعت کرنا فدائی عمل ہے جس سے اللہ تعالٰی بھی ان مؤمنوں سے خوش ہو گیا (الفتح 18 )
(۵) سفید ریش بزرگ خضرت عمر بن جموح سلٰمی رضی اللہ عنہ نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عزوہ احد میں شرکت کی اجازت طلب کی حالانکہ وہ بڑھاپے اور ایک ٹانگ سے معذور ہونے کی وجہ سے جہاد میں شرکت کے مکلف نہ تھے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے جذبہ جہاد سے متاثر ہوکر ان کو اجازت دے دی۔ وہ گھر سے یہ دعا کرتے ہوئے نکلے " الٰہی مجھے شہدادت نصیب فرما اور مجھے نا امید گھر نہ لانا " وہ معذری کے باوجود میدان کارزار میں بڑی بے جگری سے لڑے ساتھ ساتھ فرماتے جاتے تھے " میں تو جنت کا متلاشی ہوں۔ میں تو جنت کا مشتاق ہوں " اللہ تعالٰی نے ان کو شہادت کے بلند مرتبہ پر فائز کیا (احمد) ایک معذور شخص کا بہت طاقتور اور بہت زیادہ اعداد والے دشمن پر حملہ کرنا جہاں موت عقنی تھی فدائی حملہ ہی تھا۔ یہ حملہ خود مجاہد اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ان کی اجازت سے ہوا۔
(6) غزوہ احد میں جب نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کی افواہ پھیلی تو خضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے فرمایا " اب تم لوگ زندہ رہ کر کیا کرو گے ؟ اٹھوں اور جس چیز پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جان دی اسی پر تم بھی جان دے دو " وہ اگے بڑھے اور سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ " احد پہاڑ کی دوسری طرف مجھے جنت کی خوشبو آرہی ہے " اور آگے جاکر مشرکین پر فدائی حملہ کر دیا اور خلعت شہادت سے سرفراز ہوئے۔ جنگ کے بعد خضرت انس رضی اللہ عنہ کے جسم پر نیزے، تلوار اور تیر کے اسی زخم پائے گئے۔ (متفق علیہ) صرف اپنی شہادت کو ہدف بنا کر دشمن سے بھڑ جانا فدائی کاروائی ہے۔
(۷) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت خباب رضی اللہ عنہ کو ایک فدائی حملہ کے لیے روانہ کیا اسی طرح وحیہ بن خلیفہ کو تنہا چھاپہ مار کاروائی کے لیے بھیجا (سنن کبریٰ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا کہ جب دشمن سے مڈ بھیڑ ہو تو تم اکیلے آگے بڑھو (ابن ابی شیبہ ) فدائی کی یہ نشان ہے کہ اپنے آپ کو خطرات میں ڈال کر دشمن کے لشکر میں گھس جاتا ہے تاکہ اس کی اس ادا سے رب راضی ہو جائے۔
(۸) بئرمعونہ کے واقعہ میں ایک ساتھی پیچھے رہ کر بجنے میں کامیاب ہوگیا۔ اس نے دیکھا کہ پرندے اس کے ساتھیوں کی لاشوں پر بطور حفاظت جمع ہیں اس شخص نے اپنے دوسرے ساتھی عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ سے کہا" میں ان کفار پر فدائی حملہ کر تا ہوں تاکہ یہ لوگ مجھے بھی قتل کر دیں کیونکہ جہاں ہمارے دوسرے ساتھی شہید ہوئے ہیں میں بھی وہاں شہادت کا متمنی ہوں " چنانچہ آگے بڑھ کر حملہ کیا اور شہید ہو گئے۔ جب یہ قصہ حضرت عمروبن امیہ رضی اللہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کیا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے لیے اچھے کلمات استعمال کیے اور عمروبن امیہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا " تم کیوں آگے نہ بڑھے " (سنن کبریٰ۔ امام شافعی) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فدائی کی تحسیں کی اور دوسرے ساتھی کو بھی ترغیب دلائی۔
(۹) غزوہ احد میں ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات انصاری صحابہ رضی اللہ عنہم اور دو قرشی صحابہ رضی اللہ عنہما رہ جاتے ہیں اور مسلمانوں کا باقی لشکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کٹ جاتا ہے دشمن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چند افراد میں پاکر سر چڑھ آتے ہیں تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اعلان کرتے ہیں " دشمنوں کو ہم سے کون دورہٹائے گا " اس کے لیے جنت ہوگی ( یا وہ جنت میں میرا ساتھی ہوگا ) " یہ سن کر یکے بعد دیگرے ساتوں انصاری صحابی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی جانیں لٹا دیتے ہیں ۔ پھر رسول صلی اللہ علیہ وسلم دونوں قریشی ساتھیوں کومخاطب کرتے ہوئے ان کی غیر ذمہ داری کا احساس دلاتے ہیں کہ " ہم نے اپنے انصاری ساتھیوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا " ( کہ وہ تو جنت کی لالچ میں ہمارے دفاع پر قربان ہو گئے اور ہم پیچھے رہ گئے)۔ " (بخاری ۔ مسلم ) گویا اللہ تعالٰی خرید نے والا ہے ، مؤمن اور مجاہد بیچنے والاہے، جان و مال سامان فروخت ہے، جبکہ جنت الفردوس خرید ہے۔
نوت: فدائی صرف جائز یعنی حالت جنگ میں صرف اور صرف کافروں کے خلاف

جاری ہے
 
Top