بھائی ممدو کا املا از شان الحق حقی

خلیل بھائی یہ شاہکار کہاں کہاں سے نکال کر لاتے ہیں آپ !! بہت مزا آیا پڑھ کر ۔

اپنی نظر میں سارے مسلمان بھائی ہیں
ان کی نظر میں خیر سے ہم سب بہائی ہیں

ہاہاہاہاہاہاہاہاہا !! یہ تو کمال کا شعر ہے خلیل بہائی ۔
 
سر میں تو س کے دو دندانے نظر آ رہے ہیں

مندرجہ ذیل تصویر ملاحظہ فرمائیے۔

16_FE8_ADF-737_F-4_A78-_B3_A9-4673122_F5_F8_E.jpg

دراصل اس بات کی جانب فاتح بھائی نے اشارہ کیا تھا اور ہم اپنے مراسلے میں لکھنا بھول گئے تھے۔ اسی اثنا میں محمد تابش صدیقی بھائی نے پھر یاد دلایا کہ یہ نستعلیق فونٹ میں ہوگا نہ کہ نسخ میں۔
 
مندرجہ ذیل تصویر ملاحظہ فرمائیے۔

16_FE8_ADF-737_F-4_A78-_B3_A9-4673122_F5_F8_E.jpg

دراصل اس بات کی جانب فاتح بھائی نے اشارہ کیا تھا اور ہم اپنے مراسلے میں لکھنا بھول گئے تھے۔ اسی اثنا میں محمد تابش صدیقی بھائی نے پھر یاد دلایا کہ یہ نستعلیق فونٹ میں ہوگا نہ کہ نسخ میں۔
میرے خیال میں نستعلیق میں ر کا اتصال شوشے کی آیک نوک کو نرم کرنے کی خاصیت رکھتا ہے۔ د کے اور دیگر حروف کے ساتھ ایسا نہیں ہے۔
 

ابو ہاشم

محفلین
مندرجہ ذیل تصویر ملاحظہ فرمائیے۔

16_FE8_ADF-737_F-4_A78-_B3_A9-4673122_F5_F8_E.jpg

دراصل اس بات کی جانب فاتح بھائی نے اشارہ کیا تھا اور ہم اپنے مراسلے میں لکھنا بھول گئے تھے۔ اسی اثنا میں محمد تابش صدیقی بھائی نے پھر یاد دلایا کہ یہ نستعلیق فونٹ میں ہوگا نہ کہ نسخ میں۔
آپ کی دی گئی تصویر میں 'س' کے پہلے دو دندانے واضح نظر آ رہے ہیں جبکہ تیسرا دندانہ آگے 'ر' آنے سے 'نرم' ہو گیا ہے جیسا کہ سید عاطف علی صاحب نے بتایا ہے:
میرے خیال میں نستعلیق میں ر کا اتصال شوشے کی آیک نوک کو نرم کرنے کی خاصیت رکھتا ہے۔ د کے اور دیگر حروف کے ساتھ ایسا نہیں ہے۔
'ر' کے 'برادر حروف' (ڑ، ز، ژ) کا بھی س کے ساتھ یہی سلوک ہے:)

نستعلیق میں ر (اور اس کے برادر حروف) کا شوشے سے سلوک دیکھنے کے لیے مندرجہ ذیل الفاظ دیکھیے اور ان کے شوشے پر غور کریں:
بر
ببر
بببر
ببببر

یہ بالکل واضح ہے کہ ر اپنے ساتھ لگنے والے شوشے یا دندانے کو رگڑ دیتا ہے الا یہ کہ ایک ہی شوشہ ہو
ایسے میں محترم شان الحق حقی مرحوم کا یہ کہنا حیران کن ہے
ظاہر ہے ایک شوشے سے بنتا ہے سر کا سین
اس میں بھی وہ بناتے ہیں دندانے تین تین
 

فاتح

لائبریرین
آپ کی دی گئی تصویر میں 'س' کے پہلے دو دندانے واضح نظر آ رہے ہیں جبکہ تیسرا دندانہ آگے 'ر' آنے سے 'نرم' ہو گیا ہے جیسا کہ سید عاطف علی صاحب نے بتایا ہے:

'ر' کے 'برادر حروف' (ڑ، ز، ژ) کا بھی س کے ساتھ یہی سلوک ہے:)

نستعلیق میں ر (اور اس کے برادر حروف) کا شوشے سے سلوک دیکھنے کے لیے مندرجہ ذیل الفاظ دیکھیے اور ان کے شوشے پر غور کریں:
بر
ببر
بببر
ببببر

یہ بالکل واضح ہے کہ ر اپنے ساتھ لگنے والے شوشے یا دندانے کو رگڑ دیتا ہے الا یہ کہ ایک ہی شوشہ ہو
ایسے میں محترم شان الحق حقی مرحوم کا یہ کہنا حیران کن ہے
دندانے کو دندانہ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ وہ دندان کے مشابہ ہوتا ہے یعنی ایک نیم گولائی یا ن غنہ (ں) کی شکل کے بعد ایک کونا اوپر کو گیا ہوا۔۔۔
نستعلیق رسم الخط میں سر یا سڑ یا شر وغیرہ لکھیں تو اس میں دانت یا قوس یا نون غنہ سے مشابہ ایک ہی شکل نظر آتی ہے۔
 
آخری تدوین:

ابو ہاشم

محفلین
زبردست
اس تاویل سے حقی صاحب کے شعر میں اِشکال باقی نہیں رہتا
مگر ہمارا شوشے کا روایتی تصور جیسے ب کا شوشہ وغیرہ (جیسے بر میں)؟
 

فاتح

لائبریرین
زبردست
اس تاویل سے حقی صاحب کے شعر میں اِشکال باقی نہیں رہتا
مگر ہمارا شوشے کا روایتی تصور جیسے ب کا شوشہ وغیرہ (جیسے بر میں)؟
میرا علم ٹائپو گرافی یا خطاطی کے معاملے میں صفر ہے۔
میں نے جو لکھا وہ میرا اندازہ تھا جو اس بنا پر تھا کہ شان الحق حقی اردو املا اور تلفظ پر سند تسلیم کیے جاتے تھے اور اگر انھوں نے ایک دندانہ لکھا ہے تو یقیناً یہی درست ہو گا۔ :)
محفل میں کچھ خطاط بھی موجود ہیں جو اس بارے میں بہتر بتا سکتے ہیں۔
شوشے اور حلیے کے متعلق وکی پیڈیا پر یہ صفحات بھی دیکھیے گا:
شوشہ - آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا
حلیہ - آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا
 
آپ کی دی گئی تصویر میں 'س' کے پہلے دو دندانے واضح نظر آ رہے ہیں جبکہ تیسرا دندانہ آگے 'ر' آنے سے 'نرم' ہو گیا ہے جیسا کہ سید عاطف علی صاحب نے بتایا ہے:

'ر' کے 'برادر حروف' (ڑ، ز، ژ) کا بھی س کے ساتھ یہی سلوک ہے:)

نستعلیق میں ر (اور اس کے برادر حروف) کا شوشے سے سلوک دیکھنے کے لیے مندرجہ ذیل الفاظ دیکھیے اور ان کے شوشے پر غور کریں:
بر
ببر
بببر
ببببر

یہ بالکل واضح ہے کہ ر اپنے ساتھ لگنے والے شوشے یا دندانے کو رگڑ دیتا ہے الا یہ کہ ایک ہی شوشہ ہو
ایسے میں محترم شان الحق حقی مرحوم کا یہ کہنا حیران کن ہے

زبردست
اس تاویل سے حقی صاحب کے شعر میں اِشکال باقی نہیں رہتا
مگر ہمارا شوشے کا روایتی تصور جیسے ب کا شوشہ وغیرہ (جیسے بر میں)؟

ابو ہاشم بھائی ، ویسے تو فاتح بھائی بڑی وضاحت سے بات بیان کرچکے ہیں ۔ لیکن لگتا ہے کہ آپ کے ذہن میں اب بھی سوالات باقی ہیں ۔ مجھے لگ رہا ہے کہ اس معاملے کو سمجھنے میں آپ کسی بنیادی جگہ پر کچھ غلطی کررہے ہیں ۔ بہتر ہے کہ میں کچھ بنیادی باتیں لکھ دوں ۔

۔ علم خوشنویسی میں شوشہ یا دندانہ ایک ہی چیز کو کہا جاتا ہے ۔ جیسا کہ فاتح بھائی نے اوپر لکھا ہے شوشہ یا دندانہ وہ چھوٹی سی پیالہ نما شکل ہے جو بعض حروف یا الفاظ میں نظر آتی ہے ۔

۔ ہر حرف کے کئی حصے ہوتے ہیں اور ان کو مختلف نام دیئے گئے ہیں ۔ حرف ’’س‘‘ کے ابتدائی دو شوشوں کو سین کا سر کہا جاتا ہے ۔ اور اس کے بعد والی بڑی مدور شکل کو سین کا جسم یا تن کہا جاتا ہے ۔ اسی طرح حرف ’’ج‘‘ کے ابتدائی حصے کو جیم کا سر ، اس کے بعد والی پتلی خمیدہ لکیر کو جیم کی گردن اور آخری بیضوی دائرے کو جیم کا پیٹ کہا جاتا ہے ۔

سو معلوم ہوا کہ حرف ’’س‘‘ کے سر میں دو شوشے یا دندانے ہوتے ہیں ۔ تیسرا بڑا دائرہ اس کا جسم ہے۔

حقی صاحب کی نظم میں جو مسئلہ سین کے سر سے متعلق بیان ہوا ہے اس کا تعلق خطِ نستعلیق کے قواعدِ مرکبات سے ہے ۔ نستعلیق میں جب مختلف حروف کو باہم پیوند کیا جاتا ہے تو نہ صرف ان کی شکل تبدیل ہوجاتی ہے بلکہ شوشوں یا دندانوں کی تعداد بھی بدل جاتی ہے ۔ ہر مرکب کے قاعدے اور اصول موجود ہیں ۔ خطاطی کی مشقی تختیوں میں یہ جو آپ کو ’’با بت بج بد بر بس بص بط بع‘‘ وغیرہ لکھے نظر آتے ہیں یہ انہی مرکبات اور پیوندوں کی مشق ہوتی ہے۔

ویسے تو جب حرف ’’س‘‘ مرکب کے شروع میں واقع ہو تو عمومًا سین کے دونوں شوشے اور جسم کا نسبتاًبڑا شوشہ برقرار رکھا جاتا ہے ۔ جیسے ’’ سد ، سب ، سن ، سیف ، سیپ ، سفتہ ‘‘ وغیرہ ۔ لیکن اگر سین کے بعد حرف ’’ر‘‘ یا ’’ج‘‘ یا ’’س‘‘یا ’’م‘‘ وغیرہ ہوں تو قاعدہ بدل جاتا ہے ۔

حرف ’’ر‘‘ مرکبات میں دو طرح سے لکھی جاتی ہے ۔ ایک تو باریک اور دراز جیسے ’’ سر ، ہر ، طر ، عر، فر ، مر ‘‘ اور دوسرے دامن دار جیسے ’’ بر، جر ، کر ‘‘ وغیرہ ۔ جب سین کو ’’ر‘‘ سے پیوند کیا جاتا ہے تو سین کا سر دو کے بجائے ایک شوشے کا رہ جاتا ہے ۔ دوسرا بڑا شوشہ سین کا جسم ہے ۔

’’ر‘‘ کے مرکبات سے سے متعلق ایک اور دلچسپ موازنہ دیکھئے: ’’سیر ، خیر ، میر، دیر ، غیر ‘‘ لیکن اس کے برعکس ’’ ببر، تبر ، پیر، تیر‘‘ وغیرہ میں نوٹ کیجئے کہ یہاں ابتدائی دو حروف کے لئے صرف ایک شوشہ یا دندانہ لکھا گیا ہے ۔

یاد رہے کہ یہ خطِ نستعلیق کے اصول ہیں ۔ اسی طرح ہر خط کے اپنے اصول ہوں گے ۔ نستعلیق کی نسبت نسخ کے قواعدِ مرکبات زیادہ سہل اور منطقی ہیں ۔ ان میں زیادہ ایچ پیچ نہیں ۔
امید ہے کہ اب وضاحت ہوگئی ہوگی ۔
 

فاتح

لائبریرین
حرف ’’ر‘‘ مرکبات میں دو طرح سے لکھی جاتی ہے ۔ ایک تو باریک اور دراز جیسے ’’ سر ، ہر ، طر ، عر، فر ، مر ‘‘ اور دوسرے دامن دار جیسے ’’ بر، جر ، کر ‘‘ وغیرہ ۔ جب سین کو ’’ر‘‘ سے پیوند کیا جاتا ہے تو سین کا سر دو کے بجائے ایک شوشے کا رہ جاتا ہے ۔ دوسرا بڑا شوشہ سین کا جسم ہے ۔
’’ر‘‘ کے مرکبات سے سے متعلق ایک اور دلچسپ موازنہ دیکھئے: ’’سیر ، خیر ، میر، دیر ، غیر ‘‘ لیکن اس کے برعکس ’’ ببر، تبر ، پیر، تیر‘‘ وغیرہ میں نوٹ کیجئے کہ یہاں ابتدائی دو حروف کے لئے صرف ایک شوشہ یا دندانہ لکھا گیا ہے ۔

ذیل میں نادرا کے قومی شناختی کارڈ کے عقبی جانب درج عبارت میں لفظ "لیٹر" دیکھیے:
"گمشدہ کارڈ ملنے پر قریبی لیٹر بکس میں ڈال دیں"
NADRA-CNIC-Letter.jpg~original

مجھے تو یہ لیڑ (ل ی ڑ ) لگ رہا ہے۔ :) گویا نادرا بھی کسی بھائی ممدو سے کم نہیں۔
 
آخری تدوین:
ذیل میں نادرا کے قومی شناختی کارڈ کے عقبی جانب درج عبارت میں لفظ "لیٹر" دیکھیے:
"گمشدہ کارڈ ملنے پر قریبی لیٹر بکس میں ڈال دیں"
NADRA-CNIC-Letter.jpg~original

مجھے تو یہ لیڑ (ل ی ڑ ) لگ رہا ہے۔ :) گویا نادرا بھی کسی بھائی ممدو سے کم نہیں۔
فاتح بھائی ، عین ممکن ہے کہ یہ اپنے بھائی ممدو نادرا میں کسی اعلیٰ عہدے پر فائز ہوں ۔
 
فاتح بھائی ، ویسے اردو محفل پر جو نستعلیق فونٹ استعمال ہو رہا ہے اس میں بھی کئی لفظ ٹھیک سے نہیں لکھے جاتے ۔ کل لکھتے وقت غور کیا تو معلوم ہوا کہ اس میں ’’صیر‘‘ درست نہیں لکھا جاتاہے ۔ یعنی صر اور صیر میں کوئی فرق نہیں ۔ جبکہ ضیر اور ضر درست لکھے جاتے ہیں ۔
 

ابو ہاشم

محفلین
ابو ہاشم بھائی ، ویسے تو فاتح بھائی بڑی وضاحت سے بات بیان کرچکے ہیں ۔ لیکن لگتا ہے کہ آپ کے ذہن میں اب بھی سوالات باقی ہیں ۔ مجھے لگ رہا ہے کہ اس معاملے کو سمجھنے میں آپ کسی بنیادی جگہ پر کچھ غلطی کررہے ہیں ۔ بہتر ہے کہ میں کچھ بنیادی باتیں لکھ دوں ۔

۔ علم خوشنویسی میں شوشہ یا دندانہ ایک ہی چیز کو کہا جاتا ہے ۔ جیسا کہ فاتح بھائی نے اوپر لکھا ہے شوشہ یا دندانہ وہ چھوٹی سی پیالہ نما شکل ہے جو بعض حروف یا الفاظ میں نظر آتی ہے ۔

۔ ہر حرف کے کئی حصے ہوتے ہیں اور ان کو مختلف نام دیئے گئے ہیں ۔ حرف ’’س‘‘ کے ابتدائی دو شوشوں کو سین کا سر کہا جاتا ہے ۔ اور اس کے بعد والی بڑی مدور شکل کو سین کا جسم یا تن کہا جاتا ہے ۔ اسی طرح حرف ’’ج‘‘ کے ابتدائی حصے کو جیم کا سر ، اس کے بعد والی پتلی خمیدہ لکیر کو جیم کی گردن اور آخری بیضوی دائرے کو جیم کا پیٹ کہا جاتا ہے ۔

سو معلوم ہوا کہ حرف ’’س‘‘ کے سر میں دو شوشے یا دندانے ہوتے ہیں ۔ تیسرا بڑا دائرہ اس کا جسم ہے۔

حقی صاحب کی نظم میں جو مسئلہ سین کے سر سے متعلق بیان ہوا ہے اس کا تعلق خطِ نستعلیق کے قواعدِ مرکبات سے ہے ۔ نستعلیق میں جب مختلف حروف کو باہم پیوند کیا جاتا ہے تو نہ صرف ان کی شکل تبدیل ہوجاتی ہے بلکہ شوشوں یا دندانوں کی تعداد بھی بدل جاتی ہے ۔ ہر مرکب کے قاعدے اور اصول موجود ہیں ۔ خطاطی کی مشقی تختیوں میں یہ جو آپ کو ’’با بت بج بد بر بس بص بط بع‘‘ وغیرہ لکھے نظر آتے ہیں یہ انہی مرکبات اور پیوندوں کی مشق ہوتی ہے۔

ویسے تو جب حرف ’’س‘‘ مرکب کے شروع میں واقع ہو تو عمومًا سین کے دونوں شوشے اور جسم کا نسبتاًبڑا شوشہ برقرار رکھا جاتا ہے ۔ جیسے ’’ سد ، سب ، سن ، سیف ، سیپ ، سفتہ ‘‘ وغیرہ ۔ لیکن اگر سین کے بعد حرف ’’ر‘‘ یا ’’ج‘‘ یا ’’س‘‘یا ’’م‘‘ وغیرہ ہوں تو قاعدہ بدل جاتا ہے ۔

حرف ’’ر‘‘ مرکبات میں دو طرح سے لکھی جاتی ہے ۔ ایک تو باریک اور دراز جیسے ’’ سر ، ہر ، طر ، عر، فر ، مر ‘‘ اور دوسرے دامن دار جیسے ’’ بر، جر ، کر ‘‘ وغیرہ ۔ جب سین کو ’’ر‘‘ سے پیوند کیا جاتا ہے تو سین کا سر دو کے بجائے ایک شوشے کا رہ جاتا ہے ۔ دوسرا بڑا شوشہ سین کا جسم ہے ۔

’’ر‘‘ کے مرکبات سے سے متعلق ایک اور دلچسپ موازنہ دیکھئے: ’’سیر ، خیر ، میر، دیر ، غیر ‘‘ لیکن اس کے برعکس ’’ ببر، تبر ، پیر، تیر‘‘ وغیرہ میں نوٹ کیجئے کہ یہاں ابتدائی دو حروف کے لئے صرف ایک شوشہ یا دندانہ لکھا گیا ہے ۔

یاد رہے کہ یہ خطِ نستعلیق کے اصول ہیں ۔ اسی طرح ہر خط کے اپنے اصول ہوں گے ۔ نستعلیق کی نسبت نسخ کے قواعدِ مرکبات زیادہ سہل اور منطقی ہیں ۔ ان میں زیادہ ایچ پیچ نہیں ۔
امید ہے کہ اب وضاحت ہوگئی ہوگی ۔
بہت شکریہ
در اصل یہ تعریف یا تصور کا مسئلہ تھا۔ اس کی طرف شروع میں ہی اشارہ کیا گیا تھا
س کے سرے میں تین شوشے ہی ہوتے ہیں
یہاں شوشے سے کیا مراد ہے؟
ہمارے ہاں جس طرح ہمیں اردو لکھنا سکھائی گئی اس میں ب، پ وغیرہ کے نوکدار سرے کو جو کسی ترسیمے کے شروع اور درمیان میں آتے ہیں کو 'ب پ وغیرہ کا ٹُنڈا'بتایا گیا تھا اپنی مقامی بولی میں۔ بعد میں اسی تصور کے لیے اردو میں لفظ شوشہ کا استعمال دیکھا۔
ہمیں س ش کے تین 'ٹُنڈے' بتائے جاتے تھے کیونکہ اس کے سرے پر تین نوکیں یا کانٹے ہوتے ہیں اور ترسیمے کے درمیان میں بھی اس کی تین نوکیں یا کانٹے استعمال ہوتے ہیں۔ اوپر میرے مراسلوں میں شوشے کے لیے یہ 'ٹُنڈے' کا تصور ہی استعمال ہوا ہے

فنِ خوشنویسی کی ہمیں الف بے بھی نہیں معلوم۔ بس جس طرح لکھنا پڑھنا سیکھا تھا انہی تصورات کی بنیاد پر بات کر رہا تھا

شوشے کا مطلب تو معلوم ہوگیا اب یہ جاننا چاہتا ہوں کہ ب، پ وغیرہ کے نوکدار سرے کو جو کسی ترسیمے کے شروع اور درمیان میں آتے ہیں کو کیا کہتے ہیں؟
 

فاتح

لائبریرین
فاتح بھائی ، ویسے اردو محفل پر جو نستعلیق فونٹ استعمال ہو رہا ہے اس میں بھی کئی لفظ ٹھیک سے نہیں لکھے جاتے ۔ کل لکھتے وقت غور کیا تو معلوم ہوا کہ اس میں ’’صیر‘‘ درست نہیں لکھا جاتاہے ۔ یعنی صر اور صیر میں کوئی فرق نہیں ۔ جبکہ ضیر اور ضر درست لکھے جاتے ہیں ۔
اوہ یعنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نادرا والوں نے لیٹر ہی لکھا ہو لیکن جو فونٹ انھوں نے استعمال کیا ہے اس نے اسے لیڑ بنا ڈالا۔
شاید شاہد شاہ صاحب بتا سکیں کہ یہ کون سا فونٹ ہے۔
 

شاہد شاہ

محفلین
اوہ یعنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نادرا والوں نے لیٹر ہی لکھا ہو لیکن جو فونٹ انھوں نے استعمال کیا ہے اس نے اسے لیڑ بنا ڈالا۔
شاید شاہد شاہ صاحب بتا سکیں کہ یہ کون سا فونٹ ہے۔
میرے پاس تو صر اور صیر درست لکھا جا رہا ہے۔ فانٹ نوری نستعلیق 3 ہے غالبا
 

فاتح

لائبریرین
ذیل میں نادرا کے قومی شناختی کارڈ کے عقبی جانب درج عبارت میں لفظ "لیٹر" دیکھیے:
"گمشدہ کارڈ ملنے پر قریبی لیٹر بکس میں ڈال دیں"
NADRA-CNIC-Letter.jpg~original

مجھے تو یہ لیڑ (ل ی ڑ ) لگ رہا ہے۔ :) گویا نادرا بھی کسی بھائی ممدو سے کم نہیں۔
میرے پاس تو صر اور صیر درست لکھا جا رہا ہے۔ فانٹ نوری نستعلیق 3 ہے غالبا
میں تصویرِ بالا میں لکھی تحریر کے فونٹ کی بابت دریافت کر رہا ہوں۔
 
Top