بڑی بحر کے شعر

جاسمن

مدیر
یہ شعر کبھی ساتویں جماعت میں ایک رسالے میں پڑھا تھا۔
دوستوں سے بڑی بحر کے شعروں کا مقابلہ ہوتا تو یہ شعر ہی جیتا کرتا تھا۔
شاخ جھُک نہ سکتی تھی،برگ ہِل نہ سکتے تھے،تیرے گُدگُدانے سے پھول کھِل نہ سکتے تھے
اے صبا !سمجھتا ہوں خوب تیری چالوں کو،چھُو کے اُن کے گالوں کو،جانبِ چمن آئی
 

فاتح

لائبریرین
بحر طویل
653
پہلا مصرع​
ایک دن باغ میں جا کر ، چشم حیرت ذدہ وا کر، جامہء صبر قبا کر، طائر ہوش اڑا کر، شوق کو راہ نما کر، مرغ نظارہ اڑا کر، دیکھی رنگت جو چمن کی، خوبی نسرین و سمن کی، شکل غنچوں کے دہن کی تازگی لالہ کے تن کی، تازگی گل کے بدن کی، کشت سبزے کی ہری تھی، نہر بھی لہر بھری تھی، ہر خیاباں میں تری تھی، ڈالی ہر گل کی پری تھی، خوش نسیم سحری تھی ، سرو شمشاد و صنوبر ، سنبل و سوسن و عر عر ، نخل میوے سے رہے بھر، نفس باد معنبر، در و دیوار معطر، کہیں قمری تھی مطوّق، کہیں انگور معلّق ، نالے بلبل کے مدقّق، کہیں غوغائی کی بق بق، اس قدر شاد ہوا دل، مثل غنچے کے گیا کھل، غم ہوا کشتہ و بسمل، شادی خاطر سے گئی مل، خرّمی ہو گئی حاصل ، روح بالیدہ ہو آئی، شان قدرت کی دکھائی۔ جان سی جان میں آئی، باغ کیا تھا گویا اللہ نے اس باغ میں جنت کو اتارا۔

دوسرا مصرع​
نا گہاں صحنِ چمن میں، مجمع سرو و سمن میں، جیسے ہو روح بدن میں، جیسے ہو شمع لگن میں، جیسے خورشید کرن میں، ماہ پروین و پرن میں، دیکھا اک دلبر رعنا و طرح دار جفا کار، دل آزار نمودار، نگہ ہمسرِ مشیر، مژہ تر کشِ پُر تیر، سر زلف گرہ گیر،دل خلق کی زنجیر، جبیں نور کی تصویر، وہ رخِ شمس کی تنویر ، زباں شہد بیاں شیر، نظر روح کی اکسیر ، دہنِ غنچۂ خاموش، سمنِ برگِ سرِ دوش ، سخن بحرِ گہر جوش، بدن سروِ قباپوش ، چھڑی گل کی ہم آغوش ، وفا رحم فراموش ، ہر اک آن ستم کوش ، عجب حسن دل آرا، نہ کبھی مہر نے دیکھا، نہ کبھی ماہ نے دیکھا نہ کسی فہم میں آیا ، نہ تصور میں سمایا، وہ نظر مجھ کو جو آیا، مجھے اپنا دکھایا، دل نے اک جوش اٹھایا جی نے سب ہوش اڑایا، سر کو پائوں پہ جھکایا،اشک آنکھوں سے بہایا، اس نے جب یوں مجھے پایا، یہ سخن ہنس کے سنایا، کہ ’’توہے عاشقِ شیدا، لیکن عاشق نہیں پیدا ، ہووے تجھ پر یہ ہو یدا، کہ اگر ہم کو تو چاہے یا محبت کو نباہے، نہ کبھی غم سے کراہے، نہ کسی غیر کو چاہے ، نہ کبھی گل کی طرف دیکھ، نہ سنبل کی طرف دیکھ، نہ بلبل کی طرف دیکھ، نہ بستاں پہ نظر کر، نہ گلستاں میں گزر کر ، چھوڑدے سب کی مودّت، ہم سے رکھ دل کی محبت ، اس میں ہم بھی تجھے چاہیں، تجھ سے الفت کو نبائیں ، ہیں یہی چاہ کی راہیں، گریہ مقدور تجھے ہو، اور یہ منظور تجھے ہو، تو نظیرؔ آج سے تو چاہنے والا ہے ہمارا‘‘۔
(نظیر اکبر آبادی)​
 
آخری تدوین:

فاتح

لائبریرین
654
پہلا مصرع​
راحت افزاے محباں، مصدر لطف نمایاں ، مظہر خوبی شایاں، مجمع مہر نمایاں، رونق محفل الفت، زینت بزم مودت، باعث راحت وبہجت ، سبب فرحت و عشرت ، شادباشی وسلامت، شوقدیدار نہ چنداں، کہ بہ کلک آمدبتیاں ، لاجرم بہتر و انسب، کہ پڑیرو رہ مطلب، نامۂ عیش فزایت ، بہ تفقدر عنایت ، لطف اصدار نمودہ، فرحت تازہ فزودہ، حسن الفاظ نگارد کہ مضامیں و معانی، بعبارت نظر آرد کہ باندا ز عیانی ایں تلطف کہ نمودی، با ایں ہمہ زودی، منتے بر دلم آمد، خامہ گر تیز خرامد ، تنواندکہ نگارد وصف آں مہر لقارا

دوسرا مصرع​
آن کہ از فرط عطوفت، بصدافزونی شفقت، طلب پے روالفت، شدہ باکثرت، سرعت زہے فرخندہ بشارت، خہے زیبیندہ اشارت طرب و فرحت آں را، کہ بدل ساختہ مرا، اگر اظہار نماید ، بزبان عجز فزاید، و گراز خانمہ نگارد، بنوشتین نگراید، عز م ایں مخلص دیریں، ہمیں اے دل برنگیں، کہ تبا خیر نانسازد، وتوقف فطر ازد ، پے تحصیل تمنا، بر سدز زود در آنجا، زعنایات الٓہی ، ہست امید کہ جلدی، بلیند از فرحت و خوبی ، رخ خورشید ضیارا
(نظیر اکبر آبادی)​
 

فاتح

لائبریرین
655
پہلا مصرع​
صبح دم بادل خرم، تو سن عزم جہاندم، سر کو ے برساندم، دیدم القصہ ہماں دم، دلبرئے طرفہ ترے ، حسن ورے، فتنہ گرے ، لب شکرے، پر فن عیار، آرام دل آزار، جفا کیش طرحدار، پری شکل فسوں کار، بہ تن جامہ ٔ رخشاں، ہمچو خورشید درخشاں، تازہ ترچوں گل خنداں، سرمہ درچشم نمایاں، زینت لب مسی و پان، بہ تبسم شکر افشاں، ب ہ نگہ سحر دل و جاں ہمہ مکرو ہمہ دستاں زلف بر چہرہ کشادہ ، بہر جاں دام نہادہ، مثل صیاد ستادہ، بردہ دل باز ندادہ، بنمایش ہمہ سادہ ، علے پر کار زیادہ، صنمے مہروشے ، غنچہ لبے، گل بدنے ، سروقدے، نازکنے ، عشوہ دہے، شوخ دل آرا
دوسرا مصرع
دلم از عقل بر آمد، حیرتے در نظر اامد، عشق خود جلوہ گر اامد، اامد و خوب تر آمد، شدہ حالے عجے، گہ طربے، گہ تپشے، گہ خلشے، گہ نظرے، گہ حذرے، ہیچ نہ دریا، بدل شوق درایزاد بجاں شورش بیداد، چہ گویم کہ چہ افتاد، شدم محوتماشاہ دید چوں آں بت زیبا کہ شدایں والہ وشیدا، زود آور و دبلہا، خندۂ قندونمک زا، کرد صد ناز ہو یدا، گفت ’’اے ہوش نہ بر جا، تو چرا آمدی ایں جا، سر خود گیر بزودی ، باش ااں طور کہ بودی دگفتمشں ’’دل تو ربودی، عاشق خویش نمودی، بر من شیفتہ والہ دیوانہ ٔ دل دادۂ ، دل بستۂ، افتادۂ حود لطف ضرو راست نگارا۔
(نظیر اکبر آبادی)​
 
ایک ہی مصرع نے عروض کا انجن فیل کر دیا۔:laughing:
asd_zpsgypktril.png~original
 

جاسمن

مدیر
کمال ہے بھئی۔۔۔میں تو سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔۔۔۔اتنی بڑی بحر بھی ہو سکتی ہے۔۔۔۔
آج پہلی بار فیل ہوئی ہوں۔۔۔اور بہت بُری طرح۔۔۔
لاعلمی ہزار نعمت ہے۔
 

فاتح

لائبریرین
بحر طویل
653
پہلا مصرع​
ایک دن باغ میں جا کر ، چشم حیرت ذدہ واکر، جامہٌ سبر قبا کر، طائر ہوش اڑاکر، شوق کو راہ نما کر، مرغ نظارہ اڑاکر، دیکھی رنگت جو چمن کی، خوبی نسرین و سمن کی، شکل غنچوں کے دہن کی تازگی لالہ کے تن کی، تازگی گل کے بدن کی، کشت سبزے کی ہری تھی، نہر بھی لہر بھری تھی، ہر خیاباں میں تری تھی، ڈالی ہر گل کی پری تھی، خوش نسیم سحری تھی ، سرو شمشاد وصنوبر ، سنبل و سوسن و عر عر ، نخل میوے سے رہے بھر، نفس باد معنبر، در و دیوار معطر، کہیں قمری تھی مطوق، کہیں انگور معلق ، نالے بلبل کے مدقق، کہیں غوگائی کی بق بق، اس قدر شاد ہوا دل، مثل غنچے کے گیا کھل، غم ہوا کشتہ وبسمل، شادی خاطر سے گئی مل، خرمی ہو گئی حاصل ، روح بالیدہ ہو آئی، شان قدرت کی دکھائی۔ جان سی جان میں آئی، باغ کیا تھا گویا اللہ نے اس باغ میں جنت کو اتارا۔

دوسرا مصرع​
نا گہاں صحن چمن میں، مجمع سرو وسمن میں، جیسے ہو روح بدن میں، جیسے ہو شمع لگن میں، جیسے خورشید کرن میں، ماہ پرویں وپرن میں، دیکھا اک دل بر رعنا و طرح دار جفا کار، دل آزار نمودار، نگہ ہمسر شمشیر، مژہ تر کش پرتیر، سر زلف گرہ گیر،دل خلق کی زنجیر، جبیں نور کی تصویر، وہ رخ شمس کی تنویر ، زباں شہد بیاں شیر، نظر روح کی اکسیر ، دہن غنچۂ خاموش، سمن بر بردوش ، سخن بحر گہر جوش، بدن سر وقباپوش ، چھڑی گل کی ہم آغوش ، وفا رحم فراموش ، ہر اک آن ستم کوش ، عجب حسن دل آرا، نہ کبھی مہر نے دیکھا، نہ کبھی ماہ نے دیکھا نہ کسی فہم میں آیا ، نہ تصور میں سمایا، وہ نظر مجھ کو جو آیا، مجھے اپنا دکھایا، دل نے اک جوش اٹھایا جی نے سب ہوش اڑایا، سر کو پائوں پہ جھکایا،اشک آنکھوں سے بہایا، اس نے جب یوں مجھے پایا، یہ سخن ہنس کے سنایا، کہ ’’توہے عاشق شیدا، لیکن عاشق نہیں پیدا ، ہووے تجھ پر یہ ہو یدا، کہ اگر ہم کو تو چاہے یا محبت کو بنا ہے، نہ کبھی غم سے کراہے، نہ کسی غیر کو چاہے ، نہ کبھی گل کیطرف دیکھ، نہ سنبل کی طرف دیکھ، نہ بلبل کی طرف دیکھ، نہ بستاں پہ نظر کر، نہ گلستاں میں گزر کر ، چھوڑدے سب کو مودت، ہم سے رکھ دل کی محبت ، اس میں ہم بھی تجھے چاہیں، تجھ سے الفت کو نبائیں ، ہیں یہی چاہ کی راہیں، گریہ مقدور تجھے ہو، اور یہ منظور تجھے ہو، تو نظیرؔ آج سے تو چاہنے والا ہے ہمارا‘‘۔
(نظیر اکبر آبادی)​
اب مریم افتخار ہمیں بتائیں گی کہ انہوں نے اس مراسلے میں کیا "غمناکی" پائی۔۔۔ :laughing:
 
اب مریم افتخار ہمیں بتائیں گی کہ انہوں نے اس مراسلے میں کیا "غمناکی" پائی۔۔۔ :laughing:
میں تو تینوں اشعار کو ہی غم ناک قرار دینے لگی تھی۔۔۔۔مگر پھر ہتھ ہولا رکھنے کا خیال آیا۔۔۔۔
ایسا شعر جو نہ پڑھا جا سکے نہ سمجھا۔۔۔۔ مراسلہ لکھنےوالے کی بھی ہمت نہیں کہ پڑھے۔۔۔ اس میں غم ناکی نہ ہوگی تو کیا خوشی ناکی ہوگی؟
دِل دُکھ سا گیا اور ہولانے لگا طُولِ شعر دیکھ کر۔۔۔
 
آخری تدوین:
Top