بچپن کے جیب خرچ کا بہترین مصرف (اک جھلک)

زبیر مرزا

محفلین
میاں جی یہ رُلانے ستانے کا سلسلہ کیوں چھیڑدیا
ہائے کیا کجئیے اس دل کے مچل جانے کو
تصاویرتوملنا مشکل ہے تذکرہ ممکن ہے :) ایک ٹافی ہوتی تھی بٹروالی جس پرہم جان دیتے تھے
جوبات میں لکھنے جارہا ہوں یہ ہمیں بارہا سنائی گئی ہماری ضدی فطرت کی عکاس داستان کے طورپر
(ہمارے بھائی کا کہنا ہے حماقت کی داستان ) عمر تھی میری 3 سال کے قریب ٹافیاں تھیں بٹر والی بے شمار
لالچ بُری بلا اسی لالچ میں ہم نے جیب میں بھرلیں تھی کافی ساری اور ان کو بیک وقت کھانا چاہتے تھے
وہ منہ میں سے گرجاتی تھیں اماں ہماری سمجھا سمجھا کے عاجز آگئیں ہم نہ باز آئے تواُنھوں نے ایک کمرپردھموکا رسید
کیا سامنے میز تھی اس کے کونےسے ہم ٹکرائے اور بائیں ابرو پر زخم کھایا جس میں 4 ٹانکے لگے اور ہم اس نشان کو بطورشناختی
علامت سجائے پھرتے ہیں اب تک :) (جی ہاں سرکاری کاغذات میں شناختی نشان یہی لکھا جاتا ہے ہمارے ویسے اس کو انتخابی
نشان بھی بنایا جاسکتا ہے بہت شاعرانہ سا ہے بائیں ابروپرزخم کا نشان :) )
 

مہ جبین

محفلین
ہائے ہائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ظالم ، کیا زمانہ یاد کرادیا تم نے۔۔۔۔
نیرنگ خیال ، چالیس سال پرانی یادوں پر جمی گرد جھاڑنا آسان کام ہے کیا؟؟؟؟
ہمارے زمانے میں میڈیا لوگوں کی زندگی میں اس طرح اثر انداز نہیں ہوتا تھا جیسے اب ہے ، اور دوسری بات یہ کہ ہمارے والدین بہت اصول پسند تھے ، اس لئے بچوں کو بازار سے پھل وغیرہ خود لاکر کھلانا بہتر سمجھتے تھے ، نہ کہ بچوں کے ہاتھ میں پیسے دیکر انہیں بازار کی چیزیں کھانے کے لئے کھلا چھوڑ دینا۔۔۔ یہ انہیں پسند نہ تھا اس لئے ہمیں بازار کی چیزوں کی عادت ہی نہیں پڑی
بس بہت زیادہ عیاشی کی تو ایک ٹافی ہوتی تھی جس کا نام تو پتہ نہیں کیا تھا ، ہم اسکو " گائے کی ٹافی " کہتے تھے اور ایک فانٹا کی ٹافی کھاتے تھے
یہ دونوں ٹافیاں بھی کبھی کبھار کھاتے تھے
ہمارا بچپن الحمدللہ بہت صبر، شکر اور قناعت کا دور تھا اور والدین بھی بچوں کی اچھے انداز میں تربیت کرکے انہیں آگے آنے والے مصائب و مسائل کا سامنا کرنے کی ہمت اور حوصلہ پیدا کرتے تھے ۔ بچوں کی ہر خواہش پوری کرنے سے بچوں میں بگڑنے کی امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں اور ان میں صبر کا مادہ پیدا نہیں ہوپاتا جو انکے اندر ایک بے چینی اور بے قراری بھر دیتا ہے اور پھر انسان اللہ کی نعمتوں کی شکر گزاری کرنے کے بجائے ناشکری کے کلمات ادا کرنے لگتا ہے
کم از کم میرا تجربہ اور مشاہدہ تو یہی کہتا ہے کہ خاص طور پر بچوں کی جا و بیجا خواہشات پوری کرنے سے انکے اندر اور اور اور کی خواہش مزید شدت اختیار کر جاتی ہے اور نعمتوں کی قدر ہونے کے بجائے نعمتوں کی ناقدری کا رجحان تقویت پاتا ہے
اسی لئے پہلے کے بزرگ بچوں کی ہر خواہش پوری کرنے کے بجائے انکے اندر صبر و استقلال پیدا کرنے کے لئے بہت سی وہ خواہشات بھی جو وہ پوری کرسکتے ہوں ، نہیں کرتے تھے ۔ اس طرح خواہشات کے منہ زور دریا پر بند باندھنا آسان ہوجاتا ہے
دیکھا ناں۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹھہرے ہوئے پر سکوت سمندر میں ایک پتھر پھینکنے کا انجام دیکھ لیا؟؟؟؟؟؟؟
کتنی لمبی اور کڑوی تقریر برداشت کرنی پڑی تم کو ۔۔۔۔۔۔۔اب بھگتو :)
 
شروع کرتے ہیں میرے بچپن کی سب سے مشہور ٹافی سے۔۔ کالے ریپر میں لپٹی بون بون اک بہترین عیاشی تھی بچپن کی​
BonBon_zps929dafae.png
یہ تو مجھے یاد نہیں:idontknow: لیکن میں چونکہ بچپن میں ٹافیاں بہت کھایا کرتا تھا اس لیے اگر یہ لیٹ ایٹیز سے لیٹ نائنٹیز تک کے زمانے میں ہوتی تھی تو میں نے ضرور کھائی ہو گی:)
میرے بچپن میں دوسری مقبول ترین ٹافی بون بون کے بعد۔۔۔ مہنگی ہونے کی وجہ سے یہ دوسرے نمبر پر تھی۔۔۔​
Mitchelles_zpsa3976f68.jpg

یہ تو میں نے کھائی ہوئی ہے:) اس کے تو ہم پیکٹ لیا کرتے تھے:battingeyelashes:
 
بگ بٹر ٹافی۔۔۔ دودھ مکھن سے بنی (کمپنی کا دعوٰی) اس ٹافی کے اوپر اک بادام بھی لگا ہوتا تھا۔​
Bigbutter_zps7684195f.jpg
بٹر سکاچ ٹافی جو پہلے اس ریپر میں آتی تھی۔۔​
ButterScotch_zps51ddc1d4.jpg
بعد میں زمانے کی ترقی کے سبب اس کے ریپر نے بھی رنگ روپ بدل لیا۔۔۔​
ButterScotch01_zpsad7122fa.png
بگ بٹر تو یاد نہیں۔لیکن بٹر سکاچ ضرور کھایا کرتا تھا
 
کھوپرا ٹافی کا کچھ نہیں بدلا سوائے سائز کے۔۔۔ ۔ اب یہ بہت چھوٹی رہ گئی ہے حجم میں۔۔۔​
Khopra_zpsdcd5415e.jpg
بہت دفعہ ذکام میں کھانے پر ڈانٹ پڑی:(
بنٹی چاکو 4۔۔۔ ۔ بعد میں اس میں بہت سی مصنوعات آئیں۔۔۔ لیکن میرا خیال ہے پہلے پہل یہی آئی تھی۔۔۔​
Choco4_zpsd29da474.jpg
کیا یاد دلا دیا نین بھائی۔اس کے تو "ماسک" بھی ہوا کرتے تھے۔
 
راک این رولا۔۔۔ جس کے اندر کافی سارا کھوپرا بھرا ہوتا تھا۔۔۔​
RocknRolla_zps5dc5ecc9.jpeg
یہ بھی خاصے کھائے تھے​
ہمارے بچپن تو مرنڈے کھاتے گزرا۔۔۔ چاول والے۔۔ دال والے ۔۔۔ گڑ والے مرنڈے۔۔۔ اب تو مرنڈے شاید نہیں ملتے۔۔ یا پھر ملتے ہونگے میں نے نہیں دیکھے۔۔۔ کم از کم اسلام آباد میں لوگ مرنڈے سے آشنا نہیں۔۔۔​
Marunda_zps108ac51c.jpg
اب بندہ "سرائیکی" ہو اور مرونڈے نہ کھائے ایسا کیسے ہو سکتا ہے بھلا:rolleyes:
ڈیرہ میں تو اب بھی بکثرت ملتے ہیں:dancing: یہاں پنڈی میں پیرودھائی جیسی جگہوں پر دیکھے ہیں:)
 

عائشہ عزیز

لائبریرین
نینی بھیا آپ نے مجھے ٹیگ نہیں کیا ناں
جائیں میں نہیں بولتی



تبصرہ : مچل ٹافی تو مجھے اتنی پسند تھی ناں بھیا میں تو بہت کھاتی تھی
اور اس کے علاوہ ڈھیر ساری مسکانیں :) :) :) :) :)
 
اور چینی والا بسکٹ نائس جو ٹرانسپیرنٹ پیکنگ میں آتا تھا​
Nice01_zps83cc9d29.jpg
بعد میں ملبوس بدل کر اس طرح کی شکل میں آگیا۔۔۔​
Nice02_zps61c10310.jpg
اور پھر کچھ عرصہ بعد ملبوس بدل کر اس شکل میں بھی بکتا رہا۔۔۔ ۔​
Nice03_zpsb228c2a3.jpg
اسے ٹرانسپیرنٹ پیکنگ کے دنوں میں کھایا تھا۔
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
میاں جی یہ رُلانے ستانے کا سلسلہ کیوں چھیڑدیا
ہائے کیا کجئیے اس دل کے مچل جانے کو
تصاویرتوملنا مشکل ہے تذکرہ ممکن ہے :) ایک ٹافی ہوتی تھی بٹروالی جس پرہم جان دیتے تھے
جوبات میں لکھنے جارہا ہوں یہ ہمیں بارہا سنائی گئی ہماری ضدی فطرت کی عکاس داستان کے طورپر
(ہمارے بھائی کا کہنا ہے حماقت کی داستان ) عمر تھی میری 3 سال کے قریب ٹافیاں تھیں بٹر والی بے شمار
لالچ بُری بلا اسی لالچ میں ہم نے جیب میں بھرلیں تھی کافی ساری اور ان کو بیک وقت کھانا چاہتے تھے
وہ منہ میں سے گرجاتی تھیں اماں ہماری سمجھا سمجھا کے عاجز آگئیں ہم نہ باز آئے تواُنھوں نے ایک کمرپردھموکا رسید
کیا سامنے میز تھی اس کے کونےسے ہم ٹکرائے اور بائیں ابرو پر زخم کھایا جس میں 4 ٹانکے لگے اور ہم اس نشان کو بطورشناختی
علامت سجائے پھرتے ہیں اب تک :) (جی ہاں سرکاری کاغذات میں شناختی نشان یہی لکھا جاتا ہے ہمارے ویسے اس کو انتخابی
نشان بھی بنایا جاسکتا ہے بہت شاعرانہ سا ہے بائیں ابروپرزخم کا نشان :) )
واہ زبردست۔۔ یعنی آپ تو ٹافیوں کی یادیں چہرے پر سجائے پھرتے ہیں۔۔۔ (y)
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
ہائے ہائے ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ظالم ، کیا زمانہ یاد کرادیا تم نے۔۔۔ ۔
نیرنگ خیال ، چالیس سال پرانی یادوں پر جمی گرد جھاڑنا آسان کام ہے کیا؟؟؟؟
ہمارے زمانے میں میڈیا لوگوں کی زندگی میں اس طرح اثر انداز نہیں ہوتا تھا جیسے اب ہے ، اور دوسری بات یہ کہ ہمارے والدین بہت اصول پسند تھے ، اس لئے بچوں کو بازار سے پھل وغیرہ خود لاکر کھلانا بہتر سمجھتے تھے ، نہ کہ بچوں کے ہاتھ میں پیسے دیکر انہیں بازار کی چیزیں کھانے کے لئے کھلا چھوڑ دینا۔۔۔ یہ انہیں پسند نہ تھا اس لئے ہمیں بازار کی چیزوں کی عادت ہی نہیں پڑی
بس بہت زیادہ عیاشی کی تو ایک ٹافی ہوتی تھی جس کا نام تو پتہ نہیں کیا تھا ، ہم اسکو " گائے کی ٹافی " کہتے تھے اور ایک فانٹا کی ٹافی کھاتے تھے
یہ دونوں ٹافیاں بھی کبھی کبھار کھاتے تھے
ہمارا بچپن الحمدللہ بہت صبر، شکر اور قناعت کا دور تھا اور والدین بھی بچوں کی اچھے انداز میں تربیت کرکے انہیں آگے آنے والے مصائب و مسائل کا سامنا کرنے کی ہمت اور حوصلہ پیدا کرتے تھے ۔ بچوں کی ہر خواہش پوری کرنے سے بچوں میں بگڑنے کی امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں اور ان میں صبر کا مادہ پیدا نہیں ہوپاتا جو انکے اندر ایک بے چینی اور بے قراری بھر دیتا ہے اور پھر انسان اللہ کی نعمتوں کی شکر گزاری کرنے کے بجائے ناشکری کے کلمات ادا کرنے لگتا ہے
کم از کم میرا تجربہ اور مشاہدہ تو یہی کہتا ہے کہ خاص طور پر بچوں کی جا و بیجا خواہشات پوری کرنے سے انکے اندر اور اور اور کی خواہش مزید شدت اختیار کر جاتی ہے اور نعمتوں کی قدر ہونے کے بجائے نعمتوں کی ناقدری کا رجحان تقویت پاتا ہے
اسی لئے پہلے کے بزرگ بچوں کی ہر خواہش پوری کرنے کے بجائے انکے اندر صبر و استقلال پیدا کرنے کے لئے بہت سی وہ خواہشات بھی جو وہ پوری کرسکتے ہوں ، نہیں کرتے تھے ۔ اس طرح خواہشات کے منہ زور دریا پر بند باندھنا آسان ہوجاتا ہے
دیکھا ناں۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔ ٹھہرے ہوئے پر سکوت سمندر میں ایک پتھر پھینکنے کا انجام دیکھ لیا؟؟؟؟؟؟؟
کتنی لمبی اور کڑوی تقریر برداشت کرنی پڑی تم کو ۔۔۔ ۔۔۔ ۔اب بھگتو :)
زبردست اپیا۔۔ بچپن تو میرا بھی بڑا ہی صبر و قناعت والا تھا۔۔۔ لیکن جو چند اک یادیں تھیں۔۔۔ میں نے سوچا تمام کے ساتھ بانٹی جائیں۔۔۔ :)
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
نینی بھیا آپ نے مجھے ٹیگ نہیں کیا ناں
جائیں میں نہیں بولتی



تبصرہ : مچل ٹافی تو مجھے اتنی پسند تھی ناں بھیا میں تو بہت کھاتی تھی
اور اس کے علاوہ ڈھیر ساری مسکانیں :) :) :) :) :)
گڑیا واقعی میں ٹیگ نہیں کیا تمہیں؟ :cautious:
بہت بہت زبردست
اور شکریہ کوئی نہیں ان مسکانوں کا۔۔۔ یہ تو فرض تھا مانو گڑیا :)
 
واؤ ان میں آدھی سے زیادہ چیزیں تو میری بھی پسندیدہ رہ چکی ہیں اور کچھ تو اب بھی ہیں
لیکن بقول آپکے واقعی اب ان میں وہ مزا نہیں رہا جو بچپن میں آیا کرتا تھا
 
Top