بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی کے 9 واقعات- ایک دن کی رپوٹ -

ربط

1102162581-1.gif
 
ذمہ دار کون ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟حکمران ، والدین ، مذہبی راہنما ، قانون کے رکھوالے، معاشرہ
سب ذمہ دار جو فحاشی کی روانی کو نہیں روک سکے ، ایک بڑا سبب فحش مواد جو جذبات کو بھڑکا دیتا ہے اور کدھر ہیں چشمے اس مواد کے مغرب ، کن کی تہذیب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئی ہے جو اس کو روکے یا اللہ کے عذاب کا انتظار کریں یا چپ بیٹھ جاو قوم سو رہی ہے اس وقت تک کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
فحاشی پھیلانے کا انجام
إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۚ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
‏ جو لوگ مسلمانوں میں بےحیائی پھیلانے کے آرزو مند رہتے ہیں ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہیں اللہ سب کچھ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔‏ (النور: 19)
 
معاشرتی بگاڑ کا سبب؟
ثناء غوری

بے راہ روی کی جس روش پر پاکستانی معاشرہ گامزن ہے، وہاں خیر کی امید کرنا عبث ہے۔ ایک درندہ بھی کسی جانور کے بچے کو کھاتے ہوئے ہزار بار اس کی معصومیت اور بچپن دیکھ کر پیچھے ہٹ جائے، مگر انسانی کھال منڈھے جو درندے ہمارے درمیان موجود ہیں وہ معصوم بچوں پر بھی رحم نہیں کھاتے۔میں نے ایک وڈیو دیکھی تھی، جس میں جنگل کی تاریکی میں خرگوش کے چھوٹے چھوٹے بچوں کو دکھایا گیا تھا، لیکن اس جگہ ان بچوں کی ماں نہیں تھی، کہاں گئی تھی چھوٹے بچوں کو چھوڑ کر، یہ تو خدا جانے۔ اب وہ بچے بھوک سے بلک رہے تھے، کہ اس نیم اندھیرے میں ایک بھیڑیا آیا اور بچوں کو بھوک سے یہاں وہاں ہوتے دیکھ کر ان کے لیے چھوٹے چھوٹے پتے لاکر ان کے سامنے رکھتا گیا۔ وہ پتے لاتا، انھیں اپنے پیر سے مسلتا اور خرگوش کے سامنے کردیتا، تاکہ انھیں خوراک نگلنے میں مسئلہ نہ ہو۔ یہ تھا بھیڑیا، اور اس کے سامنے موجود تھے مجبور اور بے یار و مدد گار خرگوش کے بچے۔
بھیڑیا چاہتا تو ایک ہی وار میں ان پانچوں کو کھا جاتا، لیکن نہیں، شاید اسے ان معصوموں پر رحم آگیا۔ کیمرے کی آنکھ نے اس منظر کو محفوظ کرلیا۔ شاید خدا نے خرگوش کی ماں کو اسی لیے کسی کام میں الجھا دیا ہوگا تاکہ بھیڑیے کی نیکی انسانوں تک پہنچ جائے، لیکن بھیڑیا تو ہم انسانوں کے قبیل میں نفرت، خودغرضی اور شیطانیت کی علامت ہے۔ پھر یہ کون ہیں جو بھیڑیوں سے بھی ستر گنا زیادہ درندگی رکھتے ہیں، نہیں یہ انسان نہیں ہوسکتے، بھیڑیے نے تو معصوم بچے پر رحم کرلیا، لیکن یہ موذی جانور بچوں کی چیرپھاڑ کرتے ہوئے ایک لمحے کے لیے بھی نہیں کپکپائے۔ پانچ سالہ سنبل بھی ایک ایسے ہی جانور کا شکار بنی۔ اس کا بچپن، اس کی معصومیت بلکہ اس کی پوری زندگی نگل گئے یہ جانور۔ بے دردی سے توڑ ڈالا گیا اس گڑیا کو۔ دل خون کردینے والے ایسے واقعات اب روز کا قصہ بن چکے ہیں۔ ملک کا کون سا شہر کون سا علاقہ ہے جہاں ہوس، وحشت اور درندگی نے یکجا ہوکر انسانی روپ دھارا اور کسی بچے کو کچا چباگئیں۔ میں ان جانوروں کو کیا نام دوں، کیا تشبیہہ دوں، زبان نے وہ لفظ ایجاد ہی نہیں کیا جو ان کی غلیظ فطرت اور مکروہ سیرت کا احاطہ کرسکے۔
خرگوش کے بچوں کو پیاس و بھوک سے بلکتے دیکھ کر بھیڑیے کو بھی پیار آجاتا ہے، جنگل میں درندے بھی کسی قانون اور اخلاقیات کی پیروی ضرور کرتے ہیں، ڈائنیں کلیجہ چبا جاتی ہیں، مگر غلاظت سے بھرے یہ ’’انسان‘‘ ننھے فرشتوں کو اپنی ہوس کی آگ میں جلاڈالتے ہیں، پوری کی پوری زندگی کھا جاتے ہیں یہ انسان نما جانور۔ ان کی حقیقت تک رسائی کے لیے، ان کی پہچان کے لیے ہمیں کوئی نیا لفظ نیا نام تلاش کرنا ہوگا، جو اپنے اندر ان کی پوری شیطانیت، غلاظت اور سنگ دلی کو سموسکے۔بچوں سے زیادتی کے واقعات ہوں یا عورتوں کی عزت پامال کرنے کے سانحے، یہ جاننے کے لیے کسی اعدادوشمار کے مطالعے اور تجزیے کی بھی ضرورت نہیں کہ ایسے واقعات ہمارییہاں بڑھتے جا رہے ہیں۔ درندگی کے ایسے مظاہرے بھی ہوئے ہیں کہ ڈھائی تین سال کی بچی کو بھی نہیں چھوڑا گیا۔ ہر انسان کو خون کے آنسو رلادینے اور ہر صاحب اولاد کا دل خوف سے بھردینے والے ان واقعات کا ایک سبب تو وہی ہے جو ہمارے ملک میں ہر جرم کی کفالت کر رہا ہے، یعنی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بے عملی، مگر یہ سبب تو صرف مجرم کو بے خوف ہوکر جرم کرنے پر اُکساتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اتنا قبیح جرم کوئی انسان کر کیسے سکتا ہے؟ اور جواب یہ ہے کہ اپنوں کے گلے کاٹنے سے آدم خوری تک بے رحمی کی تاریخ انسان ہی نے رقم کی ہے۔ ہر معاشرے میں انسان کا روپ لیے شیطان بستے ہیں۔ اس درندگی کو بڑھاوا دینے والے عوامل میں برقی ذرائع ابلاغ کا کردار سب سے اہم ہے۔ نوے کے عشرے میں پاکستان میں پرائیوٹ چینلز نے جنم لیا اور ساتھ ہی انٹرنیٹ کو فروغ ملا۔ ایک سرسری سا مشاہدہ بھی بتا سکتا ہے کہ بچوں اور خواتین سے زیادتی کے واقعات میں کئی گنا اضافہ بھی اسی دور سے ہوا ہے۔ ٹی وی کی اسکرین جتنے گہرے اثرات کی حامل ہے، شاید ہی کوئی دوسرا ذریعہ ابلاغ اتنی قوت رکھتا ہو۔ ناظرین کی تعداد بڑھانے کی دوڑ میں ٹی وی چینلز اتنے آگے بڑھ گئے کہ اقدار پیچھے رہ گئیں۔ بے باکی کا سلسلہ لباس سے دراز ہوتے ہوتے ہیجان خیز مناظر، مکالموں اور ہماری قدروں کی دھجیاں اڑاتی کہانیوں تک جا پہنچا۔ میڈیا نے معاشرے پر کس حد تک اثرات مرتب کیے اس کا اندازہ زبان کے بگاڑ سے لگایا جاسکتا ہے۔ اخبارات میں چھپنے والی زبان ہو یا ٹی وی سے نشر ہونے والے الفاظ، لوگ انھیں معیار سمجھتے اور قبول کرتے ہیں، چنانچہ ٹی وی چینلز پر خصوصاً ڈراموں میں استعمال ہونیوالے تہذیب سے عاری مکالمے اور الفاظ اب ہماری بول چال کا حصہ بنتے جارہے ہیں۔
کوئی مہذب معاشرہ اس بیہودہ زبان کا متحمل نہیں ہوسکتا، مگر ہمارے یہاں اس بگاڑ کی کسی کو پرواہ نہیں۔ اس کے ساتھ انٹرنیٹ نے اتنی تیزی سے فروغ پایا کہ ہمارے شہروں میں آناً فاناً انٹرنیٹ کیبل کا گلی گلی پھیلا کاروبار وجود میں آگیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ٹی وی چینلز ہوں یا انٹرنیٹ، متعلقہ ادارے معاشرے کو ان میڈیم کے منفی اثرات سے بچانے اور ہمارے ثقافت اور اقدار کے تحفظ کے لیے ٹھوس اور موثر اقدامات کرتے، مگر اس طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ اب صورت حال یہ ہے کہ اطلاعات کے مطابق فحش مواد پر مبنی ویب سائٹس کراچی میں کام کرنے والی کمپنیاں ڈیزائن کر رہی ہیں اور پاکستانی سنجیدہ اور معتبر ویب سائٹس پر بھی ’’ڈیٹنگ سائٹس‘‘ کے اشتہارات نوجوانوں کو ترغیب دیتے نظر آتے ہیں۔ فحاشی اور بے راہ روی پھیلانے والی ان ویب سائٹس پر پابندی کیوں نہیں لگائی جاتی؟ اس صورت حال کا ذمے دار کون ہے؟ حکمراں اور متعلقہ ادارے آخر کب اس معاملے کی نزاکت اور اہمیت کو سمجھیں گے۔
کوئی کچھ کہے مگر آئین کی رو سے پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے۔ ہم ایک مسلم معاشرے میں رہتے ہیں۔ ہماری اقدار حیا کی پاسدار ہیں۔ ہماری ثقافت لباس سے زبان تک شرم اور لحاظ کی حامل ہے۔ پاکستان کے ادارے آئین کے تحت پابند ہیں کہ وہ ہماری اسلامی اقدار کو پامال نہ ہونے دیں، مگر نہ انھیں اپنی ذمے داری کا احساس ہے اور نہ کوئی ان کے فرائض یاد دلا رہا ہے۔ اس میں دو رائے نہیں ہوسکتیں کہ ہمیں زمانے کے ساتھ چلنا چاہیے۔ ٹیکنالوجی کے بغیر ہم ایک قدم آگے نہیں بڑھ سکتے، ٹی وی ہو یا انٹرنیٹ، یہ ذرائع ابلاغ ہمیں دنیا سے جوڑے رکھتے اور ہم پر علم اور آگاہی کے نئے در وا کرتے ہیں۔ تاہم زمانے کے ساتھ چلنے کا مطلب بے حیائی اپنا لینا نہیں، بے حیائی جنگل کی ثقافت اور جانوروں کی صفت ہے۔ ہمیں دنیا کے ساتھ اس طرح چلنا چاہیے کہ ہماری ثقافت اور اقدار کا سایہ ہمارے سروں پر رہے۔
 
اسلامی معاشرے میں ایک مسلمان شخصی آزادی کے نام پر اپنے گردو پیش میں ہونے والی برائی سے برات کا اظہار نہیں کرسکتا کیونکہ حضور ﷺ نے فرمایا: (کلکم راع و کلکم مسوول عن رعیتہ۔۔۔ )(بخاری) ”تم میں سے ہر ایک راعی (ذمہ دار) ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں باز پرس کی جائے گی “۔ ((والذی نفسی بےدہ لتامرنَّ بالمعروف، ولتنہونَّ عن المنکر، او لیوشکنَّ اﷲ ان یبعث علیکم عقاباً من عندہ، ثمّ لتدعنّہ فلا یستجب لکم)) (احمد) قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، تم ضرور بالضرور امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکا فریضہ انجام دیتے رہنا، (اگر تم اس فریضے میں کوتاہی کے مرتکب قرار پائے) تو اﷲ کا عذاب تمہیں اپنی لپیٹ میں لے لیگا۔ پھر تم دعائیں ہی مانگتے رہو گے اور وہ قبول نہیں کر ے گا“
جہاں تک آزادرائے کا تعلق ہے تو اُسے مسلمانوں کے لئے قابل قبول بنانے کے لئے ایک بار پھر مغرب نے اسلام کا سہارا لےااور اس مقصد کے لیے مغرب نے اسلامی تعلیمات کوہی توڑ موڑ کر پیش کر دیا۔ انہوں نے اسلام میں آزادی رائے کو ثابت کرنے کے لیے اسلامی تاریخ سے مثالیں پیش کیں،خلیفہ کے عوامی محاسبے کے واقعات کو خوب نمایاں کر کے مسلمانوں کی ذہن سازی کی، سےاسی اور فقہی اختلاف رائے کی اجازت سے متعلق اسلامی اخلاقیات کو اسلام کا عام اصول بنا کر پیش کیا۔ آزادی رائے کے حامی مسلمان اس تصور کو مسلمانوں کے ذہن میں بٹھانے کے لیے آج بھی عمر ؓ بن الخطاب کا وہ واقعہ دھراتے نہیں تھکتے ہیں جس میں صحابہ کرام ؓ نے ان کے کُرتے سے متعلق بڑی سختی سے استفسار کیا تھا۔ لیکن کیا آزادی رائے کا تصور محض حکمرانوں کے محاسبہ تک ہی ہمارے دانش وروں کے علم میں آ سکا ہے۔
اہل علم جانتے ہیں کہ مغرب میں آزادی رائے
express.GIF
سے مراد یہ ہے کہ ہر انسان کو حق یا باطل میں سے کوئی سی ایک رائے اختیارکرنے کا پوراحق حاصل ہے۔ وہ لسانی اور گروہی عصبیت پھیلانے کے ساتھ ساتھ کفر اور الحاد پر مبنی لٹریچر تقسیم کر سکتا ہے۔ وہ چاہے تو کپڑے زیب تن کر کے تصور کھنچوائے یا مادر پدر آزاد ہو کر برہنہ جسم فلم بنوائے۔آج کل مغرب میں سب سے تیزی سے پھیلنے والا کار و بارپورنوگرافی ہے (
porno.gif
ننگ دھڑنگ مناظر اور شہوانی مواد) آزادی رائے اور شخصی آزادی کے اصولوں کے تحت وہاں اس شیطانی کار و بار کو سرکاری تحفظ حاصل ہے۔( افسوس مغرب کے نزدیک فحاشی بھی ایک منافع بخش صنعت ہے!!) ۔ پاکستان میں بھی کیبل اور جرائد میں فحاشی کے لئے آزادی کے اسی مغربی نظریہ حیات سے دلیل پیش کی جاتی ہے۔
آزادی رائے کی حمایت کرنے والے عمر بن الخطاب کے واقعے کوبنیاد بنا کر آزادی رائے کے اس کفریہ اور ہمہ گیر نظریہ حیات پر اسلام کی مہر ثبت کر کے ہمیں بے وقوف نہیں بنا سکتے۔ بے شک اسلام ایک مسلمان کو رائے کے اظہار سے محروم نہیں کرتا بشرطیکہ اس کی رائے قرآن و سنت سے ماخوذ ہو یا جسے اسلام حرام قرار نہ دیتا ہو؛ خواہ اس کی رائے خلیفہ کی اختیارکردہ رائے کے بر خلاف ہی کیوں نہ ہو یا مسلمانوں کی اکثریت اس کی رائے سے اختلاف ہی کرتی ہو۔
 
اسلام میں حاکم کا محاسبہ اپنی رائے سے نہیں کیا جاتابلکہ شریعت کی لگائی ہوئی پاپندیوں میں رہتے ہوئے اجر کی امید پراِس فریضے کو انجام دیا جاتا ہے۔اِس کا مغرب کے تصورِ آزادی سے سرے سے کوئی تعلق ہی نہیں بنتا اور کچھ حاکم کے محاسبے پرہی کیا موقوف ہے، معاشر ے میں رونما ہونے والی ہر برائی پر کلمہ حق بلند کرنا مسلمان کاشرعی فرض ہے۔ اس میں چھوٹ صرف اسی صورت میں ہے جب وہ برائی کے خلاف آ واز بلند کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو۔ ((من رای منکم منکراً فلیغیرہ بیدہ، فن لم یستطع فبلسانہ، فن لم یستطع فبقلبہ و ذلک اضعف الیمان)) (مسلم) ”تم میں سے جو بھی منکر دیکھے تو چاہئے کہ وہ اسے اپنے ہاتھ سے تبدیل کرے اور اگر اس کی استطاعت نہ پائے تو پھر زبان سے(اظہار حق کے تمام قدیم اور جدید ذرائع ابلاغ کے موئثر استعمال سے) (تبدیل کرے) اور اگر یہ بھی نہ کر سکے تو پھر دل سے (برا جانے) اور یہ ایمان کا سب سے کم درجہ ہے“۔ اس کے برعکس آزادی رائے کے تحت ایک شخص اس بات میں آزاد ہے کہ وہ برائی کے خلاف مکمل خاموشی اختیار کرے چاہے اس کے پاس اسے روکنے کی صلاحیت اور استطاعت ہی کیوں نہ ہو۔ اسی طرح اسلام میں ایک عفت مآب عورت پر تہمت لگانا کبیرہ گناہ کے ساتھ ساتھ ایک جرم ہے جس کی حد شریعت میں اسی درے مقرر ہے۔آزادی رائے کے حامل معاشروں میں اس قسم کی تہمت کو سستی شہرت کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ آزادی رائے اس قدر خطرناک سوچ ہے کہ جس کو تسلیم کرنے کے بعد ہمیں سلمان رشدی کی تصنیف کی اشاعت اور ترویج پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے لبرل حضرات جو آزادی رائے پر پکا اعتقاد رکھتے ہیں سلمان رشدی کے قتل کے فتوے کو نہایت ہی بھونڈا ا ور غیر منطقی سمجھتے ہیں۔ فلسفہ آزادی کو بنیاد بنا کر امریکہ نے نہ صرف مردود رشدی کو تحفظ فراہم کیا بلکہ مسلمانوں کی ایذا رسانی کے لیے اسے بل کلنٹن کے ساتھ چائے پینے کا ”شرف“ بھی بخشا۔ آزادی رائے سمیت تمام دیگر ”آزادیوں“ کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔
 
ہمیں اپنے سیکولر دوستوں اور مغربی مفکروں کی توجہ اس امر پر بھی مرکوز کروانی ہوگی کہ اگر مغربی ممالک میں عورت جسم پر دو چیتھڑے پہننے کی قانوناً پابند ہے، جیسا کہ امریکہ میں ہے، تو پھر یہ حد بذات خود اس عورت کی آزادی کو سلب کرتی ہے۔ اور اگر عورت، انسان کی لگائی ہوئی حدود کی پابند ہو سکتی ہے تو پھر لباس زیب تن کرنے میں اﷲ کی لگائی ہوئی حدود کی پاپندی قبول کرنے میں آخر کیا قباحت ہے؟ امریکہ میں ایک خاتون اپنی اٹھارویں سال گرہ سے ایک دن قبل تک ایک بالغ مرد کے ساتھ اپنی مرضی کے باوجود جنسی تعلق استوار کرنے میں قانوناً آزاد نہیں۔ اگر عورت کی شخصی آزادی پر انسان کے بنائے ہوئے قوانین لاگو ہو سکتے ہیں تو پھر مرد و زن کے تعلقات کو استوار کرنے والے خالق کے قوانین کو کیوں قبول نہیں کیا جاسکتا؟ اگر حکومت آزادی ملکیت کے خیالی قانون کو پامال کرتے ہوئے عام شہری کی آمدنی پر ٹیکسوں کے قانون کے تحت شب خون مار سکتی ہے تو پھرریاستی مالی معاملات میں اﷲتعالیٰ کے بنائے ہوئے قوانین از قسم خراج، جزیہ، زکوة اور خمس کو ماننے میں کیا مضائقہ ہے۔
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ نہیں اسلام میں آزادیاں تو موجود ہیں لیکن اﷲ کے احکامات کے دائرے کے اندر ۔ ہمیں اس مبنی بر تضاد اصطلاح سے ہر گز اتفاق نہیں ۔ جب بھی اسلامی احکامات کے تحت انسانی اعمال پر پابندیاں اور حدود وقیود لگادی جائیں تو پھر آزادیاں کہاں رہ جاتی ہیں؟ دوم یہ کہ قرآن اور سنت میں کہیں پر بھی انسان کو آزاد نہیں کہا گیا اور نہ ہی اسلام میں آزادی کی تقدیس کا تصور پایا جاتا ہے۔ بلکہ قرآن اور سنت بار بار انسان کو”عباد الرحمن“ اور ”یا عبادی“ (اے میرے غلام) کے القابات سے پکارتا ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اﷲ تعالیٰ بڑے واضح انداز میں ہمیں مطلع کرتا ہے کہ ہماری جان اور مال ہماری نہیں بلکہ یہ خریدی جاچکی ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ(التوبہ) ”بے شک اﷲ نے خریدلی ہیں مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال اس کے بدلہ میں کہ ملے گی ان کو جنت“۔ پس جب جان اور مال ہمارا ہے ہی نہیں تو اس کے استعمال اور تصرف میں ہم کس طرح آزاد اور خود مختار کہلا سکتے ہیں؟ چنانچہ ہمارے پاس سوائے اﷲ کے احکامات کی اتباع کے کوئی چارہ اور اختیار نہیں۔ انسان کے پاس رشد وہدایت کے راستے پر چلنے یا کفر و الحاد کی راہ چننے کا اختیار و قدرت ہونا اس کے آزاد ہونے کی دلیل نہیں بلکہ یہ تو محض اﷲ کی طرف سے اسے دیے گئے انتخاب کا اختیار ہے جسے وہ دنیا میں بغیر کسی جبر و اکراہ استعمال کرتا ہے اور اسی کی بنیاد پر اسے آخرت میں جنت یا دوزخ میں سے کوئی ایک ٹھکانہ ملنے والا ہے
 
فحاشی پھیلانے کا انجام
إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۚ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
‏ جو لوگ مسلمانوں میں بےحیائی پھیلانے کے آرزو مند رہتے ہیں ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہیں اللہ سب کچھ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔‏ (النور: 19)
کیا اس آیت میں وہ اخبار شامل نہیں ہونگے جو ایسے جرم کی خبر شائع کرتے ہیں؟؟ :) :)
 
کیا اس آیت میں وہ اخبار شامل نہیں ہونگے جو ایسے جرم کی خبر شائع کرتے ہیں؟؟ :) :)
شعیب بھائی ،اللہ کا حکم سب پر لاگو ہے سب شریعت کے تحت ہیں - پرنٹ میڈیا کی نسبت ، انٹر نٹ ، موبائل ، سی ڈی نے یہ فتنہ زیادہ برپا کیا ہے
 
شعیب بھائی ،اللہ کا حکم سب پر لاگو ہے سب شریعت کے تحت ہیں - پرنٹ میڈیا کی نسبت ، انٹر نٹ ، موبائل ، سی ڈی نے یہ فتنہ زیادہ برپا کیا ہے
تو پھر کیا اس آیت کا سہارا لے کر تمام کرائم رپورٹرز کو منافقین کی صف میں شامل کیا جاسکتا ہے؟؟ :) :)
 

مقدس

لائبریرین
کیوں کہ باقی تین سمتیں ہماری حلیف ہیں۔
نین بھیا سئیریسلی۔۔ جب بھی کوئی واقعہ ہوتا ہے پاکستان میں خاص طور پر ایسا تو سیدھی بات مغرب پر آ جاتی ہے۔۔ ارے بابا ہم نے ساری زندگی یہاں گزاری۔۔ کم از کم مجھے تو نہیں لگتا کہ ایسی کھلی آذادی یہاں ہے۔۔۔ اس معاشرے مین رہ کر ہمارے پیرنٹس نے ہماری تربیت کی تو ایک نام نہاد مسلم کنٹری کے والدین کیوں نہیں کر سکتے
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
نین بھیا سئیریسلی۔۔ جب بھی کوئی واقعہ ہوتا ہے پاکستان میں خاص طور پر ایسا تو سیدھی بات مغرب پر آ جاتی ہے۔۔ ارے بابا ہم نے ساری زندگی یہاں گزاری۔۔ کم از کم مجھے تو نہیں لگتا کہ ایسی کھلی آذادی یہاں ہے۔۔۔ اس معاشرے مین رہ کر ہمارے پیرنٹس نے ہماری تربیت کی تو ایک نام نہاد مسلم کنٹری کے والدین کیوں نہیں کر سکتے
عرصہ بیتا میں نے محفل پر سنجیدہ جوابات دینے چھوڑ دیے ہیں۔ اور محفل کے سیاسی دھاگوں کو سنجیدہ لینے کی ضرورت نہیں۔۔۔ سب سے زیادہ مسخری یہیں ہوتی ہے۔
 

مقدس

لائبریرین
عرصہ بیتا میں نے محفل پر سنجیدہ جوابات دینے چھوڑ دیے ہیں۔ اور محفل کے سیاسی دھاگوں کو سنجیدہ لینے کی ضرورت نہیں۔۔۔ سب سے زیادہ مسخری یہیں ہوتی ہے۔
ایگری بھیا جی۔۔۔۔ میں بھی یہی کرتی ہوں اکثر پر کبھی کبھی بہت غصہ آتا ہے تو جواب دے دیتی ہوں
 
Top