1. اردو محفل سالگرہ پانزدہم

    اردو محفل کی پندرہویں سالگرہ کے موقع پر تمام اردو طبقہ و محفلین کو دلی مبارکباد!

    اعلان ختم کریں

بلوچ خون کے آخری خطرے تک قومی آزادی کی جدوجہد رکھیں گے، بی آر پی

کاشفی نے 'آج کی خبر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 14, 2013

  1. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,384
    بلوچ خون کے آخری قطرے تک قومی آزادی کی جدوجہد رکھیں گے، بی آر پی

    [​IMG]
    کوئٹہ (آن لائن) اسپین بولدک میں بگٹی مہاجرین کے کیمپ پر حملہ کو بلوچ ری پبلکن پارٹی لندن اور سوئزر لینڈ نے بلوچ نسل کشی کا تسلسل قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے اپیل کی ہے کہ بلوچ نسل کشی کا نوٹس لیتے ہوئے اپنا مؤثر عملی کردار ادا کریں بلوچ ری پبلکن پارٹی کی مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کے ترجمان شیر محمد بگٹی نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت بھی بلوچ نسل کشی کی جارحانہ پالیسیوں پر عمل پیرا ہے اسپین بولدک میں بگٹی مہاجرین کے کیمپ پر ریاستی اداروں نے حملہ کیا جس میں بی آر پی ڈیرہ بگٹی کے صدر کی ضعیف العمر والدہ اور دس سالہ معصوم بچی زخمی ہوگئے ترجمان نے کہا کہ ریاستی عہدیداروں کی جانب سے بلوچستان کے مسائل کے پرامن حل کے دعوے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی گھناؤنی سازشوں کا تسلسل ہیں ریاست اور اس کے ادارے بلوچ قوم کے خون کے اس قدر پیاسے ہوچکے ہیں کہ بلوچ دنیا کے کسی بھی خطے میں آباد کیوں نہ ہو وہاں بھی اس کو نشانہ بنانے سے دریغ نہیں کیا جارہا بلوچ دشمن ریاستی اداروں کے ظلم و جبر سے ہجرت کا دکھ جھیلنے والوں کو افغانستان کی سرزمین پر بھی نہیں بخشا بی آر پی ڈیرہ بگٹی کے صدر ریاض گل کے گھر کواسپین بولدک میں نشانہ بنایا گیا بم حملے میں ریاض گل بگٹی کی ضعیف العمر والدہ اور دس سالہ معصوم بچی راجو زخمی ہوگئے ریاست بلوچ نسل کشی کی جارحانہ و آمرانہ پالیسیوں پر عمل پیرا ہے اور تسلسل سے بلوچوں کے خون کے ساتھ ہولی کھیلی جارہی ہے لیکن بلوچوں کی نسل کشی پر اقوام متحدہ انسانی حقوق کی تنظیموں اور انصاف کے عالمی اداروں نے مکمل طور پر خاموشی اور چشم پوشی اختیار کررکھی ہے جو باعث تعجب اور قابل مذمت عمل ہے اقوام متحدہ ایک طرف تو پناہ گزینوں اور انسانی حقوق کے علمبرادر ہونے کا دعویدار ہے لیکن ریاستی جبر کے باعث افغانستان میں پناہ گزین ہونے والے بگٹی مہاجرین کو وہاں بھی ریاستی ظلم جبر اور بربریت کا نشانہ بنایا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ اگر ریاست اور اس کے ادارے سمجھتے ہیں کہ جارحانہ و آمرانہ پالیسیوں سے بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد سے دستبردار ہوجائیں گے تو یہ انکی بھول ہے بلوچ خون کے آخری قطرے تک قومی آزادی کی جدوجہد جاری رکھیں گے انہوں نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں عالمی برادری بلوچستان میں ریاستی ظلم و جبر اور بلوچوں کی نسل کشی کا نوٹس لیتے ہوئے فوری مداخلت کرے اور اپنا مؤثر عملی کردار ادا کرتے ہوئے بلوچوں کو ریاستی جبر سے نجات دلائے بلوچ ری پبلکن پارٹی لندن کے صدر منصور بلوچ اور بی آر پی سوئٹز لینڈ نے بھی واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں اس سے قبل بھی بلوچ دشمن ریاستی اداروں نے مہاجرت کی زندگی گزارنے والے بلوچوں کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنانے کی کوشش کی یہاں تک کہ2008ء میں بی آر پی ڈیرہ بگٹی کے صدر ریاض گل بگٹی کے بھائی شیر باز بگٹی کو ریاستی اداروں نے لاپتہ کردیا جو آج تک لاپتہ ہے ریاستی اداروں کی جانب سے بلوچ فرزندان کی ماورائے آئین و قانون گرفتاریوں گمشدگیوں اور تشدد زدہ لاشوں کے پھینکنے اور بلوچ نسل کشی کی جارحانہ و آمرانہ پالیسیاں تسلسل کے ساتھ جاری ہیں انسانی حقوق کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں چادر و چار دیواری کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے نہتے بے گناہ خواتین و بچوں کو غیر انسانی ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے لیکن انسانی حقوق کے نام نہاد اداروں نے خاموشی اور چشم پوشی اختیار کررکھی ہے انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں ریاستی ظلم و جبر اور بربریت سے تنگ آکر بلوچ عوام اور سیاسی کارکنوں نے افغانستان میں پناہ لی لیکن ریاستی ادارے انہیں وہاں بھی نہیں بخش رہے انسانی حقوق کے ادارے اقوام متحدہ اور عالمی برادری بلوچ نسل کشی کا فوری نوٹس لیتے ہوئے بلوچوں کو ریاستی ظلم و جبر سے نجات دلانے میں اپنا مؤثر وعملی کردار ادا کرے ۔
     

اس صفحے کی تشہیر