ممتاز مفتی بلقیس کا طوطا۔۔۔

ماہی احمد

لائبریرین
بلقیس کا طوطا
اسلام آباد میں ایک بہت بڑی شاعرہ رہتی ہے، بلقیس محمود۔ نظم کی شاعرہ ہے۔ میں بلقیس کا مداح ہوں۔ وہ ہمیشہ منفرد موضوعات پر لکھتی ہے۔ اس کی زیادہ تر نظمیں بارہویں کھلاڑی پر ہیں۔ اس کا بیٹا تاشی امریکہ چلا گیا تو بلقیس نے ایک نظم ان دنوں سے متعلق لکھی جب اس کا بیٹا اسلام آباد میں اپنی امی ابا کے ساتھ رہتا تھا۔ یہ ایک طویل نظم ہے، اس کے چند اقتسابات پیش کرتا ہوں۔ صاحبو! یہ بھی جان لو کہ بلقیس کا گھر احترام اور رسم بھر گھر (traditional) نہیں ہے، گھر کی فظا آزاد ہے، پیار بھری۔ اس کے باوجود وہ اپنے بیٹے تاشی کے جذبات یوں رقم کرتی ہے:

۔۔۔۔ مجھے لگتا ہے امی
میں
بڑھاپے سے بھری بستی میں آکر
پھنس گیا ہوں
یہاں ہر شخص بوڑھا ہے
یہ چودہ سال کی بہنا
یہ سولہ سال کا بھائی
یہ دونوں آپ۔۔۔
یہ گہرے سلیٹی رنگ کی
بے رنگ سی دنیا
خدایا میں کہاں پر آ گیا ہوں
یہاں ہنسنا ہنسانا جرم لگتا ہے
یہاں پر زندگی کے گیت گانا
ban ہے شاید
مرا کیا جرم ہے امی
مجھے لگتا ہے امی! آپ سب صیاد ہیں میرے
میرے پر کاٹ کر
پنجرے میں رکھ لینے کی اک خواہش
بس ایک خوش رنگ سا طوطا
میاں مٹھو
کہ جب چاہا
میاں مٹھو میاں مٹھو
بہلایا
خوش کر لیا
اپنے بڑھاپے کو
تعجب ہے مجھے امی
کہ اپنے دوستوں میں آپ ہنستی ہیں
مجھے سچ سچ بتائیں آپ کو ہنسنا بھی آتا ہے؟
کوئی حسن لطافت آپ میں بھی ہے؟؟
کوئی sense of humor
آپ میں بھی ہے؟؟؟
مجھے تو آپ سب
دُکھ کے مارے
بوڑھے بوڑھے لوگ لگتے ہیں
کہ جن کی ساری کوشش ہے
مجھے بھی توڑ کر رکھ دیں
دکھی
سنجیدہ
گہرے رنگ
میرے منہ پر بھی مل دیں

۔۔۔ ٭ ۔۔۔

میری امی ابو
مجھے انگریزی گانوں کارٹونوں سے تو نہ روکیں
مجھے وہ "ویلری بابا"
وہ چھوٹی چھوٹی زندہ زندہ لڑکیاں
"می شیل"۔۔۔ وہ "ڈی جے"
مکمل زندگی والا وہ "فُل ہاؤس"
یہ سب تو دیکھ لینے دیں
وہ سارے خوب
ساری خواہشیں
جو میرے اندر ہیں
انہیں باہر تو آنے دیں

(تلاش
از
ممتاز مفتی)​
 

ابن رضا

لائبریرین
الله هدایت دے ایسے بیٹوں کو. آمین. شاعره نے ایک ماں کے درد کو بهت عمده پیرهن دیا هے. شراکت کے لیے سراپاء سپاس:)
 
Top