1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $453.00
    اعلان ختم کریں

بغرض اصلاح: ’’مرادل جلاؤ ، یہ مرضی ہے تیری‘‘

افتخاررحمانی فاخر نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 29, 2019

  1. افتخاررحمانی فاخر

    افتخاررحمانی فاخر محفلین

    مراسلے:
    664
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Buzzed
    بے مطلع غزل اساتذہ کی خدمت بغرض اصلاح :
    الف عین صاحب اور دیگر صاحبان

    افتخاررحمانی فاخرؔ ،نئی دہلی

    ملے تجھ کو تسکیں، تو پھر میر ے مشفق
    مرادل جلاؤ ، یہ مرضی ہے تیری


    شرابِ وفا کے بجائے اے ساقی !
    مئے غم ، پلاؤ یہ مرضی ہے تیری !

    مرے اشک ِ الفت ، ہیں جاری مسلسل
    مجھے یوں ’رلاؤ ‘، یہ مرضی ہے تیری !

    سبھی عکس ہائے وفا میرے دلبر
    اگر تم مٹاؤ ، یہ مرضی ہے تیری !

    چراغِ محبت ہتھیلی پہ رکھ کر
    جلاکر بجھاؤ ، یہ مرضی ہے تیری

    ( یہ شعر کشمیر کے موجودہ حالات کے پس منظر میں ہے )

    کیا تھا جو وعدہ اسے تم بھلا کر
    کبھی بھی نہ آؤ، یہ مرضی ہے تیری

    تو فاخرؔ کی غزلوں کے بدلے ستم گر !
    مراثی سناؤ، یہ مرضی ہے تیری !
     
    آخری تدوین: ‏اگست 30, 2019
  2. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,292
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    ردیف "یہ مرضی ہے تیری" کو "یہ مرضی تمہاری" کردیجیے اور اسی مناسبت سے دوسرے اور پانچویں شعر میں "تجھ" کو "تم" کردیجیے، سقم دور ہو جائے گا۔
     
    آخری تدوین: ‏اگست 29, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,292
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    "وفا کے سبھی عکس کو میرے دلبر" کو
    "سبھی عکس ھائے وفا" میرے دلبر

    کردیجیے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. افتخاررحمانی فاخر

    افتخاررحمانی فاخر محفلین

    مراسلے:
    664
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Buzzed
    شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. افتخاررحمانی فاخر

    افتخاررحمانی فاخر محفلین

    مراسلے:
    664
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Buzzed
    جی یہ مصرعہ آپ کے مشورہ کے مطابق کردیا گیا ۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  6. عظیم

    عظیم محفلین

    مراسلے:
    6,557
    ان قوافی کے ساتھ 'تیری' درست واقعی نہیں ہے، 'یہ مرضی تمہاری' سے شتر گربہ تو دور ہو رہا ہے لیکن میرا خیال ہے کہ آپ کا جو مطلب ہے کہ 'تم پر ہے' وہ بالکل ویسا ہی ادا نہیں ہوتا۔
    'ہے مرضی تمہاری' مجھے زیادہ بہتر معلوم ہو رہا ہے۔

    ملے تجھ کو تسکیں، تو پھر میر ے مشفق
    مرادل جلاؤ ، یہ مرضی ہے تیری
    ۔۔۔اس شعر میں اگر ردیف بدل کر 'ہے مرضی تمہاری' کر بھی دی جائے تو مجھے لگتا ہے کہ شعر پھر بھی معنوی اعتبار سے نامکمل ہی رہے گا۔ مجھے 'مرا دل جاؤ یا نہ جلاؤ' کا ہونا درست لگ رہا ہے۔
    یعنی تمہاری مرضی ہے کہ دل جلاؤ یا نہ جلاؤ

    دوسرے شعر میں 'اے' کی ے کو گرایا گیا ہے جو درست نہیں ہے
    اور آخری شعر میں بھی 'غزل تجھ' کی بجائے 'غزل تم' ہونا چاہیے
     
    • متفق متفق × 1
  7. افتخاررحمانی فاخر

    افتخاررحمانی فاخر محفلین

    مراسلے:
    664
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Buzzed
    آپ کے مشورہ پر عمل کرلیا گیا ہے ۔ مقطع بدل دیا گیا ہے ۔
     
  8. افتخاررحمانی فاخر

    افتخاررحمانی فاخر محفلین

    مراسلے:
    664
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Buzzed
    کچھ ترمیم و اضافہ کے بعد پھر پیش خدمت ہے

    ملے تجھ کو تسکیں، تو اےمیر ے مشفق
    مرادل جلاؤ ، یہ مرضی ہے تیری

    شرابِ وفا کے بجائے اے ساقی !
    مئے غم ، پلاؤ یہ مرضی ہے تیری !

    مرے اشک ِ الفت ، ہیں جاری مسلسل
    مجھے یوں ’رلاؤ ‘، یہ مرضی ہے تیری !

    سبھی عکس ہائے وفا میرے دلبر
    اگر تم مٹاؤ ، یہ مرضی ہے تیری !

    چراغِ محبت ہتھیلی پہ رکھ کر
    جلاکر بجھاؤ ، یہ مرضی ہے تیری
    ( یہ شعر کشمیر کے موجودہ حالات کے پس منظر میں ہے )

    کیا تھا جو وعدہ اسے تم بھلا کر
    کبھی بھی نہ آؤ، یہ مرضی ہے تیری

    ترحم کی تھی اک گزارش مگر اب
    رعونت دکھاؤ، یہ مرضی ہے تیری !

    تو فاخرؔ کی غزلوں کے بدلے ستم گر
    مراثی سناؤ، یہ مرضی ہے تیری !
     
  9. عظیم

    عظیم محفلین

    مراسلے:
    6,557
    ملے تجھ کو تسکیں، تو اےمیر ے مشفق
    مرادل جلاؤ ، یہ مرضی ہے تیری
    ۔۔۔آپ کی اس غزل میں اصل جو خرابی ہے وہ قوافی کی وجہ سے ہے، مثلاً جلاؤ، بجھاؤ، پلاؤ وغیرہ کے ساتھ 'تیری' استعمال نہیں ہو سکتا۔ شتر گربہ ہو جاتا ہے۔
    اگر قوافی 'جلائے، بجھائے، پلائے، وغیرہ ہوں تو آپ کی ردیف 'یہ مرضی ہے تیری' درست ہو گی۔
    مثلاً
    ملے تجھ کو تسکیں تو اے میرے مشفق
    مرا دل جلا لے، یہ مرضی ہے تیری
    ۔۔تکنیکی اعتبار سے درست ہو گا۔
    اور
    ملے تجھ کو تسکیں تو اے میرے مشفق
    مرا دل جلاؤ، ہے مرضی تمہاری
    بھی تکنیکی اعتبار سے درست ہو گا۔
    یعنی 'جلا لے یا جلائے کے ساتھ ردیف میں 'تیری' کا استعمال چلا جائے گا مگر 'جلاؤ، پلاؤ وغیرہ کے ساتھ 'تم' استعمال کرنا پڑے گاا ورنہ شتر گربہ رہے گا۔ اور شعر درست تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
    مختصراً یہ کہ مکمل غزل میں شتر گربہ ہے، اگر ردیف یہی رکھنا چاہتے ہیں تو آپ کو قوافی بدلنا پڑیں گے اور اگر قوافی یہی رکھنا چاہتے ہیں تب آپ کو ردیف بدلنا پڑے گی۔ باقی باتیں بعد کی ہیں

    شرابِ وفا کے بجائے اے ساقی !
    مئے غم ، پلاؤ یہ مرضی ہے تیری !

    مرے اشک ِ الفت ، ہیں جاری مسلسل
    مجھے یوں ’رلاؤ ‘، یہ مرضی ہے تیری !

    سبھی عکس ہائے وفا میرے دلبر
    اگر تم مٹاؤ ، یہ مرضی ہے تیری !

    چراغِ محبت ہتھیلی پہ رکھ کر
    جلاکر بجھاؤ ، یہ مرضی ہے تیری
    ( یہ شعر کشمیر کے موجودہ حالات کے پس منظر میں ہے )

    کیا تھا جو وعدہ اسے تم بھلا کر
    کبھی بھی نہ آؤ، یہ مرضی ہے تیری

    ترحم کی تھی اک گزارش مگر اب
    رعونت دکھاؤ، یہ مرضی ہے تیری !

    تو فاخرؔ کی غزلوں کے بدلے ستم گر
    مراثی سناؤ، یہ مرضی ہے تیری !
     
    • متفق متفق × 1
  10. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,292
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    یہی نکتہ ہم اپنے پہلے مراسلے میں اٹھا چکے ہیں، لیکن اسے درخورِ اعنتا نہیں سمجھا گیا!

     
  11. افتخاررحمانی فاخر

    افتخاررحمانی فاخر محفلین

    مراسلے:
    664
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Buzzed

    غزل پھر دوبارہ قافیہ بدل کر پیش خدمت ہے،ملاحظہ کریں ۔


    ملے تجھ کو تسکیں، تو اےمیر ے مشفق
    مرادل جلاؤ ، ہے مرضی تمہاری

    شرابِ وفا کے بجائے اے ساقی !
    مئے غم پلاؤ ،ہے مرضی تمہاری

    مرے اشک ِ الفت ، ہیں جاری مسلسل
    مجھے یوں ’رلاؤ ‘، ،ہے مرضی تمہاری

    سبھی عکس ہائے وفا میرے دلبر
    اگر تم مٹاؤ ،ہے مرضی تمہاری

    چراغِ محبت ہتھیلی پہ رکھ کر
    جلاکر بجھاؤ ، یہ مرضی ہے تیری

    کیا تھا جو وعدہ اسے تم بھلا کر
    کبھی بھی نہ آؤ ،ہے مرضی تمہاری

    ترحم کی تھی اک گزارش مگر اب
    رعونت دکھاؤ ،ہے مرضی تمہاری

    غزل چھیڑ ے فاخرؔ،عوض میں ستمگر !
    مراثی سناؤ،ہے مرضی تمہاری !
     
  12. عظیم

    عظیم محفلین

    مراسلے:
    6,557
    صرف پہلے شعر میں مجھے لگتا ہے کہ دوسرا مصرع میں جلاؤ یا نہ جلاؤ' ہونا چاہیے تھا۔
    دوسرے شعر کے پیلے مصرع میں 'اے' کی ے ابھی بھی گر رہی ہے
    پانچویں شعر میں ردیف بدلی ہوئی ہے۔
    مقطع کا پہلا مصرع
    تو فاخرؔ کی غزلوں کے بدلے ستم گر
    ہی بہتر تھا۔ صرف 'تو' ہٹا کر 'یوں' کر دیں تو بہت بہتر ہو جائے گا
    باقی اشعار مجھے درست لگ رہے ہیں
     
  13. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,292
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    پہلے مصرع میں "تجھ" کو "تم" کردیں تو شعر درست ہو جائے گا۔
     
  14. عظیم

    عظیم محفلین

    مراسلے:
    6,557
    یہ واقعی میرے دیکھنے سے رہ گیا تھا۔
    مگر دوسرے مصرع میں 'مرا دل جاؤ' فٹ نہیں لگ رہا۔ یہ ایک طرح کا کہا جا رہا ہے۔ آپشن نہیں دی جا رہی۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  15. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,523
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    میرے خیال میں ردیف 'یہ مرضی ہے تیری' ہی بہتر ہے، ہے مرضی تمہاری' ہر جگہ پسندیدہ نہیں۔ عظیم کا صائب مشورہ ہے کہ قافیہ بتائے، جلانے وغیرہ. کر دیا جائے
    پہلے شعر میں مَیں یہ سمجھتا ہوں کہ آپشن کا سوال نہیں ہے، محض یہی کہا جا رہا ہے کہ تمہاری مرضی ہے تو دل جلاؤ، مجھے اعتراض نہیں۔
     
  16. عظیم

    عظیم محفلین

    مراسلے:
    6,557
    جی بابا، جب پہلی بار یہ غزل پڑھی تھی تب سے ہی اس شعر کے بارے میں یہ خیال تھا تو آج بھی بغیر غور کیے یہی اعتراض کر گیا ہوں۔ اور آپ کے مراسلے سے قبل اپنا اعتراض درست بھی لگ رہا تھا
     

اس صفحے کی تشہیر