امن وسیم

محفلین
صفحہ نمبر 3 کے عنوانات

⭕ ماحول اور مزاج
⭕ سماعت سے پہلے
⭕ نامۂ اعمال
⭕ شہادتیں ( گواہیاں )
⭕ فیصلہ
⭕ کامیابی کی خوشی،
ناکامی کی حسرت

⭕ جہنم کی تخلیق کا مقصد
⭕ جہنم کی ابدیت
⭕ جہنم کے احوال
⭕ جہنمیوں کا استقبال
⭕ جنتیوں کا جہنمیوں سے مکالمہ
⭕ جہنم کا کھانا
⭕ جہنم کا مشروب
⭕ جہنم کا لباس
⭕ جہنم کی رہائش
⭕ جہنم کی آگ
⭕ جہنمیوں کو ذہنی تکالیف
⭕ جہنمیوں کی محرومیاں
⭕ جہنم سے نکلنے کی کوشش
 
آخری تدوین:

امن وسیم

محفلین
ماحول اور مزاج

عدالت کا ماحول اور وہاں کا جو منظر ہو گا، اس کے بارے میں قرآن نے بیان کیا ہے کہ بہت سے فرشتے، بالخصوص جبریل جیسا خدا کا انتہائی مقرب فرشتہ بھی صف باندھے ہوئے کھڑا ہو گا۔دراں حالیکہ جبریل علیہ السلام واحد شخصیت ہیں جن کے بارے میں قرآن نے ’ذِیْ قُوَّۃٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَکَیْنٍ‘ کہہ کرخدا کے ہاں اُن کے بلند مرتبہ ہونے کا بیان کیا ہے۔ کسی کو اللہ عزوجل کے سامنے خود سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ بات وہی کر پائے گا جسے اس کی طرف سے بات کرنے کا اذن ملے گا۔ مزید یہ کہ وہ شخص بات بھی وہی کر سکے گا جو ہر اعتبار سے صحیح ہو گی اور کسی بھی طرح عدل و انصاف سے ہٹی ہوئی نہ ہو گی:

لاَ یَمْلِکُوْنَ مِنْہُ خِطَابًا یَوْمَ یَقُوْمُ الرُّوْحُ وَالْمَلآءِکَۃُ صَفًّا،لاَّ یَتَکَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ وَقَالَ صَوَابًا.(النبا ۷۸: ۳۷۔۳۸)
’’کسی کو یارا نہیں کہ اُس کی طرف سے کوئی بات کرے۔ اُس دن جب فرشتے اور جبریل امین، (سب اس کے حضور میں) صف بستہ کھڑے ہوں گے۔ وہی بولیں گے جنھیں رحمٰن اجازت دے اور وہ صحیح بات کہیں گے۔‘‘


اس عدالت میں فرشتوں کا اپنا کوئی مقدمہ زیر سماعت نہ ہو گا، مگر اس کے باوجود ان کی یہ حالت ہو گی تو اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ جن کے مقدمات باقاعدہ زیرسماعت ہوں گے، ان لوگوں پر کیا بیت رہی ہو گی۔ چنانچہ قرآن نے ان کے بارے میں بیان کیا ہے کہ پروردگار کا اس قدر جلال ہو گا کہ سب آوازیں پست ہو جائیں گی۔ کسی کو جرأت نہ ہو گی کہ اونچی آواز میں بات کر سکے۔ اس کے سامنے کوئی اپنے عمل کی بنیاد پر نخرا کرے یا پھر اس کو ناز و ادا دکھائے، یہ تو ممکن ہی نہیں۔ اس کے حضور تو اونچے اونچے شملے سرنگوں ہو جائیں گے اور بڑی بڑی شخصیات نہایت مودبانہ انداز میں اور سر جھکائے ہوئے کھڑی ہوں گی:

وَخَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ لِلرَّحْمٰنِ فَلَا تَسْمَعُ اِلَّا ھَمْسًا.(طٰہٰ ۲۰: ۱۰۸)
’’اور تمام آوازیں خداے رحمان کے آگے پست ہو جائیں گی، سو تم ایک دبی دبی سرگوشی کے سوا کچھ نہ سنو گے۔‘‘


وَعَنَتِ الْوُجُوْہُ لِلْحَیِّ الْقَیُّوْمِ.(طٰہٰ ۲۰: ۱۱۱)
’’سب کے چہرے اس حیّ و قیّوم کے سامنے جھکے ہوں گے۔‘‘


وہاں ہر اس شخص کی داد رسی کی جائے گی جس کی دنیا میں حق تلفی ہوئی یا اس پر کوئی ظلم اور تعدی کی گئی۔ اسی طرح ہر اس شخص کو داد مل کر رہے گی جس نے اپنے رب کا فرماں بردار بن کر زندگی گزاری اور اس کے بندوں کے حقوق کی ہر دم نگہداشت کی۔ وہ عدالت بدعنوان ، ظالم اور اندھی بھی نہیں ہوگی۔ اُس میں یہاں کی عدالتوں کی طرح ایسا نہیں ہو گا کہ جرم کوئی کرے اور اس کے بدلے میں دَھر کوئی اور لیا جائے، کسی بڑے کے کہے سنے مجرمین بری ہو جائیں یا رشوت اور معاوضہ دے کر خلاصی پا جائیں یا پھر انھیں عدالت کے مقابلے میں کہیں اور سے مدد ہی مل جائے:

وَاتَّقُوْا یَوْمًا لَّاتَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْءًا وَّلاَ یُقْبَلُ مِنْھَا شَفَاعَۃٌ وَّلَا یُؤْخَذُ مِنْھَا عَدْلٌ وَّلَا ھُمْ یُنْصَرُوْنَ.(البقرہ ۲: ۴۸)
’’اور اس دن سے ڈرو جب کوئی کسی کے کچھ بھی کام نہ آئے گا اور نہ اس سے کوئی سفارش قبول کی جائے گی اور نہ اس سے کوئی معاوضہ لیا جائے گا اور نہ لوگوں کو کوئی مدد ہی ملے گی۔‘‘


اس عدالت میں ان مظلوموں کی خصوصی طور پر شنوائی ہو گی جن پر ظلم کرنے والے کوئی اور نہیں، ان کے اپنے تھے۔ وہ اپنے کہ جنھیں ان کا کفیل بنایا گیا تھا، جنھیں ان کی حفاظت کی ذمہ داری دی گئی تھی ، مگر یہ خود ان پر ظلم کرنے والے بن گئے۔ چنانچہ اس قدر لاچار اور بے بس مظلوموں کا مدعی عالم کا پروردگار خود بنے گا۔ اس طرح کی چارہ سازی کی ایک مثال قرآن مجید میں ان لفظوں میں بیان ہوئی ہے:

وَاِذَا الْمَوْءٗ دَۃُ سُءِلَتْ، بِاَیِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ.(التکویر ۸۱: ۸۔۹)
’’اور جب اُس سے، جو زندہ گاڑ دی گئی، پوچھا جائے گا کہ وہ کس گناہ پر ماری گئی ؟‘‘
 

امن وسیم

محفلین
سماعت سے پہلے

سماعت شروع ہونے سے پہلے فرشتے اُن حضرات کا حوصلہ بڑھائیں گے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کو اپنا رب مانا اور ہر قسم کے حالات میں اس کے عہد پر قائم رہے۔ وہ انھیں تسلی دیں گے کہ آپ لوگوں کی سب آزمایشیں اب ختم ہو گئیں؛ پریشانیوں کے زمانے لَد گئے؛ مطمئن ہو رہیے، صلے کا دور بس آیا ہی چاہتا ہے:

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْھِمُ الْمَلآءِکَۃُ اَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَبْشِرُوْا بِالْجَنَّۃِ الَّتِیْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ.(حٓم السجدہ ۴۱: ۳۰)
’’جن لوگوں نے کہا: ہمارا رب اللہ ہے، پھر اس پر ثابت قدم رہے، ان پر یقیناً فرشتے اتریں گے (اور کہیں گے): اب نہ کوئی اندیشہ کرو اور نہ ہی کوئی غم اور اس جنت کی خوش خبری قبول کرو جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔‘‘

لوگوں کو اس دن تین گروہوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ ایک اصحاب یمین اور دوسرے اصحاب شمال اور تیسرے سابقون:

وَکُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَۃً، فَاَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ، مَآ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ! وَاَصْحٰبُ الْمَشْءَمَۃِ، مآ اَصْحٰبُ الْمَشْءَمَۃِ! وَالسّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَ اُولٰٓئِکَ الْمُقَرَّبُوْنَ.(الواقعہ ۵۶ :۷۔۱۱)
’’(اس دن) تم تین گروہوں میں تقسیم ہو جاؤ گے۔ ایک گروہ دائیں والوں کا ہو گا، سو کیا کہنے ہیں دائیں والوں کے! دوسرا بائیں والوں کا، تو کیا بدبختی ہے بائیں والوں کی! اور آگے والے تو پھر آگے والے ہی ہیں۔ وہی مقرب ہوں گے۔‘‘
 

امن وسیم

محفلین
نامہ اعمال

عدالت میں انسان کے اچھے اور برے اعمال کے دفتر پیش کر دیے جائیں گے۔ جن کو کامیاب قرار پانا ہے، ان کے دفتر ان کے دائیں ہاتھ میں اور جنھیں مجرم قرار پانا ہے، ان کے دفتر ان کے بائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے۔ مجرمین کے ہاتھ ان کی پیٹھ پیچھے باندھ دیے گئے ہوں گے، اس لیے ان کے دفتر ان کو پیچھے ہی سے تھمائے جائیں گے۔ ان کا دائیں ہاتھ میں دیا جانا، اصل میں نجات اور کامیابی کی اور بائیں ہاتھ میں دیا جانا، خسران اور ناکامی کی علامت ہو گا۔۱؂
دائیں ہاتھ والوں کی خوشی اس موقع پر دیدنی ہو گی۔ وہ دوسروں کو آگے بڑھ بڑھ کر اپنا اعمال نامہ دکھائیں گے۔ اس کے مقابلے میں بائیں ہاتھ والے حسرت کا اظہار اور اپنے متوقع انجام پر واویلا کر رہے ہوں گے۔ اول الذکر کے ساتھ نرمی کا خصوصی معاملہ کیا جائے گا اور ان کی چھوٹی موٹی کوتاہیوں کو نظرانداز کر دیا جائے گا:

فَاَمَّّا مَنْ اُوْتِیَ کِتٰبَہٗ بِیَمِیْنِہٖ فَیَقُوْلُ ھَآؤُمُ اقْرَءُ وْا کِتٰبِیَہْ، اِنِّیْ ظَنَنْتُ اَنِّیْ مُلٰقٍ حِسَابِیَہْ، فَھُوَ فِیْ عِیْشَۃٍ رَّاضِیَۃٍ .... وَاَمَّّا مَنْ اُوْتِیَ کِتٰبَہٗ بِشِمَالِہٖ فَیَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ کِتٰبِیَہْ، وَلَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِیَہْ، یٰلَیْتَھَا کَانَتِ الْقَاضِیَۃَ.(الحآقہ ۶۹: ۱۹۔ ۲۱، ۲۵۔ ۲۷)
’’پھر جس کا نامۂ اعمال اُس کے دہنے ہاتھ میں دیا جائے گا، وہ کہے گا: لو پڑھو ، میرا نامہ اعمال، مجھے یہ خیال رہا کہ (ایک دن) مجھے اپنے اس حساب سے دو چار ہونا ہے۔ چنانچہ وہ ایک دل پسند عیش میں ہو گا ... اور جس کا نامۂ اعمال اُس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، وہ کہے گا: اے کاش، میرا یہ نامۂ اعمال مجھے نہ ملتا اور میرا حساب کیا ہے، میں اس سے بے خبر ہی رہتا۔ اے کاش ، وہی (موت) فیصلہ کن ہو جاتی۔‘‘


فَاَمَّّا مَنْ اُوْتِیَ کِتٰبَہٗ بِیَمِیْنِہٖ فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًا وَّیَنْقَلِبُ اِلآی اَھْلِہٖ مَسْرُوْرًا، وَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ کِتٰبَہٗ وَرَآءَ ظَھْرِہٖ فَسَوْفَ یَدْعُوْا ثُبُوْرًا وَّیَصْلٰی سَعِیْرًا.(الانشقاق ۸۴: ۷۔۱۲)
’’پھر جس کا نامۂ اعمال اس کے دہنے ہاتھ میں دیا جائے گا، اس کاحساب نہایت ہلکا ہو گا اور وہ خوش خوش اپنے لوگوں کی طرف پلٹ آئے گا۔ اور جس کا نامۂ اعمال اس کے پیچھے ہی سے (اس کے بندھے ہوئے ہاتھوں میں) پکڑا دیا جائے گا، وہ جلد موت کی دہائی دے گا اور دوزخ میں جا پڑے گا۔‘‘


عالم حشر میں جب زمین اپنے پروردگار کے نور سے روشن ہو جائے گی تو لاعلمی اور جہالت کے تمام بادل چھٹ جائیں گے اور وہ سارے حقایق واضح طور پر نظر آنے لگیں گے جو آج سورج کی روشنی میں بہت سے لوگوں کو دکھائی نہیں دیتے۔ دین کے اندر جو کچھ اختلافات پیدا کر دیے گئے ہیں، ان کی حقیقت بھی اس دن بالکل کھل کر لوگوں کے سامنے آ جائے گی:

وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّھَا.(الزمر ۳۹: ۶۹)
’’اور زمین اپنے پروردگار کے نور سے روشن ہو جائے گی۔‘‘


لَقَدْ کُنْتَ فِیْ غَفْلَۃٍ مِّنْ ھٰذَا فَکَشَفْنَا عَنْکَ غِطَآءَکَ فَبَصَرُکَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ.(ق ۵۰: ۲۲)
’’تم اس دن سے غفلت میں رہے تو (آج) وہ پردہ ہم نے ہٹا دیا جو تمھارے آگے پڑا ہوا تھا اور آج تو تمھاری نگاہ بہت تیز ہے۔‘‘


اِلَی اللّٰہِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّءُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُوْنَ.(المائدہ ۵: ۴۸)
’’تم سب کو (ایک دن) اللہ ہی کی طرف پلٹنا ہے، پھر وہ تمھیں بتا دے گا سب چیزیں جن میں تم اختلاف کرتے رہے ہو۔‘‘

__________________

۱؂ فیصلے سے پہلے ہی اصحاب یمین اور اصحاب شمال میں تقسیم کر دیا جانا اس لیے ممکن ہو گا کہ وہ عدالت کسی ظاہر بین قاضی کی نہیں، خداے علّام الغیوب کی ہو گی جو ہر کسی کے عمل اور ان کے نتائج سے واقف ہو گا۔ بلکہ جن لوگوں کا معاملہ نیکی اور بدی میں بالکل واضح ہوتا ہے، انھیں تو موت کے وقت ہی جنت اور دوزخ کی بشارت دے دی جاتی ہے اور مجرموں کی تو دھول دھپے سے طبیعت بھی درست کی جاتی ہے (النحل ۱۶: ۲۸، ۲۹، ۳۲۔ الانفال ۸: ۵۰) ۔
 

امن وسیم

محفلین
شہادتیں

عدالت کی کارروائی کا باقاعدہ آغاز ہو گا۔ لوگوں سے ان کے فرائض اور ذمہ داریوں کے بارے میں سوال ہو گا۔ نبیوں کو اور جن قوموں کی طرف وہ بھیجے گئے، ان سب کو بلا کر پوچھا جائے گا۔ یہ سوال اس لیے ہو گا کہ پیغمبروں کی اپنے فرائض سے سبک دوشی اور ان کی سرخروئی ثابت ہو اور دوسری طرف مکذبین کے لیے قطع عذر بھی ہو جائے۔ یعنی یہ بات آخری درجے میں ثابت ہو جائے کہ جن لوگوں نے اپنی راہ کھوٹی کی، انھوں نے اندھیرے میں نہیں، بلکہ پورے دن کی روشنی میں ٹھوکر کھائی، چنانچہ وہ اس بات کے سزاوار ہیں کہ ان سے مواخذہ کیا جائے:

فَلَنَسْئَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْھِمْ وَلَنَسْءَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ.(الاعراف ۷: ۶)
’’تو ہم ان لوگوں سے پرسش کریں گے جن کی طرف رسول بھیجے گئے اور خود رسولوں سے بھی ہم استفسار کریں گے۔‘‘


سماعت کے دوران عملوں کے دفترکھول دیے جائیں گے۔ لوگوں سے شہادتیں لی جائیں گی۔ نبی اپنے مخاطبین کے بارے میں اور دوسرے گواہ اپنے متعلقین کے بارے میں شہادتیں دیں گے۔ مدعیٰ علیہ سے عذر پیش کرنے اور معذرتیں بیان کرنے کاحق مکمل طور پر چھین لیا جائے گا۔ان کے مونہوں پر مہر کر کے ان کے دیگر اعضا سے خود ان کے بارے میں گواہی دلوا دی جائے گی، حتیٰ کہ زمین بھی ان کے سب افعال کی خبر سنا دے گی:

وَوُضِعَ الْکِتٰبُ وَجِایْءَ بِالنَّبِیّٖنَ وَالشُّھَدَآءِ.(الزمر ۳۹: ۶۹)
’’اور عمل کا دفتر سامنے رکھ دیا جائے گا اور سب پیغمبر بلائے جائیں گے اور گواہ بھی۔‘‘


اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰٓی اَفْوَاھِھِمْ وَتُکَلِّمُنَآ اَیْدِیْھِمْ وَتَشْھَدُ اَرْجُلُھُمْ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ.(یٰس ۳۶: ۶۵)
’’آج ہم ان کے مونہوں پر مہر کر دیں گے اور ان کے ہاتھ ہمیں بتائیں گے اور ان کے پاؤں شہادت دیں گے جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں ۔‘‘


یَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَھَا بِاَنَّ رَبَّکَ اَوْحٰی لَھَا.(الزلزال ۹۹: ۴۔۵)
’’اس دن ، تیرے پروردگار کے ایما سے، وہ (زمین) اپنی سرگذشت سنا ڈالے گی۔‘‘


اِتمام حجت کے لیے ان صالحین کے بیان بھی دلوائے جائیں گے جن کو لوگوں نے خدائی کا منصب دیے رکھا۔ سیدنا مسیح علیہ السلام سے ان کی اور ان کی ماں کی الوہیت کے بارے میں پوچھا جائے گا تو وہ عرض کریں گے کہ انھوں نے ایسا کرنے کا کبھی بھی حکم نہیں دیا۔ ان کا یہ بیان اس بات کا ثبوت ہو گا کہ گمراہ ہونے والوں کے پاس اپنی گمراہی کے لیے کوئی دلیل نہیں تھی، بلکہ یہ ان کا خود ساختہ عقیدہ اور سیدنا مسیح پر ایک صریح بہتان تھا۔ اسی طرح معبود قرار دیے جانے والے دیگر صالحین سے پوچھا جائے گا کہ ان کے پیرووں کی گمراہی میں کیا ان کا بھی کوئی حصہ تھا؟ وہ سب بھی اپنی صفائی پیش کر دیں گے اور اُنھی کو خطا وار قرار دیں گے جو بڑی عقیدت اور محبت سے دنیا میں ان کو پوجتے رہے ہوں گے:

وَاِذْ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ ءَ اَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَاُمِّیَ اِلٰھَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ ،قَالَ سُبْحٰنَکَ مَا یَکُوْنُ لِیْٓ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَیْسَ لِیْ بِحَقٍّ، اِنْ کُنْتُ قُلْتُہٗ فَقَدْ عَلِمْتَہٗ، تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَلَآ اَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِکَ، اِنَّکَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ.(المائدہ ۵: ۱۱۶)
’’اور یاد کرو ، جب اللہ پوچھے گا: اے مریم کے بیٹے عیسیٰ، کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ خدا کے سوا تم مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لو۔وہ عرض کرے گا: سبحان اللہ، یہ کس طرح روا تھا کہ میں وہ بات کہوں جس کا مجھے کوئی حق نہیں ہے۔ اگر میں نے یہ بات کہی ہوتی تو آپ کے علم میں ہوتی، (اس لیے کہ) آپ جانتے ہیں جو کچھ میرے دل میں ہے اور آپ کے دل کی باتیں میں نہیں جانتا۔ تمام چھپی ہوئی باتوں کے جاننے والے تو آپ ہی ہیں۔‘‘


وَیَوْمَ یَحْشُرُھُمْ وَمَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَیَقُوْلُ ءَ اَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِیْ ھٰٓؤُلَآءِ اَمْ ھُمْ ضَلُّوا السَّبِیْلَ. قَالُوْا سُبْحٰنَکَ مَا کَانَ یَنْبَغِیْ لَنَآ اَنْ نََّتَّخِذَ مِنْ دُوْنِکَ مِنْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰکِنْ مَّتَّعْتَھُمْ وَ اٰبَآءَ ھُمْ حَتّٰی نَسُوا الذِّکْرَ وَکَانُوْا قَوْمًام بُوْرًا.(الفرقان ۲۵: ۱۷۔۱۸)
’’یہ اس دن کا دھیان کریں، جس دن وہ انھیں اکٹھا کرے گا اور ان کو بھی جنھیں یہ خدا کے سوا پوجتے ہیں۔ پھر پوچھے گا: کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا یا یہ خود ہی راہ راست سے بھٹک گئے تھے۔ وہ جواب دیں گے کہ پاک ہے تیری ذات، ہمیں یہ حق کہاں تھا کہ ہم تیرے سوا دوسروں کو کارساز بنائیں! مگر (ہوا یہ کہ) تو نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو خوب سامان زندگی دیا، یہاں تک کہ وہ تیری یاد دہانی بھلا بیٹھے اور ایسے لوگ بن گئے جو برباد ہو کر رہے۔‘‘


عملوں کا سارا ریکارڈ، گواہوں کی شہادتیں اور خدا کے مقابل میں معبود اور مطاع قرار دیے جانے والے حضرات کی لاتعلقی کے بعد گویا ہر شے واضح ہو جائے گی۔ ہر ایک کا کیا دھرا اس کے سامنے ہو گا۔ جن کے عمل جس حد تک صالح رہے اور جنھوں نے جب جب برائی کی، یہ اپنی آنکھوں کے سامنے یہ سب کچھ موجود پائیں گے :

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ، وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ.(الزلزال ۹۹: ۷۔۸)
’’پھر جس نے ذرہ برابر بھلائی کی ہے، وہ بھی اسے دیکھ لے گا، اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہے، وہ بھی اُسے دیکھ لے گا۔‘‘

_____
 

امن وسیم

محفلین
فیصلہ

جب ہر شخص اپنے اعمال کو دیکھ لے گا تو عدل کی میزان کھڑی کی جائے گی جو بالکل انصاف کے ساتھ ان کا تول کر دے گی۔ اس میزان کے فیصلے میں نہ کسی پر ظلم ہو گا اور نہ زیادتی۔اس کے تولنے کی صلاحیت اس قدر ہو گی کہ ہر ادنیٰ سے ادنیٰ عمل بھی، چاہے وہ رائی کے دانے کے برابر ہو، اس میں تولا جا سکے گا، لیکن اس میں عجیب بات یہ ہو گی کہ اس کے کانٹے کو صرف وہ عمل ہلا پائے گا جو اپنی ذات میں حق تھا اور خدا اور آخرت کو سامنے رکھ کر انجام دیا گیا تھا۔ اس کے بر خلاف ، ہر وہ عمل جو باطل تھا اور خدا اور آخرت کے دن سے بے پروا ہو کر کیا گیا تھا، اس میزان میں بالکل بے وزن ہو گا۔ اب جن کے پلڑے بھاری رہیں گے وہ کامیاب اور جن کے پلڑے ہلکے اور بے وزن رہ جائیں گے وہ ناکام ٹھیریں گے اور اس طرح کامیابی اور ناکامی کا اعلان ہو جانے کے بعد عدالتی کارروائی اپنے اختتام کو پہنچ جائے گی:

وَنَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ، فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْءًا، وَاِنْ کَانَ مِثْقَالَ حَبَّۃٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اٰتَیْنَا بِھَا وَکَفٰی بِنَا حٰسِبِیْنَ.(الانبیاء ۲۱: ۴۷)
’’(انھیں بتاؤ کہ) روز قیامت کے لیے ہم انصاف کی ترازو رکھ دیں گے۔ پھر کسی جان پر ذرا بھی ظلم نہ ہو گا اور اگر رائی کے دانے کے برابر بھی کسی کا عمل ہو گا تو ہم اس کو لاموجود کریں گے۔ ہم (لوگوں کا) حساب لینے کے لیے کافی ہیں۔‘‘


وَالْوَزْنُ یَوْمَءِذِنِ الْحَقُّ.(الاعرااف ۷: ۸)
’’اور وزن کی چیز اس روز صرف حق ہو گا۔‘‘


اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّھِمْ وَ لِقَآءِہٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ فَلَا نُقِیْمُ لَھُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَزْنًا.(الکہف ۱۸: ۱۰۵)
’’یہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے پروردگار کی آیات اور اس سے ملاقات کا انکار کیا۔ سو اُن کے اعمال ضائع ہوئے۔ اب قیامت کے دن ہم ان کو کوئی وزن نہ دیں گے۔‘‘


فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہٗ فَھُوَ فِیْ عِیْشَۃٍ رَّاضِیَۃٍ، وَ اَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہٗ فَاُمُّہٗ ھَاوِیَۃٌ، وَمَآ اَدْرٰکَ مَاھِیَہْ، نَارٌحَامِیَۃٌ.(القارعہ ۱۰۱: ۶۔۱۱)
’’پھر جس کے پلڑے بھاری ہوئے ، وہ دل پسند عیش میں ہو گا اور جس کے پلڑے ہلکے ہوئے، اُس کا ٹھکانا گہری کھائی ہے۔ اور تم کیا سمجھے کہ وہ کیا ہے؟ دہکتی آگ ہے۔‘‘


وَقُضِیَ بَیْنَھُمْ بِالْحَقِّ وَھُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ.(الزمر ۳۹: ۶۹)
’’اور اُن کے درمیان بالکل حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور اُن پر کوئی ظلم نہ ہو گا۔‘‘
 

امن وسیم

محفلین
کامیابی کی خوشی، ناکامی کی حسرت

کامیاب ہو جانے والے اپنی ریاضتوں کا صلہ سامنے آتا دیکھ کر شاداں و فرحاں ہوں گے۔ ان کے درمیان یگانگت کا ماحول ہو گا۔ انس اور محبت کی فضائیں ہوں گی۔ انھیں ہر طرف سے مبارک سلامت کے پیام موصول ہو رہے ہوں گے۔


اس کے مقابلے میں وہ لوگ جو ناکام ٹھیریں گے، انھیں اپنے کیے پر سخت ندامت اور شرمساری ہو گی۔ حسرت کا وہ روگ ہو گا جو ہر پل ان کو ڈستا ہو گا۔ آپس میں بدزبانی ہو رہی ہو گی اور ان کی باہمی محبتیں نفرت اور بے زاری میں بدل جائیں گی۔ خدا کے پیغمبروں کو چھوڑ کر جن رہنماؤں کی پیروی کی گئی ، وہاں وہ اپنے متبعین سے اظہار براء ت کر دیں گے۔ اس پر متبعین بھی آہیں بھر بھر کے کہیں گے کہ اے کاش، ہمیں دوبارہ موقع ملے تو ہم بھی تم سے اسی طرح بے تعلق ہو جائیں:

وَاَسَرُّوا النَّدَامَۃَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ.(یونس ۱۰:۵۴)
’’(اس وقت) یہ دل ہی دل میں پچھتائیں گے، جب عذاب کو (اپنی آنکھوں سے ) دیکھ لیں گے۔‘‘


وَاَنْذِرْھُمْ یَوْمَ الْحَسْرَۃِ اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُ.(مریم ۱۹: ۳۹)
’’انھیں حسرت کے اُس دن سے خبردار کر دو، جب معاملے کا فیصلہ کر دیا جائے گا۔‘‘


اَلْاَخِلاّآءُ یَوْمَءِذٍم بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَ.(الزخرف ۴۳: ۶۷)
’’دنیا کے سب دوست، سواے پرہیز گاروں کے، اس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔‘‘


اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِیْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا وَرَاَوُ الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِھِمُ الْاَسْبَابُ. وَقَالَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا لَوْ اَنَّ لَنَا کَرَّۃً فَنَتَبرَّاَ مِنْھُمْ کَمَا تَبَرَّءُ وْا مِنَّا.(البقرہ ۲: ۱۶۶۔۱۶۷)
’’اُس وقت جب وہ لوگ جن کی پیروی کی گئی، اپنے پیرووں سے بے تعلقی ظاہر کر دیں گے اور عذاب سے دوچار ہوں گے اور اُن کے تعلقات یک قلم ٹوٹ جائیں گے۔ اور ان کے پیرو کہیں گے کہ اے کاش، ہمیں ایک مرتبہ پھر دنیا میں جانے کا موقع ملے تو ہم بھی ان سے اسی طرح بے تعلقی ظاہر کریں ، جس طرح انھوں نے ہم سے بے تعلقی ظاہر کی ہے۔‘‘


اور تو اور وہ شیطان کہ جس کے پیچھے ان لوگوں نے ہمیشہ کا نقصان مول لے لیا، وہ بھی جب ان کی باہمی تو تکار سنے گا تو یہ کہتا ہوا وہاں سے کھسک جائے گا:

وَمَاکَانَ لِیَ عَلَیْکُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّآ اَنْ دَعَوْتُکُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِیْ فَلَا تَلُوْْمُوْنِیْ وَلُوْمُوْٓا اَنْفُسَکُمْ، مَآ اَنَا بِمُصْرِخِکُمْ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُصْرِخِیَّ، اِنِّیْ کَفَرْتُ بِمَآ اَشْرَکْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ، اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ.(ابراہیم ۱۴: ۲۲)
’’میرا تم پر کوئی زور نہیں تھا، میں نے اس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ تمھیں دعوت دی اور تم نے میری دعوت پر لبیک کہا۔ اس لیے مجھے ملامت نہ کرو، اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔ اب نہ میں تمھاری فریاد کو پہنچ سکتا ہوں نہ تم میری فریاد کو پہنچ سکتے ہو۔ تم نے جو مجھے شریک ٹھیرایا تھا، میں اس کا پہلے سے انکار کر چکا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسی طرح کے ظالم ہیں جن کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘


بہرصورت، اس دن ناکام ہو جانے والے کچھ بھی کہیں اور کچھ بھی نالہ و فریاد کریں، خدائی فیصلہ اس سب کے باوجود نافذ ہو کر رہے گا اور ان کو دوزخ میں ڈال دینے کے احکام جاری کر دیے جائیں گے:

خُذُوْہُ فَغُلُّوْہُ، ثُمَّ الْجَحِیْمَ صَلُّوْہُ.(الحاقہ ۶۹: ۳۰۔۳۱)
’’اِس کو پکڑو اور اِس کی گردن میں طوق ڈال دو۔ پھر اِس کو دوزخ میں جھونک دو۔‘‘


دنیا کی عدالتوں کے برخلاف، خدا کی عدالت ہر طرح سے صحیح اور غلط میں امتیاز اور نیک و بد میں فرق کر دے گی۔ لہٰذا عدل و انصاف کے اس کامل ظہور کے بعد ہر طرف خدا کی حمد کے ترانے پڑھے جا رہے ہوں گے۔ قرآن مجید میں ہے:

وَقُضِیَ بَیْنَھُمْ بِالْحَقِّ وَقِیْلَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ. (الزمر ۳۹: ۷۵)
’’اور اُن کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ شکر کا سزاوار اللہ پروردگارِ عالم ہے۔‘‘
 

امن وسیم

محفلین
جہنم کی تخلیق کا مقصد

دین اسلام کا بنیادی مقصد انسان کا تزکیہ اور اس کی طہارت ہے۔ جس طرح ملاوٹی سونے کا کھوٹ دور کرنے کے لیے آگ کی بھٹی دہکائی جاتی اور اس کے اندر اسے تپا کر خالص کیا جاتا ہے، اسی طرح جو لوگ اپنا میل کچیل دین کے ذریعے سے دور نہ کریں گے، انھیں پاک صاف کرنے کے لیے دوزخ کی آگ دہکائی جائے گی۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو دوزخ آلودہ نفس لوگوں کے تزکیہ کی جگہ ہے اور آگ میں تپانے کا یہ دورانیہ اُن کی سزا۔ دوزخ میں تپائے جانے کے عمل کی شدت اور اس میں رہنے کی مدت، دونوں اس بات پر منحصر ہوں گی کہ اس میں جھونکے جانے والے شخص کی غلاظتیں کس حد تک کثیف اور متعفن ہیں۔ جیسے جیسے لوگ اپنی گندگیوں کا ازالہ کرتے چلے جائیں گے، ویسے ویسے ان کی وہاں سے خلاصی ہوتی چلی جائے گی۔ البتہ، کچھ مجرم ایسے بھی ہوں گے کہ جن میں جوہر ِخالص ڈھونڈے سے نہ ملے گا اور وہ اپنی ذات میں نرا کھوٹ ہوں گے۔ اس طرح کے مجرموں کے لیے دوزخ تزکیے کی نہیں، سزا کی جگہ ہوگی، اس لیے انھیں ہمیشہ کے لیے اس میں پڑا چھوڑ دیا جائے گا۔
ہمیشہ کی سزا پانے والے کون ہوں گے؟ قرآن مجید نے بیان کیا ہے کہ وہ لوگ جو خدا کے سامنے سرکشی اور بغاوت پر آمادہ ہو جائیں، جان بوجھ کر کفر و شرک کرنے لگیں، نفاق کے روگی ہو جائیں، جان اور مال اور آبرو کے خلاف سنگین کبائر کا ارتکاب کرنے لگیں ( مثال کے طورپر ، کسی مسلمان کو عمداً قتل کر دیں، قانونِ وراثت کی خلاف ورزی کریں یا بدکاری کے عادی مجرم ہو جائیں ) یا گناہ کی زندگی کو اس طرح اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیں کہ معلوم ہو گناہ انھیں ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے، ایسے سب لوگ خلود فی النار کے مستحق ٹھیریں گے اور دائمی عذاب میں گرفتار رہیں گے ۔
 

امن وسیم

محفلین
جہنم کی ابدیت

تاہم ابدی سزا کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ لوگ بالکل اسی طرح ہمیشہ کے لیے دوزخ میں رہیں گے، جس طرح جنتی ہمیشہ کے لیے جنت میں رہیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زیر نظر قرآن کی تعلیمات اصل میں مذکورہ جرائم کی سزاؤں کا بیان ہیں کہ جن کے اطلاق میں پروردگار عالم کسی بھی درجے میں تغیر کا اختیار ضرور رکھتا ہے۔ اس کی رحمت مدنظر رہے تو اس تغیر کی تین صورتیں فرض کی جا سکتی ہیں: ایک یہ کہ اس دوزخ ہی کو ختم کر دیا جائے ۔ دوسری یہ کہ دوزخ تو قائم رہے ، مگر ان ابدی سزا پانے والوں میں سے وہ لوگ جو ایمان سے بالکل تہی دامن رہے ہوں، مستقل جلتے رہنے سے جس طرح کھوٹ بھی آخرکار راکھ میں بدل جاتا ہے، اسی طرح انھیں بھی کسی روز راکھ کی صورت میں بدل کر ان کی ہستی کو فنا کر دیا جائے۔ تیسری یہ کہ دوزخ قائم رہے اور مجرموں میں سے وہ لوگ جو کم تر درجے کا ایمان، بہرحال رکھتے ہوں، انھیں بھی زندہ رکھا جائے اور اسی ایمان کا لحاظ رکھتے ہوئے آخر کار انھیں دوزخ سے خلاصی دے دی جائے۔۲؂ اگلی دنیاکے بارے میں قیاس کرنا موزوں نہیں ہے، مگرقرآن مجید کے کچھ اشارات ہیں جو اس کی بنیاد فراہم کرتے ہیں:

فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِی النَّارِ لَھُم فِیْھَا زَفِیْرٌ وَّشَھِیْقٌ، خٰلِدِیْنَ فِیْھَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وْالْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّکَ، اِنَّ رَبَّکَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ، وَاَمَّا الَّذِیْنَ سُعِدُوْا فَفِی الْجَنَّۃِ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّکَ عَطَآءً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ.(ہود ۱۱: ۱۰۶۔۱۰۸)
’’پھر جو بدبخت ہوں گے، وہ دوزخ میں جائیں گے۔ انھیں وہاں چیخنا اور چلانا ہے۔ وہ اسی میں پڑے رہیں گے، جب تک (اُس عالم کے) زمین و آسمان قائم ہیں۔ الّا یہ کہ تیرا پروردگار کچھ اور چاہے۔ اس میں شک نہیں کہ تیرا پروردگار جو چاہے، کر گزرنے والا ہے۔ رہے وہ جو نیک بخت ہیں تو وہ جنت میں ہوں گے۔ وہ اسی میں رہیں گے، جب تک (اُس عالم کے) زمین و آسمان قائم ہیں، الّا یہ کہ تیرا پروردگار چاہے، ایسی عطا کے طور پر جو کبھی منقطع نہ ہو گی۔‘‘


اس ضمن میں تین نکات بیان کیے جا سکتے ہیں:

پہلا یہ کہ قرآن مجید میں ایک مقام پر خوش بخت لوگوں کے صلے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیاہے: ’عَطَآءً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ‘ کہ ان پر ہونے والی عنایتیں مستقل ہوں گی اور ان میں کوئی انقطاع نہیں ہو گا، مگر بدبخت لوگوں کی سزا کو ’اِنَّ رَبَّکَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ‘ کہ تیرا رب جو چاہے کر سکتا ہے ، کہہ کر اللہ تعالیٰ کے ارادے سے متعلق کر دیا گیا ہے :

دوسرا یہ کہ دوزخ پروردگار کا کوئی وعدہ نہیں ہے، بلکہ مجرموں کو سنائی جانے والی ایک وعید ہے۔ کچھ دینے کا وعدہ کیا جائے تو اس کو پورا کرنا اخلاقی طور پر لازم ٹھیرتا ہے، مگر سزا کی دھمکی دے کر پھر چھوڑ دیا جائے تو اسے برا نہیں جانا جاتا، بلکہ قابل تحسین سمجھا جاتا ہے۔ آخر ت میں اگر مجرموں کو بالکل ہی معاف کر دیا جائے تو یہ بات عدل کے منافی اور دیگر لوگوں کے حق تلف کرنے کے مترادف ہو گی، اس لیے انھیں سزا توضرور دی جائے گی۔ تاہم اگر ہمیشہ کی سزا سے انھیں خلاصی دے دی جائے تو یہ بات عدل کے خلاف نہیں ہو گی، بلکہ خدا کے فضل کے عین مطابق ہو گی۔

تیسرا یہ کہ رحمت اور غضب، یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی صفتیں ہیں، مگر اس کی رحمت اس کے غضب پر سبقت کر گئی ہے۔ اگر اس کی رحمت کے مستحق قرار پانے والے ہمیشہ جنت کے مزے لوٹیں اور اس کے غضب کا شکار ہونے والے ہمیشہ دوزخ کی آگ کو بھگتیں تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اس سے یہ دونوں صفتیں ہر طرح سے ایک ہی درجے میں روبہ عمل ہیں، دراں حالیکہ ایسا بالکل نہیں ہے۔ چنانچہ رحمت کا غضب سے آگے بڑھ جانا خود اس بات کا متقاضی ہے کہ مجرموں کو ابدی سزا دیے جانے کے فیصلے میں بھی اس کا ظہور ہو۔

بہرحال، جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ اس باب میں حتمی بات کرنا ممکن نہیں، کچھ اشارے تھے جن کا ہم نے ذکر کر دیا ہے، وگرنہ اصل علم تو پروردگار عالم کے پاس ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲؂ یہ ضروری نہیں کہ ابدی سزا کے مستحق ان مجرموں کو رہائی دینے کے بعد اُسی جنت میں جگہ ملے جو صالحین کو انعام کے طور پر عنایت ہو گی۔ البتہ ، یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ پروردگار کی جو رحمت ان کی سزا میں تخفیف کا باعث بنے ، وہی رحمت ان کے لیے کسی دوردراز کے سیارے میں الگ سے جنت بسانے کا انتظام بھی کر دے ۔ اور اگر جنت نہ بھی ملے تو کیا ہے! ان کے لیے یہی بات جنت کے مترادف ہو گی کہ یہ دوزخ سے بالآخر نکال لیے جائیں۔

____________
 

امن وسیم

محفلین
جہنم کے احوال

جہنم کس طرح کی ہو گی، قرآن مجید نے اس کے بارے میں بھی کچھ معلومات دی ہیں۔ بیان ہوا ہے کہ اس کے سات دروازے ہوں گے، جن میں مجرموں کو ان کے جرائم کے اعتبار سے داخل کیا جائے گا۔ ان کی تعداد سات ہونے کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ قرآن مجید نے جن مہلک برائیوں کا ذکر کیا ہے، ان کا شمار کریں تو وہ سات عنوانات کے تحت آ جاتی ہیں: شرک ، قطع رحم، قتل ، زنا ، جھوٹی شہادت ، اثم اور عدوان۔چنانچہ انھی مہلکات کی بنیاد پر مجرموں کو خاص دروازوں سے داخل کیا جائے گا:

لَھَا سَبْعَۃُ اَبْوَابٍ، لِکُلِّ بَابٍ مِّنْھُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوْمٌ.(الحجر ۱۵: ۴۴)
’’اس (جہنم) کے سات دروازے ہیں اور ہر دروازے کے لیے ان میں سے ایک حصہ خاص کر دیا گیا ہے‘‘

فرشتوں کی تعداد، جو اس دوزخ پر مقرر ہوں گے، انیس بتائی گئی ہے۔ ظاہر ہے یہ اُس دنیا کی باتیں ہیں ، جہاں کے نوامیس یہاں سے بہت مختلف ہوں گے۔ ہم نے نہ جہنم دیکھی ہے، اللہ اس کے دیکھنے سے ہمیں محفوظ رکھے ، اور نہ ہم خدا کے اُن فرشتوں کی صلاحیت کار سے واقف ہیں، جو اس پر متعین کیے جائیں گے، اس لیے ان کی تعداد کے انیس ہونے میں کسی اچنبھے یا حیرت کی کوئی وجہ نہیں ہے :

عَلَیْھَا تِسْعَۃَ عَشَرَ.(المدثر ۷۴: ۳۰)
’’اُس (دوزخ) پر انیس (فرشتے) مقرر ہیں۔‘‘

مجرم اپنا فیصلہ سن لینے کے بعد اُس وسیع و عریض اور ہولناک سزاگاہ کو جس کے ایک چھوڑ سات دروازے ہوں گے اور جوخدائی فرشتوں کے زیر انتظام ہو گی، اپنے سامنے کھڑی دیکھیں گے۔یہ وہی دوزخ ہو گی کہ جس سے بچنے کے لیے انھیں کہا جاتا اور یہ اعراض کر جاتے ، اس پر اَن دیکھا ایمان نہ لاتے اور اسے کھلی آنکھوں سے دیکھ کر ماننے پر اصرار کیا کرتے ۔ ان لوگوں کے لیے دوزخ کا غیظ و غضب دیدنی ہو گا۔ یہ دور سے آتے ہوں گے کہ وہ انھیں دیکھتے ہی آپے سے باہر ہو جائے گی:

وَبُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِمَنْ یَّرٰی.(النٰزعٰت ۷۹: ۳۶)
’’اور دوزخ اُن کے سامنے بے نقاب کر دی جائے گی جو اُس سے دوچار ہوں گے۔‘‘

اِذَا رَاَتْھُمْ مِنْ مَّکَانٍم بَعِیْدٍ سَمِعُوْا لَھَا تَغَیُّظًا وَّزَفِیْرًا.(الفرقان ۲۵: ۱۲)
’’وہ ان کو دور ہی سے دیکھے گی تو (دیکھتے ہی بپھر جائے گی اور) یہ اس کا بپھرنا اور دھاڑنا سنیں گے۔‘‘

جب مجرموں کو جہنم کی طرف لے جایا جائے گا تو ان کے ہر طرف اندھیر ے براجمان ہوں گے۔ ظلمتیں کسی آسیب کی طرح چھا رہی ہوں گی۔سیاہیوں کے ایسے بادل ہوں گے کہ چھٹنے کا نام نہ لیں گے۔ یہ لوگ انھی تاریکیوں میں گھرے ہوئے، ٹھوکریں کھاتے اور گرتے پڑتے چل رہے ہوں گے ۔ جب روشنی کی تلاش میں ایمان والوں سے مدد مانگیں گے تو یکسر ناکام ہوں گے۔ بعد ازاں ان کے اور اہل ایمان کے درمیان میں ایک دیوار حائل کر دی جائے گی۔ اس دیوار میں ایک دروازہ ہو گا جس میں سے اہل ایمان تو گزرتے ہوئے رحمت میں جا داخل ہوں گے اور یہ خدا کا عذاب بھگتنے کے لیے باہر رہ جائیں گے:

یَوَمْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِکُمْ ، قِیْلَ ارْجِعُوْا وَرَآءَ کُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا، فَضُرِبَ بَیْنَھُمْ بِسُوْرٍ لَّہٗ بَابٌ، بَاطِنُہٗ فِیْہِ الرَّحْمَۃُ وَظَاھِرُہٗ مِنْ قِبَلِہِ الْعَذَابُ.(الحدید ۵۷: ۱۳)
’’جس دن منافق مرد اور منافق عورتیں اہل ایمان کو پکاریں گے کہ ذرا ہم پر بھی عنایت فرمائیے کہ آپ کی روشنی سے ہم بھی کچھ فائدہ اٹھا لیں، مگر اُن سے کہا جائے گا: (نہیں)، تم پیچھے کی طرف لوٹ جاؤ اور (وہیں اپنے لیے) روشنی تلاش کرو۔ پھر اُن کے اور اہل ایمان کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہو گا۔ اُس کے اندر رحمت ہو گی اور باہر عذاب۔‘‘
 

امن وسیم

محفلین
جہنمیوں کا استقبال

مجرم دوزخ میں داخل کرنے کے لیے گروہ در گروہ لائے جائیں گے۔ وہ سب مذہبی و غیر مذہبی رہنما جنھوں نے سیدھی راہ کو مشتبہ کیا، اس پر پہرے لگائے اور اپنی خود ساختہ راہوں پر ڈال کر لوگوں کو گم راہ کر دیا، اس روز بھی قیادت کر رہے ہوں گے۔ جو لوگ آنکھیں بند کر کے اور بطن و فرج کے غلام ہو کر ان کی اتباع کرتے رہے ، اُس روز یہی رہنما انھیں اپنے ساتھ دوزخ میں لے جا کر دم لیں گے:

وَسِیْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِلٰی جَھَنَّمَ زُمَرًا.(الزمر ۳۹: ۷۱)
’’اور جنھوں نے انکار کیا، وہ جہنم کی طرف گروہ در گروہ ہانکتے ہوئے لائے جائیں گے۔‘‘

فَاتَّبَعُوْٓا اَمْرَ فِرْعَوْنَ، وَمَآ اَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِیْدٍ، یَقْدُمُ قَوْمَہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَاَوْرَدَھُمُ النَّارَ، وَبِءْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ.(ہود ۱۱: ۹۷۔۹۸)
’’پھر انھوں نے فرعون کی بات مانی، دراں حالیکہ فرعون کی بات راست نہیں تھی۔ قیامت کے دن وہ اپنی قوم کے آگے آگے ہو گا اور انھیں دوزخ میں لے جا اتارے گا۔ کیا ہی برا گھاٹ ہے جس پر وہ اتریں گے۔‘‘

مجرموں کو جہنم کی طرف ہانکا جائے گا تو ان کے گلے میں آہنی طوق ہوں گے۔ پاؤں میں لوہے کی بیڑیاں ہوں گی۔ فرشتے انھیں چٹیا اور پاؤں سے پکڑ کر کھینچ رہے ہوں گے۔ جب پاؤں سے پکڑ کر انھیں کھینچا جائے گا تو ظاہر ہے کہ اس وقت ان کے چہرے زمین کے ساتھ گھسٹ رہے ہوں گے ۔ گویا عجیب بے بسی اور انتہائی ذلت کا رویہ ہو گا جو ان کے ساتھ روا رکھا جائے گا:

اِذِ الْاَغْلَالُ فِیْٓ اَعْنَاقِھِمْ وَالسَّلٰسِلُ.(المومن ۴۰: ۷۱)
’’جبکہ ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور (ان کے پاؤں میں) زنجیریں ہوں گی۔‘‘

یُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِیْمٰھُمْ فَیُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِیْ وَالْاَقْدَامِ.(الرحمٰن ۵۵: ۴۱)
’’مجرم وہاں اپنی علامت سے پہچان لیے جائیں گے، پھر پیشانی کے بالوں اور پاؤں سے پکڑے جائیں گے (اور جہنم میں پھینک دیے جائیں گے)۔‘‘

اَلَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰی وُجُوْھِھِمْ اِلٰی جَھَنَّمَ، اُولٰٓءِکَ شَرٌّ مَّکَانًا وَّاَضَلُّ سَبِیْلًا.(الفرقان ۲۵: ۳۴)
’’جو لوگ اپنے مونہوں کے بل دوزخ کی طرف گھسیٹے جائیں گے، انھی کا ٹھکانا بہت برا ہے اور وہی سب سے بڑھ کر گم کردہ راہ ہیں۔‘‘

جب یہ لوگ جہنم کے پاس پہنچ جائیں گے تو اس وقت اس کے بند دروازے کھولے جائیں گے۔اس پر مقرر داروغے انھیں آڑے ہاتھوں لیں گے اور ملامت کرتے ہوئے اور کوسنے دیتے ہوئے ان کا استقبال کریں گے:

حَتّٰٓی اِذَا جَآءُ وْھَا فُتِحَتْ اَبْوَابُھَا وَقَالَ لَھُمْ خَزَنَتُھَآ اَلَمْ یَاْتِکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ یَتْلُوْنَ عَلَیْکُمْ اٰیٰتِ رَبِّکُمْ وَیُنْذِرُوْنَکُمْ لِقَآءَ یَوْمِکُمْ ھٰذَا، قَالُوْا بَلٰی وَلٰکِنْْ حَقَّتْ کَلِمَۃُ الْعَذَابِ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ.(الزمر ۳۹: ۷۱)
’’یہاں تک کہ جب وہ اس (جہنم) کے پاس پہنچیں گے تو اس کے دروازے کھول دیے جائیں گے اور اس کے داروغے ان سے کہیں گے: کیا تمھارے پاس تمھارے رب کی آیتیں سناتے اور اس دن کی ملاقات سے ڈراتے ہوئے تمھی میں سے رسول نہیں آئے ؟ وہ کہیں گے: ہاں، آئے تو سہی، لیکن کافروں پر کلمۂ عذاب پورا ہو کر رہا۔‘‘

جہنم کی بھاڑ میں جھونکے جانے سے پہلے مجرموں کی ہلکی پھلکی ’’تواضع‘‘ کا انتظام کیا جائے گا۔ یہ اس طرح ہوگا کہ انھیں گرم کھولتے ہوئے پانی میں سے گھسیٹتے ہوئے گزارا جائے گا۔یہ ابتدائی ’’خاطر مدارات‘‘ ہی اتنی بھیانک ہو گی کہ ان کی طبیعت کے سارے کس بل نکال دے گی۔ اس کے بعد انھیں آگ کے الاؤ میں اس طرح ڈال دیا جائے گا جیسے بھڑکتے ہوئے کسی تنور میں گھاس پھوس ڈالی جاتی ہے:

اِذِ الْاَغْلٰلُ فِیْٓ اَعْنَاقِھِمْ وَالسَّلٰسِلُ، یُسْحَبُوْنَ فِی الْحَمِیْمِ ثُمَّ فِی النَّارِ یُسْجَرُوْنَ.(المومن ۴۰: ۷۱۔۷۲)
’’جبکہ ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور (ان کے پاؤں میں) زنجیریں ہوں گی، وہ گرم پانی میں گھسیٹے جائیں گے پھر آگ میں جھونک دیے جائیں گے۔‘‘
 

امن وسیم

محفلین
جنتیوں کا جہنمیوں سے مکالمہ

دوزخ میں مجرموں کے داخل ہوتے ہی جنتی انھیں آواز دے کر پوچھیں گے اور مقصد محض ان کی فضیحت ہو گا۔ وہ ان سے پوچھیں گے کہ خدا کے جن وعدوں کے لیے ہم نے بازیاں کھیلیں، انھیں تو ہمارے رب نے پورا کر دیا، تم بتاؤ، تمھاری سزا کی جو وعیدیں تھیں، کیا وہ بھی پوری ہوئیں؟ وہ اعتراف کریں گے تو ایک منادی کرنے والا پکار کر کہے گا: ’’اِن ظالموں پر خدا کی لعنت ہو‘‘، ان کی طرف سے خدا کی لعنت کا یہ جملہ اصل میں اس بات کا اعلان ہو گا کہ یہ لوگ خدا کی رحمت سے دور ہو چکے ہیں ، اس لیے ان کے برے انجام کی ابتدا اب ہونے ہی کو ہے:

وَنَادآی اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا، فَھَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّکُمْ حَقًّا، قَالُوْا نَعَمْ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنُم بَیْنَھُمْ اَنْ لَّعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الظّٰلِمِیْنَ.(الاعراف ۷: ۴۴)
’’جنت کے لوگ دوزخ والوں کو پکار کر پوچھیں گے کہ ہم نے تو اُس وعدے کو بالکل سچا پایا جو ہمارے پروردگار نے ہم سے کیا تھا، کیا تم نے بھی اس وعدے کو سچا پایا جو تمھارے پروردگار نے (تم سے) کیا تھا؟ وہ جواب دیں گے: ہاں۔ پھر ایک پکارنے والا اُن کے درمیان پکارے گا کہ خدا کی لعنت اِن ظالموں پر۔‘‘
 

امن وسیم

محفلین
جہنم کا کھانا

دنیا کی جیلوں میں کم سے کم انسان کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے کا اہتمام ضرور کیا جاتا ہے۔ دوزخ وہ جگہ ہو گی کہ اس میں ان کا اہتمام کیا جانا تو بہت دور کی بات، ان ضرورتوں اور ان کے لوازمات کو وہاں بذات خود سزا بنا دیا جائے گا۔ کھانے کے بارے میں بیان ہوا ہے کہ وہ جھاڑ کانٹوں، زخموں کے دھووَن اور زہریلے زقّوم پر مشتمل ہو گا۔ اس میں تلخی اور کڑواہٹ اتنی زیادہ ہو گی جیسے کوئی تیل کے تلچھٹ کو حلق سے اتارنا چاہے اور یہ اپنی حدت اور جوش میں اس قدر بڑھا ہو گا جیسے کھولتا ہوا پانی کسی کے منہ میں انڈیل دیا جائے۔ مجرمین اس کو کھانا چاہیں گے اور یہ ان کے گلے میں اٹک کر رہ جائے گا۔ کھانا اس لیے کھایا جاتا ہے کہ اس سے بھوک کا مداوا ہو اور جسم میں کچھ توانائی آئے، مگر جہنم کے کھانے کی ’’تاثیر‘‘ صرف یہ ہو گی کہ کھانے والا اس کو کھائے گا اور یہ اُسے طاقت دے سکے گا اور نہ اس کی آتشِ پیٹ کو بجھا پائے گا:

وَلَا طَعَامٌ اِلَّا مِنْ غِسْلِیْنٍ.(الحآقہ ۶۹: ۳۶)
’’اور دھووَن کے سوا (اس کے لیے) کوئی کھانا نہیں ہے۔‘‘

اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِ، طَعَامُ الْاَثِیْمِ، کَالْمُھْلِ یَغْلِیْ فِی الْبُطُوْنِ، کَغَلْیِ الْحَمِیْمِ.(الدخان ۴۴: ۴۳۔۴۶)
’’زقوم کا درخت گناہ گاروں کا کھانا ہو گا، تیل کے تلچھٹ کی طرح، پیٹ میں کھولے گا جس طرح گرم پانی کھولتا ہے۔‘‘

اِنَّ لَدَیْنَآ اَنْکَالًا وَّجَحِیْمًا، وَّطَعَامًا ذَاغُصَّۃٍ وَّعَذَابًا اَلِیْمًا.(المزمل ۷۳: ۱۲۔۱۳)
’’(اِن کے لیے) ہمارے پاس بھاری بیڑیاں ہیں اور آگ کا ڈھیر ہے اور گلے میں پھنستا ہوا کھانا ہے، اور بہت درد ناک عذاب بھی ۔‘‘

لَیْسَ لَھُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِیْعٍ، لَّا یُسْمِنُ وَلاَ یُغْنِیْ مِنْ جُوْعٍ.(الغاشیہ ۸۸: ۶۔۷)
’’اُن کے لیے جھاڑ کانٹوں کے سوا کوئی کھانا نہ ہو گا جو نہ توانا کرے گا، نہ بھوک مٹائے گا۔‘‘
 

امن وسیم

محفلین
جہنم کا مشرب

دوزخیوں کو پینے کے لیے جو کچھ ملے گا، قرآن میں اس کا بھی بیان ہوا ہے۔ فرمایا ہے کہ وہاں گرم کھولتے ہوئے پانی کا ایک چشمہ ہو گا جو اس حد تک گرم ہو گاجیسے پگھلا ہوا تانبا ہو۔ یہ لوگ گرمی اور پیاس سے بدحال ہو کر جب پانی طلب کریں گے تو ان کو اسی میں سے پلایا جائے گا۔ یہ اس کو منہ کے قریب لائیں گے تو اس کی حدت اتنی زیادہ ہو گی کہ ان کے چہرے جھلس کر رہ جائیں گے۔ لیکن اس حد تک گرم ہونے کے باوجود یہ اسے ہی پئیں گے اور اس طرح غٹاغٹ پئیں گے، جس طرح تونس کی بیماری میں مبتلا کوئی اونٹ ہو جو پیتا چلا جائے اور پیاس ہو کہ بجھنے کا نام نہ لے۔ اس کا فائدہ ہو گا تو بس یہی کہ اس کے اثر سے ان کی انتڑیاں تک پھٹ جائیں گی۔ اس کے علاوہ وہاں انھیں زخموں اور ناسوروں سے رِستا ہوا گندا مواد پینے کو دیا جائے گا۔ پیاس کی حالت میں یہ کوشش کریں گے کہ اس لہو ملی ہوئی پیپ ہی کو گھونٹ گھونٹ پی لیں، مگر یہ مکروہ شکل اور متعفن ہونے کی وجہ سے ان کے حلق سے نہ اترے گی۔ اور سزا بالاے سزا یہ ہوگی کہ کھولتا ہوا پانی ان کے اوپر گرا کر ان کی سزا کو مزید تکلیف دہ بنا دیا جائے گا:

تُسْقٰی مِنْ عَیْنٍ اٰنِیَۃٍ.(الغاشیہ ۸۸: ۵)
’’اُنھیں ایک کھولتے ہوئے چشمے کا پانی پلایا جائے گا۔‘‘


وَاِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآءٍ کَالْمُھْلِ یَشْوِی الْوُجُوْہَ، بِءْسَ الشَّرَابُ، وَسَآءَ تْ مُرْتَفَقًا.(الکہف ۱۸: ۲۹)
’’ اگر وہ پانی کے لیے فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی اس پانی سے کی جائے گی جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہو گا۔ وہ چہروں کو بھون ڈالے گا۔ کیا ہی برا پانی ہو گا اور کیا ہی برا ٹھکانا!‘‘


وَسُقُوْا مَآءً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَ ھُمْ.(محمد ۴۷: ۱۵)
’’ان کو گرم پانی پلایا جائے گا تو وہ ان کی آنتوں کو ٹکڑے کر کے رکھ دے گا۔‘‘


فَشٰرِبُوْنَ عَلَیْہِ مِنَ الْحَمِیْمِ، فَشٰرِبُوْنَ شُرْبَ الْھِیْمِ.(الواقعہ ۵۶: ۵۴۔۵۵)
’’پھر اس (زقوم کے کھانے) پر کھولتا ہوا پانی پیو گے تو تونس لگے اونٹوں کی طر ح پیو گے۔‘‘


لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْھَا بَرْدًا وَّلَا شَرَابًا، اِلَّا حَمِیْمًا وَّغَسَّاقًا.(النبا ۷۸: ۲۴۔۲۵)
’’نہ اس میں ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے، نہ گرم پانی اور بہتی پیپ کے سوا پینے کی کوئی چیز ان کے لیے ہو گی۔‘‘


مِنْ وَّرَآءِ ہٖ جَھَنَّمُ وَیُسْقٰی مِنْ مَّآءٍ صَدِیْدٍ، یَتَجَرَّعُہٗ وَلَایَکَادُ یُسِیْغُہٗ.(ابراہیم ۱۴: ۱۶۔۱۷)
’’اب اس کے آگے دوزخ ہے۔ وہاں اس کو پیپ کا پانی پلایا جائے گا۔ وہ اس کو گھونٹ گھونٹ پیے گا اور گلے سے اتار نہ سکے گا۔‘‘


یُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُ وْسِھِمُ الْحَمِیْمُ، یُصْھَرُ بِہٖ مَا فِیْ بُطُوْنِھِمْ وَالْجُلُوْدُ.(الحج ۲۲:۱۹۔۲۰)
’’ان کے سروں کے اوپر سے کھولتا ہوا پانی انڈیلا جائے گا۔ ان کے پیٹ کے اندر جو کچھ ہے، سب اس سے پگھل جائے گا اور (اوپر سے) ان کی کھالیں بھی۔‘‘
 

امن وسیم

محفلین
جہنم کا لباس اور رہائش

وہاں کا پہناوا بھی اپنی ذات میں سراسر عذاب ہو گا۔ یہ آہنی طوق اور ستر گز لمبی زنجیروں میں تو پہلے سے جکڑے ہوں گے اوپر سے آگ کا ایک لباس بھی انھیں پہنا دیا جائے گا۔ دنیا میں آگ سے محفوظ رہنے والے لباس تیار کیے جاتے ہیں، اس کے برخلاف وہاں ان پر آتش گیر مادہ لگا ہو گا جو لپک لپک کر آگ کو پکڑے گا:

فَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا قُطِّعَتْ لَھُمْ ثِیَابٌ مِّنْ نَّارٍ.(الحج ۲۲: ۱۹)
’’سو جنھوں نے انکار کر دیا ہے، ان کے لیے آگ کے کپڑے تراشے جائیں گے۔‘‘


سَرَابِیْلُھُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ.(ابراہیم ۱۴: ۵۰)
’’ان کے لباس تارکول کے ہوں گے۔‘‘


یہ تو ان بدنصیبوں کے روٹی اور کپڑے کا حال ہوا، ان کے رہنے کا معاملہ اس سے بھی بدتر ہو گا۔ ان کی بیرکیں کیا ہوں گی، تنگ و تاریک کوٹھڑیاں ہوں گی جن میں انھیں باندھ کر ٹھونس دیا جائے گا۔ بعض مجرم ایسے ہوں گے کہ انھیں ان تنگ جگہوں میں ڈال دینے پر اکتفا نہ ہو گا، بلکہ وہ لمبے لمبے ستونوں سے بھی باندھ دیے جائیں گے اور نتیجہ یہ کہ ہلنے جلنے سے بھی معذور ہوں گے۔ ان کے بچھونے آگ سے بنے ہوں گے اور آگ ہی کے بالاپوش ان کے اوپر ہوں گے۔ گویا ان کے دن اگر عذاب سہتے گزریں گے تو راتیں بھی آرام دہ ہونے کے بجاے انتہائی کرب ناک انداز میں گزریں گی:

وَاِذَآ اُلْقُوْا مِنْھَا مَکَانًا ضَیِّقًا مُّقَرَّنِیْنَ....(الفرقان ۲۵: ۱۳)
’’اور جب اس کی کسی تنگ جگہ میں باندھ کر ڈال دیے جائیں گے...۔‘‘


فِیْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَۃٍ.(الہمزہ ۱۰۴: ۹)
’’اونچے ستونوں میں (جکڑ کر باندھے ہوئے)۔‘‘


لَھُمْ مِّنْ جَھَنَّمَ مِھَادٌ، وَّمِنْ فَوْقِھِمْ غَوَاشٍ.(الاعراف ۷: ۴۱)
’’اُن کے لیے دوزخ کا بچھونا اور اوپر سے اُسی کا اوڑھنا ہو گا۔‘‘
 

امن وسیم

محفلین
جہنم کی آگ

جہنم کی آگ کس طرح کی ہو گی، بیان ہوا ہے کہ وہ اتنی بڑی اور بھیانک ہو گی کہ کسی محل جتنے اونچے اور زرد رنگ کے اونٹوں جیسے شعلے پھینک رہی ہو گی۔ اس میں گرمی اس انتہا کی ہو گی کہ دور ہی سے چہروں کو جھلس دے گی اور کھالوں کو ادھیڑ کر رکھ دے گی۔ اس میں کسی کمی کا امکان نہ ہو گا اور اگر کہیں دھیمی ہونے لگے گی تو اس کو مزید بھڑکا دیا جائے گا۔ مجرموں کو اس میں ڈال کر اسے اینٹوں کے بھٹے کی طرح اوپر سے ڈھانک بھی دیا جائے گا تاکہ اس کی حدت باہر نہ نکلنے پائے اور یہ ساری کی ساری ان کو جلانے میں خرچ ہو۔ یہاں کی آگ تو ہم دیکھتے ہیں کہ صرف جلاتی ہے، مگر وہاں کی آگ میں یہ عجیب اثر ہو گا کہ وہ جلانے کے ساتھ ساتھ جسموں کے اندر گھس کر دلوں تک بھی جا پہنچے گی:

اِنَّھَا تَرْمِیْ بِشَرَرٍ کَالْقَصْرِ، کَاَنَّہٗ جِمٰلَتٌ صُفْرٌ.(المرسلٰت ۷۷: ۳۲۔۳۳)
’’وہ (آگ) محلوں جیسے انگارے پھینکتی ہے ، زرد اونٹوں کی طرح۔‘‘

وَمَآ اَدْرٰکَ مَا سَقَرُ، لَا تُبْقِیْ وَلَا تَذَرُ، لَوَّاحَۃٌ لِّلْبَشَرِ.(المدثر ۷۴: ۲۷۔۲۹)
’’اور تم کیا سمجھے کہ دوزخ کیا ہے؟ وہ نہ ترس کھائے گی، نہ چھوڑے گی۔ چمڑی جھلس دینے والی۔‘‘

کُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰھُمْ سَعِیْرًا.(بنی اسرائیل ۱۷: ۹۷)
’’جب کبھی آگ دھیمی ہونے لگے گی، ہم اس کو ان پر مزید بھڑکا دیں گے۔‘‘

اِنَّھَا عَلَیْھِمْ مُّؤْصََدَۃٌ.(الہمزہ ۱۰۴: ۸)
’’یہ (سرکش) اُس میں موندے ہوئے ہوں گے۔‘‘

نَارُ اللّٰہِ الْمُوْقَدَۃُ الَّتِیْ تَطَّلِعُ عَلَی الْاَفْئِدَۃِ.(الہمزہ ۱۰۴: ۶۔۷)
’’اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ جو دلوں تک پہنچے گی۔‘‘

اس آگ کا دھواں دوزخ میں ہر طرف پھیلا ہوا ہو گا۔ کوئی سوچ سکتا ہے کہ دوزخ کی گرمی میں یہ دھواں ہی غنیمت ہو گا جو کم سے کم سایہ تو فراہم کرے گا، مگرقرآن نے وضاحت کی ہے کہ اس میں دھوئیں کے تکلیف دہ پہلو تو سبھی موجود ہوں گے اور فائدہ کچھ بھی نہ ہو گا:

وَاَصْحٰبُ الشِّمَالِ، مَآ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ! فِیْ سَمُوْمٍ وَّحَمِیْمٍ، وَظِلٍّ مِّنْ یَّحْمُوْمٍ.(الواقعہ ۵۶: ۴۱۔۴۳)
’’اور بائیں والے تو کیا بدبختی ہے بائیں والوں کی! وہ لو کی لپٹ اور کھولتے پانی اور دھوئیں کے سایے میں ہوں گے۔‘‘

اِنْطَلِقُوْٓا اِلٰی مَاکُنْتُمْ بِہٖ تُکَذِّبُوْنَ، اِنْطَلِقُوْٓا اِلٰی ظِلٍّ ذِیْ ثَلٰثِ شُعَبٍ.(المرسلٰت ۷۷: ۲۹۔۳۰)
’’اب چلو اس چیز کی طرف جس کو تم جھٹلاتے رہے۔ چلو اس سایے کی طرف جس کی تین شاخیں ہیں، (تم کو ہر طرف سے گھیرنے کے لیے)۔‘‘

لاَبَارِدٍ وَّلَاکَرِیْمٍ. (الواقعہ ۵۶: ۴۴)
’’اس (دھوئیں کے سایے) میں نہ ٹھنڈک ہو گی، نہ وہ کوئی فائدہ پہنچائے گا۔‘‘

لَاظَلِیْلٍ وَّلَایُغْنِیْ مِنَ اللَّھَبِ.(المرسلٰت ۷۷: ۳۱)
’’اس میں نہ چھاؤں ہے، نہ یہ آگ کے شعلوں سے بچاتا ہے۔‘‘

اس آگ اور دھوئیں کے عذاب میں جلانے کا انداز بھی بہت زیادہ تکلیف دہ ہو گا۔ جس طرح کوڑے کرکٹ کا پہلے ڈھیر بناتے اور پھر اسے جلاتے ہیں تاکہ اس کا ہر جز دوسرے کو جلانے میں مددگار ہو، اسی طرح مجرموں کو وہاں ایک دوسرے پر ڈھیر بنا کر پھر آگ میں جھونکا جائے گا۔ لیکن اس طرح آگ کے حوالے کر دینا ان کی سزا کا انتہائی درجہ ہوتا تب بھی کچھ غنیمت تھی، مگر وہاں تو ان کی سزا میں ہر پل شدت لائی جاتی رہے گی۔ جس طرح کباب بناتے ہوئے سیخ کو دہکتے ہوئے انگاروں پر مسلسل گھمایا جاتا ہے تاکہ کباب کا ہر حصہ ان کے سامنے آ کر پک جائے، دوزخ میں ان کے چہروں کو آگ پر اسی طرح گھمایا جائے گا۔ ان کی شکلیں مسخ ہو کر ایسی ہو جائیں گی جیسے جانور کی سری کو آگ پر بھونا جائے تو اس کے ہونٹ سکڑ کر اوپر کو چڑھ جاتے اور دانت نظر آنے لگتے ہیں:

وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِلٰی جَھَنَّمَ یُحْشَرُوْنَ، لِیَمِیْزَ اللّٰہُ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ وَ یَجْعَلَ الْخَبِیْثَ بَعْضَہٗ عَلٰی بَعْضٍ فَیَرْکُمَہٗ جَمِیْعًا فَیَجْعَلَہٗ فِیْ جَھَنَّمَ.(الانفال ۸: ۳۶۔۳۷)
’’اور سب منکروں کو جمع کر کے جہنم کی طرف ہانک دیا جائے گا۔ اس لیے کہ (اپنی جنت کے لیے) اللہ پاک سے ناپاک کو الگ کرے اور ناپاک کو ایک دوسرے پر ڈھیر کرے، پھراس ڈھیر کو جہنم میں جھونک دے۔‘‘

یَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْھُھُمْ فِی النَّارِ یَقُوْلُوْنَ یٰلَیْتَنَآ اَطَعْنَا اللّٰہَ وَاَطَعْنَا الرَّسُوْلاَ.(الاحزاب ۳۳: ۶۶)
’’اس دن ان کے چہرے آگ میں الٹ پلٹ کیے جائیں گے۔ وہ کہیں گے: اے کاش ، ہم نے اللہ کی اطاعت کی ہوتی اور ہم نے رسول کی اطاعت کی ہوتی۔‘‘

تَلْفَحُ وُجُوْھَھُمُ النَّارُ وَھُمْ فِیْھَا کٰلِحُوْنَ.(المومنون ۲۳: ۱۰۴)
’’ان کے چہروں کو آگ جھلس دے گی اور ان کے منہ اس میں بگڑے ہوئے ہوں گے۔‘‘
 

امن وسیم

محفلین
جہنمیوں کو ذہنی تکالیف

اس حد تک بھیانک اور ہول ناک سزاؤں کا یہ صرف جسمانی پہلو ہے، وہاں انھیں ہر دم ذہنی اذیتوں سے بھی دوچار ہونا ہو گا۔ دوزخ کے باڑے میں ان کے درمیان جوتیوں میں دال بٹے گی۔ اس میں داخل ہوتے ہی یہ لوگ اس قدر ذہنی تناؤ کا شکار ہو جائیں گے کہ چھوٹتے ہی ایک دوسرے پر لعنت کے دونگڑے برسائیں گے۔ ایک دوسرے پر اپنے جرموں کا وبال ڈالنے کی کوشش کریں گے اور یہ سب کرتے ہوئے وہ بھول جائیں گے کہ کبھی ان کے درمیان میں محبت کے ناتے اور عقیدت کے واسطے رہے ہیں۔ ظاہر ہے وہ اپنی پیٹھوں پر عذاب کے تازیانے اور آگ کے چابک سہتے ہوئے اور کر بھی کیا سکیں گے۔ بس یہی کہ دوسروں پر دل کی بھڑاس نکال لیں یا آپس میں تو تکار کر لیں۔ غرض یہ کہ جب تک دوزخ میں رہیں گے ان کو آگ بھی جلائے گی اور ایک دوسرے کی لعنت ملامت بھی اور مقصود یہی ہو گا کہ جسمانی تکلیف کے ساتھ ساتھ ذہنی تکلیف میں بھی مبتلا رہیں اور انھیں کسی پل چین نصیب نہ ہو:

کُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّۃٌ لَّعْنَتْ اُخْتَھَا.(الاعراف ۷: ۳۸)
’’ان میں سے ہر گروہ جب داخل ہو گا تو اپنے ساتھی گروہ پر لعنت کرے گا۔‘‘

وَقَالُوْا رَبَّنَآ اِنَّآ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَکُبَرَآءَ نَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِیْلاَ، رَبَّنَآ اٰتِھِمْ ضِعْفَیْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَالْعَنْھُمْ لَعْنًا کَبِیْرًا.(الاحزاب ۳۳: ۶۷۔۶۸)
’’وہ کہیں گے: پروردگار، ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کی بات مانی تو انھوں نے ہمیں راستے سے بھٹکا دیا۔ پروردگار، ان کو دوگنا عذاب دے اور ان پر بڑی لعنت کر۔‘‘

حَتّٰٓی اِذَا ادَّارَکُوْا فِیْھَا جَمِیْعًا قَالَتْ اُخْرٰھُمْ لِاُوْلٰھُمْ رَبَّنَا ھٰؤُلَآءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِھِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ، قَالَ لِکُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰکِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ، وَقَالَتْ اُوْلٰھُمْ لِاُخْرٰھُمْ فَمَا کَانَ لَکُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْسِبُوْنَ.(الاعراف ۷: ۳۸۔۳۹)
’’یہاں تک کہ جب سب وہاں اکٹھے ہو جائیں گے تو ان کے پچھلے اگلوں کے بارے میں کہیں گے: پروردگار، یہی لوگ ہیں جنھوں نے ہمیں گمراہ کیا، اس لیے انھیں آگ کا دہرا عذاب دے۔ ارشاد ہو گا: تم سب کے لیے دہرا (عذاب) ہے، مگر تم جانتے نہیں ہو۔ اس پر اگلے پچھلوں سے کہیں گے: (ہم مجرم ہیں) تو تمھیں بھی ہم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہوئی، سو چکھو اپنے کیے کی پاداش میں عذاب کا مزہ۔‘‘

ذہنی ٹارچر کرنے کے لیے انھیں وہاں حد درجہ ذلیل بھی کیا جائے گا۔ ان کو طعنے دیے جائیں گے۔ طنز آمیز باتوں کے کچوکے لگائے جائیں گے۔ان سے پوچھا جائے گا کہ اب تمھارے معبود کہاں چلے گئے؟ وہ کیوں نہیں آ کر تمھیں بچا لے جاتے؟ اس وقت یہ اتنے حواس باختہ ہوں گے کہ جواب میں کبھی کچھ کہیں گے اور کبھی کچھ۔ان کی اس ذہنی اذیت کو بڑھانے کے لیے ان کی عقیدت کے مرکز وہ اصنام اور مورتیاں بھی ان کے ساتھ جلائی جائیں گی جن کے آگے انھوں نے اپنی جبینیں رگڑیں ، ڈنڈوت کیے اور اپنی بیش بہا چیزیں ان پر قربان کر دی تھیں:

فَالْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْھُوْنِ بِمَا کُنْتُمْ تَسْتَکْبِرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَبِمَا کُنْتُمْ تَفْسُقُوْنَ.(الاحقاف۴۶: ۲۰)
’’تم زمین میں ناحق تکبر اور نافرمانی کرتے رہے، اس لیے آج تمھیں ذلت کا عذاب دیا جائے گا۔‘‘

ثُمَّ قِیْلَ لَھُمْ اَیْنَ مَاکُنْتُمْ تُشْرِکُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ، قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا بَلْ لَّمْ نَکُنْ نَّدْعُوْا مِنْ قَبْلُ شَیْءًا، کَذٰلِکَ یُضِلُّ اللّٰہُ الْکٰفِرِیْنَ.(المومن ۴۰: ۷۳۔۷۴)
’’پھر اُن سے پوچھا جائے گا کہ اب کہاں ہیں اللہ کے سوا وہ دوسرے خدا جن کو تم شریک کرتے تھے؟ وہ جواب دیں گے: کھوئے گئے وہ ہم سے، بلکہ ہم اس سے پہلے کسی چیز کو نہ پکارتے تھے۔ اس طر ح اللہ ان کافروں کے حواس گم کر دے گا۔‘‘

اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ حَصَبُ جَہَنَّمَ.(الانبیاء ۲۱: ۹۸)
’’تم اور تمھارے معبود جن کو اللہ کے سوا پوجتے رہے ہو، اب جہنم کا ایندھن ہیں۔‘‘
 

امن وسیم

محفلین
جہنمیوں کی محرومیاں

جسمانی اور ذہنی عذاب کیا کم ہوں گے کہ ان کا وہاں سب سے بڑی محرومی سے بھی سامنا ہو جائے گا۔ یہ سزا ان کے لیے اس قدر سخت ہو گی کہ اس کے سامنے انھیں اپنی سب مشکلیں آسان اور سب مصیبتیں ہلکی محسوس ہوں گی۔ اور ایسا کیوں نہ ہو کہ یہ اس عظیم الشان نعمت سے محرومی ہو گی کہ جو اس سے محروم ہوا، وہ سب کچھ پا کر بھی تہی دامن رہا اور جس کے مقدر میں اس کا ملنا ٹھیرا وہ سب کچھ کھو کر بھی فائدے میں رہا۔ یہ نعمت ہے پروردگارِ عالم کی نگاہِ التفات کی، اس کے جلووں کے مشاہدے اور اس کی تجلیات سے حظ اٹھانے کی۔مگر یہ نصیب جلے اور قسمت کے مارے اس سے یک سر محروم رہ جائیں گے:

کَلآّ اِنَّھُمْ عَنْ رَّبِّھِمْ یَوْمَءِذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ.(المطففین ۸۳: ۱۵)
’’ہرگز نہیں، اُس دن تو یہ اپنے پروردگار سے روک دیے جائیں گے۔‘‘

آگ کی لپٹوں ، کھولتے پانی ، مکروہ ترین کھانے ، حسرت و ندامت بھری محرومیوں سے بچنے کے لیے یہ مجرمین کئی حیلے کریں گے، مگر ان کی سب کوششیں اکارت اور ہر سعی بے فائدہ رہ جائے گی۔ وہ لوگ جو پٹھے پر ہاتھ دھرنے نہیں دیتے ، وہاں رو رو کر اپنے جرموں کا اعتراف کریں گے تاکہ کسی طرح ان مصیبتوں سے خلاصی ہو۔ مگرانھیں عدل و انصاف کے تمام تقاضے پورے کرتے ہوئے سزا دی گئی ہو گی، اس لیے وہاں اعتراف کرنے کا کچھ فائدہ نہ ہو گا۔ محض حسرت ہو گی جس کا وہ اظہار کریں گے:

فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَھَلْ اِلٰی خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِیْلٍ.(المومن ۴۰: ۱۱)
’’ہم نے اپنے گناہوں کا اقرار کر لیا تو کیا اب یہاں سے نکلنے کی کوئی صورت ہے؟‘‘

وَقَالُوْا لَوْ کُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا کُنَّا فِیْٓ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ، فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْبِھِمْ، فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ.(الملک ۶۷: ۱۰۔۱۱)
’’اور وہ کہیں گے: اگر ہم سنتے یا سمجھتے تو (آج) ان دوزخ والوں میں نہ ہوتے۔ اس طرح وہ اپنے گناہ کا اعتراف کر لیں گے، تو اب لعنت ہو ان دوزخ والوں پر۔‘‘

یہی اعترافات وہ خدا کے حضور کر کے چاہیں گے کہ انھیں دوزخ سے نکال کر دنیا میں جانے کا ایک موقع عنایت ہو۔ اب کے بار وہ بہت ہی صالح زندگی گزاریں گے۔ لیکن پروردگار عالم ان کی گزارش کو سننا اور اس کو مان لینا تو بہت دور کی بات، انھیں اس طرح دھتکار دے گا، جس طرح کسی کتے کو دھتکار دیا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ وہ انھیں آگ کے الاؤ میں پھینکوا کر ان کی التجاؤں اور آہ و زاریوں سے بالکل ہی لاتعلق ہو جائے گا:

قَالُوْا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَکُنَّا قَوْمًا ضَآلِّیْنَ، رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا مِنْھَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوْنَ، قَالَ اخْسَءُوْا فِیْھَا وَلَا تُکَلِّمُوْنِِ.(المومنون ۲۳: ۱۰۶۔۱۰۸)
’’وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب، ہماری بدبختی ہم پر چھا گئی تھی اور ہم واقعی گمراہ لوگ تھے۔ اے ہمارے رب، ہمیں یہاں سے ایک مرتبہ نکال دے، اگر ہم پھر ایسا کریں تو یقیناً ہم ہی ظالم ہوں گے۔ حکم ہو گا: دور ہو، اسی میں پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو۔‘‘

قَالَ کَذٰلِکَ اَتَتْکَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیْتَھَا، وَکَذٰلِکَ الْیَوْمَ تُنْسٰی.(طٰہٰ ۲۰: ۱۲۶)
’’ارشاد ہو گا: اسی طرح ہماری آیتیں تمھارے پاس آئی تھیں تو تم نے انھیں نظر انداز کر دیا تھا۔ آج تمھیں بھی اسی طرح نظرانداز کر دیا جائے گا۔‘‘

دوزخ پر مامور فرشتوں سے بھی رحم کی کوئی امید نہ ہو گی۔ وہ نہایت ترش مزاج اور سخت گیر ہوں گے۔ ان کی درگت بنتے دیکھ کر انھیں بالکل رحم نہ آئے گا اور وہ اُس سزا کو جاری رکھیں گے جس کا حکم ان کے پروردگار نے دے رکھا ہو گا۔ بلکہ اُس دن فرشتوں کی تو کیا بات، دوزخ بھی غضب سے بپھری ہو گی اور ان پر ذرا ترس نہ کھائے گی۔ وہ خدا کی لَے میں اپنی لَے ملا کر عرض کرے گی کہ ایسے مجرموں کے لیے میرے اندر بڑی وسعت ہے۔ اگر مزید بھی ان جیسے ہوں تو انھیں بھی تباہ حال کر چھوڑوں:

عَلَیْھَا مَلآءِکَۃٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لاَّ یَعْصُوْنَ اللّٰہَ مَآ اَمَرَھُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ.(التحریم ۶۶: ۶)
’’اُس (جہنم کی آگ) پر درشت مزاج اور سخت گیر فرشتے مامور ہوں گے۔ اللہ انھیں جو حکم دے گا، وہ نافرمانی نہیں کریں گے اور وہی کچھ کریں گے جس کا انھیں حکم ملے گا۔‘‘

یَوْمَ نَقُوْلُ لِجَھَنَّمَ ھَلِ امْتَلَاْتِ وَتَقُوْلُ ھَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ.(ق ٓ۵۰: ۳۰)
’’اُس دن کو یاد رکھو جب ہم جہنم سے پوچھیں گے: کیا تو بھر گئی ہے؟ اور وہ جواب دے گی: کیا کچھ اور بھی ہیں؟‘‘
 

امن وسیم

محفلین
جہنم سے نکلنے کی کوششیں

اب دوزخی کوشش کریں گے کہ عذاب کی ان گھناؤنی صورتوں سے اگر نجات ممکن نہیں تو انھیں کچھ کھانے پینے کو ملے جس سے ان کی سزاؤں میں کچھ تخفیف پیدا ہو۔ اس کے لیے وہ اہل جنت سے بھیک مانگیں گے، مگر وہ لوگ کسی طرح کی امداد دینے کے بجاے انھیں صاف جواب دے دیں گے:

وَنَادآی اَصْحٰبُ النَّارِ اَصْحٰبَ الْجَنَّۃِ اَنْ اَفِیْضُوْا عَلَیْنَا مِنَ الْمَآءِ اَوْمِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ، قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰہَ حَرَّمَھُمَا عَلَی الْکٰفِرِیْنَ.(الاعراف ۷: ۵۰)
’’اہل جنت کو (دیکھ کر) یہ دوزخ والے آواز دیں گے کہ (اپنے ہاں کا) کچھ پانی یا کچھ روزی جو اللہ نے تمھیں عطا فرمائی ہے، ہمیں بھی عنایت کرو۔ وہ جواب دیں گے کہ اللہ نے یہ دونوں چیزیں منکروں کے لیے حرام کر رکھی ہیں۔‘‘

جب ہر طرف سے مدد ملنے کی توقع دم توڑ جائے گی تو یہ کوشش کریں گے کہ کسی طرح اس جہنم سے نکل بھاگیں۔ مگر ایسا ہونا ناممکنات میں سے ہو گا کہ اُس جیل پر مقرر کیے گئے داروغے انھیں بھاگنے کہاں دیں گے؟ سو ان کی طرف سے کی جانے والی ہر ایسی کوشش ان کی سزا میں اضافے ہی پر منتج ہو گی۔ وہاں سے نکل بھاگنا تو ایک طرف رہا، وہ اگر ایک قسم کی سزا سے عافیت پا کر دوسری آفت میں پناہ ڈھونڈنے کی کوشش کریں گے تو اس کی بھی وہاں اجازت نہ پا سکیں گے:

وَاَمَّا الَّذِیْنَ فَسَقُوْا فَمَاْوٰھُمُ النَّارُ، کُلَّمَآ اَرَادُوْٓا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْھَآ اُعِیْدُوْا فِیْھَا وَقِیْلَ لَھُمْ ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّذِیْ کُنْتُمْ بِہٖ تُکَذِّبُوْنَ.(السجدہ ۳۲: ۲۰)
’’رہے وہ لوگ جنھوں نے نافرمانی کی تو ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ جب وہ اس میں سے نکلنے کی کوشش کریں گے، اسی میں دھکیل دیے جائیں گے اور کہا جائے گا: چکھو اب اس دوزخ کے عذاب کا مزہ، جسے تم جھٹلاتے رہے ہو۔‘‘

وَلَھُمْ مَّقَامِعُ مِنْ حَدِیْدٍ، کُلَّمَآ اَرَادُوْٓا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْھَا مِنْ غَمٍّ اُعِیْدُوْا فِیْھَا وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ.(الحج ۲۲: ۲۱۔۲۲)
’’ان کی سرکوبی کے لیے لوہے کے ہتھوڑے ہوں گے۔ وہ اس کے کسی عذاب سے جب بھی نکلنا چاہیں گے، دوبارہ اسی میں دھکیل دیے جائیں گے کہ (اب اسی میں رہو) اور چکھو جلنے کی سزا کا مزہ۔‘‘

غرض یہ کہ عذاب سے بچنے کے لیے ان کے سب حیلے ناکام ہو جائیں گے۔ وہ جان لیں گے کہ چیخیں یا چلائیں، رہنا اب یہیں ہے اور عذاب کا ختم ہو جانا تو دور کی بات، اس میں کسی کمی کا بھی کوئی امکان نہیں۔ اب ان کے لیے کرنے کا کام بس یہی رہ گیا ہے کہ وہ آگ سے بھاگیں تو کھولتے پانی میں جا پڑیں اور وہاں سے جان چھڑائیں تو پھر آگ میں دھکیل دیے جائیں:

لَایُفَتَّرُ عَنْھُمْ وَھُمْ فِیْہِ مُبْلِسُوْنَ.(الزخرف ۴۳: ۷۵)
’’وہ (عذاب) ان کے لیے ہلکا نہیں کیا جائے گا اور وہ اسی میں مایوس ہو کر پڑے رہیں گے۔‘‘

ھٰذَہٖ جَھَنَّمُ الَّتِی یُکَذِّبُ بِھَا الْمُجْرِمُوْنَ، یَطُوْفُوْنَ بَیْنَھَا وَبَیْنَ حَمِیْمٍ اٰنٍ، فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ.(الرحمٰن ۵۵: ۴۳۔۴۵)
’’یہ وہی جہنم ہے جس کو یہ مجرم جھٹلاتے رہے۔ اب اس کے اور کھولتے ہوئے پانی کے درمیان گردش کرتے رہیں گے۔ پھر اے جن و انس، تم اپنے رب کی کن کن شانوں کو جھٹلاؤ گے۔‘‘

ان پر چھائی ہوئی ناامیدی اور یاسیت جب اپنی انتہاؤں کو چھونے لگے گی تو وہ موت کی تمنا کریں گے۔ اس کے جواب میں انھیں بتا دیا جائے گا کہ اب موت کہاں! تمھیں تو زندہ رہنا ہے اور وہ بھی اسی حالت میں:

وَنَادَوْا یٰمٰلِکُ لِیَقْضِ عَلَیْنَا رَبُّکَ، قَالَ اِنَّکُمْ مّٰکِثُوْنَ.(الزخرف ۴۳: ۷۷)
’’وہ پکاریں گے: اے مالک، تمھارے رب کو ہمارا خاتمہ ہی کر دینا چاہیے۔ وہ جواب دے گا: (اب تو اسی حال میں) تم کو رہنا ہے۔‘‘

ان کو دی جانے والی یہ زندگی نام کی ہو گی، وگرنہ حقیقت میں یہ موت سے بھی بدتر ہو گی۔ان کے آس پاس ہر جگہ موت سایہ فگن ہو گی، مگر موت پھر بھی نہ آئے گی اور عذاب ہو گا کہ بڑھتا ہی چلا جائے گا:

ثُمَّ لاَیَمُوْتُ فِیْھَاوَلاَیَحْیٰی.(الاعلیٰ ۸۷: ۱۳)
’’پھر نہ اس (آگ) میں مرے گا نہ جیے گا۔‘‘

یَاْتِیْہِ الْمَوْتُ مِنْ کُلِّ مَکَانٍ وَّمَا ھُوَ بِمَیِّتٍ، وَمِنْ وَّرَآءِ ہٖ عَذَابٌ غَلِیْظٌ.(ابرٰھیم ۱۴: ۱۷)
’’موت ہر طرف سے اس پر پلی پڑ رہی ہو گی، لیکن وہ مرنے نہ پائے گا اور آگے ایک اور سخت عذاب اس کا منتظر ہو گا۔‘‘

خدایا، ہمیں اس عذاب سے ا پنی پناہ میں رکھنا!
 
Top