برٹنی سپیئرز کی ’زندگی کا بہترین دن‘، والد کی ’ظالمانہ سرپرستی‘ سے چھٹکارا

سیما علی

لائبریرین

برٹنی سپیئرز کی ’زندگی کا بہترین دن‘، والد کی ’ظالمانہ سرپرستی‘ سے چھٹکارا​

ہفتہ 13 نومبر 2021 10:23
1287236-700806536.jpg

برٹنی سپیئرز کے والد گذشتہ 13 سال سے ایک قانون کے تحت ان کی زندگی کے تمام معاملات کی نگرانی کر رہے تھے (فوٹو: روئٹرز)​


لاس اینجلس کی ایک عدالت نے امریکی گلوکارہ برٹنی سپیئرز کے والد کا بطور سرپرست ان کی زندگی سے متنازع کردار ختم کر دیا ہے۔​

download_3.jfif

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق برٹنی سپیئرز کے والد گذشتہ 13 سال سے ایک قانون کے تحت ان کی زندگی کے تمام معاملات کی نگرانی کر رہے تھے جسے 39 سالہ گلوکارہ نے ’ظالمانہ اور توہین آمیز‘ قرار دیا تھا۔​

download_9.jfif

واضح رہے کہ 39 سالہ گلوکارہ کے ایک دہائی سے زائد عرصہ پہلے ڈپریشن میں جانے کے بعد سے ان کے والد جیمی سپیئرز وسیع پیمانے پر ان کے مالی اور ذاتی معاملات دیکھ رہے تھے۔​

download_8.jfif

2008 میں عدالت نے جیمی سپیئرز کو برٹنی سپیئرز کی زندگی کے معاملات کا کنٹرول سونپا تھا۔ اس نطام کو کنزرویٹرشپ کہا جاتا ہے۔​

download.jfif

گذشتہ سال انہوں نے اپنے والد کو سرپرستی سے ہٹانے اور اپنی جائیداد کا مکمل اختیار ایک مالیاتی ادارے کو دینے کے لیے درخواست دائر کی تھی۔​

download_5.jfif

عدالت کے باہر برٹنی سپیئرز کے مداح بڑی تعداد میں موجود تھے جنہوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ ان پلے کارڈز پر ’فری برٹنی‘ اور امریکی گلوکارہ کی حمایت میں نعرے درج تھے۔​

download_7.jfif

فیصلہ سننے کے بعد برٹنی کے فینز نے پُرجوش ہو کر خوشی کا اظہار کیا۔ برٹنی سپیئرز نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر لکھا کہ ’زندگی کا بہترین دن۔ خدا کا شکر ہے۔ مجھے اس پر یقین ہی نہیں ہو رہا۔‘​

(اس آرٹیکل کی تصاویر خبر ایجنسی روئٹرز سے لی گئی ہیں)​

قانون کی بالادستی ہی اُنکو دنیا میں الگ شناخت دی ۔۔۔
اور قانون سب سے بالاتر ہے ۔۔۔۔۔
 

زیک

تکنیکی معاون
ویسٹرن کلچر کا ایک بھدا نمونہ۔ والد کی سرپرستی بری لگتی تھی۔ دور فٹے منہ۔
ایسا کرتے ہیں آپ کی تنخواہ، دولت، بینک اکاؤنٹ، گھر وغیرہ سب آپ کے والد کے کنٹرول میں دے دیتے ہیں آپ اپنی زندگی کا کوئی فیصلہ خود نہیں کر سکتے۔ پھر دیکھتے ہیں آپ اس صورتحال کو بدلنے کے لئے کیسے مشرق مغرب ایک کرتے ہیں۔
 

شہزاد وحید

محفلین
ایسا کرتے ہیں آپ کی تنخواہ، دولت، بینک اکاؤنٹ، گھر وغیرہ سب آپ کے والد کے کنٹرول میں دے دیتے ہیں آپ اپنی زندگی کا کوئی فیصلہ خود نہیں کر سکتے۔ پھر دیکھتے ہیں آپ اس صورتحال کو بدلنے کے لئے کیسے مشرق مغرب ایک کرتے ہیں۔
زیادہ تر توایسانہیں ہوتا۔ والدین ہمیشہ بچوں کے لئے نیک خواہشات اور روشن مستقبل کی دعا کرتے ہیں۔ لیکن اگر تاریک پہلووں اور سنگ دلی پر نگاہ ڈالی جائے تو مشرق بھی کسی طرح کم نہیں۔ دلخراش واقعات سے روزانہ اخبار بھرتے ہیں۔ برٹنی کے لئیے یہ عدالتی فیصلہ بھی اس کے پاگل پن پار کرتی ہوئی حرکات کی وجہ سے ہی ہوا تھا۔
 
Top