برطانوی ہائی کمشنر کی مارگلہ ہلز سے کچرا جمع کرنے کی تصاویر وائرل

جاسم محمد

محفلین
برطانوی ہائی کمشنر کی مارگلہ ہلز سے کچرا جمع کرنے کی تصاویر وائرل
ویب ڈیسک جمع۔ء 7 مئ 2021

2175665-birtishhighcommissionor-1620395472-525-640x480.jpg

برطانوی ہائی کمشنر نے 30 اپریل کو بھی کچرا اُٹھا کر تصاویر شیئر کی تھیں، فوٹو: ٹوئٹر


اسلام آباد: پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر کرسچیئن ٹرنر نے مارگلہ ہلز کے سر سبز علاقے سے صبح کی واک کے دوران دو تھیلے کچرا اُٹھایا اور سوشل میڈیا پر تصاویر وائرل کردیں۔

پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر کرسچیئن ٹرنر سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر کافی متحرک رہتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر آج ان کی ایک ٹوئٹ کا خوب چرچا رہا جس پر پاکستانی صارفین نے شرمندگی کا اظہار بھی کیا اور کرسچیئن ٹرنر کے جذبے کی داد بھی دی۔

برطانوی ہائی کمشنر کرسچیئن ٹرنر نے مرگلہ جیسے صحت افزا مقام پر معمول کی واک کے دوران شہریوں کی جانب سے پھینکا گیا کچرا دیکھا تو انہوں نے اپنے مرتبے کو بالائے طاق رکھتے ہوئے وہ کچرا دو بڑے تھیلوں میں بھرا اور ٹھکانے لگادیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کرسچیئن ٹرنر نے تصاویر شیئر کیں جس میں وہ کچرے کے بڑے تھیلے اُٹھائے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ برطانوی ہائی کمشنر نے کیپشن میں لکھا کہ ایک بار پھر جمعے کی صبح کی چہل قدمی اور ایک بار پھر کچرے کے تھیلے۔ صفائی نصف ایمان ہے۔

برطانوی ہائی کمشنر رمضان کے ماہ میں جہاں یہ یاد دلایا کہ صفائی نصف ایمان ہے وہیں اس ٹوئٹ میں انہوں نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور وزیر اعظم کے پروگرام کلین گرین پاکستان کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ کو بھی مینشن کیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ جمعے 30 اپریل کو بھی برطانوی ہائی کمشنر نے مارگلہ کی پہاڑیوں سے کچرے کے دو بڑے تھیلے جمع کیے تھے۔ اُس ٹوئٹ میں بھی انہوں نے لوگوں سے اسلام آباد کو خوبصورت اور صاف رکھنے کی اپیل کی تھی۔
 

سیما علی

لائبریرین
واضح رہے کہ گزشتہ جمعے 30 اپریل کو بھی برطانوی ہائی کمشنر نے مارگلہ کی پہاڑیوں سے کچرے کے دو بڑے تھیلے جمع کیے تھے۔ اُس ٹوئٹ میں بھی انہوں نے لوگوں سے اسلام آباد کو خوبصورت اور صاف رکھنے کی اپیل کی تھی۔
افسوس کہ ہمارا مذہب کہتا ہے صفائی نصف ایمان ہے
اور حال ہمارا یہ ہے۔۔۔۔۔
 

شمشاد

لائبریرین
بندہ پوچھے جن تھیلوں میں تم یہ اشیاء بھر کر لاتے ہو، انہیں میں کچرا واپس بھر کر لے جانے میں کیا تکلیف ہے؟ لیکن نہیں لے کر جائیں گے کہ شان میں فرق آ جائے گا۔
 

الف نظامی

لائبریرین
ہمیں فرصت ملے، تب نا!
افسوس کہ ہمارا مذہب کہتا ہے صفائی نصف ایمان ہے
اور حال ہمارا یہ ہے۔۔۔۔۔

بندہ پوچھے جن تھیلوں میں تم یہ اشیاء بھر کر لاتے ہو، انہیں میں کچرا واپس بھر کر لے جانے میں کیا تکلیف ہے؟ لیکن نہیں لے کر جائیں گے کہ شان میں فرق آ جائے گا۔

اخبار والا تو گوروں سے مرعوب ہے اور ان کی ہی خبر لگائے گا۔ ملاحظہ کیجیے پاکستان کے ماحول دوست ہیرو کی چند سرگرمیاں
 

حسرت جاوید

محفلین
اخبار والا تو گوروں سے مرعوب ہے اور ان کی ہی خبر لگائے گا۔ ملاحظہ کیجیے پاکستان کے ماحول دوست ہیرو کی چند سرگرمیاں
آپ کی بات اپنی جگہ درست ہے لیکن ہماری نظر سے ابھی تک اپنا کوئی ہائی کمشنر ایسا نہیں گزرا جس نے ایسا کیا ہو چاہے تشہیر کی خاطر ہی سہی۔
 

الف نظامی

لائبریرین
آپ کی بات اپنی جگہ درست ہے لیکن ہماری نظر سے ابھی تک اپنا کوئی ہائی کمشنر ایسا نہیں گزرا جس نے ایسا کیا ہو چاہے تشہیر کی خاطر ہی سہی۔
عام آدمی کی تعریف کرنا منع ہے؟
میری نظر سے ایک ڈپٹی کمشنر اسلام آباد ایسا گزرا ہے
 

جاسم محمد

محفلین
آپ کی بات اپنی جگہ درست ہے لیکن ہماری نظر سے ابھی تک اپنا کوئی ہائی کمشنر ایسا نہیں گزرا جس نے ایسا کیا ہو چاہے تشہیر کی خاطر ہی سہی۔
پاکستان کے تقریبا تمام سفیر ریٹائرڈ فوجی آفیسرز ہیں جن کے اپنے ٹڈ نکلے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے سفارتخاروں سے باہر نہیں نکلتے، صفائی کہاں سے کریں گے۔
 
آخری تدوین:

الف نظامی

لائبریرین
پس ثابت ہوا عام آدمی کے اچھے کاموں کی تعریف نہیں کی جاتی اور عہدے پر براجمان کسی شخص کا ایک دفعہ کیا ہوا اچھا کام واہ واہ سمیٹ لیتا ہے۔
عہدے سے مرعوبیت یہی ہوتی ہے۔
 

الف نظامی

لائبریرین
اس لیے کہ آپ نے سیف اللہ کشمیری ماحول دوست رضا کار کی تعریف کرنے کے بجائے مزید تنقید کر دی کہ عہدے پر براجمان شخص کی مثال لائی جائے۔ حالاں کہ اچھا کام کوئی بھی کرئے اسے سراہنا چاہیے اس میں عام اور خاص کی تفریق کیوں؟
 

حسرت جاوید

محفلین
پس ثابت ہوا عام آدمی کے اچھے کاموں کی تعریف نہیں کی جاتی اور عہدے پر براجمان کسی شخص کا ایک دفعہ کیا ہوا اچھا کام واہ واہ سمیٹ لیتا ہے۔
عہدے سے مرعوبیت یہی ہوتی ہے۔
آپ بہت جلدی مفروضہ قائم کر کے اس سے نتائج اخذ کر لیتے ہیں، چاہے بات اگلے کے گمان میں بھی نہ ہو!
 

الف نظامی

لائبریرین
یہ ویڈیو ہر گز نہ دیکھیں خصوصا میڈیا والے اور نہ ہی اس کو کوریج دیں
کس طرح بلین ٹری سونامی میں لگائے جانے والے پودے کسی نے اکھاڑ پھینکے اور ماحول دوست رضا کار سیف اللہ کشمیری نے ان پودوں کو دوبارہ لگایا
 

حسرت جاوید

محفلین
اس لیے کہ آپ نے سیف اللہ کشمیری ماحول دوست رضا کار کی تعریف کرنے کے بجائے مزید تنقید کر دی کہ عہدے پر براجمان شخص کی مثال لائی جائے۔ حالاں کہ اچھا کام کوئی بھی کرئے اسے سراہنا چاہیے اس میں عام اور خاص کی تفریق کیوں؟
میں نے ان صاحب پر تنقید ہرگز نہیں کی بلکہ آپ کے ان تمام مراسلوں کو زبردست کی ریٹنگ دی جس میں وہ ایسا کرتے ہوئے پائے گئے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ میں نے ٹائپ کر کے زبردست نہیں لکھا تو وہ ہم ابھی لکھ دیتے ہیں کہ زبردست، بہت اچھا کام کیا ہے حالانکہ ریٹنگ دینے کا مقصد بھی وہی تھا۔
ہم نے اپنے ہائی کمشنر کی بات ان کے ہائی کمشنر کے تقابل میں کہی تھی اور یہ بات اتنی مشکل نہیں تھی کہ سمجھ نہ آ سکے لیکن آپ نے اپنی مرضی کا نتیجہ نکالنا زیادہ مناسب سمجھا حالانکہ ہم نے کہا بھی کہ آپ کی بات اپنی جگہ درست ہے۔
 

الف نظامی

لائبریرین
میں نے ان صاحب پر تنقید ہرگز نہیں کی بلکہ آپ کے ان تمام مراسلوں کو زبردست کی ریٹنگ دی جس میں وہ ایسا کرتے ہوئے پائے گئے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ میں نے ٹائپ کر کے زبردست نہیں لکھا تو وہ ہم ابھی لکھ دیتے ہیں کہ زبردست، بہت اچھا کام کیا ہے حالانکہ ریٹنگ دینے کا مقصد بھی وہی تھا۔
ہم نے اپنے ہائی کمشنر کی بات ان کے ہائی کمشنر کے تقابل میں کہی تھی اور یہ بات اتنی مشکل نہیں تھی کہ سمجھ نہ آ سکے لیکن آپ نے اپنی مرضی کا نتیجہ نکالنا زیادہ مناسب سمجھا حالانکہ ہم نے کہا بھی کہ آپ کی بات اپنی جگہ درست ہے۔
چلیں آپ سے اتفاق کر لیتے ہیں ، لیکن آئندہ آپ بھی مرضی کا فیصلہ نہ صادر کیا کیجیے کہ قوم کو کس کام سے فرصت ملے تو وہ شجر کاری یا ماحول دوستی کرے۔
 
Top