برائے اصلاح

محمل ابراہیم نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 22, 2020

  1. محمل ابراہیم

    محمل ابراہیم لائبریرین

    مراسلے:
    346
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Angelic
    معزز اساتذہ الف عین
    محمد احسن سمیع: راحل
    محمد خلیل الرحمٰن
    سید عاطف علی

    آداب ۔۔۔۔۔۔

    آپ سے اصلاح و رہنمائی کی درخواست ہے____


    داستاں اپنی کبھی مجھ سے سنائی نہ گئی
    حالتِ قلب کی تصویر دکھائی نہ گئی

    بزم ساقی میں سبھی تشنۂ لب بیٹھے ہیں
    آج کیا بات ہے کہ مے بھی پلائی نہ گئی

    جد امجد کے جمع کردہ تھے اسباب بہت
    ایک پائی بھی مگر ہم سے بچائی نہ گئی

    جل رہا ہے دلِ پُر سوز مسلسل دن رات
    آگ اُس نے وہ لگائی جو بجھائی نہ گئی

    بزم یاراں کی وہی جان وہی رونق تھا
    بعد اُس کے کوئی محفل بھی سجائی نہ گئی

    کیسے محفوظ وہ رکھتے تری جاہ و حشمت
    آبرو اپنی فقط جن سے بچائی نہ گئی

    اے سحر ! تجھ کو ڈبو دے گی طلسمی دنیا
    بعد میں رونا کہ اک نیکی کمائی نہ گئی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. محمّد احسن سمیع :راحل:

    محمّد احسن سمیع :راحل: محفلین

    مراسلے:
    1,046
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    مطلع ویسے تو ٹھیک ہے، تاہم دوسرے مصرعے میں مجھے تصویر زائد اور غیر ضروری لگتا ہے۔ یوں بھی تو کہہ سکتے ہیں
    حالت اس دل کی کسی کو بھی دکھائی نہ گئی

    تشنۂ لب کی ترکیب درست نہیں، یہاں تشنہ لب بغیر کسرۂ اضافت کے آئے گا۔ تشنۂ لب کا تو مطلب ہوا ہونٹوں کا پیاسا، جو بے معنی بات ہے۔ پھر تشنۂ لب کے متصل بیٹھے آنے سے تنافر بھی پیدا ہوتا ہے۔

    دوسرے مصرعے سے اگر تعقید دور کر سکیں تو زیادہ مناسب رہے گا، یعنی بعد اس کے کے بجائے کسی طرح اس کے بعد کہیں۔

    آبرو اپنی ہی خود جن سے بچائی نہ گئی؟؟؟
    لیکن آبرو کے مقابل جاہ و حشمت کے بجائے عزت ہی لانا چاہیے۔

    دوسرے مصرعے میں ’’رونا‘‘ ٹھیک نہیں لگتا کہ پہلے مصرعے میں مستقبل کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے تو دوسرے میں بھی اسی کو برقرار رکھنا چاہیے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
    • متفق متفق × 1
  3. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,353
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    مزید کچھ باتیں
    بزم ساقی میں سبھی تشنۂ لب بیٹھے ہیں
    یہاں تشنہ لباں کیا جا سکتا ہے، جمع کے صیغے میں

    جد امجد کے جمع کردہ تھے اسباب بہت
    ایک پائی بھی مگر ہم سے بچائی نہ گئی
    ... جمع کے م پر زبر نہیں، جزم آنی چاہیے، یا تو اسے 'بہم کردہ' کر دو، یا بہتر ہے کہ مصرع بدل دو، کہ جد امجد بھی اچھا نہیں لگتا
    جمع کردہ بہت اسباب تو اجداد کے تھے

    بعد میں رونا کہ اک نیکی کمائی نہ گئی
    .. نیکی کمائی میں نیکی کی ی کا اسقاط اور متصل کمائی کا ک کی وجہ سے تنافر بھی پسندیدہ نہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  4. محمل ابراہیم

    محمل ابراہیم لائبریرین

    مراسلے:
    346
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Angelic
    اُستاد محترم جناب الف عین
    محمد احسن سمیع:راحل

    آپ سے نظر ثانی کی درخواست ہے______


    داستاں اپنی کبھی مجھ سے سنائی نہ گئی
    حالت اس دل کی کسی کو بھی دکھائی نہ گئی

    بزم ساقی میں سبھی تشنہ لباں بیٹھے ہیں
    آج کیا بات ہے کہ مے بھی پلائی نہ گئی

    جمع کردہ بہت اسباب تو اجداد کے تھے
    ایک پائی بھی مگر ہم سے بچائی نہ گئی

    جل رہا ہے دلِ پُر سوز مسلسل دن رات
    آگ اُس نے وہ لگائی جو بجھائی نہ گئی

    اُس نے الفاظ کے جو تیر چلائے تھے کبھی
    آج تک ذہن سے وہ بات بھلائی نہ گئی

    کیسے محفوظ وہ رکھتے تری عزت آخر
    آبرو اپنی ہی خود جن سے بچائی نہ گئی

    اے سحر ! اُس کا رخ ناز تھا روشن اتنا
    اُس سے اک لمحے کو بھی آنکھ ملائی نہ گئی
     

اس صفحے کی تشہیر