برائے اصلاح

فیضان قیصر نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 12, 2020

  1. فیضان قیصر

    فیضان قیصر محفلین

    مراسلے:
    293
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    بس یہ سمجھیں کہ بس چلا ہی نہیں
    اس کو جانا تھا وہ رکا ہی نہیں
    میں کسے ڈھونڈھتا رہا اس میں
    کیا بتاوں مجھے پتہ ہی نہیں
    یاد مجھکو سبھی وہ باتیں ہیں
    یاد جن کو کبھی کیا ہی نہیں
    میں بھی مرضی کی زندگی جی لوں
    مجھ میں لیکن یہ حوصلہ ہی نہیں
    خود کو مصروف کر لیا لیکن
    دل کسی کام میں لگا ہی نہیں
    قہقہے مارتا رہا ہوں میں
    اور سچ میں کبھی ہنسا ہی نہیں
    زندگی یہ بدل بھی سکتی تھی
    ساتھ تو نے مگر دیا ہی نہیں
    راستہ اس کا روک لیتا میں
    وہ مجھے بول کر گیا ہی نہیں
    میں جنھیں زندگی سمجھتا تھا
    ان سے اب کوئی واسطہ ہی نہیں
    ہوتا ہوگا سکون رشتوں میں
    میں نے ڈھونڈھا مجھے ملا ہی نہیں
    یوں اذیت اٹھائی جس کے لیے
    وہ تو فیضان میرا تھا ہی نہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. فیضان قیصر

    فیضان قیصر محفلین

    مراسلے:
    293
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. محمّد احسن سمیع :راحل:

    محمّد احسن سمیع :راحل: محفلین

    مراسلے:
    544
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    فیضان بھائی، آداب!
    بہت خوب، ماشاء اللہ۔ بہت اچھی غزل ہے۔ میرے پاس زیادہ کچھ نہیں ہے کہنے کو سوائے داد کے :)

    پہلے مصرعے میں غیر ضروری تعقید محسوس ہوتی ہے۔ ’’یاد ہیں مجھ کو وہ سبھی باتیں‘‘ کہنا زیادہ بہتر ہوگا۔ ’’کو‘‘ کو طویل کھینچنا بھی نہیں پڑتے گا۔ ’’مجھ‘‘ کی جگہ ’’ہم‘‘ بھی لایا جاسکتا ہے جو ایسے مضامین کے بیان کے لئے مناسب معلوم ہوتا ہے۔ ہاں، دونوں مصرعوں میں یاد کی تکرار شاید قابل اعتراض ہو۔ استادِ محترم اس حوالے سے بہتر بتا سکتے ہیں۔

    پہلے مصرعے میں ’’یہ‘‘ بھرتی کا معلوم ہوتا ہے، نیز ’’بدل‘‘ کی بجائے اگر ’’سنور‘‘ کہا جائے تو؟
    زندگانی سنور بھی سکتی تھی
    یا
    زیست اپنی سنور بھی سکتی تھی

    اگر اس مفہوم کی نثر لکھیں تو آپ کا مافی الضمیر شاید یوں بیان ہوگا ۔۔۔ ’’ میں اس کو جانے سے روک تو لیتا مگر وہ مجھے بتا کر ہی نہیں گیا‘‘۔
    اسی وجہ سے مجھے یہ شعر کچھ تشنۂ الفاظ محسوس ہوا۔ ویسے ضروری نہیں دوسروں کو بھی ایسا ہی لگے۔ آپ فکر کرکے دیکھیں، ممکن ہے کوئی مزید بہتر صورت ممکن ہو۔

    ایک بار پھر بہت داد۔

    دعاگو،
    راحلؔ
     
    • متفق متفق × 1
  4. فیضان قیصر

    فیضان قیصر محفلین

    مراسلے:
    293
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    بے حد شکریہ راحل بھائی- یوں اگر کہیں تو

    میں اسے جانے ہی نہیں دیتا
    وہ مگر بول کر گیا ہی نہیں
     
  5. محمّد احسن سمیع :راحل:

    محمّد احسن سمیع :راحل: محفلین

    مراسلے:
    544
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    ویسے تو ٹھیک ہے، مگر مجھے ’’بول کر جانے‘‘ اور ’’بتا کر جانے‘‘ میں تردد ہے، کہ محاورتاً درست کیا ہوگا۔ میرے خیال میں ’’بول کر جانا‘‘ عوامی انداز ہے۔ واللہ اعلم :)
     
    آخری تدوین: ‏فروری 12, 2020
  6. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,509
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    بول کر جانا عوامی گفتگو سہی، لیکن سہل ممتنع کی غزل میں یقیناً گوارا ہو گا پہلا مصرع اصل ہی بہتر تھا۔
    میں کسے ڈھونڈھتا رہا اس میں
    کیا بتاوں مجھے پتہ ہی نہیں
    واضح نہیں ہوا، 'اس' سے مراد محبوب ہی ہے، اس کی وضاحت ہو جائے تو بہتر ہے
    باقی راحل سے متفق ہوں۔
    یاد کا دونوں مصرعوں میں دہرایا جانا اچھا لگتا ہے یہاں، رہنے دو۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  7. فیضان قیصر

    فیضان قیصر محفلین

    مراسلے:
    293
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    بہت شکریہ سر
     

اس صفحے کی تشہیر