برائے اصلاح

اسد امین نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 1, 2019

  1. اسد امین

    اسد امین محفلین

    مراسلے:
    15
    یہ نکتہِٕ انگبیں ہے جسے سمجھے تو کہرام
    قدرت نے سکھاٸی ہے تجھے قدرتِ پرواز

    تو شیشہِٕ فطرت میں عیاں ہو، کہ خودی کا
    دنیائے ازل سے ہے یہی آخر و آغاز

    درویش ، خدا مست ، نگہ تیز و بلند پَر
    یہ چار عناصر ہوں تو بن جاتا ہے شہباز

    ان خیز عناصر میں بھی خصلت ہے یہ اس کی
    رکھتا نہیں سینے میں کبھی حملہِٕ بے تاز

    ہے آج انھی ضرب سے امروز کشاکش
    چاہیں تو وہی سوز ، جو چاہیں تو وہی ساز

    ہے رہ تو مرے پاس بھی جدت کی بتاؤں
    تو بندہِٕ بے حاضر و موجود پہ کر ناز
     
    مدیر کی آخری تدوین: ‏اکتوبر 2, 2019
  2. اسد امین

    اسد امین محفلین

    مراسلے:
    15
  3. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,621
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    انگبیں کی گ اور بلند کی د نہیں گرایا جا سکتا
    آخری تینوں اشعار سمجھ نہیں سکا
     
  4. اسد امین

    اسد امین محفلین

    مراسلے:
    15
    علامہ اقبالؒ کے ایک خط جس میں انھوں نے شاہین کی خصوصیات نثری طور پر بیان کی ہیں۔ اشعار کی صورت میں ڈھالنے کی کوشش کی گٸی ہے۔
     

اس صفحے کی تشہیر