1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $413.00
    اعلان ختم کریں

برائے اصلاح

ذیشان لاشاری نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 10, 2019

ٹیگ:
  1. ذیشان لاشاری

    ذیشان لاشاری محفلین

    مراسلے:
    89
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    اب نہ کچھ اور تمنا کیجے
    خود کو اب اور نہ رسوا کیجے

    شہر ہرگز یہ نہیں ہے میرا
    یاں نہ الفت کا تقاضا کیجے

    آپ کہہ کر نہ پکارو ہم کو
    نام سے ہم کو پکارا کیجے

    ہم کو عادت ہی نہیں ہنسنے کی
    آپ بس ہم کو رلایا کیجے

    ہم بھی انسان ہیں جیسے ہیں آپ
    روٹھیں ہم بھی تو منایا کیجے

    ہم بھی خود سے ہیں ذرا دور کہیں
    آپ بھی ہم سے کنارا کیجے

    ہم نے کیوں آپ سے الفت رکھی
    آپ اب ہم کو ستایا کیجے

    بھر گئے زخم ہمارے شاید
    ہم پہ کچھ ظلم دوبارہ کیجے

    مسئلہ یہ تو ذرا ذاتی ہے
    یوں نہ سرعام تماشا کیجے

    جس سے وابستہ ہوں خوشیاں ساری
    وہ دغا باز ہو تو کیا کیجے

    ہم نے خود اپنا بھروسہ توڑا
    اور اب کس پہ بھروسہ کیجے

    تھک چکے ظلم و ستم سہتے ہم
    اب تو کچھ لطف خدارا کیجے

    شان الفت کی جو اب بات کرے
    اس کو دو چار لگایا کیجے
     
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,464
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اچھی غزل ہے
    آپ کہہ کر نہ پکارو ہم کو
    نام سے ہم کو پکارا کیجے
    شتر گربہ ہے، یوں کر دیں
    آپ کہہ کر نہ پکاریں ہم کو

    اور یہ مصرع وزن میں نہیں
    یوں نہ سرعام تماشا کیجے
    سرِ عام محض سر عام، بغیر اضافت کے تقطیع ہو رہا ہے
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1
  3. ذیشان لاشاری

    ذیشان لاشاری محفلین

    مراسلے:
    89
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    بہت بہتر استاد محترم
    نوازش
     

اس صفحے کی تشہیر