برائے اصلاح

فلسفی نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 6, 2019

ٹیگ:
  1. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    سر الف عین اور دیگر احباب سے اصلاح کی گذراش

    ہائے وہ سمجھے نہیں اس بات کو
    خامشی نے جو کہی تھی رات کو

    کون رکھے یاد ساقی کا پتہ
    مے بھلا دے جب خود اپنی ذات کو

    قبر میں پاؤں دھرے نادانیاں
    مر کے چھوڑو گے بری عادات کو؟

    رد کرو اک جنبشِ انکار سے
    بے وفائی کے سب الزامات کو

    آگ اگر پانی سے لگتی ہے تو پھر
    گھر میں بیٹھے دیکھتے برسات کو

    تذکرہ اس گلبدن کا چھیڑ کر
    اور بڑھکاتے ہو کیوں جذبات کو

    دین حق کا معجزہ کیا خوب ہے
    آسماں تک لے گیا ذرات کو

    کون جاتا ہے خود اپنے شوق سے
    چھوڑ کا دنیا کی سب لذات کو

    دل گرفتہ ہیں مرے اکثر رفیق
    جانتے ہیں جو مرے حالات کو

    خود سر اک نطفے سے تُو پیدا ہوا
    یاد رکھ اپنی حقیر اوقات کو

    طیر نے دیکھا قفس کے چاک سے
    دور تک پھیلے ہوئے باغات کو

    ہار بیٹھا جان کی بازی کوئی
    بے وفا کی دیکھ کر بارات کو

    بے نیازی کا ہمیں طعنہ نہ دو
    اپنی بھی دیکھو ذرا حرکات کو

    کاش ان آنکھوں سے ہم بھی دیکھ لیں
    اپنے آقا فخرِ موجوداتؐ کو

    مرگ کے کھانے پہ ہے جن کی نظر
    یاد ہے کیا مرنا ان حضرات کو؟

    وقت کے ہاتھوں جو خاکستر ہوئے
    دفن رہنے دو اب ان خدشات کو

    سامنے منزل ہے تیرے فلسفیؔ
    بھول جا تکلیف کے لمحات کو​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,854
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    قبر میں پاؤں دھرے نادانیاں
    مر کے چھوڑو گے بری عادات کو؟
    بات مکمل نہیں ہو رہی

    رد کرو اک جنبشِ انکار سے
    بے وفائی کے سب الزامات کو
    .. عربی رد میں دال پر شدہ ہے، اگر درست استعمال کرنا چاہو تو
    رد کر دو جنبش.. .
    کر سکتے ہو ۔ ویسے چل سکتا ہے یوں بھی ۔

    آگ اگر پانی سے لگتی ہے تو پھر
    گھر میں بیٹھے دیکھتے برسات کو
    ... دوسرے مصرعے کا صیغہ واضح نہیں 'دیکھیے' کر دیا جائے؟

    تذکرہ اس گلبدن کا چھیڑ کر
    اور بڑھکاتے ہو کیوں جذبات کو
    ... بڑھک یا بڑہک دوسرا لفظ ہے بمعنی بڑ ہانکنے کا اسم
    یہ شاید بھڑک کی ٹائپو ہے؟

    کون جاتا ہے خود اپنے شوق سے
    چھوڑ کا دنیا کی سب لذات کو
    چھوڑ کر ؟

    خود سر اک نطفے سے تُو پیدا ہوا
    یاد رکھ اپنی حقیر اوقات کو
    .. خود سر کسے کہا جا رہا ہے؟ نطفے کو یا تجھے؟ خودسر کے بعد '!' ضروری محسوس ہوتا ہے

    طیر نے دیکھا قفس کے چاک سے
    دور تک پھیلے ہوئے باغات کو
    .... قفس کا چاک نہیں ہوتا سوراخ کے لیے کچھ دوسرا لفظ استعمال کرو۔ طیر لفظ بھی بول چال میں نہیں آتا

    بے نیازی کا ہمیں طعنہ نہ دو
    اپنی بھی دیکھو ذرا حرکات کو
    ..محاورہ تو 'حرکتوں' کا ہے مگر قافیہ ایسا ہے کہ زبردستی فارسی جھاڑنا پڑتی ہے

    مرگ کے کھانے پہ ہے جن کی نظر
    یاد ہے کیا مرنا ان حضرات کو؟
    ... مرگ کا کھانا بھی عجیب ہے
    دوسرے مصرعے میں مرنا کی الف کا اسقاط اچھا نہیں 'موت' میں کیا قباحت تھی؟
    باقی اشعار درست ہیں میرے خیال میں
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  3. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    شکریہ سر
    میر خیال تھا کہ بات مکمل ہے۔ کیا اس طرح زیادہ مناسب ہو گا؟
    مے کشو! پاؤں دھرے ہیں قبر میں
    مر کے چھوڑو گے بری عادات کو؟
    ٹھیک ہے سر
    ردّ کر دو جنبشِ انکار سے
    ٹھیک ہے سر
    گھر میں بیٹھے دیکھیے برسات کو
    جی سر املا کی غلطی ہے :unsure:
    اور بھڑکاتے ہو کیوں جذبات کو
    جی سر ٹائیپو ہے :unsure:
    چھوڑ کر دنیا کی سب لذات کو
    جی سر آئندہ خیال رکھو گا
    خود سر! اک نطفے سے تُو پیدا ہوا
    سر اس میں تردد تو مجھے بھی تھا لیکن "طیر" لفظ دوسرے شعرا کے کلام میں دیکھ کر ہمت ہوئی تھی۔ مثلا میر کا یہ شعر
    اک خزاں میں نہ طیر بھی بولا
    میں چمن میں بہت پکار آیا

    "چاکِ قفس" بھی کہیں دیکھا تھا اس لیے "قفس کا چاک" استعمال کیا جیسے میر ہی کا ایک شعر اسی فورم پر ہے

    کیسا چمن کہ ہم سے اسیروں کو منع ہے
    چاکِ قفس سے باغ کی دیوار دیکھنا

    گستاخی کی معافی چاہتا فقط سیکھنے کی نیت سے گزارشات رکھی ہیں آپ کے سامنے۔ دو متبادل یہ ذہن میں ہیں، اب جیسا آپ فرمائیں

    رو دیے چاکِ قفس سے دیکھ کر
    طائرانِ خوش نوا باغات کو
    یا
    دیکھتے ہیں روزنِ زندان سے
    حیف اسیرانِ قفس باغات کو
    سر "حرکات" کی جگہ عادات استعمال ہو سکتا ہے؟
    سر "مرگ کا کھانا" میرے خیال میں تو مستعمل ہے۔ "مرگ" کی وجہ سے "مرنا" زیادہ مناسب لگ رہا تھا۔ حمزہ وصل کی وجہ سے غلط فہمی تھی کہ "مرنا ان" ٹھیک رہے گا۔ خیر کیا یہ مناسب رہے گا یا اس کو غزل بدر کردیں؟

    مرگ پر بھی دیگ جن کو چاہیے
    یاد ہے کیا موت ان حضرات کو
     
  4. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,854
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    مے کشو! پاؤں دھرے ہیں قبر میں
    مر کے چھوڑو گے بری عادات کو؟
    ... مے کشو ہی کیوں؟ میری تجویز
    پاؤں تو دیکھو! دھرے ہیں قبر میں

    چاک قفس کے لیے میر کی سند ہے تو قبول کر رہا ہوں یہ بہتر ہے
    رو دیے چاکِ قفس سے دیکھ کر
    طائرانِ خوش نوا باغات کو

    حرکات ہی چلنے دو، عادات سے بہتر ہے

    مرگ شاید تمہاری طرف بولا جاتا ہو، یہاں میت، موتیٰ کا کھانا بولا جاتا ہے۔ اگر مرگ مستعمل ہے تو وہی شعر درست ہے
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  5. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    شکریہ سر
    سر یہ کیسا رہے گا
    عاصیو! پاؤں دھرے ہیں قبر میں

    ٹھیک ہے سر
    ٹھیک ہے سر
    سر بہتر تو میت اور موتیٰ ہی ہے۔ مرگ بھی استعمال تو ہوتا ہے لیکن مجھے خدشہ ہے کہ شاید غلط استعمال ہوتا ہے۔ اس لیے اس کو غزل بدر ہی کردیتا ہوں۔
     
  6. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,854
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    عاصیو کے ساتھ بھی مذکورہ شعر بہتر ہو جائے گا
    باقی اشعار درست ہیں تبدیلیوں کے بعد
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    شکریہ سر اصلاح کے بعد غزل حاضر ہے

    ہائے وہ سمجھے نہیں اس بات کو
    خامشی نے جو کہی تھی رات کو

    کون رکھے یاد ساقی کا پتہ
    مے بھلا دے جب خود اپنی ذات کو

    عاصیو! پاؤں دھرے قبر میں
    مر کے چھوڑو گے بری عادات کو؟

    ردّ کر دو جنبشِ انکار سے
    بے وفائی کے سب الزامات کو

    آگ اگر پانی سے لگتی ہے تو پھر
    گھر میں بیٹھے دیکھیے برسات کو

    تذکرہ اس گلبدن کا چھیڑ کر
    اور بھڑکاتے ہو کیوں جذبات کو

    دین حق کا معجزہ کیا خوب ہے
    آسماں تک لے گیا ذرات کو

    کون جاتا ہے خود اپنے شوق سے
    چھوڑ کر دنیا کی سب لذات کو

    دل گرفتہ ہیں مرے اکثر رفیق
    جانتے ہیں جو مرے حالات کو

    خود سر! اک نطفے سے تُو پیدا ہوا
    یاد رکھ اپنی حقیر اوقات کو

    رو دیے چاکِ قفس سے دیکھ کر
    طائرانِ خوش نوا باغات کو

    ہار بیٹھا جان کی بازی کوئی
    بے وفا کی دیکھ کر بارات کو

    بے نیازی کا ہمیں طعنہ نہ دو
    اپنی بھی دیکھو ذرا حرکات کو

    کاش ان آنکھوں سے ہم بھی دیکھ لیں
    اپنے آقا فخرِ موجوداتؐ کو

    وقت کے ہاتھوں جو خاکستر ہوئے
    دفن رہنے دو اب ان خدشات کو

    سامنے منزل ہے تیرے فلسفیؔ
    بھول جا تکلیف کے لمحات کو​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2

اس صفحے کی تشہیر