1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $413.00
    اعلان ختم کریں

برائے اصلاح

فلسفی نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 17, 2018

ٹیگ:
  1. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,570
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    سر الف عین اور دیگر احباب سے اصلاح کی گذارش ہے

    انجامِ رند دیکھ کہ رویا نہ کیوں کروں
    اس مے کو چھوڑنے کا تہیہ نہ کیوں کروں

    دن میں تجھے ہے ڈر کہ مجھے جانتے ہیں لوگ
    لیکن میں بزمِ شب میں بھی آیا نہ کیوں کروں

    آنکھوں سے درد کی تپش آنے لگے اگر
    پلکوں سے غم کی دھوپ میں سایا نہ کیوں کروں

    میری خوشی کو دیکھ کے جلتے ہیں جو رقیب
    ان دشمنوں کو ہنس کے رلایا نہ کیوں کروں

    جس کوچہِ وفا کا فسانہ ابھی سنا
    اس شہرِ بے نظیر میں جایا نہ کیوں کروں

    آنکھوں سے دل کے راز جو پڑھنے لگا ہے اب
    نظریں اس آدمی سے چرایا نہ کیوں کروں

    جس بے وفا کی وجہ سے رونق ہے بزم کی
    پلکوں پر اپنی اس کو بٹھایا نہ کیوں کروں

    ساقی، نہ مے، نہ رند، نہ رنگِ شباب ہے
    اس مے کدے کے حال پہ گریہ نہ کیوں کروں​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. فاخر رضا

    فاخر رضا محفلین

    مراسلے:
    2,610
    رویا
    تہیہ
    آیا
    گریہ

    یہ سب الگ الگ سے لگ رہے ہیں
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • متفق متفق × 1
  3. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,570
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    جی آپ نے درست نشاندہی فرمائی۔ رویا اور گریہ میں یا سے قبل حرف محرک نہیں۔ کیا میں درست سمجھ ہوں؟
     
  4. فاخر رضا

    فاخر رضا محفلین

    مراسلے:
    2,610
    مجھ میں اتنی سمجھ نہیں ہے
    مجھے جو الگ سا لگا لکھ دیا
     
  5. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,570
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    محترم محمد ریحان قریشی صاحب آپ ذرا راہنمائی فرمائیں۔ کہ اس غزل کے قافیے درست ہیں یا نہیں۔ غلطی کی نشاندہی بھی فرما دیں۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  6. محمد ریحان قریشی

    محمد ریحان قریشی محفلین

    مراسلے:
    1,875
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Devilish
    تہیہ اور گریہ درست نہیں باقی سب ٹھیک ہیں.
     
    آخری تدوین: ‏دسمبر 17, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  7. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,570
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    محترم کیا اس ترتیب سے اس غزل کے قوافی درست مانے جائیں گے؟

    لوگوں سے حالِ دل کو چھپایا نہ کیوں کروں
    پلکوں سے غم کی دھوپ میں سایا نہ کیوں کروں

    قلت سے مے کی خود کو ڈرایا نہ کیوں کروں
    اس غم میں خود کو تارکِ دنیا نہ کیوں کروں

    دن میں تجھے ہے ڈر کہ مجھے جانتے ہیں لوگ
    لیکن میں بزمِ شب میں بھی آیا نہ کیوں کروں

    میری خوشی کو دیکھ کے جلتے ہیں جو رقیب
    ان دشمنوں کو ہنس کے رلایا نہ کیوں کروں

    جس کوچہِ وفا کا فسانہ ابھی سنا
    اس شہرِ بے نظیر میں جایا نہ کیوں کروں

    آنکھوں سے دل کے راز جو پڑھنے لگا ہے اب
    نظریں اس آدمی سے چرایا نہ کیوں کروں

    جس بے وفا کی وجہ سے رونق ہے بزم کی
    پلکوں پر اپنی اس کو بٹھایا نہ کیوں کروں

    ساقی نہ مے، نہ رند، نہ رنگِ شباب ہے
    محفل میں خامیاں ہیں، بتایا نہ کیوں کروں​
     
    آخری تدوین: ‏دسمبر 17, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  8. محمد ریحان قریشی

    محمد ریحان قریشی محفلین

    مراسلے:
    1,875
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Devilish
    جی اب مکمل درست ہیں۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1
  9. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,455
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    دنیا قافیے سے صرف نظر کر گئے!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  10. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,570
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    شکریہ سر۔ کھٹکا تھا اس لیے متبادل تیار رکھا تھا۔ یہ مناسب ہے

    قلت سے مے کی خود کو ڈرایا نہ کیوں کروں
    اس غم میں آنسوؤں کو بہایا نہ کیوں کروں

    سر باقی غزل ٹھیک ہے؟
     
  11. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,455
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    دنیا والے مصرع کو اولی مصرع بنا دیں اور الفاظ بدل دیں باقی اشعار درست ہی لگ رہے ہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  12. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,570
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    سر الف عین

    خالی گلاس روگ ہے اس جان کا تو پھر
    قلت سے مے کی خود کو ڈرایا نہ کیوں کروں
     
  13. فاخر رضا

    فاخر رضا محفلین

    مراسلے:
    2,610
    اب بہت اچھا لگ رہا ہے. جلدی سے ایک مرتبہ پھر مکمل غزل عنایت فرمائیے
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  14. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,570
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    شکریہ محترم۔ یہ لیجیے حاضر ہے

    لوگوں سے حالِ دل کو چھپایا نہ کیوں کروں
    پلکوں سے غم کی دھوپ میں سایا نہ کیوں کروں

    خالی گلاس روگ ہے اس جان کا تو پھر
    قلت سے مے کی خود کو ڈرایا نہ کیوں کروں

    دن میں تجھے ہے ڈر کہ مجھے جانتے ہیں لوگ
    لیکن میں بزمِ شب میں بھی آیا نہ کیوں کروں

    میری خوشی کو دیکھ کے جلتے ہیں جو رقیب
    ان دشمنوں کو ہنس کے رلایا نہ کیوں کروں

    جس کوچہِ وفا کا فسانہ ابھی سنا
    اس شہرِ بے نظیر میں جایا نہ کیوں کروں

    آنکھوں سے دل کے راز جو پڑھنے لگا ہے اب
    نظریں اس آدمی سے چرایا نہ کیوں کروں

    جس بے وفا کی وجہ سے رونق ہے بزم کی
    پلکوں پر اپنی اس کو بٹھایا نہ کیوں کروں

    ساقی نہ مے نہ رند نہ رنگِ شباب ہے
    محفل میں خامیاں ہیں، بتایا نہ کیوں کروں​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر