برائے اصلاح

فلسفی

محفلین
سر الف عین اور دیگر احباب سے اصلاح کی گذارش

مشینوں کی طرح چلتے ہوئے دن رات کرنے کا
مہینے بعد ملتا ہے صلہ کچھ کام کرنے کا

ضرورت نے کبھی بوڑھا نہیں ہونے دیا ورنہ
ہمیں بھی شوق ہے اس عمر میں آرام کرنے کا

کبھی اس نفسِ امارہ نے دنیا اور عقبی میں
کوئی موقع نہیں چھوڑا ہمیں بدنام کرنے کا

تعوذ پڑھ کے ہم خود کو سپرد اللہ کے کر دیں
طریقہ خوب ہے شیطان کو ناکام کرنے کا

مسلماں نے نمازیں چھوڑ دیں کیونکہ طبیبوں نے
علالت میں دیا ہے مشورہ آرام کرنے کا​
 

فلسفی

محفلین
مشینوں کی طرح چلتے ہوئے دن رات کرنے کا
مہینے بعد ملتا ہے صلہ کچھ کام کرنے کا

مصرع اولیٰ کا قافیہ ؟
کبھی کبھی عقل گھاس چرنے چلی جاتی ہے۔ مصرع اولیٰ یوں کہا تھا نہ جانے کیا سوچ کے بدل دیا اور یہ غلطی کر بیٹھا، حیرت کے بار بار پڑھنے پر بھی یہ غلطی نظر نہیں آئی (n)

مشینوں کی طرح ہر وقت صبح و شام کرنے کا
مہینے بعد ملتا ہے صلہ کچھ کام کرنے کا
 

یاسر شاہ

محفلین
میں بھی اسی ترکیب "صبح و شام کرنے کا " کی تجویز دینے والا تھا مگر سوچا ردیف ہے قافیہ غائب -ضرور ٹائپو ہے -

لیکن میری ناقص رائے میں "صبح و شام کرنا" محاورہ نہیں -ویسے برا بھی نہیں لگ رہا -

مشینوں کی طرح ہر وقت صبح و شام کرنے کا
مہینے بعد ملتا ہے صلہ کچھ کام کرنے کا

"ہر وقت" بھرتی کا لگ رہا ہے -

ایسی کوئی صورت سوچیں :

مشینوں کی طرح چلنے میں صبح و شام کرنے کا
مہینے بعد ملتا ہے صلہ اس کام کرنے کا
 
آخری تدوین:

یاسر شاہ

محفلین
مسلماں نے نمازیں چھوڑ دیں کیونکہ طبیبوں نے
علالت میں دیا ہے مشورہ آرام کرنے کا

"کیونکہ" کی "کہ" کا وزن ٹھیک نہیں اور شعر میں شعریت بھی مفقود -شاعر واعظ بھی ہوسکتا ہے اور واعظ شاعر بھی -میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ وعظ کے وقت شعر نہ کہا جائے اور شعر کے وقت وعظ نہ کیا جائے -مگر کمال یہ ہے کہ بیک وقت دونوں کام کیے جائیں اور ایک سے دوسرے کا قتل نہ ہو -
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
مطلع میں یاسر کا مشورہ بھی پسند نہیں آیا۔ شاید کاما کا استعمال بہتر کر دے
مشینوں کی طرح چلنے کا، صبح و شام کرنے کا
دوسرا مصرع اصل بھی درست ہی لگتا ہے مجھے 'کچھ' کے ساتھ۔
کیونکہ کا کیونکے بنا دینا بھی درست نشاندہی کی ہے یاسر نے۔
باقی اشعار درست ہیں
 

فلسفی

محفلین
آپ حضرات کا شکریہ

میں بھی اسی ترکیب "صبح و شام کرنے کا " کی تجویز دینے والا تھا مگر سوچا ردیف ہے قافیہ غائب -ضرور ٹائپو ہے -

لیکن میری ناقص رائے میں "صبح و شام کرنا" محاورہ نہیں -ویسے برا بھی نہیں لگ رہا -

مشینوں کی طرح ہر وقت صبح و شام کرنے کا
مہینے بعد ملتا ہے صلہ کچھ کام کرنے کا

"ہر وقت" بھرتی کا لگ رہا ہے -

ایسی کوئی صورت سوچیں :

مشینوں کی طرح چلنے میں صبح و شام کرنے کا
مہینے بعد ملتا ہے صلہ اس کام کرنے کا

مطلع میں یاسر کا مشورہ بھی پسند نہیں آیا۔ شاید کاما کا استعمال بہتر کر دے
مشینوں کی طرح چلنے کا، صبح و شام کرنے کا
دوسرا مصرع اصل بھی درست ہی لگتا ہے مجھے 'کچھ' کے ساتھ۔
کیونکہ کا کیونکے بنا دینا بھی درست نشاندہی کی ہے یاسر نے۔
باقی اشعار درست ہیں
یوں مناسب رہے گا؟

مشینوں کی طرح پورے سبھی احکام کرنے کا
مہینے بعد ملتا ہے صلہ کچھ کام کرنے کا

"کیونکہ" کی "کہ" کا وزن ٹھیک نہیں اور شعر میں شعریت بھی مفقود -شاعر واعظ بھی ہوسکتا ہے اور واعظ شاعر بھی -میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ وعظ کے وقت شعر نہ کہا جائے اور شعر کے وقت وعظ نہ کیا جائے -مگر کمال یہ ہے کہ بیک وقت دونوں کام کیے جائیں اور ایک سے دوسرے کا قتل نہ ہو -
آپ کی یہ بات شاید پوری طرح سمجھ نہیں پایا۔ دیکھیے یہ متبادل بہتر ہے

علالت میں نمازیں چھوڑنے کو کب کہا تجھ سے
طبیبوں نے دیا تھا مشورہ آرام کرنے کا
یا
علالت میں نمازیں چھوڑنے کو کب کہا تجھ سے
طبیبوں نے کہا تھا بس ذرا آرام کرنے کا
 

الف عین

لائبریرین
احکام استعمال کرنے سے ایطا در آئے گا

علالت میں نمازیں چھوڑ دی جائیں، کہا کب تھا
طبیبوں نے کہا تھا بس ذرا آرام کرنے کا
شاید بہتر ہو
 

فلسفی

محفلین
شکریہ سر
احکام استعمال کرنے سے ایطا در آئے گا
(n) سر مطلع مجھے تو یوں مناسب لگتا ہے آپ کی کیا رائے ہے

مشینوں کی طرح ہر روز صبح و شام کرنے کا
مہینے بعد ملتا ہے صلہ کچھ کام کرنے کا

علالت میں نمازیں چھوڑ دی جائیں، کہا کب تھا
طبیبوں نے کہا تھا بس ذرا آرام کرنے کا
شاید بہتر ہو
سر دونوں مصرعوں میں "کہا" کی تکرار سے بہتر یوں نہیں؟

علالت میں نمازیں چھوڑنا ہے نفس کی خواہش/خامی
معالج نے کہا تھا بس ذرا آرام کرنے کا
 

فلسفی

محفلین
مطلع یوں بھی ہو سکتا ہے؟

مشینوں کی طرح اہداف سر انجام کرنے کا
مہینے بعد ملتا ہے صلہ کچھ کام کرنے کا
 

الف عین

لائبریرین
مطلع یوں بھی ہو سکتا ہے؟

مشینوں کی طرح اہداف سر انجام کرنے کا
مہینے بعد ملتا ہے صلہ کچھ کام کرنے کا
سرانجام دینا ہوتا ہے کرنا نہیں، صبح و شام والے شعر کو ہی رکھو
نفس کی خواہش والا شعر بہتر ہے لیکن
علالت میں نمازیں چھوڑنا تھی نفس کی خواہش
 

فلسفی

محفلین
شکریہ سر
سرانجام دینا ہوتا ہے کرنا نہیں، صبح و شام والے شعر کو ہی رکھو
نفس کی خواہش والا شعر بہتر ہے لیکن
علالت میں نمازیں چھوڑنا تھی نفس کی خواہش

مشینوں کی طرح ہر روز صبح و شام کرنے کا
مہینے بعد ملتا ہے صلہ کچھ کام کرنے کا

ضرورت نے کبھی بوڑھا نہیں ہونے دیا ورنہ
ہمیں بھی شوق ہے اس عمر میں آرام کرنے کا

کبھی اس نفسِ امارہ نے دنیا اور عقبی میں
کوئی موقع نہیں چھوڑا ہمیں بدنام کرنے کا

تعوذ پڑھ کے ہم خود کو سپرد اللہ کے کر دیں
طریقہ خوب ہے شیطان کو ناکام کرنے کا

علالت میں نمازیں چھوڑنا تھی نفس کی خواہش
معالج نے کہا تھا بس ذرا آرام کرنے کا​
 
Top