برائے اصلاح

فلسفی نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 22, 2018

ٹیگ:
  1. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    سر الف عین اور دیگر اساتذہ

    آپ ہمارے خواب میں آئے یاد نہیں کیا بات ہوئی
    سوچتے سوچتے دن نکلا اور سوچوں ہی میں رات ہوئی

    جام پیا میخانے گئے لیکن انؐ کی نسبت سے پھر
    دیکھ ہمارے جیسوں کی بھی روزِ حشر نجات ہوئی

    بات جدائی کی سن کر وہ پیارا چہرہ زرد ہوا
    ٹپ ٹپ پانی گرنے لگا اور بے موسم برسات ہوئی

    ایک بہادر فاتح کو اس شہرِ وفا نے لوٹ لیا
    دنیا سے تو جیت گیا پر دل کے ہاتھوں مات ہوئی

    ہم بھی وعدہ کرتے ہیں جب وہ غیر سے رشتہ جوڑیں گے
    ایک جنازہ اٹھے گا جس دن ان کی بارات ہوئی

    مرتے مرتے در پہ پہنچا، در سے پھر درگور ہوا
    کیسی قسمت پائی اس نے کہ روزِ دید وفات ہوئی

    جیت کی خاطر ہار گئے ہم سب کچھ اپنا وار گئے
    ان کی ضد کے آگے اب تو بے بس اپنی ذات ہوئی​
     
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,520
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    درست ہے غزل۔ یہ شعر
    مرتے مرتے در پہ پہنچا، در سے پھر درگور ہوا
    کیسی قسمت پائی اس نے کہ روزِ دید وفات ہوئی
    در پر کہنا شاید بہتر ہو اور دوسرے مصرعے میں 'کہ' زیادہ ہے اس کی جگہ محض کوما استعمال کیا جا سکتا ہے
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    شکریہ سر (عید مبارک کہنا بھول گیا تھا، معذرت، بہت بہت عید مبارک آپ کو اور سب محفلین کو)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر