برائے اصلاح: ہم کہ شامل تو عاشقان میں ہیں

مقبول

محفلین
محترمین
سر الف عین ، دیگر اساتذہ کرام و احباب کی خدمت میں یہ غزل اصلاح کے لیے پیش کر رہا ہوں
ہم کہ شامل تو عاشقان میں ہیں
پر کہاں ان کی داستان میں ہیں

ان کے ہونٹوں پہ ہے مٹھاس بہت
جن کے خنجر چھپے میان میں ہیں

ہم تو گاہک ہیں مستقل ان کے
رکھتے جو درد بس دکان میں ہیں

سچ کی بے وقعتی پہ لگتا ہے
جی رہے جھوٹ کے جہان میں ہیں

منزلیں ہم کو کیا ملیں گی کبھی
ہم تو ، ٹھہرے ہوئے زمان میں ہیں

رہ نما جس کے ہیں لٹیرے ، ہم
ایسے بد بخت کاروان میں ہیں

فرض کب سے نہیں پڑھے مقبول
کب سے مصروف ہم اذان میں ہیں
 

الف عین

لائبریرین
عاشقان، زمان اور کاروان بھی بغیر اضافت کے ہی اردو میں استعمال ہوتے ہیں ۔
محترمین
سر الف عین ، دیگر اساتذہ کرام و احباب کی خدمت میں یہ غزل اصلاح کے لیے پیش کر رہا ہوں
ہم کہ شامل تو عاشقان میں ہیں
پر کہاں ان کی داستان میں ہیں
قافیے کے علاوہ درست
ان کے ہونٹوں پہ ہے مٹھاس بہت
جن کے خنجر چھپے میان میں ہیں
درست
ہم تو گاہک ہیں مستقل ان کے
رکھتے جو درد بس دکان میں ہیں
دوسرا مصرع عجیب ہے۔ کہنا کیا چاہتے ہیں، واضح نہیں ہوا
سچ کی بے وقعتی پہ لگتا ہے
جی رہے جھوٹ کے جہان میں ہیں
درست
منزلیں ہم کو کیا ملیں گی کبھی
ہم تو ، ٹھہرے ہوئے زمان میں ہیں
یہ شعر تو پہلے حصے میں آ چکا نا!
رہ نما جس کے ہیں لٹیرے ، ہم
ایسے بد بخت کاروان میں ہیں
درست
فرض کب سے نہیں پڑھے مقبول
کب سے مصروف ہم اذان میں ہیں
درست
 

مقبول

محفلین
سر الف عین، بہت مہربانی
سر، میں نے کچھ ریسرچ کی تو معلوم ہوا کہ داغ دہلوی، امجد اسلام امجد ، شاعر علی شاعر اور کرشن موہن نے لفظ کاروان کو بغیر کسی اضافت کے اپنے ا شعار میں استعمال کیا ہے۔
زمان کو مرکب شکل یعنی زمان و مکان ، زمان و زمن وغیرہ تو کافی بڑے ناموں نے استعمال کیا ہے جبکہ جگر مراد آبادی نے زمان کو بغیر کسی اضافت بھی اپنی غزل میں شامل کیا ہے
دوسرا مصرع عجیب ہے۔ کہنا کیا چاہتے ہیں، واضح نہیں ہوا
کہنا یہ تھا کہ ہم انُکے مستقل گاہک ہیں جو اپنی دکان میں صرف درد رکھتے (پیچتے) ہیں۔ بیچتے اس لیے استعمال نہیں کیا کہ پھر شاید دکان میں کی بجائے دکان پہ استعمال کرنا پڑتا جو کہُ ردیف نہ بن پاتا۔
یہ شعر تو پہلے حصے میں آ چکا نا!
سر، یہ شعر پہلے حصہ سے نکال لیا تھا کہ اس حصے میں ڈالا جا سکے
جناب محمد عبدالروؤف صاحب کے بائی ائیر دیے گے مشوروں کو سامنے رکھ کر کچھ تبدیلیاں کی ہیں ۔ پراہِ کرم یہ دیکھ لیجیے
ہم کہ شامل گو عاشقان میں ہیں
یا ہم گو شامل تو عاشقان میں ہیں
پر کہاں ان کی داستان میں ہیں

ان کے ہونٹوں پہ ہے مٹھاس بہت
جن کے خنجر چھپے میان میں ہیں

ہم تو ہیں اس کے مستقل گاہک
درد ہی درد جس دکان میں ہیں
یا
ہم تو ہیں اس کے مستقل گاہک
درد بس رکھتے جو دکان میں ہیں

سچ کی بے وقعتی پہ لگتا ہے
گویا اک جھوٹ کے جہان میں ہیں

منزلیں ہم کو کیا ملیں گی کبھی
ہم تو ، ٹھہرے ہوئے زمان میں ہیں

رہ نما جس کے ہیں لٹیرے ، ہم
ایسے بد بخت کاروان میں ہیں
یا
رہ نما راہزن ہوئے جس کے
آہ! ہم ایسے کاروان میں ہیں

فرض کب سے نہیں پڑھے مقبول
کب سے مصروف ہم اذان میں ہیں
 
آخری تدوین:
Top