برائے اصلاح و رہنمائی

الف عین صاحب

ہم نہ کچھ کرتے پیار سے ہٹ کر
دیکھتے جو نہ یار سے ہٹ کر

پھر ستارے ستارے ہی نہ رہیں
جو چلیں وہ مدار سے ہٹ کر

یوں کیے ہیں بہت جتن لیکن
نہ کھلے گل بہار سے ہٹ کر

اتنا سمجھا ہوں کہ کچھ بھی نہیں
زندگی انتظار سے ہٹ کر

میں برا ہوں مگر مرے مالک
کیا کیا اختیار سے ہٹ کر

میرے حصے میں کچھ نہیں آیا
اک دل-بے قرار سے ہٹ کر

کوئی مخلص نظر نہ آئے گا
دیکھ لو خاکسار سے ہٹ کر
 

الف عین

لائبریرین
ہم نہ کچھ کرتے پیار سے ہٹ کر
دیکھتے جو نہ یار سے ہٹ کر
... ٹھیک ہے

پھر ستارے ستارے ہی نہ رہیں
جو چلیں وہ مدار سے ہٹ کر
... ستارے کی ے جا اسقاط اچھا نہیں
پھر ستارے ہی کب رہیں تارے

یوں کیے ہیں بہت جتن لیکن
نہ کھلے گل بہار سے ہٹ کر
... کس نے جتن کیے؟ واضح کرو

اتنا سمجھا ہوں کہ کچھ بھی نہیں
زندگی انتظار سے ہٹ کر
... پہلا مصرع تو بحر سے خارج ہی ہو گیا ہے
بس یہ سمجھا ہوں، اور کچھ بھی نہیں

میں برا ہوں مگر مرے مالک
کیا کیا اختیار سے ہٹ کر
... میں برا ہی سہی... بہتر ہو گا... مگر یا رب.. کے ساتھ

میرے حصے میں کچھ نہیں آیا
اک دل-بے قرار سے ہٹ کر
... درست

کوئی مخلص نظر نہ آئے گا
دیکھ لو خاکسار سے ہٹ کر
.. ٹھیک
 
Top