برائے اصلاح و رہنمائی

الف عین صاحب

مت پوچھ مججے تجھ کو کس کس نے ستایا ہے
غم خوار مجھے تو نے ہر آن رلایا ہے
اب رات یہ جاتی ہے نزدیک سویرا ہے
کہہ کہہ کے یہی میں نے تاروں کو جگایا ہے

میں زیست کی بازی خود ہار گیا لیکن
اس کھیل کا فن میں نے اوروں کو سکھایا ہے

دیکھوں تو کدھر دیکھوں دیکھوں تو میں کیا دیکھوں
بس دید تری کا دھن نس میں سمایا ہے

نالاں ہوا کیوں عابد ہم سے یہ جہاں سارا
ہم نے تو محبت میں دل اپنا جلایا ہے
 

الف عین

لائبریرین
یہ غزل بہت ہلکی ہے عزیزم ، بہر حال

مت پوچھ مججے تجھ کو کس کس نے ستایا ہے
غم خوار مجھے تو نے ہر آن رلایا ہے
.. 'مجھے تجھ کو'؟ واضح نہیں اگرچہ شاید مراد 'مجھے اور تجھے' ہے، دو لخت بھی لگتا ہے

اب رات یہ جاتی ہے نزدیک سویرا ہے
کہہ کہہ کے یہی میں نے تاروں کو جگایا ہے
... تقابل ردیفین، پہلا مصرع بھی مطلع کا تاثر دیتا ہے اگرچہ قافیہ نہیں
پورا مصرع کچھ یوں ہو سکتا ہے
اب رات ہے جانے کو، پھر آئے گی صبحِ نو

میں زیست کی بازی خود ہار گیا لیکن
اس کھیل کا فن میں نے اوروں کو سکھایا ہے
.. ٹھیک

دیکھوں تو کدھر دیکھوں دیکھوں تو میں کیا دیکھوں
بس دید تری کا دھن نس میں سمایا ہے
.. دوسرا مصرع بحر سے خارج ہے اور واضح بھی نہیں

نالاں ہوا کیوں عابد ہم سے یہ جہاں سارا
ہم نے تو محبت میں دل اپنا جلایا ہے
.. درست
 
یہ غزل بہت ہلکی ہے عزیزم ، بہر حال

مت پوچھ مججے تجھ کو کس کس نے ستایا ہے
غم خوار مجھے تو نے ہر آن رلایا ہے
.. 'مجھے تجھ کو'؟ واضح نہیں اگرچہ شاید مراد 'مجھے اور تجھے' ہے، دو لخت بھی لگتا ہے

اب رات یہ جاتی ہے نزدیک سویرا ہے
کہہ کہہ کے یہی میں نے تاروں کو جگایا ہے
... تقابل ردیفین، پہلا مصرع بھی مطلع کا تاثر دیتا ہے اگرچہ قافیہ نہیں
پورا مصرع کچھ یوں ہو سکتا ہے
اب رات ہے جانے کو، پھر آئے گی صبحِ نو

میں زیست کی بازی خود ہار گیا لیکن
اس کھیل کا فن میں نے اوروں کو سکھایا ہے
.. ٹھیک

دیکھوں تو کدھر دیکھوں دیکھوں تو میں کیا دیکھوں
بس دید تری کا دھن نس میں سمایا ہے
.. دوسرا مصرع بحر سے خارج ہے اور واضح بھی نہیں

نالاں ہوا کیوں عابد ہم سے یہ جہاں سارا
ہم نے تو محبت میں دل اپنا جلایا ہے
.. درست
شکریہ سر ۔۔ بس دید تری کا دھن نس نس میں سمایا ہے یہ اس طرح ہے۔بہت نوازش
 
Top