برائے اصلاح و تنقید (غزل 55)

امان زرگر

محفلین
۔۔۔
اک صدائے کن سے یہ عالم ہویدا ہو گیا
کھودنے کو جوئے شیریں عشق تیشا ہو گیا

چھپ گئے تارے فلک پر چودھویں کی رات میں
آج کی شب چاند جوبن پر تھا، تنہا ہو گیا

چاک سینے کی طلب میں چبھ گیا تارِ رفو
یوں مرا زخمِ جگر کچھ اور گہرا ہو گیا

جب گلوں کے ساتھ دیکھے گلستاں میں خار بھی
کارگاہِ دہر میں دل کو سہارا ہو گیا

شوخ اور چنچل ادائیں لاکھ کوشاں ہوں مگر
حسن سے بے پروا ''زرگر'' دل یہ میرا ہو گیا
 
آخری تدوین:

امان زرگر

محفلین
درست ہے غزل۔ مقطع کے ثانی مصرع مزید چست کیا جا سکتا ہے شاید
۔۔۔
شوخ اور چنچل ادائیں لاکھ کوشاں ہوں مگر
حسن سے بے پروا زرگر دل ہمارا ہو گیا
یا
شوخ اور چنچل ادائیں لاکھ کوشاں ہوں مگر
حسن سے زرگر مرا یہ دل بے پروا ہو گیا
 

الف عین

لائبریرین
۔۔۔
شوخ اور چنچل ادائیں لاکھ کوشاں ہوں مگر
حسن سے بے پروا زرگر دل ہمارا ہو گیا
یا
شوخ اور چنچل ادائیں لاکھ کوشاں ہوں مگر
حسن سے زرگر مرا یہ دل بے پروا ہو گیا
اول الذکر میں بھی اصل شعر والی خامی ہے یعنی تخلص کی نشست۔ دوسرے میں بے ہروا کی ے کا گرایا جانا غلط ہے۔
 

امان زرگر

محفلین
سر الف عین
سر محمد ریحان قریشی
۔۔۔۔۔
اک صدائے کن سے یہ عالم ہویدا ہو گیا
کھودنے کو جوئے شیریں عشق تیشا ہو گیا

چھپ گئے تارے فلک پر چودھویں کی رات میں
آج کی شب چاند جوبن پر تھا، تنہا ہو گیا

چاک سینے کی طلب میں چبھ گیا تارِ رفو
یوں مرا زخمِ جگر کچھ اور گہرا ہو گیا

جب گلوں کے ساتھ دیکھے گلستاں میں خار بھی
کارگاہِ دہر میں دل کو سہارا ہو گیا

شوخ اور چنچل ادائیں لاکھ کوشاں ہوں مگر
ان سے بے پروا یہ دل زرگر ہمارا ہو گیا
 
Top