برائے اصلاح و تنقید (غزل 53)

امان زرگر

محفلین
۔۔۔
ہجومِ آفات کے مقابل ہے ذات میری
اُڑے گی دنیا میں خاک بن کر حیات میری

عجیب طوفانِ معصیت ہے بپا جہاں میں
تو حشر میں بھی طفیل اس کے نجات میری!

مزاجِ اربابِ فکر و فن کو گراں نہ گزرے
تو ہے خیالاتِ چرخِ نو سے برات میری

ثبات ذوقِ نمو سے قائم ہے اس چمن میں
فروغِ کن سے جڑی ہے یہ کائنات میری

مزاجِ ژولیدہ مثلِ برق و شرر ہے تیرا
تو نرم لہجہ زبان شاخِ نبات میری


بدل میں تاروں کے سج گئے اشکِ شمعِ فرقت
ہوئی نہ روشن بہت اندھیری ہے رات میری

مرے جنوں کو ہے بس تمنائے دید زرگر
حلیفِ حرص و ہَوس نہیں شش جہات میری
 
آخری تدوین:

امان زرگر

محفلین
۔۔۔
مزاجِ اربابِ فکر و فن کو گراں نہ گزرے
کہ سب خیالاتِ چرخِ نو سے برات میری
 
آخری تدوین:
شاید ہماری اصلاح پسندی سے آپ محمد تابش صدیقی اکتا چکے جو ادھر کو نہیں آئے۔۔۔
امان بھائی آج آپ کو اصل بات بتا ہی دیتا ہوں۔
استاد تو میں واقعی نہیں ہوں۔ اصلاحِ سخن میں شاعری پڑھتا ہوں، جو بات خود سے سامنے نظر آ جاتی ہے، اس پر توجہ دلا دیتا ہوں۔
پوسٹ مارٹم والا کام مجھ سے نہیں ہوتا۔ جب بھی جہاں بھی کوئی مسئلہ نظر آ جائے، اس کی نشاندہی کر دیتا ہوں۔ اس لیے ٹیگ کرتے رہیں، دل برداشتہ مت ہوں۔ :)
 
عجیب طوفانِ معصیت ہے بپا جہاں میں
تو حشر میں بھی طفیل اس کے نجات میری!
اس شعر کی سمجھ نہیں آئی۔ طوفان معصیت کے سبب نجات کیسے؟
مزاجِ اربابِ فکر و فن کو گراں نہ گزرے
تو ہے خیالاتِ چرخِ نو سے برات میری
دوسرے مصرع میں تو کی موجودگی تقاضا کرتی یے کہ پہلے مصرع میں اگر آئے
مزاجِ ژولیدہ مثلِ برق و شرر ہے تیرا
تو نرم لہجہ زبان شاخِ نبات میری
اوپر والا مسئلہ
 

امان زرگر

محفلین
۔۔۔۔
ہجومِ آفات کے مقابل ہے ذات میری
اُڑے گی دنیا میں خاک بن کر حیات میری

عجیب طوفانِ معصیت ہے جہاں میں برپا
قریب محشر ہے کیسے ہو گی نجات میری!

برنگِ عہدِ کہن ہے اندازِ چرخِ نو بھی
گراں ہے اربابِ فکر و فن پر یہ بات میری

ثبات ذوقِ نمو سے قائم ہے اس چمن میں
فروغِ کن سے جڑی ہے یہ کائنات میری

مزاجِ ژولیدہ مثلِ برق و شرر ہے تیرا
سخن ملائم زباں ہے شاخِ نبات میری

بدل میں تاروں کے سج گئے اشکِ شمعِ فرقت
ہوئی نہ روشن بہت اندھیری ہے رات میری

مرے جنوں کو ہے بس تمنائے دید زرگر
حلیفِ حرص و ہَوس نہیں شش جہات میری

سر الف عین
سر محمد ریحان قریشی
سر محمد تابش صدیقی
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
ہجومِ آفات کے مقابل ہے ذات میری
اُڑے گی دنیا میں خاک بن کر حیات میری
۔۔۔ٹھیک ہے اگرچہ حیات کا خاک بن کر اڑنا محاورہ نہیں۔

عجیب طوفانِ معصیت ہے جہاں میں برپا
قریب محشر ہے کیسے ہو گی نجات میری!
۔۔۔محشر؟ محل تو روز حشر کا ہے جو قریب ہو سکتا ہے۔

برنگِ عہدِ کہن ہے اندازِ چرخِ نو بھی
گراں ہے اربابِ فکر و فن پر یہ بات میری
۔۔۔ یہ بات؟ کون سی بات؟

ثبات ذوقِ نمو سے قائم ہے اس چمن میں
فروغِ کن سے جڑی ہے یہ کائنات میری
۔۔۔ ابلاغ نہیں ہوا

مزاجِ ژولیدہ مثلِ برق و شرر ہے تیرا
سخن ملائم زباں ہے شاخِ نبات میری

بدل میں تاروں کے سج گئے اشکِ شمعِ فرقت
ہوئی نہ روشن بہت اندھیری ہے رات میری
۔۔۔دونوں درست

مرے جنوں کو ہے بس تمنائے دید زرگر
حلیفِ حرص و ہَوس نہیں شش جہات میری
سمجھ نہیں سکا
 

امان زرگر

محفلین
سر الف عین
سر محمد ریحان قریشی
سر محمد تابش صدیقی
۔۔۔۔
ہجومِ آفات کے مقابل ہے ذات میری
ہے رزم گاہِ حیات میں آج مات میری

عجیب طوفانِ معصیت ہے جہاں میں برپا
قریب ہے روزِ حشر کیسے نجات میری!

برنگِ عہدِ کہن ہے اندازِ چرخِ نو بھی
نہ ہو سکی کچھ غمِ جہاں سے نجات میری

وجود ذوقِ نمو سے قائم ہے اس چمن کا
فروغِ کُن سے جڑی ہے یہ کائنات میری

مزاجِ ژولیدہ مثلِ برق و شرر ہے تیرا
سخن ملائم زباں ہے شاخِ نبات میری

بدل میں تاروں کے سج گئے اشکِ شمعِ فرقت
ہوئی نہ روشن بہت اندھیری ہے رات میری

مرے جنوں کو ہے شرط کنجِ قناعت آخر
حلیفِ حرص و ہَوس نہیں شش جَہَات میری
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
مطلع اب بہتر لگتا ہے۔
حشر والے شعر میں 'کیسے کی جگہ 'ہو گی' کر دین تو، سوالیہ نشان کے ساتھ۔
جو اشعار سمجھ نہیں سکا تھا، ان کی الفاظ بدل کر بھی وہی صورت حال ہے۔
باقی کو تو درست کہہ ہی چکا ہوں
 

امان زرگر

محفلین
۔۔۔
سر الف عین

ہجومِ آفات کے مقابل ہے ذات میری
ہے رزم گاہِ حیات میں آج مات میری

عجیب طوفانِ معصیت ہے جہاں میں برپا
قریب ہے روزِ حشر ہو گی نجات میری؟

برنگِ عہدِ کہن ہے اندازِ چرخِ نو بھی
گراں ہے ویسے ہی ان پہ ہر ایک بات میری

مرے چمن کا وجود ذوقِ نمو سے قائم
فروغِ کُن سے جڑی ہے یہ کائنات میری

مزاجِ ژولیدہ مثلِ برق و شرر ہے تیرا
سخن ملائم زباں ہے شاخِ نبات میری

بدل میں تاروں کے سج گئے اشکِ شمعِ فرقت
ہوئی نہ روشن بہت اندھیری ہے رات میری

رفیق آسودگانِ کنجِ قناعت اپنے
حلیفِ حرص و ہَوس نہیں شش جَہَات میری
 
Top