برائے اصلاح: میں روز خود سے کیے عہد توڑ دیتا ہوں

مقبول

محفلین
محترم الف عین صاحب
محترم محمّد احسن سمیع :راحل: صاحب
اور دیگر اساتذہ کرام سے اصلاح کی درخواست ہے

میں روز خود سے کیے عہد توڑ دیتا ہوں
یوں تیرے گھر کی طرف گاڑی موڑ دیتا ہوں

اسی اُمید پہ، آواز زندہ رہتی ہے
ہوا کے دوش پہ پیغام چھوڑ دیتا ہوں

نمک جو آ کے چھڑکتے ہیں میرے زخموں پر
دُعائیں ان کو بھی لاکھوں ، کروڑ دیتا ہوں

کبھی خیال بھی آئے جو بے وفائی کا
میں ایسی سوچ کی گردن مروڑ دیتا ہوں

مکانِ قلب کے ٹکڑے خوشی سے جھوم اُٹھے
کہا جو آپ نے، لائیں میں جوڑ دیتا ہوں

عجب مزہ ہے گریبان چاک پھرنے میں
لگیں بٹن جو مرے، خود ہی توڑ دیتا ہوں

بڑھاتے رہنے کو مقبول پیار کا پودہ
وُہ آنکھ کہتے ہیں، مَیں دل نچوڑ دیتا ہوں
 

الف عین

لائبریرین
میں روز خود سے کیے عہد توڑ دیتا ہوں
یوں تیرے گھر کی طرف گاڑی موڑ دیتا ہوں
... یوں کے بدلے 'پھر' لانے کی کوشش کریں
گاڑی کی ی گرنا اچھا نہیں لگ رہا، اگر واقعی بیل گاڑی مراد نہیں تو اسے کار ہی کہو!

اسی اُمید پہ، آواز زندہ رہتی ہے
ہوا کے دوش پہ پیغام چھوڑ دیتا ہوں
.. پہلے مصرع میں 'کہ' کے بغیر بات مکمل نہیں لگ رہی
ایک صورت 'یہی امید کہ' ہو سکتی ہے، بہتر صورت بھی سوچیں کہ زندہ بھی فعلن بندھ سکے

نمک جو آ کے چھڑکتے ہیں میرے زخموں پر
دُعائیں ان کو بھی لاکھوں ، کروڑ دیتا ہوں
... قافیہ پسند نہیں آیا، محاورہ لاکھوں کروڑوں ہے

کبھی خیال بھی آئے جو بے وفائی کا
میں ایسی سوچ کی گردن مروڑ دیتا ہوں
... درست

مکانِ قلب کے ٹکڑے خوشی سے جھوم اُٹھے
کہا جو آپ نے، لائیں میں جوڑ دیتا ہوں
... مکان کیوں؟ شکستہ قلب کے ٹکڑے..... کہا جائے
لائیں میں جوڑ دیتا ہوں
ٹکڑے کو واوین میں رکھو

عجب مزہ ہے گریبان چاک پھرنے میں
لگیں بٹن جو مرے، خود ہی توڑ دیتا ہوں
... ٹھیک، 'بٹن لگائے کوئی،' بھی کہا جا سکتا ہے

بڑھاتے رہنے کو مقبول پیار کا پودہ
وُہ آنکھ کہتے ہیں، مَیں دل نچوڑ دیتا ہوں
آنکھ نچوڑنا؟
 

مقبول

محفلین
محترم الف عین صاحب

بہت شُکریہ۔

سر، اگر یہ شعر لڑکپن میں کہا ہوتا تو بیل گاڑی ہی فٹ ہوتی:)
ابھی کار بھی ڈالی جا سکتی ہے

اب نظر فرمائیے

میں روز خود سے کیے عہد توڑ دیتا ہوں
پھر اس کے گھر کی طرف کار موڑ دیتا ہوں

یہی اُمید کہ زندہ رہیں گی آوازیں
ہوا کے دوش پہ پیغام چھوڑ دیتا ہوں

پڑی ہیں مشکلیں اتنی کہ دور ہی سے اب
میں دیکھتے ہی انہیں، ہاتھ جوڑ دیتا ہوں

کبھی خیال بھی آئے جو بے وفائی کا
میں ایسی سوچ کی گردن مروڑ دیتا ہوں

شکستہ قلب کے ٹکڑے خوشی سے جھوم اُٹھے
کہا جو آپ نے “لائیں میں جوڑ دیتا ہوں”

عجب مزہ ہے گریبان چاک پھرنے میں
بٹن لگائے کوئی، خود ہی توڑ دیتا ہوں

بڑھاتے رہنے کو مقبول پیار کا پودہ
جگر سے لے کے مَیں دل تک نچوڑ دیتا ہوں
 
Top