1. اردو محفل سالگرہ پانزدہم

    اردو محفل کی پندرہویں سالگرہ کے موقع پر تمام اردو طبقہ و محفلین کو دلی مبارکباد!

    اعلان ختم کریں

برائے اصلاح: مدہوشیِ دل کو نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے

abdul.rouf620 نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 4, 2020

  1. abdul.rouf620

    abdul.rouf620 محفلین

    مراسلے:
    9
    تمام اہلِ علم سے اصلاح کی درخواست ہے

    مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن

    کیوں مدہوشیِ دل کو نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے
    نہیں پتھر کی اس سل کو نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے
    انا کے پردے یوں حائل رہے سارے سفر کے بیچ
    سخن آرائیِ دل کو نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے
    ذرا سی بات تھی جس پر مرا بھی ضبط ٹوٹا ہے
    ابھی آدابِ محفل کو نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے
    بہت کی آرزو میں سب گنوایا جو بھی حاصل تھا
    گنوا کر کے بھی حاصل کو نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے

    اگر طوفان آ جائے ہاں ساحل اک پڑاو ہے
    مگر کیوں اپنی منزل کو نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے
    وہاں تقسیم در تقسیم کا آزار تو ہو گا
    جہاں اپنے ہی قاتل کو نہ ہم سمجھے نہ تم سمجھے
     
  2. محمّد احسن سمیع :راحل:

    محمّد احسن سمیع :راحل: محفلین

    مراسلے:
    692
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    جناب عبدالرؤف صاحب، آداب!

    کیوں کو ’’کی۔یوں‘‘ تقطیع کرنا درست نہیں۔ کیوں کا وزن فا ہوتا ہے اور اسے ’’کُو‘‘ تقطیع کیا جاتا ہے۔

    دورانِ سفر دو لوگوں کے بیچ تو پردہ حائل ہوسکتا ہے، مگر خود سفر کے بیچ میں پردہ؟؟؟ پھر ’’سارے سفر‘‘ کہنا بھی غیر فصیح ہے، ’’پورے سفر‘‘ کہنا درست ہوگا۔

    دونوں مصرعوں میں ربط کی کمی ہے۔

    ’’گنوا کر کے‘‘ کہنا ٹھیک نہیں ۔۔۔ یہاں کے زائداور فصاحت کے خلاف ہے۔

    پہلے مصرعے میں ’’ہاں‘‘ نہ صرف یہ کہ بھرتی کا ہے، بلکہ محض ’’ہَ‘‘ تقطیع ہورہا ہے۔ یہاں پر ’’تو‘‘ سے بھی کام چلایا جاسکتا تھا، نجانے کیوں آپ ہاں لے آئے!
    ایک بار پھر، دونوں مصرعے مربوط معلوم نہیں ہوتے۔

    اپنے قاتل کو پہچان نہ پانے سے تقسیم در تقسیم کا تعلق واضح نہیں۔

    دعاگو،
    راحلؔ
     
    • متفق متفق × 1
  3. abdul.rouf620

    abdul.rouf620 محفلین

    مراسلے:
    9
    کبھی مدہوشیِ دل کو نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے
    کبھی پتھر کی اس سل کو نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے

    انا یوں عمر بھر حائل رہی جو ہم سفر کے بیچ
    سخن آرائیِ دل کو نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے

    بہت کی آرزو میں سب گنوایا جو بھی حاصل تھا
    گنوا کے بھی تو حاصل کو نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے

    اگر طوفان آ جائے تو ساحل بس پڑاو ہے
    پڑاو اور منزل کو نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے

    کہ اب تقسیم در تقسیم کا آزار تو ہو گا
    نہ کر پائے بہم دل کو نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے
     
    آخری تدوین: ‏مارچ 5, 2020
  4. محمّد احسن سمیع :راحل:

    محمّد احسن سمیع :راحل: محفلین

    مراسلے:
    692
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    مطلع اب بھی دولخت ہے۔ دونوں مصرعوں میں ربط کا فقدان ہے۔

    اولاً یہ کہ جب دو لوگوں کا ذکر ہورہا ہے تو واحد کی بجائے جمع کا صیغہ استعمال کرنا چاہیئے۔
    ثانیاً یہ کہ پہلے مصرعے میں ضمیرِ غائب یا تھرڈ پرسن کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے، جس کا مرجع ہمسفر ہے، جبکہ دوسرے مصرعے میں ضمیر متکلم و مخاطب استعمال کئے گئے ہیں، جو گرائمر کے اصولوں کے منافی ہے۔
    پہلے مصرعے میں ہمارے بیچ، ہم دونوں کے بیچ، دونوں کے درمیان وغیرہ ہونا چاہیئے۔

    دوسرے مصرعے میں ’’تو‘‘ بھرتی کا ہے، محض وزن پورا کرنے لئے۔ اس سے بچنے کی ضرورت ہے۔

    پڑاؤ کو ’’پ۔ڑا۔وْ‘‘ تقطیع کیا جاتا ہے یعنی و ساکن ہوتی ہے، جبکہ آپ نے ’’پ۔ڑآو‘‘ تقطیع کیا ہے، جو درست نہیں۔
    مزید یہ کہ دوسرے مصرعے میں غالباً آپ کا مافی الضمیر یہ ہے کہ ’’پڑاؤ اور منزل کے فرق کو تم سمجھے نہ ہم سمجھے‘‘۔ ظاہر ہے کہ آپ کے مصرعے سے یہ مفہوم مکمل ادا نہیں ہورہا۔

    یہ شعر بھی دولختی کا شکار ہے۔ علاوہ ازیں ’’کہ‘‘ سے پہلے مصرعے کا آغاز پسندیدہ نہیں ہوتا۔ نثر میں بھی کوئی جملہ کبھی ’’کہ‘‘ سے شروع نہیں ہوتا۔

    دعاگو،
    راحلؔ۔
     
    • متفق متفق × 1

اس صفحے کی تشہیر