برائے اصلاح: مخمل کے بستروں میں سکوں کی طلب تجھے

عظیم

محفلین
واقعی بہت الجھا دینے والی صورتِ حال ہو گئی ہے ۔
نسب والے شعر کو میں سمجھا ہوں ۔ کہ ناپسندیدہ یا اپنے خلاف غلط بات سن کر بھی میں چپ رہا اس سے زیادہ کیا ثبوت دوں کہ میرا نسب 'اچھا' ہے ۔ اگر میں مطلب صحیح سمجھا ہوں تو میرا اعتراض اس پر ہے کہ 'ثبوتِ نسب' سے یہ معنی نہیں نکلتے کہ اچھا نسب ہے اگرچہ پہلے مصرع میں غلط یا بری بات سن کر بھی خاموش رہنا اچھائی بتا دی گئی ہے ۔ یعنی 'ثبوتِ نسب ' میں تشنہ بیانی محسوس ہو رہی ہے ۔
شاید ابھی میں غلط فہمی میں مبتلا ہوں اسی لیے سمجھ نہیں پا رہا ۔ اور معذرت کہ بات کو بھی طویل کرتا جا رہا ہوں ۔

اور واقف والے شعر کو بھی میں سمجھا ہوں کہ حسن کی شوخی سے جو تو واقف نہیں ہے اے کم نصیب اسی لیے تجھ کو بے ادب وغیرہ کہتے ہیں ۔
ایک بار پھر سے معذرت ۔
عاطف ملک۔
بابا ۔
 
آخری تدوین:

عاطف ملک

محفلین
میر ا جی چاہتا ھے چرا لوں غزل تری۔۔۔۔۔
میرے پاس" Cyber Crime Cell" کا رابطہ نمبر بھی ہے :unsure:
اور SuperCard بھی :LOL:
تفنن برطرف۔۔۔۔۔تعریف کا شکریہ۔
نسب کے بارے میں عظیم کو غلط فہمی ہو گئی ہے۔ عاطف سے متفق ہوں۔
’تھی ملی‘ کا کچھ متبادل سوچو۔
واقف نہیں۔۔ والے شعر میں بھی عظیم نے معنی بدل دئے ہیں۔ کم از کم جس طرح میں سمجھا ہوں۔
سر میرا بھی یہی خیال ہے۔
"تھی ملی" کو بدلنے کی کافی کوشش کی،ابھی تک جاری ہے۔
باقی اشعار درست سمجھوں؟؟

واقعی بہت الجھا دینے والی صورتِ حال ہو گئی ہے ۔
نسب والے شعر کو میں سمجھا ہوں ۔ کہ ناپسندیدہ یا اپنے خلاف غلط بات سن کر بھی میں چپ رہا اس سے زیادہ کیا ثبوت دوں کہ میرا نسب 'اچھا' ہے ۔ اگر میں مطلب صحیح سمجھا ہوں تو میرا اعتراض اس پر ہے کہ 'ثبوتِ نسب' سے یہ معنی نہیں نکلتے کہ اچھا نسب ہے اگرچہ پہلے مصرع میں غلط یا بری بات سن کر بھی خاموش رہنا اچھائی بتا دی گئی ہے ۔ یعنی 'ثبوتِ نسب ' میں تشنہ بیانی محسوس ہو رہی ہے ۔
شاید ابھی میں غلط فہمی میں مبتلا ہوں اسی لیے سمجھ نہیں پا رہا ۔ اور معذرت کہ بات کو بھی طویل کرتا جا رہا ہوں ۔
کسی نے آپ کو ذلیل کیا اور آپ نے چپ چاپ سن لیا،اس سے بڑا ثبوت کیا ہو گا شرافت کا؟

غالب کے "ورنہ کیا بات کر نہیں آتی"
والی صورتحال ہے اور میرے خیال میں بات مکمل ہے۔۔۔۔۔"عالی نسب" یا ایسے کسی سابقے کے بغیر بھی سمجھ آ رہی ہے۔


اور واقف والے شعر کو بھی میں سمجھا ہوں کہ حسن کی شوخی سے جو تو واقف نہیں ہے اے کم نصیب اسی لیے تجھ کو بے ادب وغیرہ کہتے ہیں ۔
ایک بار پھر سے معذرت ۔
عاطف ملک۔
بابا ۔
اس کا سیدھا مفہوم ہے کہ جو لوگ تجھے بد لحاظ اور بے ادب کہتے ہیں،ان جاہلوں کو اس بات کا احساس ہی نہیں کہ
"خدا جب حسن دیتا ہے،نزاکت آ ہی جاتی ہے"
اور لوگوں کو جو بد لحاظی لگتی ہے،وہ تو تمہارا شوخ پن اور ادا ہے۔

اب لگتا ہے اس غزل کو نصاب میں داخل کر کے پرچوں میں بھی تشریح کا سوال دیتے ہیں۔
کافی مواد جمع ہو گیا ہے:p

امید ہے میں اپنی بات سمجھانے میں تھوڑا بہت کامیاب ہوا ہوں گا۔:)
 
آخری تدوین:

با ادب

محفلین
واقعی بہت الجھا دینے والی صورتِ حال ہو گئی ہے ۔
نسب والے شعر کو میں سمجھا ہوں ۔ کہ ناپسندیدہ یا اپنے خلاف غلط بات سن کر بھی میں چپ رہا اس سے زیادہ کیا ثبوت دوں کہ میرا نسب 'اچھا' ہے ۔ اگر میں مطلب صحیح سمجھا ہوں تو میرا اعتراض اس پر ہے کہ 'ثبوتِ نسب' سے یہ معنی نہیں نکلتے کہ اچھا نسب ہے اگرچہ پہلے مصرع میں غلط یا بری بات سن کر بھی خاموش رہنا اچھائی بتا دی گئی ہے ۔ یعنی 'ثبوتِ نسب ' میں تشنہ بیانی محسوس ہو رہی ہے ۔
شاید ابھی میں غلط فہمی میں مبتلا ہوں اسی لیے سمجھ نہیں پا رہا ۔ اور معذرت کہ بات کو بھی طویل کرتا جا رہا ہوں ۔

اور واقف والے شعر کو بھی میں سمجھا ہوں کہ حسن کی شوخی سے جو تو واقف نہیں ہے اے کم نصیب اسی لیے تجھ کو بے ادب وغیرہ کہتے ہیں ۔
ایک بار پھر سے معذرت ۔
عاطف ملک۔
بابا ۔

سوچا میں بھی ذرا طبع آزمائی کر لوں.
شاعر اس شعر میں کہتا یے کہ میں نے بری بات یا بد اخلاقی کے مظاہرے پر بھی دو بدو ویسا رد عمل نہیں ظاہر کیا جیسا کہ مخاطب اخلاق کے دامن کو ہاتھ سے چھوڑ بیٹھا ہے.
جو اچھے اور خاندانی اچھے نسب والے افراد ہوتے ہیں ان کا شیوہ ہے کہ وہ برے حالات میں بھی اخلاق کے دامن کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتے. پس شاعر نے ادب کا مظاہرہ کر کے اپنے نسب کی خوبی کو ثابت کر دیا
 
آخری تدوین:

عاطف ملک

محفلین
واہ! مزا آگیا! بہت خوب عاطف۔ بہت سی داد۔ :)
بہت بہت نوازش!
اور بہت بہت شکریہ!
آپ کا حسنِ نظر ہے :)
عاطف بھائی بہت عمدہ کیا کہنے. معذرت خواہ ہیں کہ اس خوبصورت شاعری سے نا بلد تھے.
میں بھی دو تین دن قبل اس سے نابلد تھا۔
اس حساب سے ہم بھائی بھائی ہوئے :LOL:
سوچا میں بھی ذرا طبع آزمائی کر لوں.
شاعر اس شعر میں کہتا یے کہ میں نے بری بات یا بد اخلاقی کے مظاہرے پر بھی دو بدو ویسا رد عمل نہیں ظاہر کیا جیسا کہ مخاطب اخلاق کے دامن کو ہاتھ سے چھوڑ بیٹھا ہے.
جو اچھے اور خاندانی اچھے نسب والے افراد ہوتے ہیں ان کا شیوہ ہے کہ وہ برے حالات میں بھی اخلاق کے دامن کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتے. پس شاعر نے ادب کا مظاہرہ کر کے اپنے نسب کی خوبی کو ثابت کر دیا
اور آپ نے شاعر کی وکالت کر کے اپنے دلائل کی خوبی کو ثابت کر دیا :)
بہت بہت شکریہ اور بہت سی دعائیں آپ کیلیے۔
 

با ادب

محفلین
بہت بہت نوازش!
اور بہت بہت شکریہ!
آپ کا حسنِ نظر ہے :)

میں بھی دو تین دن قبل اس سے نابلد تھا۔
اس حساب سے ہم بھائی بھائی ہوئے :LOL:

اور آپ نے شاعر کی وکالت کر کے اپنے دلائل کی خوبی کو ثابت کر دیا :)
بہت بہت شکریہ اور بہت سی دعائیں آپ کیلیے۔
چلئیے وکالت پڑھنے کا یہ فائدہ تو ہوا کہ کسی کی وکالت تو کر ڈالی
 
Top