برائے اصلاح (فاعلاتن مفاعلن فعلن)

نوید ناظم

محفلین
دل پہ تیرا فسوں نہیں چلنا
اب پرانا جنوں نہیں چلنا

کیوں میاں کیا ہو تم' تمھارے بعد
کارِ دنیا یہ کیوں نہیں چلنا

عشق میں ہجر کیوں مقدر ہو
اب یہ قصہ بھی یوں نہیں چلنا

یہ محبت تو خوں رلائے گی
دوست! اس میں سکوں نہیں چلنا

دار کو جب نوید جائے تُو
یاد رکھ سرنگوں نہیں چلنا
 

الف عین

لائبریرین
میرے خیال میں صرف مقطع میں ردیف درست ہے دوسرے اشعار میں نہیں۔ باقی اشعار میں چلتا ردیف فٹ ہوتی ہے
 

نوید ناظم

محفلین
محترم الف عین صاحب
محترم
میرے خیال میں صرف مقطع میں ردیف درست ہے دوسرے اشعار میں نہیں۔ باقی اشعار میں چلتا ردیف فٹ ہوتی ہے
بہت شکریہ سر۔۔۔
یہ علم نہیں تھا کہ اردو میں ''چلنا'' کا استعمال درست نہ ہو گا ورنہ یہ الفاظ بولنے میں تو آتے رہتے ہیں، جیسے جادو کا چلنا یا کارِ دنیا کا چلنا وغیرہ۔

سر اسی بحر میں اگر یہ ردیف لائی جائے تو کیا درست ہو جائے گی؟
دل پہ تیرا فسوں نہیں چلے گا
اب پرانا جنوں نہیں چلے گا
پتہ نہیں کہ '' چلے'' میں ے کا اسقاط درست ہو گا یا غلط۔
 

الف عین

لائبریرین
محترم الف عین صاحب
محترم

بہت شکریہ سر۔۔۔
یہ علم نہیں تھا کہ اردو میں ''چلنا'' کا استعمال درست نہ ہو گا ورنہ یہ الفاظ بولنے میں تو آتے رہتے ہیں، جیسے جادو کا چلنا یا کارِ دنیا کا چلنا وغیرہ۔

سر اسی بحر میں اگر یہ ردیف لائی جائے تو کیا درست ہو جائے گی؟
دل پہ تیرا فسوں نہیں چلے گا
اب پرانا جنوں نہیں چلے گا
پتہ نہیں کہ '' چلے'' میں ے کا اسقاط درست ہو گا یا غلط۔
اب درست ہو گا اگرچہ روانی متاثر ہوتی ہے ’چلے گا‘سے لیکن شعر چلے گا!!
 
Top