برائے اصلاح - رات مسافر اپنی بستی چھوڑ چلے

loneliness4ever

محفلین
السلام علیکم

امید ہے تمام احباب اللہ کی رحمت کے سائے تلے
خوش باش ہونگے
حاضر ہوا ہوں ایک عدد کاوش لیکر اب یہ احباب ہی بتلائیں
گے کہ کاوش کامیاب ہوئی یا ناکام مگر دونوں صورتوں میں
یہ مسافر منزل سے ایک قدم اور قریب ہو جائے گا
بس احباب اور استاد حضرات رہنمائی کی مشعل کو
سدا روشن رکھیں ....
اللہ آباد و بے مثال رکھے آپ احباب کو .... آمین

رات مسافر اپنی بستی چھوڑ چلے
بند وہ سارے پلکوں کے پھر توڑ چلے

آنکھ زبانی عالم دل کا عام ہوا
بار جہاں میں رسوا کر کے چھوڑ چلے

عید خوشی پر گھر میں جل تھل خوب ہوا
پیار محبت غم سے ایسا جوڑ چلے

رات فلک سے تارے ایسے ٹوٹ گئے
یاد نگر تک رستہ پھر سے موڑ چلے

خواب سحر میں آخر آکر چیخ پڑا
چاند ستارے سارے تنہا چھوڑ چلے


س ن مخمور
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
خوش آمدید مخمور۔
اچھی غزل ہے، اگرچہ قوافی ثقیل ہیں۔
بس ان دو مصرعوں میں تبدیلی کی جانی چاہئے میری ذاتی رائے میں
آنکھ زبانی عالم دل کا عام ہوا
یہ واضح نہیں، اور آنکھ زبانی سے کیا مراد ہے؟

عید خوشی پر گھر میں جل تھل خوب ہوا
عید خوشی کی ترکیب بھی عجیب سی لگی۔
باقی میرے خیال میں اصلاح کی ضرورت نہیں
 

loneliness4ever

محفلین
خوش آمدید مخمور۔
اچھی غزل ہے، اگرچہ قوافی ثقیل ہیں۔
بس ان دو مصرعوں میں تبدیلی کی جانی چاہئے میری ذاتی رائے میں
آنکھ زبانی عالم دل کا عام ہوا
یہ واضح نہیں، اور آنکھ زبانی سے کیا مراد ہے؟


عید خوشی پر گھر میں جل تھل خوب ہوا
عید خوشی کی ترکیب بھی عجیب سی لگی۔
باقی میرے خیال میں اصلاح کی ضرورت نہیں



ممنون ہوں جناب کا، قیمتی وقت عنایت فرمایا
جی آنکھ زبانی سے اس ناچیز کی مراد
آنکھ کے راستے دل کا حال بیان ہونا تھی

محترم استاد
عید خوشی ..... بس مراد یہ تھی کہ عید کی خوشی
پر بھی گھر میں سوگ ہی رہتا ہے
کوشش کی کہ ہر ایک خوشی جیسی کوئی بات لکھ سکوں
پھر عید خوشی ذہن میں آگیا وہ ہی لکھ کر بات کہنا چاہی
سوچا یہ بھی تھا کہ عید اور خوشی کو الگ الگ کر دوں
عید ، خوشی یوں لکھ کر ... پھر کیا نہیں

اب آپ سے گذارش ہے کہ میری کم علمی کی سیاہی
کو اپنی رائے سے منور فرمائیں
اللہ آباد و بے مثال رکھے .........آمین
 

loneliness4ever

محفلین
الف عین

محترم استاد

خاکسار ایک مرتبہ پھر اپنی پرانی کاوشوں کی جانب توجہ کا طالب ہے، آپ کی رائے عزیز رکھتے ہوئے
مصرعوں میں تبدیلی کر کے حاضر ہوا ہوں ... امید ہے نظر فرمائیں گے


رات مسافر اپنی بستی چھوڑ چلے
بند وہ سارے پلکوں کے پھر توڑ چلے

آنکھ جہاں سے دل کا عالم کہتی رہی
اشک نگرمیں رسوا کر کے چھوڑ چلے

عید کے دن بھی گھر میں جل تھل خوب ہوا
پیار محبت غم سے ایسا جوڑ چلے

رات فلک سے تارے ایسے ٹوٹ گئے
یاد نگر تک رستہ پھر سے موڑ چلے

خواب سحر میں آخر آکر چیخ پڑا
چاند ستارے سارے تنہا چھوڑ چلے
 
Top