برائے اصلاح: تِرے ہر حکم کی تعمیل کے بعد

تِرے ہر حکم کی تعمیل کے بعد
میں کہاں جاؤں گا تکمیل کے بعد

وہ جو بنے قُربتوں کا جواز
کچھ نہیں عشق کی دلیل کے بعد
 

الف عین

لائبریرین
پہلا اور چوتھا مصرع الگ الگ بحر میں ہیں، دوسرا تیسرا بحر سے خارج ہیں۔ تعمیل اور تکمیل درست قوافی نہیں
یہ بھی لکھ دیا کریں کہ اس کو آپ کیا کہنا چاہتے ہیں، قطعہ یا غزل کے دو اشعار؟
 
قطعہ۔ برائے مہربانی اصلاح کر دیں تفصیل سے۔ میں ایک مبتدی ہوں
پہلی بات یہ ہے کہ علم عروض پر توجہ دیں۔۔۔
دوسرا استاد محترم کے مطابق تکمیل اور تعمیل قافیہ نہیں کیونکہ دونوں حروف دو حصے کیے جائیں تو
'تک میل' اور 'تع میل' میں ایک جیسے حروف یعنی 'میل' سے پہلے حروف کا ہم آواز ہونا ضروری ہے۔۔۔ لیکن یہاں تک اور تع ہم آواز نہیں ہیں۔ اگر ان کو غزل کے اور اشعار میں لایا جائے مطلع کے علاوہ تو درست ہونگے۔
مطلع میں تعمیل کے ساتھ لفظ تفصیل کو بطور قافیہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ ان میں آخری متحرک ل سے پہلے کے حروف می اور صی ہم آواز ہیں۔۔۔
علم قافیہ بھی آسان نہیں مشق کرنے سے سمجھ آتا ہے۔۔۔
 
Top