برائے اصلاح: تِرے ہر حکم کی تعمیل کے بعد

امیر حمزہ نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 30, 2019

  1. امیر حمزہ

    امیر حمزہ محفلین

    مراسلے:
    44
    جھنڈا:
    Pakistan
    تِرے ہر حکم کی تعمیل کے بعد
    میں کہاں جاؤں گا تکمیل کے بعد

    وہ جو بنے قُربتوں کا جواز
    کچھ نہیں عشق کی دلیل کے بعد
     
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,527
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    پہلا اور چوتھا مصرع الگ الگ بحر میں ہیں، دوسرا تیسرا بحر سے خارج ہیں۔ تعمیل اور تکمیل درست قوافی نہیں
    یہ بھی لکھ دیا کریں کہ اس کو آپ کیا کہنا چاہتے ہیں، قطعہ یا غزل کے دو اشعار؟
     
  3. امیر حمزہ

    امیر حمزہ محفلین

    مراسلے:
    44
    جھنڈا:
    Pakistan
    قطعہ۔ برائے مہربانی اصلاح کر دیں تفصیل سے۔ میں ایک مبتدی ہوں
     
  4. امیر حمزہ

    امیر حمزہ محفلین

    مراسلے:
    44
    جھنڈا:
    Pakistan
    اس انداز سے اصلاح کریں کہ میں سیکھ سکوں اصلاح کرنا تقطیع کرنا
     
  5. امیر حمزہ

    امیر حمزہ محفلین

    مراسلے:
    44
    جھنڈا:
    Pakistan
  6. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    569
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    پہلی بات یہ ہے کہ علم عروض پر توجہ دیں۔۔۔
    دوسرا استاد محترم کے مطابق تکمیل اور تعمیل قافیہ نہیں کیونکہ دونوں حروف دو حصے کیے جائیں تو
    'تک میل' اور 'تع میل' میں ایک جیسے حروف یعنی 'میل' سے پہلے حروف کا ہم آواز ہونا ضروری ہے۔۔۔ لیکن یہاں تک اور تع ہم آواز نہیں ہیں۔ اگر ان کو غزل کے اور اشعار میں لایا جائے مطلع کے علاوہ تو درست ہونگے۔
    مطلع میں تعمیل کے ساتھ لفظ تفصیل کو بطور قافیہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ ان میں آخری متحرک ل سے پہلے کے حروف می اور صی ہم آواز ہیں۔۔۔
    علم قافیہ بھی آسان نہیں مشق کرنے سے سمجھ آتا ہے۔۔۔
     
  7. امیر حمزہ

    امیر حمزہ محفلین

    مراسلے:
    44
    جھنڈا:
    Pakistan

اس صفحے کی تشہیر