برائے اصلاح...ایک شعر

عینی خیال

محفلین
اُس کے جانے کا تقاضہ تھابھلانا اس کو
ہم نے کیوں آنکھ کے پانی میں سنبھلا اُس کو
جس طرح خود کو الگ کر لیا اس نے جاناں
ہم نے بھی کیوں نہ کبھی دل سے نکالااُس کو
 

احمد بلال

محفلین
تجویز، اصلاح
اُس کے جانے کا تقاضا تھابھلانا اس کو​
ہم نے کیوں آنکھ کے پانی میں سنبھالا اُس کو​
جس طرح خود کو الگ کر لیا اس نے جاناں ("ہم سے" یا تخلص ڈال دیں" عینی" )
ہم نے بھی کیوں نہ کبھی دل سے نکالااُس کو​
 

الف عین

لائبریرین
سنبھالا کو عینی سنبھلا لکھ گئی ہیں یقیناً۔
جاناں کا لفظ سے اتفاق ہے مجھے کہ زائد ہے، اس کی جگہ بلال کی اصلاح بہتر ہے
 

محمد بلال اعظم

لائبریرین
ایک بے تکا سا سوال اس مصرع کے متعلق کہ
جس طرح خود کو الگ کر لیا اس نے جاناں
اس میں جو "جاناں" کا لفظ ہے، میں نے کئی دھاگے دیکھے ہیں جن میں میرے اپنے بھی ہیں، وہاں بھی یہی اصلاح کی گئی ہے کہ "جاناں" کو کسی اور لفظ سے بدلنا بہترہے۔
کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ اس لفظ کو شعر میں لانے کے لئے کوئی خاص مہارت چاہیے؟
یا کوئی اور وجہ ہے۔
یہ لفظ تو بے انتہا خوبصورت لفظ ہے۔
 

الف عین

لائبریرین
درست ہے کہ یہ لفظ خوبصورت ہے، لیکن اس کا استعمال خوبصورت نہیں۔ یہاں یہ بھرتی کا ہے جو تقطیع کی ضرورت کے لئے لایا گیا ہے۔ یوں بھی محبوب کے لئے غائب کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے، پھر یہ تخاطب کیوں؟
 

محمد بلال اعظم

لائبریرین
درست ہے کہ یہ لفظ خوبصورت ہے، لیکن اس کا استعمال خوبصورت نہیں۔ یہاں یہ بھرتی کا ہے جو تقطیع کی ضرورت کے لئے لایا گیا ہے۔ یوں بھی محبوب کے لئے غائب کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے، پھر یہ تخاطب کیوں؟

زبردست استادِ محترم
اب بات سمجھ میں آ گئی ہے اور اس مصرع پہ دوبارہ غور کیا تو واقعی "جاناں" کی جگہ بلال بھائی کا مشورہ سو فیصد درست ہے۔
 

احمد بلال

محفلین
ایک بے تکا سا سوال اس مصرع کے متعلق کہ
جس طرح خود کو الگ کر لیا اس نے جاناں
اس میں جو "جاناں" کا لفظ ہے، میں نے کئی دھاگے دیکھے ہیں جن میں میرے اپنے بھی ہیں، وہاں بھی یہی اصلاح کی گئی ہے کہ "جاناں" کو کسی اور لفظ سے بدلنا بہترہے۔
کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ اس لفظ کو شعر میں لانے کے لئے کوئی خاص مہارت چاہیے؟
یا کوئی اور وجہ ہے۔
یہ لفظ تو بے انتہا خوبصورت لفظ ہے۔
اس شعر میں بدلنے کی وجہ یہ ہے کہ" اُس " محبوب کی طرف اشارہ ہے اور غائب کے لیے استعمال ہوتا ہے اور پھر جاناں کہہ کر مخاطب بھی کیا جا رہا ہے ۔ لہذا گرائمر کی رو سے دو تضاد چیزیں اکٹھی ہو رہی ہیں۔ یہ اس صورت میں درست ہو سکتا ہے جب اس سے مراد کوئی اور ہو اور جاناں کوئی اور یعنی دو محبوب ہوں۔
 

محمد بلال اعظم

لائبریرین
اس شعر میں بدلنے کی وجہ یہ ہے کہ" اُس " محبوب کی طرف اشارہ ہے اور غائب کے لیے استعمال ہوتا ہے اور پھر جاناں کہہ کر مخاطب بھی کیا جا رہا ہے ۔ لہذا گرائمر کی رو سے دو تضاد چیزیں اکٹھی ہو رہی ہیں۔ یہ اس صورت میں درست ہو سکتا ہے جب اس سے مراد کوئی اور ہو اور جاناں کوئی اور یعنی دو محبوب ہوں۔

بہت بہت شکریہ بلال بھائی۔
آپ نے اور استادِ محترم نے میرا مسئلہ حل کر دیا اور عینی خیال صاحبہ کا بھی شکریہ کہ ان کے دھاگے کی بدولت میری کنفیوژن رفو چکر ہو گئی۔
 

محمد بلال اعظم

لائبریرین
زبردست استادِ محترم
اب بات سمجھ میں آ گئی ہے اور اس مصرع پہ دوبارہ غور کیا تو واقعی "جاناں" کی جگہ بلال بھائی کا مشورہ سو فیصد درست ہے۔

آپ کی ریٹنگ سر آنکھوں پہ مگرگستاخی معاف استادِ محترم کہ مجھے نا پسند کی وجہ سمجھ میں نہیں آئی۔
اگر میں نے کوئی غلط بات کہہ دی تھی تو میں معذرت طلب کرتا ہوں۔
 

محمد بلال اعظم

لائبریرین
ناپسند؟ ناطقہ سر بگریباں ہے۔۔۔ یہ تم نے کیسے کہہ دیا؟

استادِ محترم جواب نمبر 7 یہ ہے
 
Top