برائے اصلاح: اُسے ملتے ہی میری بے زبانی ختم ہوتی ہے

مقبول

محفلین
محترم الف عین صاحب
محترم محمّد احسن سمیع :راحل: صاحب
دیگر اساتذہ کرام اور احباب
یہ سوا دوسال پرانی غزل کچھ جھاڑ پونچھ کے بعد اصلاح کے لیے پیش کر رہا ہوں
اُسے ملتے ہی میری بے زبانی ختم ہوتی ہے
پھر آ کر مجھ پہ سب شیریں بیانی ختم ہوتی ہے

اسی کے گرد میری گھومتی ہے زندگی ساری
مری اس سے شروع اس پر کہانی ختم ہوتی ہے

میں اس کی شان میں لکھنے سے کیسے روک لوں خود کو
عقیدت بھی بھلا اتنی پرانی ختم ہوتی ہے

ابھی منظور کر لیں آپ میری آنکھ کے موتی
میں ہیرے لاؤں گا جیسے گرانی ختم ہوتی ہے

بھری ہیں خوں سے میری اُنگلیاں رقعات لکھ لکھ کر
بتاؤ ، کس طرح رنجش پُرانی ختم ہوتی ہے

نہ جانے کب وُہ کرتا ہے معافی کا مری اعلان
خدا جانے کب اُس کی بد گُمانی ختم ہوتی ہے

شجر کاٹے گئے جن پر ہمارے نام لکھے تھے
ہمارے پیار کی پہلی نشانی ختم ہوتی ہے

نہ آنکھیں بند ہوتی ہیں ، گیا ہے جب سے وُہ مقبول
نہ اشکوں کی مرے تب سے روانی ختم ہوتی ہے
 

الف عین

لائبریرین
محترم الف عین صاحب
محترم محمّد احسن سمیع :راحل: صاحب
دیگر اساتذہ کرام اور احباب
یہ سوا دوسال پرانی غزل کچھ جھاڑ پونچھ کے بعد اصلاح کے لیے پیش کر رہا ہوں
اُسے ملتے ہی میری بے زبانی ختم ہوتی ہے
پھر آ کر مجھ پہ سب شیریں بیانی ختم ہوتی ہے
اسے ملتے؟ مراد اس سے ملتے ہی ہے نا؟ چل بھی سکتا ہے کہ اکثر یوں بھی کہا جاتا ہے، لیکن مجھے غلط لگتا ہے۔ اگر بدل سکو تو بدل دو
اسی کے گرد میری گھومتی ہے زندگی ساری
مری اس سے شروع اس پر کہانی ختم ہوتی ہے
درست
میں اس کی شان میں لکھنے سے کیسے روک لوں خود کو
عقیدت بھی بھلا اتنی پرانی ختم ہوتی ہے
درست، شعر ختم ہونے پر سوالیہ نشان لگاؤ
ابھی منظور کر لیں آپ میری آنکھ کے موتی
میں ہیرے لاؤں گا جیسے گرانی ختم ہوتی ہے
جیسے گرانی... لگتا ہے کہ مثال دی جا رہی ہے۔ "جوں ہی" استعمال کرنا بہتر ہے
بھری ہیں خوں سے میری اُنگلیاں رقعات لکھ لکھ کر
بتاؤ ، کس طرح رنجش پُرانی ختم ہوتی ہے
رقعات واضح نہیں
نہ جانے کب وُہ کرتا ہے معافی کا مری اعلان
خدا جانے کب اُس کی بد گُمانی ختم ہوتی ہے
درست
شجر کاٹے گئے جن پر ہمارے نام لکھے تھے
ہمارے پیار کی پہلی نشانی ختم ہوتی ہے
جب کئی شجر کاٹے گئے تو کئی نشانیاں نہیں کٹ گئیں؟ پہلی نشانی تو ایک ہی پیڑ کی ہو گی نا!
نہ آنکھیں بند ہوتی ہیں ، گیا ہے جب سے وُہ مقبول
نہ اشکوں کی مرے تب سے روانی ختم ہوتی ہے
بیانیہ کچھ مجہول لگ رہا ہے،
"نہیں ہوتی ہیں آنکھیں بند"سےکوشش کرو
 

مقبول

محفلین
سر الف عین ، بہت شکریہ
آپ کی تجاویز شامل لر لی ہیں۔ باقی ترمیم شدہ اشعار دیکھیے

اُسے ملتے ہی میری بے زبانی ختم ہوتی ہے
یا
مری ، ملتے ہی اس سے، بے زبانی ختم ہوتی ہے
پھر آ کر مجھ پہ سب شیریں بیانی ختم ہوتی ہے
دوسرے متبادل میں تعقید بھی آ رہی ہے اور شاید روانی بھی بہتر نہ ہو

میں ایسا کیا کروں وُہ بھول جائے لغزشیں میری
بتاؤ ، کس طرح رنجش پُرانی ختم ہوتی ہے

شجر وُہ کٹ گیا جس پر ہمارے نام لکھے تھے
ہمارے پیار کی پہلی نشانی ختم ہوتی ہے

نہیں ہوتی ہیں بند آنکھیں ، گیا ہے جب سے وُہ مقبول
یا
نہیں ہوتی ہیں آنکھیں بند ، جب سے وُہ گیا مقبول
نہ اشکوں کی مرے تب سے روانی ختم ہوتی ہے
مجھے پہلا متبادل زیادہ رواں لگتا ہے
 
Top