برائے اصلاح - اجالوں میں اندھیروں کو نکھرنا خوب آتا ہے

فلسفی نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 23, 2019

ٹیگ:
  1. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    سر الف عین اور دیگر احباب سے اصلاح کی گذارش۔

    ہماری جستجو کا جن کی بیزاری سے ناتا ہے
    انھیں اب خود ہماری بے بسی پر ترس آتا ہے

    کمالِ ضبط کی طاقت کو ہر روز آزماتا ہے
    شبِ ہجراں میں جب وہ چاند آکر مسکراتا ہے

    ہوا کے دوش پر اڑ کا کوئی پیغام لاتا ہے
    وہ اک بادل کا ٹکڑا کوچہِ جاناں سے آتا ہے

    اسے پہچاننے والا جہاں رہتا نہیں کوئی
    فضول اس شہر کی گلیوں میں اب وہ خاک اڑاتا ہے

    کسی کے گال پر تِل دیکھ کر ہم کو خیال آیا
    اجالوں میں اندھیروں کو نکھرنا خوب آتا ہے
    غمِ الفت، جسے اہلِ وفا بھونچال کہتے ہیں
    تباہی پھیر دیتا ہے یہ جس دل میں سماتا ہے

    ہماری منتظر رہتی تھی جس بے درد کی آنکھیں
    ہمیں وہ دیکھنے کے بعد اب نظریں چراتا ہے​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  2. سفیر آفریدی

    سفیر آفریدی محفلین

    مراسلے:
    403
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    بهونچال کہتے ہیں
     
  3. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    24,135
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    سر ایک ہی بحر میں غوطے لگاتے رہیں گے؟ :)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    نہیں محترم ایسی کوئی بات نہیں۔ لیکن خیال پر کیا پابندی، جانے کس بحر میں سما جائے۔ ویسے وہ مزاح والی دونوں غزلوں کا مختصر بحر میں کہنا بہت مشکل تھا۔ اس لیے بحر ہزج ہی کام آئی تھی۔

    ویسے اور بحروں میں بھی طبع آزمائی کرتا ہوں۔ ابھی کچھ دن پہلے، پہلی مرتبہ مفاعلن کی تکرار سے دو دو ہاتھ کیے تھے۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  5. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,859
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ہماری جستجو کا جن کی بیزاری سے ناتا ہے
    انھیں اب خود ہماری بے بسی پر ترس آتا ہے
    ... ترس کی 'ر' مفتوح ہونی چاہیے میرے خیال میں

    کمالِ ضبط کی طاقت کو ہر روز آزماتا ہے
    شبِ ہجراں میں جب وہ چاند آکر مسکراتا ہے
    .... درست

    ہوا کے دوش پر اڑ کا کوئی پیغام لاتا ہے
    وہ اک بادل کا ٹکڑا کوچہِ جاناں سے آتا ہے
    .. اڑ کا؟ سمجھنے سے قاصر ہوں

    اسے پہچاننے والا جہاں رہتا نہیں کوئی
    فضول اس شہر کی گلیوں میں اب وہ خاک اڑاتا ہے
    ... فضول لفظ خاک اڑانے سے بہت دور ہو گیا!

    کسی کے گال پر تِل دیکھ کر ہم کو خیال آیا
    اجالوں میں اندھیروں کو نکھرنا خوب آتا ہے
    .. خوب ہے

    غمِ الفت، جسے اہلِ وفا بھونچال کہتے ہیں
    تباہی پھیر دیتا ہے یہ جس دل میں سماتا ہے

    ہماری منتظر رہتی تھی جس بے درد کی آنکھیں
    ہمیں وہ دیکھنے کے بعد اب نظریں چراتا ہے.
    .... یہ دونوں درست
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  6. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    شکریہ سر
    ترس کی جگہ "رحم" استعمال کرسکتے ہیں سر۔

    پوسٹ کرنے سے پہلے تین مرتبہ پڑھا تھا غور سے پھر بھی املا کی غلطی رہ گئی۔ (n)

    ہوا کے دوش پر اڑ کر کوئی پیغام لاتا ہے

    سر یوں ٹھیک رہے گا

    تو کیوں اس شہر کی گلیوں میں اب وہ خاک اڑاتا ہے
     
  7. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,859
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    رحم ضرور استعمال ہو سکتا ہے اس شعر میں
    باقی اشعار بھی اب درست ہیں
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  8. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    شکریہ سر

    ہماری جستجو کا جن کی بیزاری سے ناتا ہے
    انھیں اب خود ہماری بے بسی پر رحم آتا ہے

    کمالِ ضبط کی طاقت کو ہر روز آزماتا ہے
    شبِ ہجراں میں جب وہ چاند آکر مسکراتا ہے

    ہوا کے دوش پر اڑ کر کوئی پیغام لاتا ہے
    وہ اک بادل کا ٹکڑا کوچہِ جاناں سے آتا ہے

    اسے پہچاننے والا جہاں رہتا نہیں کوئی​
    تو کیوں اس شہر کی گلیوں میں اب وہ خاک اڑاتا ہے

    کسی کے گال پر تِل دیکھ کر ہم کو خیال آیا
    اجالوں میں اندھیروں کو نکھرنا خوب آتا ہے​
    غمِ الفت، جسے اہلِ وفا بھونچال کہتے ہیں
    تباہی پھیر دیتا ہے یہ جس دل میں سماتا ہے

    ہماری منتظر رہتی تھی جس بے درد کی آنکھیں
    ہمیں وہ دیکھنے کے بعد اب نظریں چراتا ہے​
     

اس صفحے کی تشہیر