برائے اصلاح: آگ ہوتی ہے جہاں پر بھی دھواں ہوتا ہے

مقبول

محفلین
محترم الف عین صاحب، دیگر اساتذہ کرام اور احباب سے اصلاح کی گذارش کے ساتھ یہ غزل پیش کر رہا ہوں

آگ ہوتی ہے جہاں پر بھی دھواں ہوتا ہے
مُشک اُٹھتا ہے وہاں عشق جہاں ہوتا ہے

دل کو چھو جائے ،جو آنکھوں میں بسیرا کر لے
ایسے ہر شخص پہ تیرا ہی گماں ہوتا ہے

تجھ پہ دیوان پہ دیوان لکھے جاتے ہیں
کس سے اک خط میں تِرا حسن بیاں ہوتا ہے

خود بھی روتا ہے جدائی کا جو وُہ ذکر کرے
میری آنکھوں سے بھی اک سیل رواں ہوتا ہے

میں ہوں تنہا ہی تڑپتا شبِ ہجر آتی ہے جب
شامل اس دُکھ میں کوئی اور کہاں ہوتا ہے

اس کے پہلو میں رہوں بات کرے یا نہ کرے
اتنا کافی ہے کہ حُسن اس کا عیاں ہوتا ہے

دوریاں اور بڑھا دیتی ہیں ملنے کی تڑپ
ہجر کے دور میں عشق اور جواں ہوتا ہے

تجھ سے مل کر فقط آتی نہیں چہرے پہ خوشی
میرے اندر بھی تو شادی کا سماں ہوتا ہے

لوگ بھی مجھ سے یونہی اس کا پتہ پوچھتے ہیں
وُہ مرے دل میں ہی ہے اور کہاں ہوتا ہے

سر جھکاتا ہوں وہیں ،اس کو سمجھ کر مندر
جس جگہ پر بھی کوئی نقشِ بتاں ہوتا ہے

عشق بھی کرتا رہوں ، پھر بھی تماشا نہ بنوں
ایسا مقبول اس دنیا میں کہاں ہو تا ہے
 

الف عین

لائبریرین
محترم الف عین صاحب، دیگر اساتذہ کرام اور احباب سے اصلاح کی گذارش کے ساتھ یہ غزل پیش کر رہا ہوں

آگ ہوتی ہے جہاں پر بھی دھواں ہوتا ہے
مُشک اُٹھتا ہے وہاں عشق جہاں ہوتا ہے
عشق اور مشک چھپائے نہیں چھپتے
یہ تو محاورہ ہے، لیکن مشک اٹھنا اور وہ بھی عشق کی جگہ؟ یہ کوئی محاورہ نہیں
دل کو چھو جائے ،جو آنکھوں میں بسیرا کر لے
ایسے ہر شخص پہ تیرا ہی گماں ہوتا ہے
پہلے مصرع کی بندش کی وجہ سے دو لخت لگتا ہے، مطلب یہی ہے نا کہ جو "بھی" آنکھوں میں بس جائے، اس پر تیرا ہی گمان ہوتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ بغیر "بھی" کے بات نہیں بنتی ۔ پہلے مصرع میں دو باتوں کی جگہ ایک ہی بات واضح کر کے کہی جائے
تجھ پہ دیوان پہ دیوان لکھے جاتے ہیں
کس سے اک خط میں تِرا حسن بیاں ہوتا ہے
میرے خیال میں دیوان کے دیوان درست محاورہ ہے، شعر درست ہے
خود بھی روتا ہے جدائی کا جو وُہ ذکر کرے
میری آنکھوں سے بھی اک سیل رواں ہوتا ہے
ذکر کرے.. درست نہیں لگتا۔
وہ بھی روتا ہے جدائی کا بیاں کرتے ہوئے
کیسا رہے گا؟
میں ہوں تنہا ہی تڑپتا شبِ ہجر آتی ہے جب
شامل اس دُکھ میں کوئی اور کہاں ہوتا ہے
کئی حروف کا گرنا اچھا نہیں لگتا... راتِ ہِ جب
جب شب ہجر آتی ہے کہنا ضروری ہے؟
میں اکیلا ہی تڑپتا ہوں شب ہجراں میں
قسم کا کوئی مصرع بہتر ہو گا
اس کے پہلو میں رہوں بات کرے یا نہ کرے
اتنا کافی ہے کہ حُسن اس کا عیاں ہوتا ہے
بات کرے... والا حصہ واضح نہیں ہوتا، "چاہے وہ" کی غیر موجودگی میں
دوریاں اور بڑھا دیتی ہیں ملنے کی تڑپ
ہجر کے دور میں عشق اور جواں ہوتا ہے
درست
تجھ سے مل کر فقط آتی نہیں چہرے پہ خوشی
میرے اندر بھی تو شادی کا سماں ہوتا ہے
درست
لوگ بھی مجھ سے یونہی اس کا پتہ پوچھتے ہیں
وُہ مرے دل میں ہی ہے اور کہاں ہوتا ہے
لوگ بس مجھ سے... بہتر نہیں ہو گا؟ "بھی" ذہن کو بہکا دیتا ہے
سر جھکاتا ہوں وہیں ،اس کو سمجھ کر مندر
جس جگہ پر بھی کوئی نقشِ بتاں ہوتا ہے
ٹھیک
عشق بھی کرتا رہوں ، پھر بھی تماشا نہ بنوں
ایسا مقبول اس دنیا میں کہاں ہو تا ہے
درست
 

مقبول

محفلین
سر الف عین ، بہت مہربانی
اب دیکھیے
عشق اور مشک چھپائے نہیں چھپتے
یہ تو محاورہ ہے، لیکن مشک اٹھنا اور وہ بھی عشق کی جگہ؟ یہ کوئی محاورہ نہیں
آگ ہوتی ہے جہاں پر بھی دھواں ہوتا ہے
عشق ہوتا ہے وہاں دشت جہاں ہوتا ہے
یا
عشق ہوتا ہے وہاں حزن جہاں ہوتا ہے
پہلے مصرع کی بندش کی وجہ سے دو لخت لگتا ہے، مطلب یہی ہے نا کہ جو "بھی" آنکھوں میں بس جائے، اس پر تیرا ہی گمان ہوتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ بغیر "بھی" کے بات نہیں بنتی ۔ پہلے مصرع میں دو باتوں کی جگہ ایک ہی بات واضح کر کے کہی جائے
دل کو چھو لے جو بھی آنکھوں میں بسیرا کر لے
ایسے ہر شخص پہ تیرا ہی گماں ہوتا ہے
میرے خیال میں دیوان کے دیوان درست محاورہ ہے، شعر درست ہے
ایسے ہی کر دیا ہے
ذکر کرے.. درست نہیں لگتا۔
وہ بھی روتا ہے جدائی کا بیاں کرتے ہوئے
کیسا رہے گا؟
شاید واضح نہیں ہو سکا۔ جدائی کا حوالہ مستقبل کے لحاظ سے تھا، ماضی کے لحاظ سے نہیں تھا ۔ اب دیکھیے
وُہ بھی روتا ہے جدا ہونے کا گر ذکر بھی ہو
میری آنکھوں سے بھی اک سیل رواں ہوتا ہے
کئی حروف کا گرنا اچھا نہیں لگتا... راتِ ہِ جب
جب شب ہجر آتی ہے کہنا ضروری ہے؟
میں اکیلا ہی تڑپتا ہوں شب ہجراں میں
قسم کا کوئی مصرع بہتر ہو گا
جی، آپ کی تجویز کے مطابق تبدیل کر دیا ہے
بات کرے... والا حصہ واضح نہیں ہوتا، "چاہے وہ" کی غیر موجودگی میں
اس کے پہلو میں رہوں بات وُہ چاہے نہ کرے
اتنا کافی ہے کہ حُسن اس کا عیاں ہوتا ہے
لوگ بس مجھ سے... بہتر نہیں ہو گا؟ "بھی" ذہن کو بہکا دیتا ہے
بھی کی جگہ بس کر دیا ہے
 

الف عین

لائبریرین
مطلع اب بھی پسند نہیں آیا
دل کو چھو لے جو بھی آنکھوں میں بسیرا کر لے
وہی غیر ضروری حروف کا اسقاط جو بھی کا جُبِ تقطیع ہونا
جو کوئی بھی مری آنکھوں میں...
کیسا رہے گا؟
وُہ بھی روتا ہے جدا ہونے کا گر ذکر بھی ہو
گر ذکر بھی ہو
کی بجائے
ہو ذکر کہیں
کر دیا جائے تو؟
باقی درست ہو گئے ہیں اشعار
 

امین شارق

محفلین
مقبول بھائی اچھی غزل ہے مطلع کے لیے ایک تجویز اگر آپ قبول فرمائیں تو۔۔
آگ ہوتی ہے جہاں پر بھی دھواں ہوتا ہے
عشق ہو جائے تو پھر کب وہ نہاں ہوتا ہے
 

مقبول

محفلین
مطلع اب بھی پسند نہیں آیا

وہی غیر ضروری حروف کا اسقاط جو بھی کا جُبِ تقطیع ہونا
جو کوئی بھی مری آنکھوں میں...
کیسا رہے گا؟

گر ذکر بھی ہو
کی بجائے
ہو ذکر کہیں
کر دیا جائے تو؟
باقی درست ہو گئے ہیں اشعار
سر الف عین ، بہت شکریہ
مطلع پر کام کرتا ہوں جبکہ دوسرا شعر آپ کی تجویز کے مطابق تبدیل کر دیتا ہوں
 

مقبول

محفلین
مقبول بھائی اچھی غزل ہے مطلع کے لیے ایک تجویز اگر آپ قبول فرمائیں تو۔۔
آگ ہوتی ہے جہاں پر بھی دھواں ہوتا ہے
عشق ہو جائے تو پھر کب وہ نہاں ہوتا ہے
بہت شُکریہ، امین شارق صاحب
آپ کا تجویز کردہ مصرعہ تو زبردست ہے لیکن میں کچھ ایسا کرنا چاہتا ہوں کہ دونوں مصرعوں میں مطابقت موجود ہے ۔ جیسا کہ دھواں آگ کے ہونے کا پتہ دیتا ہے۔ اسی طرح کچھ ایسی علامت ہو جو عشق کے ہونے کو ظاہر کرے ۔ اگر آپ کے ذہن میں کوئی خیال آئے تو ضرورُشیئر کیجیے
 

الف عین

لائبریرین
امین شارق کا مشورہ درست ہے، تعلق بھی ہے کہ جس طرح دھواں آگ کا پتہ دے کر اسے عیاں کر دیتا ہے، اسی طرح عشق بھی کسی نہ کسی طرح عیاں ہو ہی جاتا ہے
 

مقبول

محفلین
یہ مصرع وزن میں نہیں۔
محترم محمد ریحان قریشی صاحب
بہت نوازش ۔ آپ نے میری غزل کو اپنا قیمتی وقت دیا
محترم مزمل شیخ بسمل صاحب کی دی گئی مانوس بحور کی فہرست میں انہوں نے تحریر فرمایا ہے کہ اس بحر کے ایک فعلاتن کو مفعولن میں تبدیل کرنے کی اجازت ہے ۔ اس مصرعہ میں مقبول اور اس کے درمیان الف کے اتصال کے بعد پہلا فعلاتن مفعولن میں بدل جاتا ہے تو اس طرح بسمل صاحب کی تحریر کے مطابق مصرعہ باوزن ہے ۔ آپ اس پر کیاُرائے رکھتے ہیں؟
سر الف عین
سید عاطف علی
محمد عبدالرؤوف
 
آخری تدوین:

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین
محترم محمد ریحان قریشی صاحب
بہت نوازش ۔ آپ نے میری غزل کو اپنا قیمتی وقت دیا
محترم مزمل شیخ بسمل صاحب کی دی گئی مانوس بحور کی فہرست میں انہوں نے تحریر فرمایا ہے کہ اس بحر کے ایک فعلاتن کو مفعولن میں تبدیل کرنے کی اجازت ہے ۔ اس مصرعہ میں مقبول اور اس کے درمیان الف کے اتصال کے بعد پہلا فعلاتن مفعولن میں بدل جاتا ہے تو اس طرح بسمل صاحب کی تحریر کے مطابق مصرعہ باوزن ہے ۔ آپ اس پر کیاُرائے رکھتے ہیں؟
سر الف عین
سید عاطف علی
محمد عبدالرؤوف
اگر ایسی کوئی لچک اس بحر میں ہے تو اساتذہ بتا سکتے ہیں مجھے کچھ اس کا علم نہیں ہے۔

ویسے کچھ لفظ آگے پیچھے کرنے سے یہ مصرع بحر میں آ سکتا ہے۔
ایسا مقبول اس دنیا میں کہاں ہو تا ہے
ایسا دنیا میں اے مقبول کہاں ہوتا ہے
 

مقبول

محفلین
اگر ایسی کوئی لچک اس بحر میں ہے تو اساتذہ بتا سکتے ہیں مجھے کچھ اس کا علم نہیں ہے۔

ویسے کچھ لفظ آگے پیچھے کرنے سے یہ مصرع بحر میں آ سکتا ہے۔

ایسا دنیا میں اے مقبول کہاں ہوتا ہے
شُکریہ جناب ، آپ کو اس لیے ٹیگ کیا تھا کیونکہ ایک تو آپ ماشاالّلہ علم کا خزانہ ہیں دوسرا آپ نے بھی قریشی صاحب سے اتفاق کیا تھا
جو مصرعہ آپ نے تجویز کیا ہے اس کا وزن بھی میرے مصرعے والا ہے جب تک کی اے کا ے نہ گرایا جائے
کچھ اور تجویز فرمائیے
 

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین
آپ کو اس لیے ٹیگ کیا تھا کیونکہ ایک تو آپ ماشاالّلہ علم کا خزانہ ہیں
اس قدر غصہ 😊
جو مصرعہ آپ نے تجویز کیا ہے اس کا وزن بھی میرے مصرعے والا ہے جب تک کی اے کا ے نہ گرایا جائے
میرے خیال میں "اے" کا "ے" گرانے میں قباحت نہیں۔ ویسے اساتذہ بتا سکتے ہیں۔
ویسے "سنسار" کے ساتھ وزن اور بات تو پوری ہو جائے گی لیکن یہ لفظ غزل کے مزاج سے میل نہیں کھاتا
 

مقبول

محفلین
جناب، آپ کی عظمت کا اعتراف کیا ہے 😊
میرے خیال میں "اے" کا "ے" گرانے میں قباحت نہیں۔ ویسے اساتذہ بتا سکتے ہیں۔
اگر میری یادداشت صحیح ساتھ دے رہی ہے تو استاد محترم کئی دفعہ اصلاحِ سخن میں اے کا ے گرانے سے منع فرما چکے ہیں
 
محترم مزمل شیخ بسمل صاحب کی دی گئی مانوس بحور کی فہرست میں انہوں نے تحریر فرمایا ہے کہ اس بحر کے ایک فعلاتن کو مفعولن میں تبدیل کرنے کی اجازت ہے ۔ اس مصرعہ میں مقبول اور اس کے درمیان الف کے اتصال کے بعد پہلا فعلاتن مفعولن میں بدل جاتا ہے تو اس طرح بسمل صاحب کی تحریر کے مطابق مصرعہ باوزن ہے ۔ آپ اس پر کیاُرائے رکھتے ہیں؟
جی دقیانوس کے زمانے کے اس اصول سے میں واقف ہوں لیکن فعلاتن کو مفعولن کرنے والا زحاف یا زحف میرے نزدیک 'نثر' کہلاتا ہےاوراس کے اطلاق سے بحرِ رمل مثمن مخبون محذوف تبدیل ہو کر رمل مثمن مخبون محذوف منثور ہو جاتی ہے۔
ایسے میں مصرع وزن میں ہو بھی تو وزن میں نہیں رہتا۔
میرے خیال میں "اے" کا "ے" گرانے میں قباحت نہیں۔ ویسے اساتذہ بتا سکتے ہیں۔
اے کی ے کا اسقاط صریحاً نادرست ہے۔
 

مقبول

محفلین
جی دقیانوس کے زمانے کے اس اصول سے میں واقف ہوں لیکن فعلاتن کو مفعولن کرنے والا زحاف یا زحف میرے نزدیک 'نثر' کہلاتا ہےاوراس کے اطلاق سے بحرِ رمل مثمن مخبون محذوف تبدیل ہو کر رمل مثمن مخبون محذوف منثور ہو جاتی ہے۔
ایسے میں مصرع وزن میں ہو بھی تو وزن میں نہیں رہتا۔

اے کی ے کا اسقاط صریحاً نادرست ہے۔
ٹھیک ہے، سر۔ شُکریہ
 
محترم مزمل شیخ بسمل صاحب کی دی گئی مانوس بحور کی فہرست میں انہوں نے تحریر فرمایا ہے کہ اس بحر کے ایک فعلاتن کو مفعولن میں تبدیل کرنے کی اجازت ہے
یہ شیخ صاحب نے کہاں ذکر کیا ہے اور اس کی کوئی مثال بھی پیش کی گئی ہے ؟
 

مقبول

محفلین
یہ شیخ صاحب نے کہاں ذکر کیا ہے اور اس کی کوئی مثال بھی پیش کی گئی ہے ؟
عروض ڈاٹ کام ویب سائٹ پر دیے گئے مضامین میں بسمل صاحب کا مانوس بحور پر ایک مضمون بھی شامل ہے جس میں اس رعایت کا ذکر موجود ہے
میں تو اساتذہ کے کہے اور لکھے کو کافی سمجھتا ہوں۔ کبھی مثال پوچھنے کی جرات نہیں کی
 

مقبول

محفلین
مطلع اب بھی پسند نہیں آیا
سر الف عین ، بہت نوازش
مطلع اور دوسرا شعر دیکھیے

وصل چھپتا ہے نہ محتاجِ بیاں ہوتا ہے
یہ تو انگ انگ سے عاشق کے عیاں ہوتا ہے

جس کو بھی دیکھ کر آنکھیں نہ جھپک پاؤں میں
یا
اک نظر میں ہی جو آنکھوں میں بسیرا کر لے
ایسے ہر شخص پہ تیرا ہی گماں ہوتا ہے
 
آخری تدوین:
Top