بجلی کے 96 ارب کے واجبات عوام سے وصول کرنے کا فیصلہ !

الف نظامی

لائبریرین
1101088514-1.gif
 

الف نظامی

لائبریرین
بجلی کے 96 ارب سرکاری واجبات عوام سے وصول کرنے کا فیصلہ
بجلی ہر ماہ 2 فیصد مہنگی کرنے کا عمل اسی ماہ شروع ہوگا ، اضافہ کا نیپرا سے کوئی تعلق نہیں : پیپکو
وفاقی وزارتوں سمیت 21 ادارے واجبات ادا کریں تو بوجھ صارفین پر نہیں پڑے گا : ذرائع
اسلام آباد --- رپورٹ : ریاض تھہیم
وفاقی حکومت آئی ایم ایف کے دباو پر آزاد کشمیر ، وفاقی اداروں اور چاروں صوبوں کے ذمہ 96 ارب روپے کے بجلی کے واجبات کا بوجھ چھوٹے صارفین پر ڈالنے پر تل گئی ہے اور ہر ماہ دو فیصد بجلی قیمتوں میں اضافہ پر عمل اس ماہ سے شروع ہو جائے گا۔ ایکسپریس کو دستیاب سرکاری دستاویز کے مطابق وفاقی ہسپتال ، دفاعی ادارے اور وفاقی وزارتوں سمیت 21 سے زائد ادارے پیپکو کے ساڑھے تین ارب روپے کے نادہندہ ہیں۔
آزاد کشمیر حکومت 4 ارب
سندھ 29 ارب
پنجاب 3 ارب 75 کروڑ
خیبر پختونخواہ 1 ارب
بلوچستان 2.5 ارب
وفاقی ادارے 3.5 ارب
اور کراچی الیکڑک سپلائی کمپنی نے پیپکو کے مجموعی طور پر 96 ارب 75 کروڑ روپے بقایا جات ادا کرنے ہیں۔
وفاق ، صوبوں ، آزاد کشمیر اور کے ای ایس سی کئی سالوں سے پیپکو کے نادہندہ ہیں۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط پر حکومت نے بجلی کی قیمتوں میں سہ ماہی بنیاد پر 6 فیصد اضافہ کی حامی بھر لی ہے اور ہر ماہ بجلی دو فیصد مہنگی کی جائے گی جس کا نوٹیفیکیشن ہر ماہ وزارت پانی و بجلی کرے گی تاہم اگر نادہندہ ادارے 96 ارب ادا کر دیں تو بجلی قیمتوں میں اضافہ کا بوجھ صارفین پر منتقل نہیں کرنا پڑے گا۔ پیپکو کے مطابق اس وقت دی جانے والی سبسڈی ، بجلی کے ترسیلی نقصان اور بجلی چوری کی مد میں پیپکو کو 250 ارب خسارے کا سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس اضافہ کا نیپرا سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ حکومت نیپرا کے بجلی ٹیرف کے تعین کے لئیے کئے گئے فیصلوں پر عمل نہیں کرتی اور قومی خزانہ سے سبسڈی ادا کرتی ہے۔
 

طالوت

محفلین
ہمیں تو اٹھا کر بیگار کیمپ میں ڈال دیں ، ہماری بھی جان چھوٹے اور ان کی بھی ۔ بجلی چوروں کو کوئی پوچھتا نہیں اور ہم ٹیکس بھی دیں اور اضافی رقم بھی اور جوابا ملے ٹھینگا۔
 
Top