بجائے تہنیت ، مذمت

فرید احمد

محفلین
یہاں اس اخبار کے مدیروں کا ای میل درج کرتا ہوں، کسی بہتر اگریزی داں سے گذارش ہے کہ چند سطری انگریزی بیان یہاں نقل کر دیں ، نیٹ پر بہت سے اخبار پر دستیاب ہو جائے گا ۔ذرا تلاش کی زحمت گوارا کریں ۔
Redaktionen: jp@jp.dk
internetavisen@jp.dk
 

الف نظامی

لائبریرین
ہم آپ کے اخبار میں چھپنے والے توہینی کارٹون کی شدید مذمت کرتے ہیںاس نے امتِ مسلمہ کے جذبات مجروح کیے ہیں اور امتِ مسلمہ میں اس بارے میں شدید اضطراب و اشتعال پایا جاتا ہے۔ آٔپ فوری طورپر تمام امتِ مسلمہ سے معافی مانگیں اور آپ کے ملک کا وزیرِ اعظم یا صدر بھی۔
 

اظہرالحق

محفلین
دل تو نہیں کرتا کہ اس موضوع پر اپنی کچھ بھی رائے دوں کہ ، باتوں کے شیر ہونے سے بہتر ہے کہ عملی میدان میں کچھ کیا جائے ایک “چوہے“ کے طور پر ہی سہی ۔ ۔

نہ مذمت سے کچھ ہو گا ، نہ لمبی مباحث سے ، نہ ای میل سے نہ ہی احتجاج سے ۔ ۔ ۔ اگر کچھ ہو گا تو عمل سے ، آؤ ہم سب صرف اپنے نبی (ص) کے لئے ہی سب کدورتیں ختم کر کے متحد ہو جائیں ۔ ۔ ۔

کیا آپ لوگ یہ ای میل مسلمان حکمرانوں کو نہیں بھیج سکتے ؟

prisidentofpakistan.com.pk
shaikhmohammad.com

اور کیا وہ مسلمان جن کا سرمایہ ڈنمارک میں لگا وہ نکال لیں گے ؟

میرے خیال میں ایسا ہرگز نہیں ہو گا ۔ ۔ ۔ صرف سلمان رشدی والے کیس کی طرح کچھ احتجاج ہو گا ۔ ۔ ۔ اور مظاہرے مذمت اور ۔ ۔ ۔ پھر سب اپنے اپنے بزنس میں بزی ۔ ۔ ۔
 

نبیل

تکنیکی معاون
اظہرالحق۔ آپ کیا بات کرتے ہیں۔۔ اتنے عرصے سے اسرائیل مسلم اور عرب ممالک کے عین قلب میں فلسطینیوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے اور عرب ممالک اسرائیل کے سرپرست امریکہ اور یورپ کو سستا تیل فراہم کر رہے ہیں۔ کیا ان کی ہمت ہے کہ ایک سیکنڈ کے لیے بھی تیل کی سپلائی روک دیں؟

آپ صحیح کہہ رہے ہیں۔ ایک محض رسمی سا بیان آئے گا۔۔ خانہ پری کے لیے۔۔ اور بس۔
 

فرید احمد

محفلین
احتجاجی مضمون

اپنے ایک کرم فرما الیاس پٹیل patelilyas786@yahoo.co.in)
سے انگریزی مضمون بنواکر یہاں پیش کرتا ہوں ، برائے ہر ایک دوست اپنے ذاتی ای میل سے اسے روانہ کریں ،
اب جب کہ ڈنمارکے سختی اختیار کرتے ہوئے ڈنمارک کے اماموں سے ربط ختم کر دیا ہے ، امریکہ بھی اس کی حمایت میں اتر آیا ہے ، اپنے پر امن احتجاج کے رویہ پر ہمیں ثابت قدم رہتے ہوئے آگے بڑھنا ہے ۔
Assalamu Alaikum Wr. Wb.
Please forward this letter to your friends and tell them to forward to their freinds.
Ilyas Patel.
----------------------------------------------------------------------------
This is not freedom of speech but a kind of conspiracy on the publication of cartoon on Prophet Muhammed S.A.W.
A very sever controversy occurred on the publication of cartoon on Prophet Muhammed S.A.W. throughout the world. This cartoon has been published by fascist media of Denmark. It is an eye opening for the Muslim world. This is nothing but a part of hidden agenda of undeclared war of crusaders. Not only Islam but almost all religions of world teach their followers to respect other religions holy men and women. But in the name of freedom of speech western media are no leaving a stone unturned to malign and defame the Islam and its prophet. Muslims world never tolerates such humiliations. It will be opposed strongly with every manner.

This is not a freedom of speech but a conspiracy against Islam. What kind of freedom is this? Why one does not marry to his sister or mother? Why? They are also women. It means there are some human laws which should be thoroughly obeyed, otherwise peace is no guaranteed.
Ilyas Patel.
 
Top