سلیم احمد بارہا شب کو یوں لگا ہے مجھے - سلیم احمد

فرحان محمد خان نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 11, 2018

  1. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,138
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    بارہا شب کو یوں لگا ہے مجھے
    کوئی سایہ پکارتا ہے مجھے

    جیسے یہ شہر کل نہیں ہو گا
    جانے کیا وہم ہو گیا ہے مجھے

    میں ستاروں کا ایک نغمہ ہوں
    بیکراں رات نے سُنا ہے مجھے

    میں ادھورا سا ایک جملہ ہوں
    اہتماماََ کہا گیا ہے مجھے

    دکھ ہے احساسِ جرم ہے کیا ہے
    کوئی اندر سے توڑتا ہے مجھے

    جیسے میں دیکھتا ہوں آئینہ
    یوں ہی آئینہ دیکھتا ہے مجھے

    جب میں باتوں سے ٹوٹ جاتا ہوں
    کوئی ہونٹوں سے جوڑتا ہے مجھے

    سازشیں یہ کسی چراغ کی ہیں
    میرا سایہ ڈرا رہا ہے مجھے

    وہ مجھے پوچھنے کو آیا تھا
    حال اپنا سُنا رہا ہے مجھے

    جانے وہ کون تھا دیے کی طرح
    راستے میں جلا گیا ہے مجھے

    نیند کے حاشیوں میں پچھلے پہر
    اک ستارا پکارتا ہے مجھے

    اُس نے کیسے سجا سجا کے سلیمؔ
    اک غزل کی طرح لکھا ہے مجھے
    سلیم احمد
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر