بارش کا پہلا قطرہ

بارش کا پہلا قطرہ

دیکھ جاناں!
پہلا قطرہ بارش کا،
کیا کہتا ہے؟
تم بھی تنہا ،
میں بھی تنہا،
تنہا دنیا ساری،
میں ٹپکا ہوں
اور بھرا ہوں،
اب ہے تیری باری۔۔۔۔۔
دیکھ لے جاناں!
پہلا قطرہ،
بارش کا یہ پہلا قطرہ۔۔
مجھ کو ٹوکے
مجھ کو روکے۔
رکھے یہ میرا خیال!
چپکے چپکے مجھ سے بولے،
تنہائی کے سب راز کھولے۔۔۔
اس تنہا پن میں خوش رہنا،
ہنسنا، جب دیکھے دنیا۔۔
اور پھر چپ کر تم رونا۔
کہنا دل کی ساری باتیں،
در، دریچوں ، دیواروں سے،
کہ لاکھ راز ہیں پنہاں ان میں۔
تم بھی سب کچھ کہہ ڈالو،
اور نبھالو یہ ریت پرانی،
سب سنائیں اپنی زبانی،
کو ن پڑھے آنکھوں کی کہانی
کوئی نہ کسی کا یہاں دل جانی۔۔۔
تو اے جانِ جانا!!
مجھ کو کتنا بھاتا ہے
بارش کا یہ پہلا قطرہ۔۔
کیوں کہ
میری جاناں!
مجھ کویہ
تیری یاد دلاتا ہے۔
×××××××​
 
لودھی صاحب یہ کس بحر کی پابند نظم ہے؟
سر ابن رضا، آپ کا تبصرہ پڑھ کر پہلے میں مسکرایا۔۔۔ اپنی شاعری پر۔۔
کیونکہ میں نہ تو عروض سے واقف ہوں نہ کبھی سمجھ سکا ہوں، پڑھنے کے باوجود۔
بس جو دل میں آتا ہے، جیسے آتا ہے، لکھ دیتا ہوں۔ اب کس بحر کی ہے، اللہ جانتا ہے۔۔ میں نہیں۔
اسلیے اگر تو کسی بھی بحر کی نہیں تو سمجھ لیں کہ کچھ زیادہ ہی آزاد نظم ہے۔۔۔
اور میری ساری بے تکی شاعری بس تکے پر ہی مبنی ہو گی، جو بھی اگر شیئر ہو گی۔۔
 

ابن رضا

لائبریرین
کوئی بات نہیں محترم ہم بھی آپ کی طرح طفل ِ مکتب ہیں تاہم یہ نظم شائع کرنے کے لیے جو زمرہ آپ نے منتخب کیا ہےیہ اس کلام کے لیے موزوں نہیں۔ منتظم صاحب سے گزارش ہے کہ اس لڑی کو اصلاحِ سخن یا بحور سے آزاد شاعری کے زمرے میں منتقل کر دیا جائے۔
 

نایاب

لائبریرین
سچے جذبے کب کسی قید میں رہتے ہیں ۔۔۔۔
سچے جذبوں کی مہک بہت آزادی سے نظم ہوئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت سی دعاؤں بھری داد
 

الف عین

لائبریرین
یہ مکمل نثری نظم بھی نہیں۔ فعلن فعلن، متقارب میں کئی مصرع فٹ ہوتے ہیں، لیکن دو ایک حروف یا الفاظ کم یا زائد ہیں۔ بہر حال خیالات اچھے ہیں۔
 
یہ مکمل نثری نظم بھی نہیں۔ فعلن فعلن، متقارب میں کئی مصرع فٹ ہوتے ہیں، لیکن دو ایک حروف یا الفاظ کم یا زائد ہیں۔ بہر حال خیالات اچھے ہیں۔
یعنی آزاد نظم کو بھی بالکل ہی آزاد نہیں رکھا گیا۔ اس میں بھی کچھ شرائط و ضوابط بنا کر چھوڑے ہیں۔
بہت خوب۔
لیکن جناب، اس دل کا کیا کریں۔ اگر یہ پابندیوں کی پابندی کرے تو پھر کچھ بھی نہ کرے۔۔ :(
اس لیے سب محترم اساتذہ کرام سے معذرت ، اگر ان کو میری کوئی بے بحر کی، بے وزن کی، بے سکون سی نظم ، بےتکی سی غزل پڑھنے کو ملے۔:)
 
Top