بادشاہی کا شوق سب کو ہے سخت

محمد حسین

محفلین
بادشاہی کا شوق سب کو ہے سخت
پر میسر کسی کسی کو ہے تخت


زندگی‘ موت ‘غم‘ خوشی ‘چاہت
سب کو حاصل مگرمطابقِ بخت


ایک پل کا بھی ہم کو کیا احساس
بس گزرتا ہی جا رہا ہے وقت


"نازکی ان کے لب کی کیا کہیئے"
گفتگو یکدم ان کی ہائے کرخت


خوش ہوں غمگین ہوں ‘پہ بھُولا ہوں
وقت محدود ہے ، ہے نرم کہ سخت


کوئی خاموشیوں کو سمجھے حسین
بڑھتے ہیں کیسے خامشی سے درخت؟
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین

صرف معنوی اعتبار سے لکھ رہا ہوں ۔یہ فرض کرتے ہوئے کہ اشعار کی تقطیع آپ نے دیکھ لی ہوگی ۔۔۔
بادشاہی کا شوق سب کو ہے سخت
پر میسر کسی کسی کو ہے تخت

۔۔۔ سخت کا لفظ منفی معنوں میں استعمال ہوتا ہے، جہاں تک میرا ناقص خیال ہے۔ جیسے مجھے سخت تکلیف ہے، یعنی شدید تکلیف ہے، مجھے فلاں چیز سے سخت نفرت ہے، یعنی بے انتہا نفرت ہے، وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ شو ق کا سخت ہونا سمجھ میں نہیں آیا۔۔۔ اگر یہ مانا جائے، تب بھی شعر کمزور ہے کیونکہ وہ دور گئے جب کسی کسی کو بھی تخت میسر ہوا کرتا تھا۔۔۔ حالانکہ یار لوگوں نے کوشش تو خوب کی ہے کہ تخت و تاج کا وہ دورِ شاہی واپس آجائے۔۔۔ لیکن ایسا ہونا ممکنات میں سے نہیں لگتا۔
زندگی‘ موت ‘غم‘ خوشی ‘چاہت
سب کو حاصل مگرمطابقِ بخت

۔۔۔ مطابقِ بخت کی ترکیب قدرے نئی ہے میرے لیے، پھر بھی غلط نہیں لگتی ۔۔۔ تاہم بات اول تا اظہار جاندارنہیں، دوم خوشی، زندگی، موت، غم اور چاہت سب کو ایک ہی پلڑے میں رکھ کر تولا نہیں جاسکتا۔ زندگی کم یا زیادہ نہیں ہوتی، نہ موت کم یا زیادہ ہوتی ہے۔ باقی کو کم زیادہ سمجھا جاسکتا ہے، اس لیے مطابق بخت اس حد تک ہی ٹھیک لگتا ہے۔۔۔
ایک پل کا بھی ہم کو کیا احساس
بس گزرتا ہی جا رہا ہے وقت

۔۔۔وقت کا قافیہ غلط ہے ، باقی کسی قافیے سے ملتا نہیں، اس لیے کہا۔
"نازکی ان کے لب کی کیا کہیئے"
گفتگو یکدم ان کی ہائے کرخت

۔۔۔ میر کا مصرع آپ لائے، لیکن دوسر ا مصرع کمزور ہے۔ یکدم کی کیا گنجائش نکلتی ہے؟کیا پہلے گفتگو نرم ہو رہی تھی کہ اب کرخت ہوئی؟ ۔۔۔ میر تو ناز کی بات کر رہے تھے ۔۔
خوش ہوں غمگین ہوں ‘پہ بھُولا ہوں
وقت محدود ہے ، ہے نرم کہ سخت

۔۔۔ غیر واضح ہے ۔۔۔
کوئی خاموشیوں کو سمجھے حسین
بڑھتے ہیں کیسے خامشی سے درخت؟

۔۔۔مقطع کے لیے قدرے کمزور ہے ۔۔۔ ویسے سوائے خاموشی کی تکرار کے اور کوئی کمزوری دکھائی نہیں دیتی ۔۔۔
 
Top