ایک گیت اصلاح ، رہنمائی کیلئے،'' چاند چہرہ، وہ جھیل سی آنکھیں''

چاند چہرہ وہ ، جھیل سی آنکھیں
ڈوب جاؤ، پُکارتی آنکھیں

اُن میں کیسی وہ دلرُبائی تھی
کھینچ کر مجھ کو پاس لائی تھی
پھر مجھے یاد کچھ نہیں یارو
بس اُن آنکھوں سے چار کی آنکھیں
ڈوب جاؤ، پُکارتی آنکیں

پھر سراپا بھی وہ قیامت کا
کیا کرے شیخ اس شرافت کا
پر وہ بھٹکی مری نگاہوں کو
آنکھوں آنکھوں سنوارتی آنکھیں
ڈوب جاؤ، پُکارتی آنکیں

خواب میں آ کے چھیڑ دیں گی مجھے
اب وہ پاگل کیا کریں گی مجھے
بچ کے جانا بھی کون چاہے گا
شوخ ، چنچل، شرشرتی آنکھیں
ڈوب جاؤ، پُکارتی آنکیں

میری ٹھوکر پہ چونک جاتی ہیں
دیکھ کر ٹھیک چین پاتی ہیں
پیار میں ڈوب کر کہیں اظہر
میری نظریں اُتارتی آنکھیں
ڈوب جاؤ، پُکارتی آنکیں​
 
معذرت کہ کچھ ٹائپو رہ گیا

چاند چہرہ وہ ، جھیل سی آنکھیں
ڈوب جاؤ، پُکارتی آنکھیں

اُن میں کیسی وہ دلرُبائی تھی
کھینچ کر مجھ کو پاس لائی تھی
پھر مجھے یاد کچھ نہیں یارو
بس اُن آنکھوں سے چار کی آنکھیں
ڈوب جاؤ، پُکارتی آنکھیں

پھر سراپا بھی وہ قیامت کا
کیا کرے شیخ اس شرافت کا
پر وہ بھٹکی مری نگاہوں کو
آنکھوں آنکھوں سنوارتی آنکھیں
ڈوب جاؤ، پُکارتی آنکھیں

خواب میں آ کے چھیڑ دیں گی مجھے
اب وہ پاگل کیا کریں گی مجھے
بچ کے جانا بھی کون چاہے گا
شوخ ، چنچل، شرارتی آنکھیں
ڈوب جاؤ، پُکارتی آنکھیں

میری ٹھوکر پہ چونک جاتی ہیں
دیکھ کر ٹھیک چین پاتی ہیں
پیار میں ڈوب کر کہیں اظہر
میری نظریں اُتارتی آنکھیں
ڈوب جاؤ، پُکارتی آنکھیں​
 

الف عین

لائبریرین
ایک تو
’چار کی‘ آنکھیں غلط ہے۔ یہاں ’چار کیں‘ کا محل ہے۔
یہ واضح نہیں
پر وہ بھٹکی مری نگاہوں کو
آنکھوں آنکھوں سنوارتی آنکھیں
کیا یہاں بھی ’بھٹکیں‘ درست ہو گا؟

میری ٹھوکر پہ چونک جاتی ہیں
دیکھ کر ٹھیک چین پاتی ہیں
۔۔میری ٹھوکر سے مراد؟
شاید یوں واضح ہو (اگر یہی مراد ہے تو)
کھاؤں ٹھوکر تو۔۔۔
 
ایک تو
’چار کی‘ آنکھیں غلط ہے۔ یہاں ’چار کیں‘ کا محل ہے۔
یہ واضح نہیں
پر وہ بھٹکی مری نگاہوں کو
آنکھوں آنکھوں سنوارتی آنکھیں
کیا یہاں بھی ’بھٹکیں‘ درست ہو گا؟

میری ٹھوکر پہ چونک جاتی ہیں
دیکھ کر ٹھیک چین پاتی ہیں
۔۔میری ٹھوکر سے مراد؟
شاید یوں واضح ہو (اگر یہی مراد ہے تو)
کھاؤں ٹھوکر تو۔۔۔
جی بہت بہتر اُستاد محترم

چاند چہرہ وہ ، جھیل سی آنکھیں
ڈوب جاؤ، پُکارتی آنکھیں

اُن میں کیسی وہ دلرُبائی تھی
کھینچ کر مجھ کو پاس لائی تھی
پھر مجھے یاد کچھ نہیں یارو
پار آنکھوں سے جب ہوئی آنکھیں
ڈوب جاؤ، پُکارتی آنکھیں

پھر سراپا بھی وہ قیامت کا
کیا کرے شیخ اس شرافت کا
پر بھٹکتی مری نگاہوں کو
آنکھوں آنکھوں سنوارتی آنکھیں
ڈوب جاؤ، پُکارتی آنکھیں

خواب میں آ کے چھیڑ دیں گی مجھے
اب وہ پاگل کیا کریں گی مجھے
بچ کے جانا بھی کون چاہے گا
شوخ ، چنچل، شرارتی آنکھیں
ڈوب جاؤ، پُکارتی آنکھیں

کھاؤں ٹھوکر تو چونک جاتی ہیں
دیکھ کر ٹھیک چین پاتی ہیں
پیار میں ڈوب کر کہیں اظہر
میری نظریں اُتارتی آنکھیں
ڈوب جاؤ، پُکارتی آنکھیں​
 
Top