ایک گمنام شاعر مقبول عامر

ٹی ایس ایلیٹ کا کہنا ہے کہ نقاد کے فرائض میں شامل ہے کہ وہ گمنام شاعروں کے کلام کا بھی جائزہ لے اور انھیں منظر عام پر لائے۔اس طرح بہت سے ایسے نمونے جو دنیا کی نظر سے اوجھل ہوتے ہیں لوگوں کی نظروں‌کے سامنے آجاتے ہیں۔ مقبول عامر کا شمار سرحد کے اچھے غزل گو شاعروں میں ہوتا ہے۔ ان کی غزل پیش خدمت ہے۔

غزل

رات بیٹھا تھا میرے پاس خیالوں میں کوئی
انگلیاں پھیر رہا تھا میرے بالوں‌میں کوئی

دیدہء تر نے بڑی دیر میں پہچانا اسے
روپ کھو بیٹھا ہے دو چار ہی سالوں میں کوئی

غمزدہ شب کی گلو گیر ہوا کہتی ہے
یاد کرتا ہے مجھے چاہنے والوں میں کوئی

میں شبِ شہر میں تھا اور ادھر گاوں میں
جلتی شمعیں لیے پھرتا رہا گالوں میں کوئی

ہم اندھیروں کے مکیں ان کو نظر آ نہ سکے
کس قدر محو رہا اپنے اجالوں میں کوئی

ہجر نے اتنا ستایا ہے کہ جی چاہتا ہے
کاش مل جائے تیرے چاہنے والوں میں کوئی
 

F@rzana

محفلین
؛

واقعی بہت عمدہ غزل ہے، بہت خوب!

ترے خیال سے آنکھیں ملانے والی ہوں
نئے سروپ کا جادو جگانے والی ہوں

میں سینت سینت کے رکھے ہوئے لحافوں سے
تمہارے لمس کا جادو جگانے والی ہوں

اسے جو دھوپ لئے دل کے گاؤں میں اترا
رہٹ سے چاہ کا پانی پلانے والی ہوں

کہو کہ چھاؤں مری خود سمیٹ لے آکر
میں اب گھٹا کا پراندہ ہلانے والی ہوں

جہاں پہ آم کی گٹھلی دبی تھی بھوبھل میں
وہیں پہ اپنے دکھوں کو تپانے والی ہوں​
 
Top