ایک کہانی (شیخ کورنگی اول ) - قسط 11

سید رافع

محفلین
شیخ کورنگی اول - سو لفظوں کی کہانی
۲۰۰۵ کی ایک صبح کا سورج طلوع ہوتا ہے۔ لڑکے نے شب سے ہی شیخ کورنگی سے ملنے کا ارادہ کیا ہوا تھا۔
وہ سولہ زبانیں جانتے تھے اور نام نہاد اسلامی بینکاری کے سرکردہ تھے۔
دل میں اللہ کی یاد تہجد اور وظایف کی طرف متوجہ کرتی ہے۔
بینک کا مال نکل نکل کر لوگوں کو خوش کر رہا ہوتا ہے۔
اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ چہرے کی کھال ملایم اور باریک ہو جاتی۔
کالا چہرہ بھی ایک عجب روشنی دے رہا ہوتا ہے۔
گورہ چہرہ نور سے سفید ہورہا ہوتا ہے۔
شیخ رب میڈیکل کی یہ ضد کہ تکرار قرار پیدا کرتی ہے عقلوں میں مکر اور چہروں کو سیاہ اور روکھا کیے دے رہیں تھیں۔
جوچند چہرے یہاں روشن تھے وہ انکی اپنی معصومیت تھی نہ کہ شیخ کا کمال۔
نہ جانے امام بارگاہ کی مجالس کی طرح ان مجالس نے قلوب کا کیا سے کیا حال کر دیا تھا کہ چہروں کی رونق اڑ چکی تھی۔
قریبا ایک صدی قبل برطانوی راج طرح طرح سے مسلمانوں کو مٹا رہا تھا۔ ایک حربہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو کم کرنا تھا۔
اس مخبوط الحواس سودی راج نے عرب شریف مِیں سلطنت عثمانیہ کو گرانے کے لیے آل سعود،ینگ ترک اور اتا ترک کو قوت دی۔ آل سعود نے وہاب صاحب کی دینی سوچ سے نکاح کیا جس کے بطن سے طرح طرح کی ناگوار باتیں اسلامی دنیا کی تیز ترین ناکوں کو پراگندہ کر رہیں تھیں۔
یہاں ہند میں بھی عرب شریف کی وہابی تحریک نے زور دکھایا۔
اشر ف علی تھانوی صاحب جو سینکڑوں کتب کے مولف اور محقق عالم تھےبزور قلم خالق و مخلوق کے ختم ہوتے فرق کو واضح کرنا چاہا۔ لیکن انہوں نے اس ضمن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم پر حفظ الایمان میں وہ کلام کیا کہ جس کو بعد میں تبدیل کر کے انہوں نے چھاپا۔
لیکن قبل اسکے وہ توبہ کرتے یہ کیا گیا سو احمد رضا خان بریلوی جو ایک بلند پایا بزرگ اور محقق عالم تھے، اس پر ایک ایسی سخت گرفت کی کہ آج بھی برصغیر کے مسلمانوں کے قدم ان دو علما کے جھگڑے کی بیڑیوں میں جکڑے ہوے ہیں۔ یہ تقسیم دنیا بھر میں اسلام کی قوت کو کم کررہا ہے۔
لڑکے کی گاڑی کورنگی کی چوڑی چوڑی سڑکوں پر تیز رفتاری سے اپنی منزل کی جانب چلے جا رہی تھی۔
لڑکے نے ایک رقہ لکھا تھا جس کو فوٹو اسٹیٹ کر لیا تھا تاکہ کسی اور شیخ کو دکھانا ہو تو بار بار نہ لکھنا پڑے۔
لڑکا اس ورق کو استقبالیہ پر موجود ایک بزرگ کو دکھاتا ہے۔
شیخ کورنگی بھی شیخ رب میڈیکل کی طرح اشرف علی تھانوی صاحب کے سلسلے سے ہوتے ہوے جناب علی المرتضی علیہ السلام تک جا پہنچتے تھے۔
استقبالیہ کے بزرگ نے پڑھنے کے بعد ایک ادب سکھایا۔ کہنے لگے حضرت شیخ تو اس پر اعتراض نہ کریں گے لیکن بہتر نہ ہو گا کہ آپ فوٹو اسٹیٹ کے بجاے اپنے ہاتھ کی لکھی تحریر ان کے سامنے رکھیں۔
لڑکا اصل تحریر بزرگ استقبالیہ کو دکھاتا ہے۔
وہ لڑکے کو شیخ کے آفس کا پتہ بتاتے ہیں۔
لڑکا آفس پہنچتا ہے تو وہاں انکے سیکریٹری پرچے کو لے لیتے ہیں اور لڑکے کو بیٹھنے کو کہتے ہیں۔
وہ اندر جا کر ورق شیخ کو دے دیتے ہیں۔
کچھ دیر بعد شیخ لڑکے کو بلا تے ہیں۔
لڑکا ایک بڑے سے کمرے میں داخل ہوتا ہے جس میں کھڑکی کی سمت ایک یورنیورسٹی پرنسپل نما میز اور کرسی تھی۔
وہیں شیخ تشریف فرما تھے۔
ایک طرف ایک گدا اور تکیہ تھا جہاں شاید شیخ آرام کرتے ہوں گے۔
لڑکا نوکری سے اپنی عدم دلچسپی اور وہاں کے ماحول سے تنگ دلی کا تذکرہ کرتا ہے۔
شیخ سے ترمذی شریف سے متعلق بات ہوتی ہے تو وہ پوچھتے ہیں کہ آپ نے مکمل پڑھ لی؟
لڑکا کہتا ہے حرف بہ حرف تو نہیں لیکن کثیر حصہ پڑھ لیا ہے۔
وہ درس ترمذی کی تین جلدوں پر مشتمل ایک ضحیم کتاب لکھ چکے ہوتے ہیں۔
شیخ کہتے ہیں آپکا رجحان دین کی جانب کیونکر ہوا؟
لڑکے کو ایک جھٹکا سا لگتا ہے کہ کیا دین بھی ایسی شے ہے کہ اس کی طرف رجحان بعد میں پیدا ہوتا ہو!
لڑکے کو کچھ سمجھ نہ آیا تو کہا کہ امریکہ سے واپسی شاید اسکی وجہ بنی۔
شیخ کہنے لگے ہمارا وقت تو لکھنے لکھانے میں صرف ہوتا ہے۔ آپ کے اور ہمارے درمیان یک رنگا رنگی ہو گی تو بات بنے گی۔
لڑکے کو یہ بات ناگوار گزرتی ہے کہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ اس کے لیے کسی اور رنگ کا تذکرہ سخت وحشت کا باعث ہے۔
شیخ قرآن کا انگریزی ترجمہ کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ لڑکے کو اپنے کمپیوٹر کے پاس بلاتے ہیں اور ترجمہ دکھا کر خوش ہوتے ہیں۔
شیخ کہتے آپ اسکو ایک کتاب کی صور ت میں کمپیوٹر ڈاکومینٹ میں تبدیل کر سکتے ہیں؟
لڑکا حامی میں سر ہلا دیتا ہے۔
بعد میں لڑکا کچھ کام کرتا بھی ہے اور شیخ کو دکھاتا بھی ہے۔
لیکن معاشی ذمے داریاں جلد ہی لڑکے کو اس فی سبیل اللہ کام سے دور کر کے نوکری کے دشت میں آبلہ پای کے لیے مجبور کر دیتیں ہیں۔
ایک موضوع پر بات نکلتی ہے تو شیخ اپنے والد کی تصنیف کی اس موضوع پر موجودگی پر خوش ہوتے ہیں۔
اب کافی وقت ہو چکا ہوتا ہے۔
لڑکا شیخ سے مصافحہ کرتا ہے اور کمرے سے باہر نکلتا ہے۔
گاڑی گلشن کی جانب رواں دواں ہے۔
منظر تبدیل ہوتا ہےلڑکا شیخ یہودی سے سلیمان رشدی کے معتلق بات کرتا ہے۔
- میاں ظہوری
 
Top